مصنف: آرتھر۔ ای۔فاکس
مترجم: کنول نذیر
وسیع پیمانے پرسیا ستدان،عوامی حکام اور پنڈت یہ عقید ہ رکھتے ہیں کہ اگر حکومت انکی امداد نہ کرے تو وہ کچھ نہیں کر سکتے۔
میرے ایک دوست نے ہمارے شہر کی قانون ساز کونسل کیلئے آ ٹھ سال تک کام کیا ۔ اس دوران اس نے ٹیکس پر چلنے والی ترغیبات کے دفاع میں اکثر یہ سنا کہ"اگر ہم کچھ نہیں کر یں گے تو کچھ نہیں ہوگا"۔
قومی سطح پر بھی یہ ہی عقیدہ رائج ہے ۔ ہمارے بہت سے پڑھے لکھے لوگوں کا یہ ماننا ہے کہ اگر حکومت اس قوم کو رستہ نہ دکھائے اور مالی امداد نہ دے تو یہ قوم آگے نہ بڑھ سکے بلکہ عین ممکن ہے کہ پیچھے کی طرف آنے لگے۔
یہ نظریہ واشنگٹن پوسٹ کےادارتی صفحہ کے مدیر Fred Hiatt کے جون میں شائع ہونے والےادارتی مضمون کی حما یت کرتا ہے۔امریکی مالی پالیسی کے بارے میں بات کرتے ہوئے Hiatt نے لکھا کہ "Republican Doctrinaire کے حکومت کو گھٹانے پر اصرار کرنے سے تحقیق ، تعلیم اور بنیادی ڈھانچے(infrastrcuture) میں سرمایہ کاری کرنے کی ملکی قابلیت میں کمی واقع ہو گی۔ جبکہ ایک عظیم قوت بننے کیلئے اس قا بلیت کی ضرورت ہوگی" ۔
دوسرے الفاظ میں یہ کہ اگر حکومت اخراجات نہ اُٹھائے تو اہم سرمایہ کاری میں سنگین کمی واقع ہوگی۔اتنی سنگین کہ امریکہ 'عظیم طاقت' کی حیثیت بھی کھودیگا اور پوری دنیا پر اپنا غلبہ بھی۔
کیا ایسا ہی ہے؟
پہلی بات تو یہ کہ اگر ایک قوم کو عظیم طاقت کی حیثیت سے اُبھرنے کیلئے بڑے پیمانے پر حکومتی خرچ کی ضرورت ہے تو پھر انیسوی صدی کے آخر ی دورمیں امریکہ دنیا کی امیر ترین قوم کیسے بن گیا؟ جبکہ ایک صدی تک یہ ایک چھوٹی اور محدود حکومت کے تحت تھا۔
چلیں اس بات کو ایک طرف کر کے ذرا Hiatt کے سب دعوے باری باری ملاحظہ کرتے ہیں ۔
پہلے تو وہ یہ دلیل دیتے ہیں کہ سائنسی تحقیق عوامی مال کی مانند ہے جس سے ہر کوئی لطف اندوز ہو سکتا ہے پھر چاہے اس نے اس کیلئے قیمت ادا کی ہو یا نہیں۔ یہ نام نہاد rider-Free مسئلہ ہے۔ اگر بنیادی تحقیق عوامی ما ل ہے تو اس کا خرچ حکومت کو اُٹھانا چاہئے۔
لیکن برطانیہ کی uckinghamUniversity of B کے مصنف ، لیکچرار اور کلینکل بائیو کیمسٹ پروفیسر Terence Kealey کے مطابق سائنسی تحقیق عوامی مال نہیں ہے۔ انہیں یہ پتہ لگاکہ سب سے زیاد ہ تر منافع بخش کمپنیاں بنیادی سائنسی تحقیق کیلئے اکثر فراخدلی سے فنڈ دیتی ہیں ۔ نتیجتاً دولت بڑھتی ہے۔ یہ حقیقت اس بات کی علامت ہے کہ یہ لوگ rider-Free سے خائف نہیں۔
1997 میں کیٹو انسیٹیوٹ(Cato Institute) کیلئے لکھتے ہوئے Kealey نے اس تحقیق کی نشاندہی کی کہ بوجود اس کے کہ بنیادی سائنس کے زیادہ تر مفادات رقیب(Rival) فرمز کے حصے آتے ہیں ، ان فرمز کو نئی ترقیات سے فائدہ اُٹھانے کیلئے بہترین سائنسدانوں کو ملازمت دینی چاہئے۔ یعنیResearch and Development میں کوئیRider-Free مسئلہ نہیں ہوتا۔
مزید برآں حکومتی فنڈپر چلنے والی تحقیق تجارتی افادیت کے لحاظ سے نجی تحقیق کے سامنے پھیکی پر جاتی ہے۔یہ تجارتی افادیت ہی ہمیں امیر بناتی ہے۔ دریں اثناء حکومتی فنڈپر چلنے والی تحقیق بہت زیادہ غیر موثر ہوتی ہے۔Kealey نے یہ مشاہدہ بھی کیا کہ وہ ممالک جہاں ٹیکس کا بوجھ کم ہوتا ہے وہاں کی کمپنیاں بنیادی سائنس کے لئے اپنی رقم استعمال کرتی ہیں جبکہ وہ ممالک جہاں ٹیکس کا بوجھ زیادہ ہوتا ہے وہاں کی کمپنیاں حکومت کی مدد لیتی ہیں یعنی بنیادی سائنس سراسرسیاسی مسئلہ بن جاتی ہے۔
Kealeyنے یہ نتیجہ نکالا کہ "سائنسدانوں کو حکو متی رقم سے لگاؤ ہوسکتا ہے اور سیاستدانوں کو اس طاقت سے جو یہ رقم خرچ کرنے سے انہیں حاصل ہوتا ہے پر اس لین دین سے معاشرہ غریب ہوجاتاہے"۔
تعلیم اور حکومت
Hiatt کا یہ بھی ماننا ہے کہ معیاری تعلیم کیلئے حکومتی فنڈکی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن یہ بھی غلط ہے۔
عوامی سکولوں کا مقصد کبھی بھی ’تعلیم‘نہیں رہا بلکہ انہیں بس اس لئے بنایا جاتا ہے کہ بچوں کو اچھے شہری بنایا جاسکے۔ وہ آزاد منڈی میں کوئی شے یا خدمت مہیا نہیں کر رہے۔ وہ بس حکومت کے بتائے ہوئے رستے پر چل رہے ہیں۔
حال ہی میں میری آبائی ریاستIndiana میں گورنمنٹ سکول ٹیچرز کا حکومتی فنڈ پر چلنے والے چارٹر سکولوں اور واؤ چر سسٹم (Voucher System) پر گورنر Mitch Danids کے ساتھ تصادم ہو گیا۔
اس احتجاج سے بمشکل ہی کوئیآزادی سوچظاہر ہوئی ۔ پر اس سے یہ ضرور ظاہر ہوا کہ تعلیمی پالیسی پوری طرح مفاد پرست سیاست کے زمرے میں شامل ہو چکی ہے۔
University of New Castle میں تعلیمی پالیسی کے پروفیسر James Tooley نے اس نظریے کو ختم کر دیا کہ صرف حکومت ہی تعلیم مہیا کر سکتی ہے ۔ انہیں پتہ چلا کہ افریقہ کی غریب ترین کچی آبادیوں میں نجی سکول کامیابی سے کام کر رہے ہیں اور صحیح معنوں میں حقیقی اور سستی تعلیم مہیا کر رہے ہیں۔ حتیٰ کہ غریب ترین بچوں کو مفت تعلیم دی جاتی ہے۔
بد قسمتی سے اقوامِ متحدہ بھی اس میں شامل ہو گئی اور انہی علا قوں میں ٹیکس پر چلنے والے سکولوں کا نظام رائج کردیا۔ جب والدین کو محسوس ہوا کہ ان حکومتی سکولوں کمی ہے تو انہوں نے اپنے بچوں کو نجی سکولوں میں واپس بھیج د یا۔Tooley نے جانا کہ امریکہ کی طرح افریقہ میں بھی حکومتی سکولوں کی نسبت نجی سکولوں میں تعلیم سستی ہے۔
بنیادی ڈھانچہ
Hiattکے مطابق بنیادی ڈھا نچے کے اخراجات میں بھی مزید حکومتی فنڈنگ کی ضرورت ہے۔ پھر بھی کیٹو انسٹیٹیوٹ کےPeter Van Doren اور Chris Edwards نے ۲۰۰۸ میں یہ نشاندہی کی کہ ہر برِصغیر کے ممالک اپنے غیر فعال حکومتی اثاثے جن میں ہوائی اڈے ، بندر گاہیں اور شاہراہیں شامل ہیں ، نجی اداروں کو بیچتے رہے ہیں ۔Greece جس کا سب دیوالیہ ہونے والاہے ایک ایسی ریاست کی مثال ہے جس نے نجی ڈھانچے کی بجائے زیادہ سے زیادہ حکومتی فنڈنگ پر انحصار کیا۔ اس کا نیتجہ انتہائی فضول اور غیر فعال نکلا اور قوم عوامیت پسند جماعت(Populist) اور تجارتی یونین کے ہاتھوں جکڑی گئی۔ ایک یونانی ماہرِمعا شیاتJohn Sfakianakis نے حال ہی میںFinancial Times میں لکھا کہ "یونانی نظامِ سیا ست مفاد پرستی ، بد عنوانی حکومت اور رشوت ستانی سے لبریز ہے"۔ ماہرِ معاشیات اور موجودہ وزیرِاعظم کے والد کےndreas PapendreouA زمانے سے ہماری سیاست کو پبلک سیکٹر (Public Sector) کی توسیع، سر پرستی اور قرضے لینے کی شرح سے پرکھا جا رہا ہے۔
۱۹۳۵ میںAlbert Jay Nock نے اپنی کلاسیک کتاب the State ,Our Enemy میں لکھا کہ " ریاست نے اپنے شعبہ سے ہٹ کر جو بھی کام کیا وہ غیر تسلی بخش اور مہنگا تھا۔ سرکاری غیر فعالی اور فضول خرچی کے خلاف جتنی شکایت کی گئی ہے اتنی کسی اور معاملے کے بارے میں نہیں کی گئی"۔
بہت سے لوگوں کا ماننا ہے کہ بس ایک ہمیشہ بڑھتی ہوئی ریاست ہی امریکہ کی عظمت کو یقینی بنا سکتی ہے۔ لیکن ان لوگوں کو عظمت کے بارے میں غلط فہمی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سرکاری شعبے کے بڑھنے سے سول سوسائٹی کمزور ہو جاتی ہے جس میں افراد اپنے انتخابات خود تشکیل دیتے ہیں(اور ان کی قیمت بھی خود کرتے ہیں) اور منڈی سرمایے کے موثر ترین استعمال کی ترغیب دیتی ہے ۔
سرکاری شعبے کی توسیع سے قومی عظمت حاصل ہونے کی بجائے معاشی شعبہ زیادہ سے زیادہ سیاسی ہوتا چلا جائیگا جس کے نتیجے میں اُس شخصی آزادی اور ذمہ داری میں بھی کمی واقع ہو گی جو امریکہ کے منفرد ، خوشحال اور عظیم بننے کا باعث بنی ۔