مصنف: طاہر کامران

مترجم: کنول نذیر

بلال احمد ایک کالم نگار، ایکٹیویسٹ، معلم، ایک قابلِ احترا م د وست اور ایک بہت ہی اچھے انسان تھے۔

میرے والد صاحب ہمارے دوست بلال احمد کی صحت دریافت کرنے کیلئےHospital s'Doctor کے انتہائی نگہداشت کے یونٹ (UCI) گئے جس کے بعد انہوں نے مجھے جو ای میل بھیجی اس کا اختتامیہ جملہ کچھ یوں تھا کہ 'ہر دور میں معجزات ہوتے رہے ہیں۔ میری دعاہے کہ ایک بار پھر کوئی معجزہ ہو جائے'۔ کچھ برا ہونے کے ڈر کے ساتھ ایک امید بھی قائم تھی۔ گزشتہ ہفتے بلال احمد وفات پا گئے اورpathy-iordcaکے خلا ف انکی طویل جنگ اختتام پزیر ہوئی ۔

تین ماہ قبل ہی وہ اپنے ڈاکٹر سے ملنے بر طانیہ گئے اور Conventry میں ہمارے مشترکہ دوست کے گھر قیام کیا۔ پاکستا ن کے لئے روانہ ہونے سے پہلے انہوں نے ہم تینوں (Virinder Karla ,Pippa Verdi  .Dr اور مجھ سے) سے tryvenCon آنے اور ان سے ملنے پر اصرار کیا۔ وہ کافی کمزور ہوچکے تھے اور روزانہ steroids لینے سے ان کا اعصابی نظام بری طرح متاثر ہو چکا تھا۔ پھر بھی اپنے دوستوں کی صحبت میں تروتازہ رہنے کی کوشش کرتے تھے۔ اپنے دوستوں کو خدا حافظ کہتے ہوئے انہوں نے کبھی دوبارہ بر طانیہ واپس نہ آنے کے ارادے کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ 'یہ ابر آلود موسم مجھے افسردہ کر دیتا ہے'۔ بلا شبہ یہ انکا آخری دورہ تھا۔

بلال ایک فیاض اور بے غرض انسان تھے۔ اسی خوبی کی بدو لت ان کے بہت سے دوست اور وفادار طلبہ تھے۔ جب ۲۰۰۰ میں انہوں نے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی میں تاریخ اور فلسفے کے شعبہ جات میں پڑ ھانا شروع کیا تو جلد ہی Phil.M کے طلبہ انہیں بہتر ین استاد قرار دینے لگے۔ ان کے نظریات واضح تھے اور انہیں یہ صلاحیت حاصل تھی کہ وہ مشکل اور پیچیدہ مضامین بھی طلبہ پر واضح کر دیتے تھے۔ بطور استاد وہ اپنے کاموں کوسنجیدگی سے لیتے تھے اور اپنے لیکچر تیار کرنے کیلئے اضافی وقت بھی صرف کر تے تھے ۔ انکی تعلیم کافی وسیع تھی اس لیے وہ تاریخ، فلسفہ ، معاشیات اور ادب بآسانی اور پُر اعتمادی سے پڑھا سکتے تھے۔

ادب سے انہیں بہت لگاؤ تھا اور انکو Kafka اور Dostoyevsky بہت پسند تھے۔ اردو کے مصنفین میں سے انہیں محمد خلیل اختر ، منٹو اور مجید امجد پسند تھے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ 'ادب انسانی زندگی کو جاننے کا ایک نسبتاً بہتر ذریعہ ہے' ۔ وہ Short Story کے مصنف بننا چاہتے تھے ۔ انہو ں نے کچھ کہانیاں بھی لکھیں لیکن آگے نہ بڑھ سکے۔ انہوں نے اردو روزنامہ پاکستان کے لئے ۱۹۹۸ میں لکھنا شروع کیا اور باقاعدگی سے لکھتے رہے۔ انہوں نے کئی سا ل اس اخبار کیلئے لکھا اور اُن اردو کالم نگاروں میں سے ایک کہلائے جوکچھ بھی تحریر کرنے سے پہلے بہت محنت سے اس کے بار ے میں معلومات اکٹھا کرتے ہیں۔

اپنی تحاریر ، لیکچر اور گفتگو میں وہ اختیار پسند اور جدید خیالات کی ترجمانی کیا کرتے تھے ۔ لہذا Karl Popper ان کے پسندیدہ فلسفی تھے اور ان کے شاہکارOpen Society and its Enemies کا حوالہ وہ اکثر دیا کرتے تھے۔ ان کے مطابق جمہوریت کے پر اثر نتائج حاصل کر نے کے لئے قانون کی حکمرانی ضروری تھی ۔ اپنے کالموں کے مجموعے کی شکل میں انہوں نے دو کتب بھی لکھیں۔ مجھے ذاتی طور پر انکی کتب پسند ہیں لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ناشروں نے انکی مناسب طور پر اشاعت نہیں کی۔ ۲۰۰۵ میں انہوں نے 'جمہوریت اور غیر سیاسی قوتیں' اور ' پاکستان میں اقتصادی پسماندگی' کے نام سے اپنی کتب شائع کیں۔

شدید مایوسی کا شکار ہونے سے قبل انہیں Putnam Robert اور ان کا سماجی سرمایے (Social Capital) سے متعلق نظریہ بہت پسند آیا۔ انہوں نے اس موضوع پرPhD کرنے کا سوچا۔ لہذا انہوں نے ایک تجویز تیار کیں اورUniversity of Manchester کو بھیجی۔ ان کے مستقبل کے Supervisor کو انکی تجویز بے حد پسند آئی اور ان کوSupervise کرنے پر راضی ہوگئے۔ لیکن بلال کی بگڑی ہوئی صحت ان کے رستے کی رکاوٹ بن گئی۔ دھیرے دھیرے مایوسی نے ان پر غلبہ کر لیا اور وہ اپنے کمرے میں بند ہو کر رہ گئے۔ انکے دل کی کارکرد گی بھی متاثر ہونے لگی ۔ تاہم کبھی کبھی وہ باہر نکلا کرتے تھے۔ انہں نے وکلاء کی تحریک میں بہت گرم جوشی سے شرکت کی۔ آمریت سے انہیں سخت نفر ت تھی۔ ان کے خیال میں محض تعلیمی سرگرمیوں سے پاکستان کی سیاسی اور سماجی حالت بہتر نہیں ہو سکتی۔ تعلیمی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ سماجی سرگرمیوں کی بھی ضرورت ہے۔

انہیں ایسے دلائل پسند نہ تھے جن کے پیچھے کوئی ٹھوس نظریہ نہ ہو یا جو مدعے سے ہٹ کر ہوں۔ ان کے مطابق ہر نظریے کی مناسب تاریخی اور سماجی بنیاد ہونی چاہئے۔ اپنے طلبہ کو بھی وہ یہ ہی نصیحت کرنے پر زور دیا کرتے تھے ۔ وہ کرخت تنقیدی ردِعمل دینے کیلئے جانے جاتے تھے۔ میں نے خود اپنے کچھ پرجہ جات پر انکی متواتر تنقید کا سامنا کیا۔ وہ اپنی تحاریرپر کی جانے والی تنقید سے بھی کبھی برہم نہیں ہوتے تھے۔ تاہم گزشتہ کچھ سالوں سے ا نکا مزاج طنزیہ ہونے لگا تھا اور وہ خودپرقابو کھو دیتے تھے ۔ ایسی ایک مثال کچھ سال پہلےLUMS میں ہونے والے ایک سیمینار میں عائشہ جلال کے بارے میں انکی تلخ رائے تھی۔

پچھلی بار میرے لاہور آنے پر انہوں نے ایک پُر فیا ض دعوت کا اختتام کیا۔ یہ پہلی مرتبہ تھا کہ جب میں نے انہیں انکی صحت کیلئے فکر مند پایا۔ ان کا کہنا تھا کہ'مجھے علم ہے کہ میں ہر گزرتے دن کے ساتھ موت کی طرف بڑھ رہا ہوں'۔ بس یہ ایک جملہ تھا جو انہوں نے افسردہ ہو کہ کہا اور پھر فوراً انہوں نے موضوع بدل دیا۔ انہیں پتہ تھا کہ وہ اب زیادہ دیرزندہ نہیں رہیں گے اور انہوں نے اسے قسمت کا فیصلہ سمجھ کہ قبول کر لیا تھا۔ ان کی زندگی ۴۳ مصرو ف سالوں پرمشتمل تھی۔ جسکے دوران انہوں نے تحاریر لکھیں، بطورactivist کام کیا اور پڑھایا۔ وہ ایک معززدوست اور سب سے بڑھ کر ایک بہت اچھے انسان تھے۔ طاہر جمیل نے ان کی وفات پر ایک شعر سنایا                                          

کہاں سے لائیں

تجھ سا کہیں جسے

 طاہر جمیل نے بالکل مناسب شعر سنایا کیونکہ شاید ہی کوئی ان جیسا ہو سکتا ہے۔