مصنف: علی سلمان

مترجم: کنول نذیر

           ہماری معیشیت کے دوسرے شعبوں کی طرح زراعت میں بھی قیمتوں کو کم رکھنے کیلئے حکومتی مالی اعانت مہیا کرکے بگا ڑپیدا کیا جاتا ہے۔ طاقتور مجالس کو بطور عذر استعمال کرتے ہوئے حکومتی مداخلت کی بالا دستی قائم رہتی ہے اور منڈی میں آزاد کاروائیاں رو نما نہیں ہو پاتیں ۔ میں اس مضمون میں چاول کی فصل جو کہ فی الحال زیرِ کٹائی ہے، کیلئے مہیا کی جانیوالی امدادی قیمت(Support price) پر تبصرہ کروں گا۔ آئیے میکرواکنامکس کے اعدادوشمار استعمال کرنے کی بجائے پنجاب کے ایک چھوٹے کاشت کار کی سچی کہانی کا مشاہدہ کرتے ہیں۔

         ہر سال کی طرح اس سال بھی عوامی حکومت نے چاول کے کاشتکاروں کیلئے مالی امداد کا اعلان کیا ہے۔ اس سال PASSCO (پاکستان ایگریکلچرل سپلائی اینڈ سٹوریج کارپوریشن ) نے چاول کے کاشت کاروں کو ۱۲۰۰ سے ۱۲۵۰ روپے فی ۴۰ کلو دینے کی پیشکش کی۔ میں بذاتِ خود اس کا پتہ لگانے کیلئے وسطی پنجاب میں واقع اپنے گاؤں گیا۔ وہاں بسے چھوٹے کاشتکاروں پر مبنی میر ے خاندان کے افراد نے نہ صرف فصل کاٹ لی تھی بلکہ اسکو فروخت کرکے رقم بھی وصول کر لی تھی۔ انہو ں نے اپنی فصل مہربان حکومت کو بیچنے کی بجائے ایک 'استحصالی' (Exploitative) تاجرکے ذریعے آزاد منڈی میں بیچنے کا فیصلہ کیا۔ شرمناک حقیقت یہ ہے کہ آزادمنڈی نے انہیں حکومت کی اعلان کردہ رقم سے ۲۰ فیصد کم رقم کی پیشکش کی پھر بھی کاشتکاروں نے اپنی مرضی کے مطابق اپنی فصل منڈی میں بیچی۔

     مندرجہ ذیل کہانی سے تفصیلاً پتہ چلتا ہے کہ کیوں بیشتر کا شتکار حکومت کی زیادہ قیمت پر آزاد منڈی کو فوقیت دیتے ہیں۔

         جب حکومت امدادی قیمت کااعلان کرتی ہے تو کچھ شرائط لاگو کر کے بعض کاشتکاروں کو اہل قرار دینے کیلئے امتیازی طریقے اپناتی ہے۔ پہلی شرط یہ ہے کہ کاشتکاروں کے پاس پٹ سِن کی بوری ہونی چاہئے جس باردانہ کہتے ہیں اور جو بس حکو مت کی دکانوں پر ہی دستیاب ہوتی ہے۔ تاہم بحرانی حالات میں یہ بوریاں غائب ہو جاتی ہیں اور چور بازار میں بکتی ہیں۔ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ اگر یہ بوریاں دستیاب بھی ہیں تو طلب کو پورا کرنے کیلئے نا کافی ہوتی ہیں۔ پس کاشکار یا تو انسپکٹرز کی منت سماجت کرتے ہیں کہ انہیں حسبِ ضر ورت بوریاں مہیا کی جائیں یا پھرایجنٹس کو رجوع کرتے ہیں تاکہ انہیں کمیشن دے کر یہ بوریاں لے سکیں جو کہ بصورتِ دیگر مفت ملنی چاہئے۔ یہ بس ہماری سوچ کی حد تک ہی مفت ہیں ورنہ درحقیقت دوسرے ٹیکس دہندگا ن اسکی قیمت ادا کرتے ہیں۔

        دوسری شرط یہ ہے کہ جب خوش قسمت کاشتکاروں کو حسبِ ضرورت بوریاں مل جاتی ہیں اور وہ اپنی فصل بیچنے کیلئے تیار ہوتے ہیں توانہیں حکومت کی دکانوں کے باہر لمبی قطار میں کھڑا ہونا پڑتاہے۔ اس دوران مناسب گودام میسر نہ ہو نا اسکی فصل کیلئے ایک مسلسل خطرہ ہے۔

        تیسری شرط کی وجہ سے کسان کی آزمائش مزید بڑھ جاتی ہے۔ یہ شرط یہ ہے کہ حکو مت کا انسپکٹرفصل کا معائنہ کرے گا جو کہ اس فصل کو رد بھی کر سکتا ہے۔اس استراد کے بعد کاشتکار کو جس نے بڑی محنت سے پٹ سِن کی بوری حاصل کی اور کافی دن انتظار بھی کیا ، واپس جانا پڑتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب اسے اضافی نقل و حمل اور فصل کو ذخیرہ کرنے پر آنے والی لاگت بھی برداشت کرنی پڑے گی۔ اگر قسمت اُس پر مہربان ہو گئی تواسے رستے میں 'مطلب پرست' تاجرمل جائیگا جو اسے کم لیکن نقد رقم دے کر اسکی فصل خرید لے گا۔

       اگر کسان اپنی فصل حکومت کو بیچنے میں کامیاب ہو جائے تو اسے اپنی رقم فوراً نہیں ملے گی۔ حکومت کی دُکانوں پر نقد رقم دستیاب نہیں ہوتی۔ کسانوں کو ایک رسید دے دی جاتی ہے جبکہ ادائیگی کچھ ہفتوں بعد کی جاتی ہے۔

       ذہین ، خود دار اور کاروباری فہم رکھنے والے کاشتکار بشمول وہ ۹۰ فیصد کسان جو چھوٹے کاشتکار ہیں ، ہمیشہ اپنی ذاتی لاگت اور اس ناگزیر لاگت کا موازنہ کرتا ہے جو حکومتی امدادی قیمت قبول کرنے کی وجہ سے اسے برداشت کرنی پڑتی ہے۔ یہ سچ ہے کہ ہمارے معیارات کے مطابق یہ کاشتکار پڑھے لکھے نہیں ہیں لیکن اپنے ذریعۂ آمدنی کی معاشیات کا انہیں بخوبی علم ہے۔ در حقیقت ان کے حساب کتاب کے مطابق فصل آزاد منڈی میں بیچنے یا حکومتی امدادی قیمت قبول کرنے میں کوئی فرق نہیں ۔ اگر حکومت کی متعین کردہ قیمت ۱۲۰۰ روپے ہے تو اوپر بیان کردہ تمام مشکلات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کاشتکار اپنی فصل خوشی خوشی ۱۰۰۰ روپے میں فروخت کرنے پر تیار ہوجائے گا۔ پس آزاد منڈی قیمتوں کو زیرِ قابو رکھتے ہوئے مسلسل جدوجہد کر نے والے شہری صارفین کو سکون کا سانس لینے کی تھوڑی مہلت فراہم کرتی ہے۔

       اس سچی کہانی سے پالیسی سے متعلق بہت سے اسباق سیکھنے کو ملتے ہیں۔ پہلا سبق تو یہ کہ اشیاء کی قیمتیں طے کرنے میں ریاست کی مداخلت نہ صرف معاشی بلکہ سیاسی حماقت بھی ہے جو کہ بظاہر فلاح و بہبود کیلئے کی جاتی ہے۔ امدادی قیمت کی موجودگی میں ایک مایوس کسان ، اسکی غیر موجودگی میں ایک جدوجہد کرتے ہوئے کسان سے زیادہ متشعل ہوتا ہے۔ دوسرا سبق یہ کہ جب آزاد منڈی کو محدود کیا جاتا ہے تو چور بازار جنم لیتے ہیں ۔ فصل کو حکومت کی بوریوں میں لے جانے کی شرط ختم ہونی چاہئے۔

       تیسرا سبق یہ ہے کہ اَن پڑھ کسان بھی سمجھ دار اور باعلم معاشی فیصلے کر سکتے ہیں بشرطیکہ تمام علم رکھنے والی اور مہربان حکومت ان کے رستے سے ہٹ جائے۔

 

مصنف ایک تحقیقی ادارے Development Pool کے بانی اور Managing Partner ہیں۔

یہ مضمون ۲۸ نومبر ۲۰۱۱ کو The Express Tribune میں شائع ہوا۔

 

 

retaining