مصنف: علی سلمان
مترجم: کنول نذیر


گزشتہ رات(۱۲۔۰۱۔۲۴) پاکستان کے دانشورانہ اور سیاسی سرمایے کے منبع یعنی لاہور میں ایک جنگ چھڑگئی۔ خوش قسمتی سے ہر کوئی صحیح سلامت رہا کیونکہ یہ خیالات کی جنگ تھی۔
ٹام پالمر نے اخلاقیات کی بنیاد پر کیپیٹلزم کا پُر جوش دفاع کرکے، انسانی حقوق کے ایکٹیویسٹ آئی۔اے رحمان نے کیپیٹلزم کی تاریخ سے وابستہ چیلنج بیان کرکے اور مذہبی عالم ڈاکٹر خالد ظہیر نے اس بار ے میں مذہب کی حدودقیود بیان کرکے یہ جنگ بخوبی لڑی۔سامعین کی اچھی خاصی تعداد تین گھنٹے کی اس گفتگو میں محو رہی اور بحث ومباحثہ بھی ہوا۔

خوش گفتار ٹام جی پالمر نے تاریخ، اقتصادی اعدادو شمار، سیاسی سوچ اور اخلاقی فلسفہ کا جائزہ کرتے ہوئے اخلاقی بنیادوں پر کیپیٹلزم کا پُر جوش اور واضح دفاع کیا۔
ڈاکٹر ٹام پالمر نے کیپیٹلزم کو خوشحالی اور فلاح و بہبود کی بنیاد قرار دیا کیونکہ اس سے انٹروپنورز، سائنسدان، خطرہ مول لینے والے افراد، موجد، اور تخلیق کار سب مستفید ہوتے ہیں۔ان کے مطابق کیپیٹلزم اس لوٹ کھسوٹ کے خلاف ہے جس کے ذریعے ہی دوسرے اقتصادی اور سیاسی نظاموں میں دولت مند افراد دولت جمع کرتے ہیں۔

ٹام پالمر نے وضاحت کی کہ عمومی طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ آج بہت سے ملکوں میں اور زیادہ تر انسانی تاریخ کے مطابق دولتمند افراد اسلیئے امیر ہیں کیونکہ انہوں نے دوسروں سے مال لوٹا۔ ایسا خصوصاً اسلئیے ممکن تھا کہ انہیں کسی منظم طاقت جیسا کہ ریاست تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔ ایسے لوٹ مار کرنے والے ممتاز افراد اس طاقت کا استعمال کرتے ہوئے اپنی اجارہ داری قائم کرتے ہیں اور ٹیکس کے ذریعے دوسروں کی پیداوار ضبط کرتے ہیں۔ وہ ریا ستی خزانے پر پلتے ہیں اور ریاستی اجارہ داری سے اور مسابقت پر لگائی گئی پابندی سے فائدہ اُٹھاتے ہیں۔ ٹام پالمر نے کہا کہ صرف کیپیٹلزم کی شرائط کے تحت ہی لوگ مجرم بنے بغیر دولت مند ہوسکتے ہیں۔

  مختلف ممالک کی تاریخی مثالیں پیش کرتے ہوئے ٹام پالمر نے کہا کہ آزاد معیشت اپناتے ہوئے چین میں ۴۰۰ ملین افراد اور بھارت میں ۳۰۰ ملین افراد غربت سے نکل پائے ہیں۔ پاکستان کو اپنے پڑوسی ممالک سے سبق سیکھنا چاہئے۔ ٹام پالمر نے ہمیں یاد دلایا کہ ۱۹۶۰ کی دہائی میں کوریا کی فی کس آمدنی گانا (Ghana) سے کم تھی لیکن آج کوریا نے اپنی آمدنی آزاد تجارت کے اصول اپنا کر ۳۵ گنا بڑھا لی ہے جبکہ گانا(Ghana) ابھی تک سوشلسٹ معیشت میں وہی کا وہی کھڑا ہے۔

آئی ۔اے رحمان نے کہا کہ ممتاز افراد کیپیٹلزم کو امیر اور غریب لوگوں کے درمیان خلاء کو مزید بڑھانے کیلئے استعمال کیا ہے جس سے سماج میں بے اطمینانی پیدا ہوئی ہے ۔انہوں نے انسانی خوشی اور سرمایہ دارانہ نمو کے درمیان توازن کو بیان کیا ۔ آئی۔ اے رحمان کا کہنا تھا کہ برطانوی سلطنت اور دیگر تمام سلطنتوں نے اپنی کالونیوں کا استحصال کیا۔ انکی موجودہ دولت سے اس بات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔

ڈاکٹر خالد ظہیر نے کیپیٹلزم پر مذہبی نگاہ ڈالتے ہوئے اسکی اخلاقیات کو مذہب کے دائرے میں بیان کیا اور کہا کہ اسلام انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں کے بارے میں رہنمائی فراہم کرتا ہے اور بے قابو کیپیٹلزم کیلئے حدود متعین کرتا ہے۔ ڈاکٹر ظہیر نے بینکینگ کے جدید نظام پر تنقید کرتے ہوئے اسے غرباء کے خلاف قرار دیا کیونکہ یہ غریبوں سے پیسہ لے کے امیروں کو قرض دیتا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ربا کے مسئلے سے افراط زر کی اہمیت کم نہیں ہوتی‘‘۔
جیسے کہ اُمید تھی ٹام پالمر نے اسے نظر انداز نہیں کیا۔ انہوں نے تاریخ سے بہت سی ایسی مثالیں پیش کی جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیشترممالک نے آزاد تجارت کی بدولت ترقی کی نہ کہ ایمپیرئیلزم کی وجہ سے۔ جہاں تک مذہب کا تعلق ہے تو انہوں نے مذہبی آزادی کا پیغام دیا نہ کہ مذہب سے آزادی کا۔

فریڈریک نومان فاؤنڈیشن کے مقامی نمائندے اولف کیلر ہوف نے کیپیٹلزم کے یورپی تجربات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ تاریخ نے یہ ثابت کر دیا کہ کیپیٹلزم کے ادارہ جات جیسے کہ نجی ملکیت، آزاد انٹرپرائز اور آزاد تجارت نے انسانی تہذیب میں پائیدار کردار ادا کیا ہے۔ اسلامی تاریخ سے متعلق اپنے علم کے پیشِ نظر اولف کا نقطۂ نظر بہت واضح تھا کہ اسلامی معاشیات اور کیپیٹلزم میں کوئی تضاد نہیں بلکہ دراصل اسلامی معاشی نظام آزاد منڈی پر مبنی ایک سرمایہ دارانہ نظام ہے۔

اختتام پر میں کیپیٹلزم کی اخلاقیات کے بارے میں اپنا نظریہ بیان کرنے کی بجائے ہمارے معزز دوست خلیل احمد کے خیالات پیش کرنا چاہوں گا: "دولت اسی کی ملکیت ہوتی ہے جس نے اسے اسے تخلیق کیا ہو"۔ جب تک کیپیٹلزم کی کی اخلاقیات پر اتنا ہی یقین نہ کیا جائے جتنا کہ ہم اسکے موثر پن اور اسکی تکنیکی فتوحات پر کرتے ہیں تب تک ہماری پریشان حال قوم کا خوشحالی کا خواب بس خواب ہی رہے گا۔

مسٹر ٹام پالمر پورے ملک میں لیکچر دینے آئے ہوئے ہیں۔ ایک جرمن غیر منافع بخش سیاسی تنظیم فریڈریک نومان فاؤنڈیشن ان سیمیناروں کی میزبان ہے۔ اس سیمینار میں جسے ایکونومک فریڈم نیٹ ورک نیٹ ورک نے ڈویلوپمنٹ پول کے تعاون سے لاہور میں منعقد کیا، کئی طرح کے سامعین شامل ہوئے جن میں انٹروپنورز، صحافی، اساتذہ، پیشہ ور ماہرین اور طلباء شامل تھے۔