ڈاکٹر خلیل احمد
ورجینیا پوسٹریل کی زیر بحث کتاب ”مستقبل اور اس کے دشمن“ کارل پوپر کی کتاب ”غیر متشکل معاشرہ اور اس کے دشمن“ کی یاد لاتی ہے ۔ اصل مسئلہ مستقبل ہے جو ابھی تک ایک غیر متشکل معاشرہ ہے۔ چونکہ مستقبل کی پیش بینی بہت مشکل ہے، سو یہ کچھ لوگوں کے لیے دھمکی آمیز جبکہ دوسروں کے لیے ایک تحریک انگیز چیلنج ہے ۔ یہ دھمکی آمیز اس لیے ہے کیو نکہ اس طرح ان کا پسندیدہ حال، شکست و ریخت کا شکار ہو سکتاہے یا یہ کہ اس میں جو کچھ وقوع پذیر ہو گا وہ اسے کنٹرول کرنے کے قابل نہیں ہوں گے ۔ ورجینیا انہیں”جمود پسند“ کا نا م دیتی ہے کیونکہ ان کا مقصود ” جمود“ ہے ۔ ” جمود پسند“ ، ” ریاست پسند“ سے مشابہت رکھتا ہے اور یہ مشابہت کوئی حادثہ نہیں کیونکہ خود ورجینیا اختیار پسند ہے، جبکہ جمود پسند ، ریاست پسند کا روپ دھار لیتے ہیں ؛ وہ طاقت کے حصول کے لیے سیاست کو اختیار کرتے ہیں کیونکہ تبد یلی کو روکنے کے لیے طا قت کی ضرورت ہوتی ہے ۔ جن لوگوں کے لیے مستقبل حیرت انگیز ہے کیونکہ یہ تبدیلیوں کی نوید دیتا ہے، ورجینیا انہیں ”تحرّک پسند“ قرار دیتی ہے کیونکہ وہ حقیقت کو متحرک سمجھتے ہیں ۔ تحرک پسندوں کے نزدیک طا قت ایک ایسی چیز ہے جو انفرادی تخلیقیت میں مقیم ہوتی ہے جبکہ جمود پسند اسے اجتماع اور ریاست میں متمکن قرار دیتے ہیں ۔ تحرک پسند، طا قت کو تبدیلی میںکارفرما دیکھتے ہیں اور جمود پسند طا قت کو تبدیلی کو روکنے یا کنٹرول کرنے کا آلہ ء کار سمجھتے ہیں۔
(ایک گفتگو)
ڈاکٹر خلیل احمد
ترجمہ: ڈاکٹر خلیل احمد
تحریر: رچرڈ ڈبلیو ۔فلمر
ترجمہ: ڈاکٹر خلیل احمد
تحریر: رابرٹ اے- سیریکو
ترجمہ: ڈاکٹر خلیل احمد
ڈاکٹر خلیل احمد
پیپلز پارٹی کی سیاست ابتدا سے ہی عوامیت (پاپولزم)سے مملو تھی۔ یہ تو اب این- آر-او کی پیدائش اور موت نے کراما ت کی کہ اس کی عوامیت کھل کر سامنے آگئی۔ اس عوامیتی موقف نے پیپلز پارٹی کی لیڈر شپ اور کارکنوں کوان تمام چیزوں کے مقا بل لا کھڑا کیا ہے جسے ہم اخلاقیا ت، قانون اور آج کے پاکستان کے نام سے جانتے ہیں۔ قوم اور ملک کو یہ چیز کیسا اور کتنا نقصان پہنچا سکتی ہے اس کا اندازہ لگا نا کوئی مشکل نہیں۔
چاول کے بزنس میں حکومتی مداخلت کےکیا نتائج برآمد ہو ئے اور ہو رہے ہیں،اس ضمن میں ہم یہاں روزنامہ نوائے وقت سے ایک مختصر کالم بلا تبصرہ پیش کر رہے ہیں۔ یہ یکم دسمبر 09 کوشائع ہوا۔
خلیل احمد
ایک زمانہ تھا کہ اپنے ملک میں ایک شہر سے دوسرے شہر جاتے ہوئے یوں محسوس ہوتا تھا کہ آدمی کسی دوسرے ملک میں داخل ہو رہا ہے۔ اجنبی قسم کے بدمعاش، ڈاکوﺅ ں کی طرح آپ اور آپ کے سامان کے درپے ہوجاتے تھے اور جس طرح اسسٹنٹ کمشنرآنکھیں بند کرکے ٹریفک چالان کا جرمانہ نشر کرتے ہیں، یہ اسی طرح اپنی مرضی کی " کسٹم ڈیوٹی" وصول کرتے تھے۔ اس کسٹم ڈیوٹی کو مطلق العنان بلدیاتی حکومتیں ، چونگی اور ضلع محصول کہتی تھیں اور لوگ اسے غنڈہ ٹیکس کا نام دیتے تھے۔
ڈاکٹرخلیل احمد
" میں آپ کو یقین دلاتا ہوں مجھے اداکاری نہیں آتی۔ اگر مجھے سیاسی اقتدارکی خواہش ہو تو روکنے والا کون ہے۔ فوج میرے ساتھ ہے اور میرے پاس طاقت ہے جو جی میں آئے کروں ۔ آئین کیا ہوتا ہے؟ دس بارہ صفحات کا ایک کتابچہ۔ میں کل ہی اسے پھاڑ کر پھینک سکتا ہوں اور ایک نئے نظام کے تحت حکومت شروع کر سکتا ہوں۔ کون ہے جو مجھے روکے۔" (جنرل محمد ضیاءالحق)
ڈاکٹر خلیل احمد
میں آپکو یاد دلاتا ہوں کہ اپنی آزادی کے تحفظ میں انتہا پسندی کو ئی برائی نہیں اور مجھے یہ بھی یاد دلانے دیجیئے کہ انصاف کی طلب میں اعتدال پسندی کوئی نیکی نہیں ۔
ڈاکٹر خلیل احمد
سیاست اور اخلاقیات ایک چیز نہیں سیاست نہ تو مذہب ہے اور نہ ہی ضابطہ اخلاق ۔ یہ اقتدار تک پہنچنے اسے حاصل کرنے اور اپنے پاس رکھنے کا فن اور علم ہے یہ مشترکہ کاز کیلئے اتحاد قائم کرنے اور توڑنے کا سسٹم ہے۔
”اگر آپ آ زاد مارکیٹ پیدا نہیں کریں گے تو بلیک مارکیٹ پیدا ہو گی“
کیر و لین بو ئن
د نیا میں کل 850 بلین لوگ دائمی بھو ک کا شکا ر ہیں۔ جبکہ بھو ک ا و ر افلا س دونو ں کے ہاتھو ں روزانہ پچیس ہزار لوگ ہلا ک ہو جا تے ہیں۔
ڈاکٹر خلیل احمد
انصاف کو ایک طرف رکھ دیں تو پھر مملیکتں ڈاکوؤ ں کے عظیم جتھوں سے سوا کیا ہیں آخر ڈاکوؤں کے جتھے چھوٹی چھوٹی مملکتوں کے سوا کیا ہیں؟ ڈاکو ؤ ں کو جتھوں میں کمانڈر اپنے ماتحت کام کرنے والوں کو ہدایات دیتاہے ان کے گروہ مل کر حلف اٹھاتے ہیں اور مال غنیمت کو ایک قانون کے تحت ایک دوسرے میں بانٹتے ہیں اور اگر یہ ڈاکو اس قدر طاقتور ہو جائیں کہ وہ قلعوں میں رہ سکیں رہائش گاہیں بنائیں اور شہروں کے مالک بن جائیں اور اپنی ہمسایہ قوموں کو فتح کر لیں تو پھر ان کی حکومت کو ڈاکوؤں کا جتھہ نہیں کہتے بلکہ ان کو سلطنت کے نام سے پکارتے ہیں اس لیے نہیں کہ انہوں نے اپنا دھندا چھوڑ دیا ہے بلکہ اس لیے کہ اب وہ یہ دھندا قانون کے خوف کے بغیر کرتے ہیں ۔ ( سینٹ آگسٹائین سیٹی آف کاڈ بکء)