Khalil Ahmad holds a Ph.D. in philosophy and is currently devoted to economic studies. He is the founder and Executive Director of the Alternate Solutions Institute, Pakistan’s first free-market think tank.

وِکی لیکس اورخفیہ حکومتیں

وِکی لیکس کے موجودہ ’نِکاسات ‘بہت سے مسلمات پر غور کرنے کا تاریخی موقع فراہم کرتے ہیں۔

”پاکستان کا مستقبل اور اس کے دشمن“

ورجینیا پوسٹریل کی زیر بحث کتاب ”مستقبل اور اس کے دشمن“ کارل پوپر کی کتاب ”غیر متشکل معاشرہ اور اس کے دشمن“ کی یاد لاتی ہے

پاکستان : معاشی بحران سے اخلاقی بحران تک

(ایک گفتگو)
ڈاکٹر خلیل احمد

            مجھے اس موضوع پر ’معیشت ‘ کے حوالے سے بات کرنے کے لیے کہا گیا ہے ، مگر میں اپنی بات کا آغاز اخلاقیات سے کرنا چاہتا ہوں ۔

شہریوں کے معاشی حقوق اور میڈیا کا کردار

(ایک گفتگو)
 ڈاکٹر خلیل احمد

            یہ عنوان positively اس بات کا اشارہ دیتا ہے کہ میڈیا کو شہریوں کے معاشی حقوق کو promote کرنا چاہیے ۔  

ایڈورڈ کیلر - آزاد معیشت کا داعی

ترجمہ: ڈاکٹر خلیل احمد 

            ”پاپائے روم کے مراسلات آزاد کاروبار کے ہمارے معاشی نظام کو رد نہیں کرتے، بلکہ ایسے کسی بھی نظام کے لیے ٹھوس اخلاقی اساس مہیا کرتے ہیں ۔“

بے غرضی اور خود غرضی کی معاشیات

تحریر: رچرڈ ڈبلیو ۔فلمر
ترجمہ: ڈاکٹر خلیل احمد

            اختیار پسند (Libertarians)عجیب و غریب چیز ہیں ۔ یہ ” معقول ذاتی مفاد“ کی بات کرتے نہیں تھکتے۔

فلاحی ریاست کی اخلاقی بے مائیگی

تحریر: رابرٹ اے- سیریکو
ترجمہ: ڈاکٹر خلیل احمد
 

            جدید فلاحی ریاست سے متعلق کسی بھی بحث میں مستحق لوگوں کی مدد کے ضمن میں مذہبی اور اخلاقی وجوہات پیش کرنا مفید مطلب نہیں ۔

عوامیت کی یلغار

 ڈاکٹر خلیل احمد

             پیپلز پارٹی کی سیاست ابتدا سے ہی عوامیت (پاپولزم)سے مملو تھی۔ یہ تو اب این- آر-او کی پیدائش اور موت نے کراما ت کی کہ اس کی عوامیت کھل کر سامنے آگئی۔

میڈیا ریلیز

آلٹرنیٹ سالوشنز انسٹیٹیوٹ نے حال ہی میں تیسرا سالانہ رہائشی کورس ’’آزاد ، ذمہ دار اور خوشحال معاشرے کے تصورات‘‘کا کامیاب انعقاد کیا۔ یہ کورس 17-22مئی 2011کو خانصپور، ایوبیہ میں کروایا گیا ۔ اس سال کورس کے شرکاء میں پنجاب یونیورسٹی، گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج آف ایڈمنسٹریٹو سائنسز، مردان اور پشاور یونیورسٹی کے 36طلباء و طالبات شامل تھے۔ کورس کے انسٹرکٹرز ڈاکٹر ساجد علی، ڈاکٹر خلیل احمد اور رضا اللہ تھے ۔اس کورس کا مقصد پاکستان کی نوجوان نسل کو شخصی آزادی، نجی ملکیت اور آزاد معیشت کے تصورات اور انہیں دنیا کے خوشحال معاشروں کے فلسفیانہ خدوخال سے روشناس کروانا ہے۔ آلٹرنیٹ سالوشنز انسٹیٹیوٹ ہر سال کچھ منتخب طلباء و طالبات کو اس کورس میں مدعو کرتا ہے۔ 

ڈاکٹر عبدالسلام کے نام ایک خط


محترمی و مکرمی!
آپ کے خیالات کی مخالفت کوئی خوشگوار کام نہیں ، تا ہم دیانت داری کیساتھ اختلافات کا اظہار کر دینا ضروری معلوم ہوتا ہے۔

عوامی فلا حی ریاست کی کہا نی

  عوامی فلا حی ریاست کی کہا نی
بے چارے  جو نا تھن کی زبا نی

(آزاد منڈی کی معیشت کے بارے میں ایک ناول)

زخمی سانپ

خلیل احمد

ایک زمانہ تھا کہ اپنے ملک میں ایک شہر سے دوسرے شہر جاتے ہوئے یوں محسوس ہوتا تھا کہ آدمی کسی دوسرے ملک میں داخل ہو رہا ہے۔

پاکستان کی غیر آئینی تاریخ: ایک مختصر خاکہ

ڈاکٹرخلیل احمد

            " میں آپ کو یقین دلاتا ہوں مجھے اداکاری نہیں آتی۔ اگر مجھے سیاسی اقتدارکی خواہش ہو تو روکنے والا کون ہے۔

پاکستان مسلم لیگ ( ن) - اصولی سیاست کا مخمصہ

ڈاکٹر خلیل احمد

اپنی آزادی کے تحفظ میں انتہا پسندی کو ئی برائی نہیں اور مجھے یہ بھی یاد دلانے دیجیئے کہ انصاف کی طلب میں اعتدال پسندی کوئی نیکی نہیں ۔

سیاسی اخلاقیا ت کا بحران

ڈاکٹر خلیل احمد

سیاست اور اخلاقیات ایک چیز نہیں سیاست نہ تو مذہب ہے اور نہ ہی ضابطہ اخلاق ۔ یہ اقتدار تک پہنچنے اسے حاصل کرنے اور اپنے پاس رکھنے کا فن اور علم ہے

فوڈ مارکیٹ بحال کی جائے

ڈاکٹر خلیل احمد

”اگر آپ آ زاد مارکیٹ پیدا نہیں کریں گے تو بلیک مارکیٹ پیدا ہو گی“

ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے

ڈاکٹر خلیل احمد 

انصاف کو ایک طرف رکھ دیں تو پھر مملیکتں ڈاکوؤ ں کے عظیم جتھوں سے سوا کیا ہیں آخر ڈاکوؤں کے جتھے چھوٹی چھوٹی مملکتوں کے سوا کیا ہیں؟ ڈاکو ؤ ں کو جتھوں میں کمانڈر اپنے ماتحت کام کرنے والوں کو ہدایات دیتاہے ان کے گروہ مل کر حلف اٹھاتے ہیں اور مال غنیمت کو ایک قانون کے تحت ایک دوسرے میں بانٹتے ہیں اور اگر یہ ڈاکو اس قدر طاقتور ہو جائیں کہ وہ قلعوں میں رہ سکیں رہائش گاہیں بنائیں اور شہروں کے مالک بن جائیں اور اپنی ہمسایہ قوموں کو فتح کر لیں تو پھر ان کی حکومت کو ڈاکوؤں کا جتھہ نہیں کہتے بلکہ ان کو سلطنت کے نام سے پکارتے ہیں اس لیے نہیں کہ انہوں نے اپنا دھندا چھوڑ دیا ہے بلکہ اس لیے کہ اب وہ یہ دھندا قانون کے خوف کے بغیر کرتے ہیں ۔ ( سینٹ آگسٹائین سیٹی آف کاڈ بکء)