ورجینیا پوسٹریل کی زیر بحث کتاب ”مستقبل اور اس کے دشمن“ کارل پوپر کی کتاب ”غیر متشکل معاشرہ اور اس کے دشمن“ کی یاد لاتی ہے
(ایک گفتگو)
ڈاکٹر خلیل احمد
(ایک گفتگو)
ڈاکٹر خلیل احمد
ترجمہ: ڈاکٹر خلیل احمد
تحریر: رچرڈ ڈبلیو ۔فلمر
ترجمہ: ڈاکٹر خلیل احمد
تحریر: رابرٹ اے- سیریکو
ترجمہ: ڈاکٹر خلیل احمد
ڈاکٹر خلیل احمد
پیپلز پارٹی کی سیاست ابتدا سے ہی عوامیت (پاپولزم)سے مملو تھی۔ یہ تو اب این- آر-او کی پیدائش اور موت نے کراما ت کی کہ اس کی عوامیت کھل کر سامنے آگئی۔
آلٹرنیٹ سالوشنز انسٹیٹیوٹ نے حال ہی میں تیسرا سالانہ رہائشی کورس ’’آزاد ، ذمہ دار اور خوشحال معاشرے کے تصورات‘‘کا کامیاب انعقاد کیا۔ یہ کورس 17-22مئی 2011کو خانصپور، ایوبیہ میں کروایا گیا ۔ اس سال کورس کے شرکاء میں پنجاب یونیورسٹی، گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج آف ایڈمنسٹریٹو سائنسز، مردان اور پشاور یونیورسٹی کے 36طلباء و طالبات شامل تھے۔ کورس کے انسٹرکٹرز ڈاکٹر ساجد علی، ڈاکٹر خلیل احمد اور رضا اللہ تھے ۔اس کورس کا مقصد پاکستان کی نوجوان نسل کو شخصی آزادی، نجی ملکیت اور آزاد معیشت کے تصورات اور انہیں دنیا کے خوشحال معاشروں کے فلسفیانہ خدوخال سے روشناس کروانا ہے۔ آلٹرنیٹ سالوشنز انسٹیٹیوٹ ہر سال کچھ منتخب طلباء و طالبات کو اس کورس میں مدعو کرتا ہے۔
محترمی و مکرمی!
آپ کے خیالات کی مخالفت کوئی خوشگوار کام نہیں ، تا ہم دیانت داری کیساتھ اختلافات کا اظہار کر دینا ضروری معلوم ہوتا ہے۔
عوامی فلا حی ریاست کی کہا نی
بے چارے جو نا تھن کی زبا نی
(آزاد منڈی کی معیشت کے بارے میں ایک ناول)
خلیل احمد
ایک زمانہ تھا کہ اپنے ملک میں ایک شہر سے دوسرے شہر جاتے ہوئے یوں محسوس ہوتا تھا کہ آدمی کسی دوسرے ملک میں داخل ہو رہا ہے۔
ڈاکٹرخلیل احمد
" میں آپ کو یقین دلاتا ہوں مجھے اداکاری نہیں آتی۔ اگر مجھے سیاسی اقتدارکی خواہش ہو تو روکنے والا کون ہے۔
ڈاکٹر خلیل احمد
اپنی آزادی کے تحفظ میں انتہا پسندی کو ئی برائی نہیں اور مجھے یہ بھی یاد دلانے دیجیئے کہ انصاف کی طلب میں اعتدال پسندی کوئی نیکی نہیں ۔
ڈاکٹر خلیل احمد
سیاست اور اخلاقیات ایک چیز نہیں سیاست نہ تو مذہب ہے اور نہ ہی ضابطہ اخلاق ۔ یہ اقتدار تک پہنچنے اسے حاصل کرنے اور اپنے پاس رکھنے کا فن اور علم ہے
”اگر آپ آ زاد مارکیٹ پیدا نہیں کریں گے تو بلیک مارکیٹ پیدا ہو گی“
ڈاکٹر خلیل احمد
انصاف کو ایک طرف رکھ دیں تو پھر مملیکتں ڈاکوؤ ں کے عظیم جتھوں سے سوا کیا ہیں آخر ڈاکوؤں کے جتھے چھوٹی چھوٹی مملکتوں کے سوا کیا ہیں؟ ڈاکو ؤ ں کو جتھوں میں کمانڈر اپنے ماتحت کام کرنے والوں کو ہدایات دیتاہے ان کے گروہ مل کر حلف اٹھاتے ہیں اور مال غنیمت کو ایک قانون کے تحت ایک دوسرے میں بانٹتے ہیں اور اگر یہ ڈاکو اس قدر طاقتور ہو جائیں کہ وہ قلعوں میں رہ سکیں رہائش گاہیں بنائیں اور شہروں کے مالک بن جائیں اور اپنی ہمسایہ قوموں کو فتح کر لیں تو پھر ان کی حکومت کو ڈاکوؤں کا جتھہ نہیں کہتے بلکہ ان کو سلطنت کے نام سے پکارتے ہیں اس لیے نہیں کہ انہوں نے اپنا دھندا چھوڑ دیا ہے بلکہ اس لیے کہ اب وہ یہ دھندا قانون کے خوف کے بغیر کرتے ہیں ۔ ( سینٹ آگسٹائین سیٹی آف کاڈ بکء)