خلیل احمد

روسی ادیب چیخوف نے افسانے کی تکنیک پر بات کرتے ہوئے لکھا تھا کہ اگرا س میں بندوق کا ذکر آیا ہے تواس بندوق کو افسانہ ختم ہونے سے پہلے چل جانا چاہیے۔ پاکستان نے جب سے ایٹم بم بنائے ہیں تب سے چیخوف کے پاکستانی پیروکار بضد ہیں کہ انھیں چلانا نہیں تو بنایا کیوں۔

واپڈا کے ایک چیئر مین، ریٹائرڈ جنرل، کہتے تھے کہ یہ بم کیوں بنا رکھے ہیں، ماریں انھیں انڈیا پر۔ وہ تعداد بھی بتاتے تھے کہ کتنے بم بھارت کو تباہ کرنے کے لیے کافی ہوں گے۔ ایک نامور صحافی اور نظریہءپاکستان کے علمبردار بھی ان بموں سے خاصے خفا ہیں۔ وہ بھی چیخوف کے بتائے سبق کے مطابق ایک ایسا افسانہ لکھنا چاہتے ہیں جس میں پاکستان کے پاس موجود تمام ایٹم بم بھارت پر استعمال کر دیئے جائیں۔

شکر ہے کہ ایسے افراد، جن کی پاکستان میں کمی نہیں، معاملات کو فیصل کرنے کے مقام سے بہت نیچے ہیں۔ تاہم، اس خطرے سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ایسے لوگ کب تھوڑا سا اوپر آجائیں۔ یہاں طالبان کا پاکستان میں برسرِ اقتدار آ جانا قطعاً مراد نہیں۔ گوکہ ان کے اقتدار پر قابض ہونے کا امکان اب چیخوف کے ماننے والوں سے کہیں زیادہ قوی ہو گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر طالبان کا دائرہ ءعمل، جی ایچ کیو، اور پی این ایس کراچی اور پھر بہت سی دوسری حساس جگہوں تک بڑھ چکا ہے توپاکستان کے پاس موجود 146ایٹم بم، ہزارغم 145 بن چکے ہیں۔

سچ یہ ہے کہ بھارت ایٹم بم بناتا یا نہ بناتا، ہم نے تو ایٹم بم بنانا ہی تھا۔ بھارت نے تو بس موقع فراہم کر دیا اور ہم گھاس کھائے اور پڑھے لکھے بغیر ایٹمی طاقت بن گئے۔ اصل میں بھارت کے ایٹمی دھماکوں نے ہماری انا کو خوب کچوکے دئیے۔ ہم ایک اسلامی ملک ہیں، اور بھارت ہم پر حاو ی ہو جائے گا۔ کیا خبر کس رات بھارت پاکستان پر قبضہ کرلے۔ ہم ڈر گئے، اور ہم نے بھی کچھ ایٹم بم پھوڑ ڈالے۔

ہم ایک اسلامی طاقت تو تھے ہی، اب ہم ایک146اسلامی بم145کے مالک بھی ہو گئے۔ یہ بڑے فخر کی بات تھی۔ وقتی طور پر یہ دلیل خوب چلی کہ اگر ہم نے ایٹمی دھماکے نہ کیے تو بھارت ہم پر چڑھ دوڑے گا۔ ہماری انا کو کچھ تسکین مل سکتی تھی اگر یوں ہوتا کہ بھار ت مئی 1998تک بنگلہ دیش پر قابض رہتا، اور جیسے ہی ہمارے چھ دھماکے چاغئی میں گونجتے، بھارت بنگلہ دیش سے دُم دبا کر بھاگ جاتا۔

ایک اوربخار ہم پر بری طرح سوار ہے: ہم نے 146اسلامی بم145 بنا لیا۔ جیسے ڈگری، ڈگری ہوتی ہے، خواہ جعلی ہو یا اصلی، اسی طرح بم،بم ہوتا ہے، اسلامی یا غیر اسلامی نہیں۔ ویسے بھی یہ کوئی بڑا سرخاب کا پر لگ جانے والی بات نہیں تھی کہ پاکستان پہلا اسلامی ملک تھا جو ایٹمی طاقت بنا۔ بات تو جب ہوتی کہ پاکستان تما م انسانیت سوز ہتھیار تلف کرنے والا پہلا ملک ہوتا۔ اگر یہ نہیں ہوسکتا تھا تو کم از کم پاکستان ایک حقیقی جمہوری ملک ہی بن جاتا۔ یہ ہوتی سرخاب کے پر لگنے والی بات۔

چیخوف کے پیروکار کچھ آ ئیڈیلسٹ سے بھی ہیں۔ کاش ایسا ہوتا کہ اگر یہ ہیروشیما اور ناگا ساکی پر ایٹم بم گرنے کے وقت موجود ہوتے تو کچھ سیکھ سکتے۔ مگر ان کی افتاد ِ طبع ایسی ہے کہ اگر انھیں آج بھی ہیروشیما اور ناگاساکی میں تباہی کے اثرات دکھائے جائیں تو ان کا ردِ عمل یہ ہو گا کہ کاش یہ بم ہم نے گرائے ہوتے!

چیخوف کے پیروکاروں کو کیسے سمجھایا جائے کہ افسانے اور حقیقت میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ ایٹم بم بنانے پر پیسے اٹھتے ہیں۔ (اسے چلانے پر بھی!) اور بنانے سے بھی زیادہ پیسے اس کی حفاظت پر اٹھتے ہیں۔ اور طالبان جسیے بارسوخ گروہوں سے ان کی حفاظت پر تو بہت پیسہ خرچ ہوتا ہے اور ہو رہا ہے، کیونکہ یہ ہر وہ چیز چلا دینا چاہتے ہیں جس کا ذکر افسانے میں آیا ہے یا نہیں۔

پھر آج تک کوئی امریکی یا پاکستانی ڈاکٹر قدیر ایسا ایٹم بم نہیں بنا سکا جو اپنے بنانے کی لاگت کے ساتھ ساتھ اسے چلانے کی لاگت بھی خود ہی اٹھا سکے۔ ہرطرح کے بموں کے اخراجات، چاہے یہ اسلامی ہوں یا غیر اسلامی، شہریوں کو ہی اٹھانے پڑتے ہیں۔ اور سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ جب یہ بم چلتے ہیں تو ان کی تباہی بھی سب سے زیادہ ان شہریوں کے حصے میں ہی آتی ہے۔

اس سے بھی بڑی حقیقت یہ ہے کہ ایٹم بم یہ نہیں دیکھتا کہ کون مسلمان ہے، کون ہندو، کون عیسائی۔ ایٹم بم کا نام اسلامی رکھ دینے سے یہ نہ تو مسلمان ہو جاتا ہے، نہ مسلمانوں کی شناخت کے قابل ۔ یہ بم ہی رہتا ہے اور بلا تخصیص تباہی لاتا ہے۔ مزید یہ کہ ایٹم بم ریاستوں، سرحدوں، قوموں اور مذہبوں کی منطق نہیں سمجھتا اور اپنے اثرات بلا امتیاز اپنی پہنچ کے مطابق ہر جگہ پہنچاتا ہے۔

چیخوف کے چیلوں کو ایک چیز اور بہت تنگ کرتی ہے: وہ ہے امریکہ۔ یہ امریکہ کو ہمارے بم کا غم کیوں کھائے جا رہا ہے۔ جبکہ امریکہ مشوش ہے کہ اگر پاکستان کے ایٹم بم چیخوف کے متشدد پیروکاروں، یعنی، طالبان کے ہاتھ لگ گئے تو کیا ہو گا!

کسی پاگل خانے میں ایک پاگل ایک اونچے درخت پر چڑھ بیٹھا ۔ بہت سمجھایا گیا کہ نیچے اُتر آ۔ اس پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ پاگل خانے کے سب معالجین ناکام ہو گئے۔ اس مایوسی کے عالم میں ایک اور پاگل نے اپنی خدمات پیش کیں اور یقین دلایا کہ وہ اس پاگل کو نیچے اتار سکتا ہے۔ اس پاگل نے ایک قینچی منگوائی اور درخت پر چڑھے پاگل کو دکھائی: نیچے آتا ہے یا کاٹوں درخت۔ درخت پر چڑھا پاگل سیدھا نیچے اتر آیا۔

اس سے پوچھا گیا، ہم نے تمہیں اتنا سمجھایا تم نیچے نہیں اترے۔ اس پاگل کی بات تمیں فوراً سمجھ آ گئی۔ وہ بولا: پاگل ہے کیا پتہ کاٹ ہی دیتا!

کاش ہم بھی کسی ایسے پاگل کی بات سمجھ اور مان سکیں!

7اگست 2011