مصر میں احتجاج کی نوعیت 

مصنف: ڈاکٹر نوح ال حارموزی 

مترجم: زینب خالد 

مصر عشروں سے پھٹنے کے لیے تیار آتش فشاں کی مانند رہا ہے۔ دوسرے علاقوں کی طرح، مبارک حکومت ایک سنسنی خیز سیاسی بحران کے اوپر بیٹھی نظر آتی ہے جو کہ بیک وقت ابھرتی ہوئی اسلامی شدت کو اپنے اندر دبانے اور سیاسی مزاحمت کو اکھاڑ پھینکنے کی کوشش میں لگی ہو۔ 1981 ء میں ہونے والے ، مبارک کے پیشروا، انور سعادت کے قتل کے بعد سے ، ملک ایک مسلسل ہنگامی صورت حال کا شکار رہا ہے۔ یہی ہنگامی صورت حال، عوام کے ذریعے استحکام کی پالیسی کی بنیادبنی جس کا اصل مقصد شاہی نظام حکومت کا نفاذ اور اپنے پیچھے فوجی ٹولی رکھنے والے صدر کو طاقت کی ترسیل ہے جسے انگریز نوابوں اور دھمکی آمیز عوامی جمہوریہ پارٹی کا سہارا حاصل ہو۔ 

یہ سب اس کے سر پر آفتوں کی طرح پڑ رہا ہے؟ 

یہ مستحکم نظام حکومت عدم استحکام کا شکار کس طرح ہوئی؟ 

مصر کی ترقی کے اس قدر لمبے جمور کی ایک وجہ جمال عبدالناصر (صدر1970-1956) کا دائمی اثر ہے، جس نے ملک کو سوویٹ یونین کا اتحادی بنایا، اور قومی اور ریاستی معیشت پر جبر ایسی پالیسی کا نفاذ کیا جس نے بھاری نقصان دہ مہمات اور تباہ کن افسر شاہی کو جنم دیا۔ دوسری وجوہات مصر کا جغرافیہ، ارضیات، معیشت، تاریخ اور جغرافیائی و سیاسی حالت ہے، جن میں سے ہر ایک کھلے سیاسی اور معاشی نظام کی نسل کا دم گھونٹنے اور ملک کی جامد اور حاکمانہ زیادہ ترتیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کو مضبوط کیا چونکہ حکمران ٹیکسوں پر زیادہ انحصار نہیں کرتے لہٰذا ان کے پاس اچھے حکمرانی انتظام کو ترقی دینے اور لوگوں کے سامنے جوابدہ ٹھہرائے جانے کی خاصی کم وجوہات ہیں۔ 

جغرافیہ :۔

نہر سوئیز ،بحیرہ قلزم کے درمیان سیدھا راستہ مہیا کرتی ہے۔ یورپ اور ایشیا کے درمیان ایک مصنوعی بحری راستے کے طور پر یہ نہر کافی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ اس کی وجہ سے افریقہ کے گرد سے ہوتے ہوئے لمبے بحری راستے سے بچا جا سکتا ہے۔ سوئیزنہر کو 1956میں ناصر نے قومیا لیا تھا ہر روز تقریباً40بحری جہاز یہ نہر پار کرتے ہیں جو کہ ریاست کی سالانہ آمدنی میں 3.3ارب ڈالر کی پیداوار کا سبب بنتا ہے۔ 

ارضیات:۔ 

مصر کی سرزمین کو سالانہ 1.2ارب ڈالرزرمبادلہ کمانے والے تیل کے ذخیروں سے نوازا گیا ہے۔ تیل کی صنعت جسے 1962میں قومی تحویل میں لیا گیا ریاست اور افسر شاہی کو کرایہ فراہم کرتی ہے جو کہ اسے دیمک کی طرح کھا رہے ہیں۔ 

معیشت :۔ 

مزدوروں کی منڈی میں شدید سختیوں کے باعث بے روزگاری میں شدید اضافہ ہوا۔ جس نے بہت سے مصریوں کو کام کی تلاش میں باہر جانے پر مجبور کر دیا۔ ہر سال شمالی امریکہ، یورپ اور مشرق وسطیٰ میں کام کرنے والے مصری اندازاً4.3 ارب ڈالر اپنے خاندان کو بھیجتے ہیں جو کہ گھر میں دولت پیدا کرنے کی بجائے ملکی آمدنی کا ایک بیرونی ذریعہ فراہم کرتے ہیں۔ 

تاریخ:۔ معاشرے پر اپنی پکڑ مضبوط کر چکے ، کرایہ خواہاں، سیاسی نظام نے مصر کو ایک مستقل انقلاب سے پہلے جیسی اور ایک طاقت ور لیکن سخت حفاظتی صورت حال میں ڈال دیا ہے۔ 

ریاستی روزگار کے ذریعے کرایہ وصول کرنے کے برعکس مصری ریاست میں محدود معاشی نظام دولت کی پیداوار کے لیے چند ایک مواقع فراہم کرتا ہے۔ بے روزگاری غالبا 30فی صد سے زائد ہے اور ہر سال 600000نوجوانوں کی روزگار منڈی میں آمد حالت کو بد سے بدتر بنا رہی ہے۔ 

مزید برآں مصر کی آبادی مین تیزی سے اضافے کے ساتھ ساتھ غربت میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ جہاں 260لاکھ مصری 15سال سے کم عمر ہیں اور 44فیصد روزانہ 2ڈالر سے کم آمدنی پر زندہ ہیں۔ مختصر فرعون کی سر زمین ایک دوہرا معاشرہ ہے جس کے اوپر طاقتوروں اور امیروں کی ایک باریک تہہ ہے جو اپنی دولت کا زیادہ تر حصہ مفلس عوام کے اوپر حکومت کر کے حاصل کرتے ہیں۔ 

نجکاری کے ناقص انتظام جس پر بد عنوانی کی اورمخالف کاروباری آب و ہوا چھائی ہوئی ہے۔ ملک میں ناقابل برداشت رویوں پر قابو پانے میں کم کم کردار ادا کیا ہے۔ 

علاوہ ازیں ملک کو 100فی صد جی ڈی پی سے زائد عوامی قرضوں کا سامنا ہے اور قومی مالیات خسارے میں ہیں جس کے نتیجے میں عوامی ملازمین کی تنخواہوں میں تاخیر پیدا ہو رہی ہے۔ جو کہ روایت طور پر ایسی کرایہ خواہاں ریاستوں کی مضبوط بنیاد ہوتے ہیں۔ یہ دباؤ سالوں سے پنپ رہا ہے اور تیونس کی مثال نے اس عمل کی رفتار میں اضافہ کیا جس کے نتیجے میں لوگوں میں غیض و غضب کی چنگاری بھڑی اٹھی اسی اثناء میں مایوس اور پیچھے رہ گئے لوگوں نے نمایاں تحریکوں کو مزید ہوا دی ہے۔ صلافی، وہابی اور مسلم امہ کی دوسری نمایاں شاخیں اس عمل سے زیادہ فائدہ اٹھا رہی ہیں۔ یہ پڑھتے ہوئے بم دھماکے اور موجودہ معاشرتی انتشار اس کے منتطقی نتائج ہیں لیکن حتی کہ مسلم امہ بھی مصر کی گلیوں میں ہونے والے اس ابھار سے حیران ہے امید ہے کہ شاید کچھ مختلف جنم لے گا کچھ ایسا جو کہ ایک قاضی پارٹی اور اس کی جگہ لینے کے لیے کام کرتی ہوئی ایک نمایاں اسلامی تحریک کے درمیان لڑائی سے آگے ہو۔ 

بغاوت کی یہ جڑیں سالوں سے پرورش پا رہی ہیں۔ یہ دیکھنے کے لیے کہ ان جڑوں میں سے کیا پروان چڑھتا ہے ایک آمریت پسند جمہوریت ایک جدید اور مزید جابر فوجی ریاست یا ایک نا قابل برداشت اسلامی تشدد ہمیں انتظار کرنا ہو گا۔