ڈاکٹر خلیل احمد
 
وِکی لیکس کے موجودہ ’نِکاسات ‘بہت سے مسلمات پر غور کرنے کا تاریخی موقع فراہم کرتے ہیں۔
 
اس تحریر کا مقصدبھی کچھ’ مسلمہ معاملات ‘کو زیرِ بحث لانا ہے۔ یہ معاملات حکومتوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ جیسے کہ کیا حکومتوں کو مختلف طرح کی معلومات اور معاملات کو خفیہ رکھنے کا حق حاصل ہے ؟ ہمارے یہاں تو کلیتاً یہ سمجھا جاتا ہے کہ حکومت کو یہ حق حاصل ہے۔ بلکہ حکومت میں موجود افراد کے مقابلے میں حکومت سے باہر افراد اس حق کے زیادہ قائل نظر آتے ہیں۔ یہی چیز شاہ سے بڑھ کر شاہ کا وفادار ہونا کہلاتی ہے۔ اس میں عام افراد کے بجائے حکومت کے اندر اور حکومت سے باہر کے خاص افرادکا قصور زیادہ ہے۔ یہ حکومت کو ایک ماورائی ہستی بنا کر پیش کر تے ہیں، اور اسے ایسی ہی خصوصیات کا حامل بھی ٹھہراتے ہیں۔ لمبی چوڑی بحث کی ضرورت نہیں، سیدھی سی بات ہے حکومت کے اہلکار، خواہ وہ منتخب ہوں ، نامزد یا مقررہ، سب کے سب اسی انسانی معاشرے کے افراد، اور اسی معاشرے کے شہری ہوتے ہیںجہاں وہ حکمران یا اہلکار بن جاتے ہیں۔ ان کے پاس کہیں کسی دوسری دنیا سے باقی افراد پر حکومت کرنے کا اختیار نہیں آ جاتا۔ یہ اختیار انھیں شہریوں کی طرف سے ایک امانت کے طور پر عطا کیا جاتا ہے ۔
 
مزید یہ کہ یہ اختیار، مطلق نہیں ہو تا ۔ محدود اور مسدود ہوتا ہے۔ یعنی یہ کوئی بادشاہت نہیں، آئینی حکومت ہوتی ہے جو اصول و قوانین کے تحت کام کر تی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب اختیار دیا جاتا ہے تو اس کے ساتھ ذمے داری ، جوابدہی، اوراحتساب منسلک کیے جا تے ہیں۔ آئین اور قوانین کا منشا انھیں اختیارات کا تعین ہو تا ہے ۔ بلکہ ان اختیارات کی حد بندی بھی کی جاتی ہے۔ ان پر نظر رکھنے کے لیے ادارے بنائے جاتے ہیں۔ یہی وہ تقاضے ہیں جو انتظامیہ ، مقننہ اور عدلیہ کے وجود کو ناگزیر بناتے ہیں۔ عدلیہ ،انتظامیہ پر چیک رکھتی ہے آیا وہ آئین و قانون کے مطابق کام کر رہی ہے،اور مقننہ پر بھی کہ جو نئے قوانین بنائے جار ہے ہیں کہیں وہ آئین سے متصادم و متخاصم تو نہیں۔ پاکستان کے شہریوں نے ابھی حال ہی میں ایک ایسی عدلیہ کا حصول ممکن بنایا ہے جو ’لِسّی ‘ نہیں، جاندار ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ یہ انتظامیہ اور مقننہ دونوں کو ایک آنکھ نہیں بھا رہی۔
 
اگر صورت ِ احوال یہ ہے ، اور حکمرانوں اور اہلکاروں کو حاصل تما م کے تما م اختیارات، ایک امانت کی طرح ہیں تو کسی بھی طر ح کی معلومات کو خفیہ رکھنے کا کوئی جوازموجود نہیں۔ ایک حکومت کے خود اپنے معاملات ، یا ایک حکومت کے دوسری حکومت کے ساتھ معاملات خفیہ کیوں ہونے چاہئیں۔ ایسا کرنے کی کوئی دلیل دستیاب نہیں۔ لیکن ایسا ہو تا آرہا ہے ، اور ہو رہا ہے۔
 
مستزاد، جب یہ بات بھی مد ِنظر رکھی جائے کہ ہر حکومت ، شہریوں کے پیسوں پر چلتی (اور پلتی ) ہے، یعنی ٹیکس کے بل پر، تو یہ بھی اتنا ہی ضروری ہو جاتا ہے کہ یہ پائی پائی کا حساب بھی دے۔ اسی لیے آڈٹ اور پھر سوشل آڈٹ بھی ہوتا ہے۔ مراد یہ کہ تمام معاملات شفافیت کے ساتھ انجام کو پہنچنے چاہئیں۔ کسی بھی قسم کے خفیہ یا ڈِسکریشنری فنڈز کا کوئی بہانہ نہیں۔ حکومت کی تمام آمدنیاں اوراخراجات ، بشمول دفاع ، شفاف اور کھلے ہونے چاہئیں۔ اب آج کے دور میں تو ایسا کرنا بہت آسان ہو گیا ہے ۔ یہ سب کھاتے انٹرنیٹ پر شہریوں کی جانچ پڑتال کے لیے پیش ہونے چاہئیں۔ اس میں صرف ایک استثنیٰ دھیان میں رکھا جا سکتا ہے ۔ اور وہ ہے ملکی دفاع سے متعلق کچھ معلومات کو خفیہ رکھنا، اور وہ بھی بالخصوص جنگ کے دوران۔ لیکن اس ضمن میں ہمیں بہت پھونک پھونک کر قدم رکھنا ہو گا ۔ آج کل حکومتیں اس نوع کے جن معاملات کو جن ’دشمنوں‘سے خفیہ رکھنا چاہتی ہیں، انھیں تو یہ معلومات بہر طور دستیاب ہوجاتی ہیں۔ مطلب یہ کہ ٹیکنالوجی کی بدولت۔ اور وِکی لیکس یہ ثابت کر تی ہے کہ کسی بھی چیز کو خفیہ نہیں رکھا جا سکتا۔
 
ؒلہٰذا، اگر حکومتوں کے تمام معاملات، صاف اور شفاف ہو جائیں تو فتنہ و فساد اور جنگوں کا امکان تقریباً ختم ہونے کے قریب پہنچ جائے گا۔ یہ بات حکمرانوں اور حکومتوں اور ان تمام لوگوں کو تو بالکل پسند نہیں آئے گی جو حکومت میں نہ ہونے کے باوجود اپنے علاوہ تمام افراد پر حکمرانی کر نے کی سوچ کے حامل ہوتے ہیں۔ وہ اندرسے ہی یا فطرتاً’حکمران‘ہو تے ہیں۔ وہ نہ کبھی یہ سوچ سکتے ہیں نہ ہی برداشت کر سکتے ہیں کہ حکومت کے معاملات ،شہریوں کے سامنے کھول کر رکھ دیے جائیں۔
 
یہ ایسے ہی ’خاص ‘ لوگوں کی دین ہے کہ حکومتوں نے آفیشل سیکرٹ ایکٹ، یا کلاسیفائیڈ انفرمیشن جیسے قوانین اور ضوابط بنا کر خود کو ماورائی بنا لیا ہے ۔ یہی نہیں ، بلکہ چوری اور سینہ زوری بھی کی ہے۔ نہ صرف حکومت کے معاملات ،شہریوں سے خفیہ اور پوشیدہ رکھے جاتے ہیں، ان کو افشا کرنے پر سزا بھی مقرر ہے ۔ سونے پر سہاگہ یہ کہ ایک طرف تو حکومتی معاملات کو شہریوں سے چھپایا جاتا ہے ، بلکہ ان سے جھوٹ بولا جاتا ہے، انھیں گمراہ کیا جاتا ہے، اور اسے نام دیا جاتاہے،’پبلک کنزمپشن‘ کا، یعنی ایسی نامکمل اور نا درست معلومات جو شہریوں کو بتانے کے لیے گھڑی جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سول سو سائیٹی کو کرنے کاایک کام اور ملا ہوا ہے، اور یہ ہے رائٹ ٹو انفرمیشن کا حصول۔ مراد یہ کہ شہریوں کو تمام معلومات حاصل کر نے کا حق ملنا چاہیے۔
 
آخر میں یہ نتیجہ اخذکرنا بالکل بجا ہو گا کہ وِکی لیکس نے جوخفیہ معلومات افشا کی ہیں ،وہ نہ صرف امریکی بلکہ دنیا کے شہریوں کی امانت تھیں، وِکی لیکس نے انھیں بس واپس لوٹایا ہے۔ ہمیں اس کا شکرگزار ہونا چاہیے ۔ ہمیں یہ توقع بھی رکھنی چاہیے کہ وِکی لیکس جیسی ہزاروں لاکھوں تنطیمیں وجود میں آئیں گی، اور آفیشل سیکریٹس اور کلاسیفائیڈ انفرمیشن کو ان کے حق داروں تک واپس پہنچا کر حکومتوں کے بجائے شہریوں کو با اختیار اور طاقتور بنائیں گی۔ حکومتوں کے بھیدوں کے افشا ہونے میں ہی دنیا کے شہریوں کی آزادی اور خوشحالی کا راز مضمر ہے ۔