مصنف: ڈمیٹری بیوٹرِن

مترجم: کنول نذیر

        4 دسمبر کو روس میں انتخابات ہوئے۔میں انتخابات میں نہیں گیا کیونکہ اُس مہم میں سرگرم شمولیت کرنا وقت ضائع کرنے کے مترادف تھا جسے مرکزی انتخابی کمیشن نے ’ریاست ڈیوما کیلئے انتخابات ‘ قرار دیا۔ اُس دن تک یہ ایک مسلمہ حقیقت تھی کہ یونائیٹد رشیا پارٹی (موجودہ حکمران) نے اُن ۱۰۸ ملین شہریوں میں سے ۴۵ سے ۵۰ ملین ووٹ حاصل کیے جنہیں حقِ رائے دہی عطا کیا گیا تھا۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ کچھ اضلاع میں تو حاصل کردہ ووٹوں کی تعداد ووٹ دہندگان سے بھی زیادہ تھی۔

       4 دسمبر کو میرے جن ہم وطنوں نے ووٹ ڈالنے کا فیصلہ کیا وہ مجھ سے، انتخاب کنندگان اور حکمرانوں سے بھی زیادہ حا لات سے واقف تھے۔ لہٰذا یونائیٹد رشیا پارٹی کے خلاف اتنے ووٹ دئیے گئے کہ انکو ملنے والے ووٹوں کی تعداد گھٹ کر پچاس فیصد رہ گئی۔ پس میں 5 دسمبر کو انتخابات میں دھاندلی کے خلاف ہونے والے پہلے مظاہرے میں جانے سے خود کو روک نہ پایا۔ عام اتفاقِ رائے یہ تھا کہ ہم نے پچھلے انتخابات میں یونائیٹد رشیا پارٹی کو حاصل حمایت اور حکومت کی اس دھاندلی میں شامل ہونے کی گنجائش، دونوں کو اصل سے بڑھ کر سمجھا۔ یہ واضح ہو چکا ہے کہ حاکم جماعت کو اپنی مقبولیت کے باعث اقتدار حاصل نہیں ہوا۔

        یونائیٹد رشیا پارٹی ملک کی کلیدی سیاسی قوت کہلانے کا حق کھو چکی ہے۔ لوگوں کی اکثریت کی حمایت حاصل ہونے کے ان کے دعوے کھوکھلے ہیں۔ جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ نہ تو ترقی میں عارضی رکاؤ ہے اور نہ حادثاتی نقصان جس کی تلافی بعدازاں کی جا سکے۔ یہ ایک ایسا سیاسی نظام تشکیل دینے کی کوششوں کا منطقی نتیجہ ہے جسے وہ’منظم ‘ یا ’ خود مختار ‘ جمہوریت قرار دیتے ہیں۔ ان ا نتخابات کے نتیجے سے یہ بھی ظاہرہوتا ہے کہ روس کو متحد کرنے کیلئے تجویز کردہ نصاب کو بہت سے روسی اپنا نہیں پائے ۔یہ واضح تھا کہ اکثریت نے اس کی حمایت نہیں کی۔

        مقامی اور بین الاقوامی مسائل کے بارے میں ووٹ دہندگان کی رائے کو صحیح ثابت کرنے والے کوئی بھی حوالہ جات اب ٹھوس نہیں مانے جاسکتے ۔ حکمرانوں کی رائے بھی روس میں سامنے آنے والی دیگر آراء میں سے ایک ہے۔ اسے روس کی مجموعی رائے سمجھنے کی کوئی بھی وجہ نہیں۔ اقتدار پر اجارہ داری اب ماضی کا حصہ بن چکی ہے۔

       آئیے انتخابات کی تکنیکی تفصیلات کا جائزہ لیتے ہیں ۔ اعدادوشمار سے ثابت ہوتا ہے کہ بڑے پیمانے پر خلاف ورزیاں کی گئیں جن کی وجہ سے ووٹ دہندگان کی اصل آراء بدل گئیں۔ حتمی مسودات اور علاقائی انتخابی کمیشن کے مسودات کا موازنہ کرنے پر پتہ چلتا ہے کہ یونائیٹد رشیا پارٹی کے اصل ووٹوں کو لاکھوں کی تعداد میں بڑھا یاگیا۔یہ ماننے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ یونائیٹد رشیا پارٹی کو اُن ووٹ دہندگان کے ۳۵ فیصد سے زیادہ ووٹ حاصل ہوئے جنہوں نے واقعی اس پارٹی کے امیدواروں کو ووٹ دئیے۔ مزید برآں روس کے کچھ علاقوں کے نتائج واضح طور پر دیگر علاقوں سے مختلف تھے جو کہ صرف بدعنوانی کی طرف ہی اشارہ کرتے ہیں۔ جو کچھ بھی ان علاقوں میں ہورہاہے اسکا کوئی اور سبب نظر نہیں آتا۔ ماسکو کے رہائشیوں نے جن خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی ان سے پتہ چلتا ہے کہ روس کے نہ صرف عقبی حصوں بلکہ سب سے زیادہ گنجان آباد علاقوں میں بھی انتخابات میں دھاندلی ہوئی ۔ انہی خلاف ورزیوں کی وجہ سے ریاست ڈیوما کے مختلف علاقوں میں ووٹوں کی تعداد میں اتنا فرق تھا۔

        اسی طرح مرکزی انتخابی کمیشن کے نتائج کی بھی تفتیش کی گئی ہے۔ تجزیے سے پتہ لگتا ہے کہ حاکم جماعت کو حاصل ہونے والے ۱۵ ملین ووٹ اس دھوکہ دہی، جعلی عمل اور جرائم کا نتیجہ ہیں جو روس کے حکمرانوں نے وزیرِاعظم ولادیمیرپیوٹرِن اور صدرمیڈوِیڈیو کے ساتھ مل کر سرزد کیے۔ انتخابات میں دھوکہ دہی کے درجے، انتظامی اختیارات کے استعمال ، ووٹ دہندگان پر دباؤ یا ووٹوں کی گنتی میں دھاندلی پر تبصرہ کرنے سے بھی انکارکرنے سے پتہ چلتا ہے کہ جو کچھ بھی ہو رہا ہے اس میں حکمران اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس صورتحال میں یونائیٹد رشیا پارٹی جسے اس دھوکے سے فائدہ حاصل ہوا ، یہ دعویٰ نہیں کر سکتی کہ اسے ریاست ڈیوما میں اکثریت حاصل ہے۔ لیکن چونکہ یہ دعویٰ تو پہلے ہی کیا جا چکا ہے تو اس سے ریاست ڈیوما کے قانونی جواز پر سوال اُٹھتا ہے۔ رائے دہندگان کا ایک اہم حصہ ریاست ڈیوما کے فیصلوں کو قانونی طور پر جائز نہیں سمجھے گا پھر چاہے ڈیوما کے کتنے ہی افراد اس کے حق میں ووٹ کیوں نہ دے دیں۔ کوئی اتحادی حکومت بنانا ممکن نہیں ۔ یہ مجلسِ قانون ساز جس بھی روسی حکومت کی منظوری دے گی اسے عوام کی حمایت حاصل نہ ہوگی۔ اس حکومت کو ایسی غیر قانونی پارلیمنٹ منتخب کرے گی جو اس انجان آبادی کی نمائندہ ہے جس نے اسے ووٹ دئیے۔

        صدارتی انتخابات اگلے موسم بہار میں منعقد کیے جائینگے۔ عین ممکن ہے کہ یہ انتخابات بھی ۲۰۱۱، ۲۰۰۷ اور کچھ حد تک ۲۰۰۳ میں ریاست ڈیوما میں ہونیوالے انتخابات کی طرح ہی ہوں۔تاہم یہ انتخابات ایک مختلف صورتحال میں ہونگے۔ ووٹ دہندگان اس بات سے آگاہ ہونگے کہ سب کچھ پہلے ہی مقررہے اور حکومت میں آنے والی جماعت بڑے پیمانے پر دھاندلی کیے بغیر نہیں جیت سکتی۔

        غیر نظامیاتی اپوزیشن کو بڑھنے سے روکنے کا بس ایک ہی واضح طریقہ ہے کہ سیاسی سرگرمیوں پر لاگو حدود ہٹا دی جائیں اور ۱۹۹۹ کے 'سٹیٹس قو' کو موثر طریقے سے دوبارہ اپنایا جائے۔ حکمران ، اقتدار پر اپنی اجارہ داری کھو رہے ہیں۔ اگر ۲۰۱۲ کے صدارتی انتخابات کو ریاست ڈیوما کے ۲۰۱۱ کے انتخابی مسودے کے مطابق منعقد کیا گیا تو تبدیلی کی زیادہ بنیادی اور کم ارتقائی حکمتِ عملیاں عوام کیلئے زیادہ قابلِ قبول ہونگی۔ ابھی تو ہم ہزاروں کی تعداد میں ہیں پر جب ہماری تعداد سینکڑوں ہزار ہو جائے گی تو حکمرانوں کے اقدامات کیلئے بہت دیر ہو چکی ہو گی۔

        ریاست ڈیوما کے ۲۰۱۱ کے انتخابی نتائج کو مسترد کرنے سے اور نئے سرے سے شفاف انتخابات منعقد کرنے سے پورے ملک کو ان بڑے مسائل سے بچایا جا سکتا ہے جو ان صدارتی انتخابات اور انکے بعد مستقبل میں ہونے والے انتخابات میں پیش آسکتے ہیں۔

        کلاسیکل لبرل ہونے کے ناطے میرے لیے یہ موزوں نہیں کہ پارلیمانی انتخابات کے دوران مجھے  kleptomaniacs کی چار اقسام اورsocialists کی تین اقسام میں سے کسی ایک کو چننا پڑے۔ یقیناً مجھے ایسے لوگوں کے بیچ موجود جمہوری اقدار سے وابستگی ظاہر کرنا پسند نہیں جو اپنے حواس تقریباً کھو چکے ہیں اور جو اپنے برائے نام پاکیزہ ارادوں کو پورا کرنے کیلئے مشتعل انقلابوں کے حق میں ہیں۔ کلاسیکل لبرل اور معتدل جماعتوں کو ایک باقاعدہ نظام کے تحت انتخابی عمل سے نکال دیا گیا اور پیچھے بس حاکم kleptocrats اور ایک بد حواس سرکاری اپوزیشن رہ گئی۔ مناسب انتخابی حکمتِ عملی کا ایک نتیجہ یہ ہو گا کہ سمجھدارلوگ سیاسی مقابلے میں دوبارہ شامل ہو سکیں گے۔ اس سے نہ صرف روس بلکہ اسکے پڑوسی ممالک بھی مستفید ہونگے۔