مصنف: علی سلمان

مترجم: کنول نذیر

جہاں ایک طرف انسانی حقوق کی مشہور ایکٹویسٹ طاہرہ عبداللہ کا ٹام پالمر کے گلوبلائیزیشن پر تبصرے کے بارے میں ردِعمل جذباتی تھا وہاں دوسری طرف  پاکستان کی دوسری بڑی سیاسی جماعت پاکستان مسلم لیگ کے سیکریٹری جنرل سینیٹر مشاہد حسین سید نے گلوبلائیزیشن کے فوائد اور خطرات کی پختہ مثالیں پیش کر کے ماحول کو اپنے خیالات سے خوشگوار کر دیا۔ گزشتہ رات (۱۲۔۰۱۔۲۵) اسلام آباد میں فریڈریک نومان فاؤنڈیشن کے تعاون سے منعقدکردہ سیمینار میں یہ دونوں افرادپاکستانی سول سوسائٹی اور سیاست کی نمائندگی کرتے ہوئے ،ٹام پالمرکی گلوبلائیزیشن کے بار ے میں تقریر کاجواب دے رہے تھے۔اس سیمینار میں کافی لوگ شامل ہوئے۔

پالمر کے مطابق گلوبلائیزیشن کا تعلق بین الاسرحدی تبادلے او راس کے نتیجے میں تشکیل پانے والے پیداوار اور تبادلے کے اس مربو ط وپیچیدہ عالمی نظام پر ریاست کیطرف سے نافذ شدہ پابندیوں میں کمی یا خاتمے سے ہے۔ عالمی مالی بحران پرتبصرہ کرتے ہوئے ٹام پالمر نے کہا کہ اس بحران کیلئے آزادمنڈی کے ادارہ جات پر الزام تراشی کرنے کی بجائے ہمیں ریاست کے اُن ادارہ جات جیسا کہ فیڈرل ریزرو پر تنقیدکرنی چاہئے جنہوں نے نیگیٹیو رئیل ا نٹرسٹ ریٹس متعارف کرواکے اس بحران کے بیج بوئے کیونکہ اس سے بے دھڑک قرضے لینے کی حوصلہ افزائی ہوئی۔

ڈاکٹر ٹا م پالمر نے کہا کہ گلوبلائیزیشن کا مطلب یہ نہیں کہ غیر ملکی ثقافت کودوسروں پر مسلط کیاجائے کیونکہ دنیاکی کوئی بھی ثقافت پوری طرح منفرد نہیں بلکہ ہر ثقافت مختلف ثقافتوں کا آمیزہ ہے۔پالمر کے مطابق گلوبلائیزیشن کوئی نیاعمل نہیں ہے۔پرانی انسانی تحریک کو بیان کرنے کیلئے یہ ایک جدید لفظ ہے۔ یہ لفظ تبادلے اور مہارت کے دنیا بھر میں پھیلاؤ کے ذریعے بہتری حاصل کرنے کی انسانی کوشش کو ظاہر کرتا ہے۔یہ ایک پُرامن تصور ہے۔ڈاکٹر ٹام پا لمر مزدوروں کی آزاد انہ منتقلی کی اتنی ہی حمایت کرتے ہیں جتنی کہ اشیاء وخدمات کی آزادانہ منتقلی کی۔ وہ عقلی سرمایے کے کڑے ملکیتی حقوق کے حق میں نہیں۔

سیاسی ایکٹیویسٹ طاہرہ عبداللہ اپنے ساتھی نظریہ دانوں کے رستے پر چلیں۔ انہوں نے یورپی کسانوں کو دیے گئے تخفظ، بظاہر خوش کُن سبزو نامیاتی کاشتکاری، برطانوی راج  میں بیان کر دہ ایمپائر کی بدنام اور غلط سمجھی گئی ساکھ، غربت کی فیمینائیزیشن، جنیٹیکلی موڈیفائیڈ فوڈز، وا ل سٹریٹ کے مظاہروں اور اقتصادی ترقی کے انسانی چہرے کے بارے میں بات کی۔یہ سوشلزم ۱۰۱ہے۔

سینیٹر مشاہد حسین سید نے گلوبلائیزڈ ورلڈ کی بہت سی ایسی مثالیں پیش کیں جو سب کو مواقع فراہم کرتاہے۔صدر براک اوبامہ کا اپنے افریقی اورمسلم پس منظر کے باوجود ایک ایسے ملک میں اقتدار حاصل کرنا جس میں گورے لوگ غالب ہوں اور سعیدہ وارثی کا برٹش کنزرویٹیو پارٹی کی چئیرمین منتخب ہونا اس ثقافتی آمیزے کی علامت ہے جو گلوبلائیزیشن سے منسلک ہے۔

مشاہد حسین نے جنرل موٹرز کے صدرِعاملہ کو برخاست کرنے کے امریکی صدارتی حکم کی بجا طور پر تنقید کی اور اسے تاریخ کا ایک سیاہ دن قرار دیا کیونکہ ریاستی اور نجی انٹرپرائز کے درمیان حدود غیر واضح ہوگئیں۔ سینیٹر مشاہد نے امریکی حکومت کی طرف سے آزاد میڈیا جیسا کہ الجزیرہ کی سنسر شپ کو بھی آزاد گلوبلائیزیشن کے لئے ایک خطرہ قراردیا۔

پالمر گلوبلائیزیشن کی تخلیق ، گھٹاؤ اور توسیع کے بارے میں اپنے فکری پہلوؤں کو مختصراً بیان کرتے ہوئے ا س سے زیادہ واضح اور صاف گو نہیں ہوسکتے تھے جب انہوں نے کہا کہ ’’تحفظِ تجارت جنگ کا باعث بنتا ہے‘‘۔

اختتام پرمیں طاہرہ عبداللہ کی امریکہ کے خلاف جذباتی اور پُرجوش تقریر کے جواب میں ٹام پالمر کے خیالات بیان کرونگا۔ ٹام کے مطابق اخلاقیات مفید ہیں پر اگر آپ بیمار ہوں تو آپ کو ڈاکٹر کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگرایک ملک غریب ہے او ر دوسرا امیر ہے تو ہمیں دونوں ملکوں کی پالیسیوں میں مسائل تلاش کرنے چایئے۔ پاکستان کسی بین الاقوامی سازش کی وجہ سے غریب نہیں ہے۔ بنیادی طور پر پاکستان دوست پرور کیپیٹلزم اور وسائل پر ریاست کے سیاسی کنٹرول کی وجہ سے غریب ہے۔ یہ کیپلٹزم ۱۰۱ ہے۔