اسلم آفندی
مصنف او ر مفکر
پاکستان کے پہلے اختیار پسند مفکر اسلم آفندی 5جون 1924کو کشمیر کے علاقے سری نگر میں پیدا ہوئے اور فروری2006 میں وفات پاگئے۔پاکستان سے ا بتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعدو ہ اعلی تعلیم حاصل کرنے کیلئے 1945 میں بیرونِ ملک روانہ ہو گئے۔انہوں نے اختیار پسندی ، نراج(Anarchism) ، نراجی سرمایہ داری(Anarcho-Capitalism) اور پاکستان میں فلسفہً آزادی کوفروغ دینے کے سلسے میں انتہائی اہم کام کیے۔انہوں نے ہاؤ ٹو اینڈ آل وارز فار ایور(How to End All Wars Forever) ، ہارڈ فیکٹس آف ہسٹری (Hard Facts of History)اور اکنامکس فار دی کنفیوزڈ (Economics for the Confused)کے عنوانات سے تین کتب شائع کیں۔انکی کتاب ہاؤ ٹو اینڈ آل وارز فار ایور(How to End All Wars Forever)کو ایسوسی ایشن آف لیبرل تھینکینگ (Association of Liberal Thinking)نے ترکی زبان میں شائع کیا۔آفندی نے قومی اور بین الاقوامی روزناموں میں متعد د مضامین لکھے جیسا کہ ریزن(Reason)، شکاگو گزٹ ٹیلی گراف(Chicago Gazette Telegraph) اور آزادی کو فروغ دینے والے دیگر مجلے۔انہوں نے پاکستان میں بر ٹرینڈ رسل پیس فاؤنڈیشن (Bertrand Russell Peace Foundation in Pakistan)کی نمائندگی کی۔

ڈاکٹر ساجد علی
اُستاد اور فلسفہ دان
ڈاکٹر ساجد علی پیشے سے ا ستاد اور بلحاظ عمل اختیار پسند ہیں۔ فی الحال وہ پنجاب یونیورسٹی میں شعبۂ فلسفہ کے چےئر مین ہیں۔سماجی انصاف ، تعلیم اور معاشرہ ، خدائی معرفتِ کل (Divine Omniscience)اور انسانی آزادی جیسے موضو عات پر انکی خاص توجہ مرکوز ہے۔انکے بہترین کاموں میں فلسفہ ، سائنس اور تہذیب، ہاؤ آئی سی فلاسفی (How I see Philosophy)، ٹولریشن اینڈ اِنٹیلیکچو ل ریسپونسیبیلیٹی(Toleration and Intellectual Responsibility) ، ایمنسیپیشن تھرو نالج(Emancipation through Knowledge) ،وٹ ڈز دی ویسٹ بیلیو اِن (What does the West Believe in) اور دی مِتھ آف دی فریم ورک (The Myth of the Framework)شامل ہیں۔انہوں نے پروموٹنگ اے فری سوسائٹی (Promoting a Free Society)کے فورم پر پاکستان کی نمائندگی کی جس کا انعقا د ایسوسی ایشن فار لیبرل تھینکینگ(Association of Liberal Thinking) اور اٹلس اکنامک ریسرچ فاؤنڈیشن (Atlas Research Foundation)نے باہم تعاون سے کیا۔

ڈاکٹر خلیل احمد
سیاسی فلسفہ دان ، انٹیلیکچول اونٹرپنور(Intellectual Entrepreneur) اور مصنف
خلیل احمد پاکستان کے پہلے آزاد مارکیٹ پر مبنی تھینک ٹینک آلٹرنیٹ سولیوشنز انسٹیٹیوٹ (Alternate Solutions Institute)کے بانی ہیں۔ انسٹیٹیوٹ کے صدر کی حیثیت سے خلیل نے آزاد مارکیٹس اور اختیار پسندی کے کلاسیکل(Classical) اصولوں کی مسلسل تائید کی ہے۔ وہ باقا عدگی سے مختلف مقامی اور بین الاقوامی روزناموں اور اخبارات میں لکھتے رہتے ہیں۔انہوں نے دی گریٹ بیٹل فار دی رول آف لاء ان پا کستان (The Great Battle for the Rule of Law in Pakistan)کے عنوان سے پاکستان میں قانون کی حکمرانی کی قائم کرنے کی تحریک کے بارے میں کتاب شائع کی۔ان کا منشورِ آزادی 1973 کے آئین پرہمدردانہ نظرِثانی کرتے ہوئے بنیادی حقوق کو قابلِ احترام قرار دینے پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔ خلیل نے بڑی تعداد میں کتب کا اُردو میں ترجمہ کیا ہے جن میں دی ایڈوینچرز آف گلیبل : اے فری مارکیٹ اوڈیسی بائے کین سکول لینڈ(The Adventures of Gullible: A Free Market Odyssey by Ken Schoolland) شامل ہے۔خلیل نے سیاسی فلسفہ(Political Philosophy) میں پی۔ ایچ۔ ڈی کی ہے۔

بلال احمد
ایکٹیویسٹ(Activist) اور دانشور
بلال احمد گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں فلسفہ پڑھاتے ہیں اور مختلف فورمز(Forums) پر سیاسی معیشت پر عوامی درس دیتے ہیں ۔ وہ ایسے مختلف شہروں سے فعال طور پر منسلک ہیں جنہو ں نے انصاف اور آزادی کیلئے ابتدائی اقدامات کیے۔انہوں نے معروف اُردو اخبارات میں پاکستان کی سیاسی معیشت کے بارے میں بڑے پیمانے پر تحاریر لکھیں جن میں سے کچھ کو پاکستان میں اقتصادی پسماندگی(Economic Backwardness in Pakistan) کے عنوان سے ایک کتاب کے طور پر شائع کیا گیا۔ بلال نے فلسفے اور معاشیات میں ایم۔اے کیا ہوا ہے۔ 

علی سلمان 
انٹیلیکچول اونٹرپنور(Intellectual Entrepreneur)
علی سلمان ایک معاشی مشیر(Economic Consultant)ہیں اور انہوں نے اختیار پسندی ، ڈی ریگولیشن (Deregualtion) ، نِجکا ری، سرمایہ درانہ نظام کے نچلے ترین گروہ (Base of Pyramid Market)، اونٹرپنور شِپ(Entrepreneurship)کی ترقی،تعلیم، جدّت اور مسابقتی (Competition)مسائل پر متعدد قومی اور بین الاقوامی اسائنمنٹس (Assignments)کی ہیں۔علی آلٹرنیٹ سولیوشنز انسٹیٹیوٹ ( پا کستان کا آزاد تھینک ٹینک )کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ہیں۔ علاوہ ازیں وہ اٹلس ایکسپیرئنس2011 (Atlas Experience 2011)اور تھینک ٹینک ایم۔بی ۔اے پروگرام میں بھی حصہ لے چکے ہیں۔ان کے مضامین ایکسپریس ٹریبیون(Express Tribune) میں اکثر شائع ہوتے رہتے ہیں۔ انکی مختلف مطبوعات شائع ہو چکی ہیں جن میں لیبریٹ ٹو لرن : اے ریویو آف ایجوکیشن واؤچرز سکیم اِن لاہور (Liberate to Learn: A Review of Education Vouchers Scheme in Lahore)شامل ہے۔ اس تحریر کو ایسے بین الاقوامی روزناموں نے دوبارہ پیش کیا جن میں متعلقہ ماہرین بغور جائزہ کر نے کے بعدتحاریرشائع کرتے ہیں (Peer Reviewed Journals)۔علی نے معاشیات اور پبلک پالیسی میں ایم۔اے کیا ہے۔