ورجینیا پوسٹریل کی زیر بحث کتاب ”مستقبل اور اس کے دشمن“ کارل پوپر کی کتاب ”غیر متشکل معاشرہ اور اس کے دشمن“ کی یاد لاتی ہے ۔ اصل مسئلہ مستقبل ہے جو ابھی تک ایک غیر متشکل معاشرہ ہے۔ چونکہ مستقبل کی پیش بینی بہت مشکل ہے، سو یہ کچھ لوگوں کے لیے دھمکی آمیز جبکہ دوسروں کے لیے ایک تحریک انگیز چیلنج ہے ۔ یہ دھمکی آمیز اس لیے ہے کیو نکہ اس طرح ان کا پسندیدہ حال، شکست و ریخت کا شکار ہو سکتاہے یا یہ کہ اس میں جو کچھ وقوع پذیر ہو گا وہ اسے کنٹرول کرنے کے قابل نہیں ہوں گے ۔ ورجینیا انہیں”جمود پسند“ کا نا م دیتی ہے کیونکہ ان کا مقصود ” جمود“ ہے ۔ ” جمود پسند“ ، ” ریاست پسند“ سے مشابہت رکھتا ہے اور یہ مشابہت کوئی حادثہ نہیں کیونکہ خود ورجینیا اختیار پسند ہے، جبکہ جمود پسند ، ریاست پسند کا روپ دھار لیتے ہیں ؛ وہ طاقت کے حصول کے لیے سیاست کو اختیار کرتے ہیں کیونکہ تبد یلی کو روکنے کے لیے طا قت کی ضرورت ہوتی ہے ۔ جن لوگوں کے لیے مستقبل حیرت انگیز ہے کیونکہ یہ تبدیلیوں کی نوید دیتا ہے، ورجینیا انہیں ”تحرّک پسند“ قرار دیتی ہے کیونکہ وہ حقیقت کو متحرک سمجھتے ہیں ۔ تحرک پسندوں کے نزدیک طا قت ایک ایسی چیز ہے جو انفرادی تخلیقیت میں مقیم ہوتی ہے جبکہ جمود پسند اسے اجتماع اور ریاست میں متمکن قرار دیتے ہیں ۔ تحرک پسند، طا قت کو تبدیلی میںکارفرما دیکھتے ہیں اور جمود پسند طا قت کو تبدیلی کو روکنے یا کنٹرول کرنے کا آلہ ء کار سمجھتے ہیں۔

ڈاکٹر خلیل احمد

ورجینیا پوسٹریل کی زیر بحث کتاب ”مستقبل اور اس کے دشمن“ کارل پوپر کی کتاب ”غیر متشکل معاشرہ اور اس کے دشمن“ کی یاد لاتی ہے ۔ اصل مسئلہ مستقبل ہے جو ابھی تک ایک غیر متشکل معاشرہ ہے۔ چونکہ مستقبل کی پیش بینی بہت مشکل ہے، سو یہ کچھ لوگوں کے لیے دھمکی آمیز جبکہ دوسروں کے لیے ایک تحریک انگیز چیلنج ہے ۔ یہ دھمکی آمیز اس لیے ہے کیو نکہ اس طرح ان کا پسندیدہ حال، شکست و ریخت کا شکار ہو سکتاہے یا یہ کہ اس میں جو کچھ وقوع پذیر ہو گا وہ اسے کنٹرول کرنے کے قابل نہیں ہوں گے ۔ ورجینیا انہیں”جمود پسند“ کا نا م دیتی ہے کیونکہ ان کا مقصود ” جمود“ ہے ۔ ” جمود پسند“ ، ” ریاست پسند“ سے مشابہت رکھتا ہے اور یہ مشابہت کوئی حادثہ نہیں کیونکہ خود ورجینیا اختیار پسند ہے، جبکہ جمود پسند ، ریاست پسند کا روپ دھار لیتے ہیں ؛ وہ طاقت کے حصول کے لیے سیاست کو اختیار کرتے ہیں کیونکہ تبد یلی کو روکنے کے لیے طا قت کی ضرورت ہوتی ہے ۔ جن لوگوں کے لیے مستقبل حیرت انگیز ہے کیونکہ یہ تبدیلیوں کی نوید دیتا ہے، ورجینیا انہیں ”تحرّک پسند“ قرار دیتی ہے کیونکہ وہ حقیقت کو متحرک سمجھتے ہیں ۔ تحرک پسندوں کے نزدیک طا قت ایک ایسی چیز ہے جو انفرادی تخلیقیت میں مقیم ہوتی ہے جبکہ جمود پسند اسے اجتماع اور ریاست میں متمکن قرار دیتے ہیں ۔ تحرک پسند، طا قت کو تبدیلی میںکارفرما دیکھتے ہیں اور جمود پسند طا قت کو تبدیلی کو روکنے یا کنٹرول کرنے کا آلہ ء کار سمجھتے ہیں۔

 ڈاکٹر خلیل احمد
 
            (یہ تحریر ورجینیا پوسٹریل کی کتاب (1998)
The Future and its Enemies: The Growing Conflict over Creativity, Enterprise and Progress
کی Reason میگزین میں شا ئع ہو نے والی تلخیص کا آزاد ترجمہ ہے۔ پوسٹریل کے تصورات، پاکستان کی چھ دہائیوں پر محیط تاریخ اور بحران، دونوں کے سمجھنے کے لیے ایک فریم ورک مہیا کر تے ہیں۔)
 
            تاریخ امریکہ کا ایک بڑا مسئلہ یہ تھا کہ ریاستہائے متحدہ کی بنیاد ،اقتدارِ اعلیٰ کی وحدت پر ہو یا کثرت پر ، یعنی مقتدر ریاستوں کے معاہدے پر ۔ یہ مسئلہ خانہ جنگی سے حل ہوا۔ اصل میں تو یہ ایک جھوٹا مخمصہ ہے ۔ ما ن لیں کہ ریاستہائے متحدہ، واحد اقتدار اعلی پر مشتمل ہو تا، لیکن بہرحال دانائی اور انصاف کی خا طر اسے تقسیم کرنا ضروری تھا ۔ یہ صورت موجودہ تقسیم سے تو بہتر ہوتی جس میں وفاقی اختیار کو نا مناسب حد تک وسعت دے دی گئی ہے ۔
 
            ورجینیا پوسٹریل کی زیر بحث کتاب ”مستقبل اور اس کے دشمن“ کارل پوپر کی کتاب ”غیر متشکل معاشرہ اور اس کے دشمن“ کی یاد لاتی ہے ۔ اصل مسئلہ مستقبل ہے جو ابھی تک ایک غیر متشکل معاشرہ ہے۔ چونکہ مستقبل کی پیش بینی بہت مشکل ہے، سو یہ کچھ لوگوں کے لیے دھمکی آمیز جبکہ دوسروں کے لیے ایک تحریک انگیز چیلنج ہے ۔ یہ دھمکی آمیز اس لیے ہے کیو نکہ اس طرح ان کا پسندیدہ حال، شکست و ریخت کا شکار ہو سکتاہے یا یہ کہ اس میں جو کچھ وقوع پذیر ہو گا وہ اسے کنٹرول کرنے کے قابل نہیں ہوں گے ۔ ورجینیا انہیں”جمود پسند“ کا نا م دیتی ہے کیونکہ ان کا مقصود ” جمود“ ہے ۔ ” جمود پسند“ ، ” ریاست پسند“ سے مشابہت رکھتا ہے اور یہ مشابہت کوئی حادثہ نہیں کیونکہ خود ورجینیا اختیار پسند ہے، جبکہ جمود پسند ، ریاست پسند کا روپ دھار لیتے ہیں ؛ وہ طاقت کے حصول کے لیے سیاست کو اختیار کرتے ہیں کیونکہ تبد یلی کو روکنے کے لیے طا قت کی ضرورت ہوتی ہے ۔ جن لوگوں کے لیے مستقبل حیرت انگیز ہے کیونکہ یہ تبدیلیوں کی نوید دیتا ہے، ورجینیا انہیں ”تحرّک پسند“ قرار دیتی ہے کیونکہ وہ حقیقت کو متحرک سمجھتے ہیں ۔ تحرک پسندوں کے نزدیک طا قت ایک ایسی چیز ہے جو انفرادی تخلیقیت میں مقیم ہوتی ہے جبکہ جمود پسند اسے اجتماع اور ریاست میں متمکن قرار دیتے ہیں ۔ تحرک پسند، طا قت کو تبدیلی میںکارفرما دیکھتے ہیں اور جمود پسند طا قت کو تبدیلی کو روکنے یا کنٹرول کرنے کا آلہ ء کار سمجھتے ہیں۔
 
            ورجینیا نے جمود پسندوں کو ”رجعت پسندوں“ اور ” تکنیک پسندوں“ ( ٹیکنوکریٹس) میں تقسیم کیا ہے ۔ رجعت پسند ماضی کے دلدادہ ہوتے ہیں اور مستقبل تو علیٰحدہ رہا ، حال سے بھی نفرت کرتے ہیں ۔ تکنیک پسند ، لازمی طور پر مستقبل سے نفرت نہیں کرتے بلکہ یہ اسے اپنے کنٹرول میں لا نا چاہتے ہیں اور حال کو اس حد تک نا پسند کرتے ہیں یا اس سے نفرت کرتے ہیں جس حد تک یہ ایسی چیزوں کا حامل ہوتا ہے جنھیں یہ پسند نہیں کرتے اور اگر ان کے کنٹرول میں ہوتا تو یہ انہیں وقوع پذیر نہ ہونے دیتے ۔ ہم تکنیک پسندوں کو نظریہ سازوں (آئیڈیولاگ) اور عملیت پسندوں میں تقسیم کرسکتے ہیں ۔ نظریہ ساز وہ ہوتے ہیں جوکسی بڑے عظیم نظریے کے دعویدار ہوتے ہیں ۔ یہ نظریہ بتا تا ہے کہ ان کا کنٹرول کیوں ہونا چاہیے اور مستقبل کس طرح کا ہونا چاہیے ۔ عملیت پسندوں کے پاس سیدھا کرنے کے لیے اپنا کوئی خاص الو نہیں ہوتا اور نہ ہی کوئی خاص نظریہ ۔ ان کا یقین محض یہ ہوتا ہے کہ مطوبہ مستقبل اس وقت تک جنم نہیں لے سکتا جب تک کوئی اس کا مختار نہ ہو ۔ رجعت پسند بھی نظریہ ساز ہو سکتے ہیں یا فطری قدامت پسند ۔ لیکن عملیت پسند خاص طور پر یہ بات سمجھنے کے قابل نہیں ہوتے کہ کنٹرول غیر ضروری ہے؛ کنٹرول، افزائش اور ترقی کے ما نع ہے ۔
 
            ورجینیا کے مطابق رجعت پسندوں کی مرکزی قد ر استحکام ہوتی ہے اور تکنیک پسندوں کی مرکزی قدر کنٹرول ۔ تکنیک پسند جب تک یہ محسوس کرتے ہیں کہ چیزیں کنٹرول سے باہر ہیں یہ اس وقت تک رجعت پسندوں کے اتحادی ہوتے ہیں؛ گرچہ وہ اب بھی خود کو کسی نہ کسی انداز میں تبد یلی کا حا می سمجھتے ہیں ۔ رجعت پسند اور تکنیک پسند دونوں متحرک مقبول ثقافت اور معاشی افزائش کو بے ہودہ خیال کرتے ہیں ۔ یہ دونوں ایک تعصب پسندانہ یا خواص پسندانہ عزم کے حامل ہوتے ہیں کہ دوسروں کو ان کے انداز پر زندگی گزارنی چاہیے ۔ رجعت پسند کہتے ہیں کہ زندگی گزارنے کا بہترین طریقہ حال یا ماضی میں پہلے ہی معلوم ہو چکا ہے جبکہ تکنیک پسند سمجھتے ہیں کہ یہ خود رجعت پسندوں کو نکا ل کر ان کی منصوبہ بندی اور کنٹرول کے ثمر کی صورت میں سامنے آئے گا۔
 
            رجعت پسندانہ جذبات کی اپیل نہا یت خوفنا ک ہے۔ حکمت کا مرکزی تصور دوام ہے ۔ دوام ایک رجعت پسندانہ نصب العین ہے؛ یہ شاید ہی کبھی کہیں ممکن رہا ہو ۔ اگر یہ معتد بہ انسانیت (خود رجعت پسندوں کو نکال کر) کو غربت اور عہدِ وسطیٰ جیسی مشقت میں دھکیل دیتا ہے تو اس کے حامی جمود پسند نہایت مطمئن ہوجاتے ہیں ۔ تحرک پسندی، متبادل تبدیلی کی امید مسلسل پر مبنی ہے جو رجعت پسندوں کے قیمتی حال اور ماضی کے لیے خطرہ ہوتی ہے اور تیقنا ت کو بہا لے جاتی ہے ۔
 
            جان گرے ایک آزا د خیال فلسفی تھا لیکن اب وہ جد ید یت سے پیچھے ہٹتے ہوئے کم از کم سترہویں صدی تک جا پہنچا ہے ۔ وہ چاہتا ہے کہ ” سبزے “ (رجعتی ماحولیات پسند) اور قدامت پسند تبدیلی کو روکنے کے لیے متحد ہو جائیں ۔ وہ غیر محدود معاشی افزائش کو مصیبت زدہ انسانیت کے سامنے پیش کیا جانے والا انتہائی بے ہودہ نصب العین قرار دیتاہے ۔ اصل میں یہ مصیبت زدہ انسانیت ہی ہے جسے اپنی ابتلا سے نجات کے لیے دولت کی افزائش کی ضرورت ہے ۔ اگر ابتلا کی کوئی حد نہیں ہے تو انسانی حالت کی بہتری کی بھی کوئی حد نہیں ہونی چاہیے ۔ لیکن گرے کسی اور چیز کو اہمیت دیتا ہے ۔ وہ کہتا ہے کہ ترقی کا تصور، روح کی حیات کے لیے نقصان دہ ہے کیونکہ یہ ہمیں اپنی زندگیوں کو ابد یت کے سائے تلے نہیں بلکہ بہتری کے آفاقی عمل میں لمحا ت کی حیثیت سے دیکھنے پر اکساتا ہے ۔ جدیدیت کو ایک ایسی ابدیت کے لیے قربان کرنا جو دنیوی انسانی زندگی کی رسائی میں نہیں، یقیناً عہدِ وسطیٰ کی سوچ کا مظہر ہے ۔ یہ مذہب کا معاملہ ہے جو حقیقتا ً قرونِ وسطیٰ کے عام لوگوں کی سب سے بڑی امید تھا۔ گرے کے نزدیک ایک بے ہودہ نصب العین سے مراد ایسا نصب العین ہے جو بے ہودہ، یعنی عوام کی زندگی کو بہتر بنا نا چاہتا ہے ۔ دنیا میں ایک بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جنہیں جدید ٹیکنالوجی کے بغیر زندہ نہیں رکھا جا سکتا ۔ اگر یہ لوگ ما حولیا ت پسندوں کی پیشن گوئیوں کے مطابق 70 کی دہائی میں واقع ہونے والے قحطوں (جو حقیقتاً واقع نہیں ہوئے) میں نہ مرتے تو کچھ دوسرے اقدامات اٹھانے پڑتے ۔ ایسے اقدامات تکنیک پسندوں کو بیچ میں لاتے ہیں جو بہرحال عوامی سیاسی مباحثوں پر چھائے رہتے ہیں کیونکہ یہ سمجھتے ہیں کہ ترقی کے لیے سیاسی عمل ضروری ہے ۔ جبکہ تحرک پسند ایسا نہیں سوچتے اور کچھ نہ کچھ کرنے میں منہمک رہتے ہیں یہ ۔ طاقت کا تقاضا نہیں کرتے تاکہ جو کچھ یہ چاہتے ہیں دوسرے بھی وہی کچھ کریں ۔
 
            تھیوڈور روزویلٹ نے سرکاری عہدیداروں کا مشن یہ قرار دیا تھا کہ وہ مستقبل میں دیکھتے ہوئے درست قسم کی تہذیب کی منصوبہ بندی کریں ۔ اس وقت سے ہی تکنیک پسند امریکی سیاست پر سوار ہیں۔ اور تکنیک پسند یہ جانتے ہیں کہ چیزوں کو کیسے روکا جائے ۔ چونکہ درست قسم کی تہذیب کی منصوبہ بندی نا ممکن ہے اور استبدادی تہذیب کی منصوبہ بندی کی تو کوشش بھی ناممکن ہے، تکنیک پسند کچھ اور کرنے کے بجائے چیزوں کو روک کر زیادہ بہتر فریضہ سر انجام دیتے ہیں اور یوں رجعتی جمود پسندوں کے فطری اتحادی بن جاتے ہیں ۔ ”واحد بہترین راستہ “ اس وقت بری طرح نا کام ہو جاتا ہے جب کسی تخیل آزما تکنیک پسند کو اپنے خیالات کو عملی جامہ پہنانے کا موقع ملتا ہے ۔ ایسی تکنیکیہ ( ٹیکنوکریسی) سے بدظنی ” واحد سچے راستے “کو قدامت پسندانہ اور رجعتی آدرشوں کے لیے مختص کر دیتی ہے ۔
 
            بد قسمتی سے نظریہ سازانہ تکنیک پسندوں کے جمودی اتحادی، قدامت پسندوں اور رجعت پسندوں کے سوا اور کوئی نہیں ہوتے؛ جو اس بات پر متفق نہیں ہو سکتے کہ کس جامد اور محدود دنیا کو ( کونسا بہترین راستہ ) غیر محدود مستقبل کی جگہ لینی چاہیے ۔ با لآخر انہیں ان کا استبدادی موقف لے بیٹھتا ہے ۔ انہیں اس وقت تک فتح حاصل نہیں ہو سکتی جب تک سب لوگوں کا مستقبل یکساں نہ ہو۔ تاہم ، بائیں بازو کے تکنیک پسندوں کی استبدادی خواہشات، عوامی مباحثوں پر غالب ہونے کی وجہ سے خاصی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں۔ تکنیکیہ فرما تی ہے کہ اگر ایک چیز کچھ لوگوں کے لیے اچھی ہے تو یہ سب کے لیے ایسی ہی ہونی چاہیے ۔ اس اندازِ نظر کے ثمرات، روس اور بھارت میں دیکھے جا سکتے ہیں جہاں افسر شاہی نے تبدیلی اور افزائش کا گلا گھونٹ کر رکھ دیا ہے ۔ اس سے کوئی زیادہ فرق نہیں پڑتا کہ سوویٹ یونین ایک استبدادی آمریت اور بھارت ایک ہنگامہ خیز جمہوریت تھی ۔ اصل مسئلہ طاقت کا ہے، اور جب کاروبار کی بات آتی ہے تو آزادی اور ملکیتی حقوق جمہوریت بھی اتنی ہی آسانی سے تباہ کر سکتی ہے جتنی آسانی سے آمریت ۔ رجعت پسند جو تکنیکیہ کو بڑھاوا دیتے ہیں، اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں، کیونکہ تبدیلی اور افزائش کا گلا گھونٹنا ان کا مقصد ہے ۔ سچے تکنیک پسند، خواہ یہ نظریہ باز ہوں یا عملیت پسند، یہ یقین رکھتے ہیں کہ وہ ”اچھی“ تبدیلی اور افزائش کو موئژ طور پر فروغ دے سکتے ہیں ۔
 
            جمود پسندوں کا عظیم اتحاد، یعنی رجعت پسند اور تکنیک پسند، نظریہ باز اور عملیت پسند، جس چیز پر مقفق ہو سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ ہمارے جسموں اور ارادوں پر اختیار کا مرکز حکومت ہے ۔ رجعت پسند اور ان کے تکنیک پسند اتحادی اس مفہوم میں زندگی کے مخالف ہیں کہ افزائش اور ترقی کو ختم کرنے کے لیے ٹھہراﺅ اور نحطاط توجہ کا مرکز بن جاتے ہیں ۔ جمود پسنداسوقت بے نقاب ہو جاتے ہیں جب وہ افزائش سے متعلق مواقع کے لیے بے حسی اور تحقیر کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔ چونکہ جمود پسند ”روایتی معاشروں“ کو پارسا سمجھتے ہیں، سویہ با ت اہم ہے کہ روایتی معاشرے اصل میں دیہی معاشرے ہیں ۔
 
            جمود پسندوں کو موقع ملے تو وہ ارادی یا غیر اراد ی طور پر اسی طرح کی زندگی تخلیق کر لیں گے جیسی کہ سوویٹ یونین میں تھی، سوویٹ یونین کو، جو کچھ یہ تھا، اس حوالے سے یاد رکھا جانا چاہیے کیونکہ سچائی اب تقریباً دس برس پرانی ہو چکی ہے اور سوویٹ معذرت خواہوں اور ہمدردوں کا انبوہ، سچائی کو بھلانے اور چھپا نے میں مصروف ہے ۔ کلکتہ کچھ عرصے کمیونسٹ حکومت کے ہاتھوں میں رہا ہے اور اس بات کا اعتراف ضروری ہے کہ اس نے ایک بڑی افسر شاہی کے ساتھ مغربی بنگال کو غربت میں مبتلا رکھنے کا ایک عمدہ فریضہ سر انجام دیا ہے ۔ اصل میں سوشلسٹ اور رجعتی جمود پسند، سرمایہ دارنہ نظام کے تضاد کو بڑھانے پر یقین رکھتے ہیں یہاں تک کہ آزاد منڈی کا نظم وضبط اور اس کی حرکیات تباہ و برباد ہو کر رہ جائے اور یوں وہ مصیبت زد گی کے آقا بن جائیں جیسے فیڈل کا ستر و، تباہ حال کیوبا کا بادشاہ ہے ۔
 
            جمود پسند خطر ہ مول لینے سے متنفر ہیں جیسے وہ بے یقینی سے نفرت کرتے ہیں،اور نہ صرف وہ یہ سب کچھ کرنے پر تیار رہتے ہیں جس سے خطرے کو روکا جا سکے، بلکہ وہ دوسروں کے خطرات سے کھیلنے پر بھی پابندی عائد کرنا چاہیے ہیں ۔ جمود پسند، ایسا معاشرہ نہیں چاہتے جہاں کوئی بھی شخص زخمی ہوجانے کے خطرے کے بغیر کوئی کام سر انجام دے سکے ۔ جمود پسندوں کے لیے یہ بات ناقابل برداشت ہے کہ زندگی ہمیشہ حاصلات اور خطرات میں توازن قائم کرنے پر مشتمل ہوتی ہے ۔
 
            تکنیک پسند،”ماندرین “، یعنی کلاسیکی چین کے افسر شاہانہ حکمران بننا چاہتے ہیں ۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ جمود پسندانہ اور تکنیک پسندانہ امنگ، جدید یا مغربی جیسی کوئی چیز نہیں ۔اس کا ثبوت چینی تاریخ ہے جس میں یہ سارا کھیل کھیلا جا چکا ہے اور جس کے برے نتائج، ٹھہراﺅ اور غیر ملکی قبضے کی صورت میں بر آمد ہوئے ہیں ۔
 
            جمود پسندوں اور تکنیک پسندوں کا خیال ہے کہ وہ کافی علم کے حامل ہیں، اور اگر جاننے کے لیے ابھی بہت کچھ باقی ہے تو اسے جا ننا ان کے لیے کوئی ضروری نہیں ۔ بلکہ وہ تو یہاں تک تجویز کرتے ہیں کہ مثلاً جینیات اور طبعییات کے کچھ شعبوں میں تحقیق پر پابندی لگادی جائے ۔ جمود پسند نہیں چاہتے کہ علم بکھرے اور پھیلے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ منقسم علم کی ایک صورت یعنی اختصاص کے بھی دشمن ہیں ۔ اسی لیے وہ محنت کی تقسیم کے بھی خلاف ہیں ۔ یہ رجعت پسندوں اورسوشلسٹ جھکاﺅ کے حامل تکنیک پسندوں کے نزدیک، انسانوں کو ان کے مقام سے گرانے کے مترادف ہے۔ ہر ایک کو پورا انسان بننا چاہیے، ایک جیسے کام کرکے، خاص طور پرخود کفیل اور خود مختار ہو کر پورا انسان بننا چاہیے ۔ یہ ان لوگوں کے نزدیک ایک عجیب و غریب خواہش ہے جو سرمایہ دارانہ معاشرے کے جوہری انفرادیت پسندی کے اکثرشاکی رہتے ہیں ۔ اختصا ص کا متبادل عظیم رجعت پسندانہ خوا ب ہے : د ہقا نی زندگی کی طرف مراجعت ۔ د ہقا تی زندگی اگرچہ خود مختار ہوتی ہے لیکن یہ اکثر خود کفیل نہیں ہوتی ۔ کیونکہ فصل کی ناکامی کا نتیجہ ہمیشہ قحط ہوتا ہے، جیسے کہ خود کفیل اور قحط زدہ شما لی کوریا کی مثال بتاتی ہے ۔ قحط سے بچاﺅ صرف جدید زرعی پیداوار اور جدید ٹرانسپورٹ کی وجہ سے ہی ممکن ہو ا ہے ۔ جب ہزاروں میل دور خشک سالی کے شکار کسی علاقے میں خوراک مہیا کی جاتی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ہم ایک دوسرے پر انحصار کرتے ہیں ۔ یہ باہمی انحصار ہمیں ”پورا انسان “ بننے کے قابل بناتا ہے۔ اس طرح ہم ہمیشہ بھوک کی سولی پر لٹکے رہنے کے بجائے زندگی کی ضروریات کی فکر سے آزاد ہو جاتے ہیں ۔ ہم کچھ اور کرنے کے لیے آزاد ہو جاتے ہیں ۔ مثلاً کوئی ایسی چیز تخلیق کرنے میں اختصا ص حاصل کرتے ہیں جسے لوگ سراہیں اور پسند کریں ۔ اس طرح، بد قسمتی سے جدید زندگی کی چمک دمک اور جدت وجود پاتی ہے ، جسے جمود پسند قطعاً پسند نہیں کرتے ۔ نئی نئی اشیا، بشمول زرعی اشیا ، جمالیاتی تغیراور زندگی کی مسرت کو فروغ دیتی ہیں اور زندگی کوان ضروریاتِ زندگی کے معاملے سے کچھ زیادہ بنا دیتی ہیں ۔ روایتی معاشرے، جو ضروریات ِزندگی کے شدید فقدان کا شکار تھے، رجعت پسندوں کا اخلاقی نصب العین ہیں ۔ یہ دوسرے افراد کو آرام و سکون سے لطف اندوز ہوتے نہیں دیکھ سکتے ۔
 
            منقسم یا بکھرے ہوئے علم کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ یہ بالعموم مضمر ہو تا ہے۔ افسر شاہانہ احتیا ط پسندی ایسی چیزوں کو بھی مر بوط کرنا چاہتی ہے جنہیں بعض اوقات مربوط نہیں بنایا جا سکتا ۔ کچھ لوگ عملی ہوتے ہیں، باتونی نہیں، لیکن افسر شاہی عمل کی اجازت گفتگو کے بعد دیتی ہے، اور اس طرح نہ صرف ایسے باتونی لوگوں کے مقا بلے میں جو عمل کر سکتے ہیں بلکہ ایسے باتونی لوگوں کے مقابلے میں بھی جو بالکل کچھ نہیں کر سکتے (عموماً ایسا ہی ہوتاہے) خالصاً عملی لوگوں کو بے کار بنا دیتی ہے ۔ اہل آدمی کے بجائے چرب زبان غالب آجاتا ہے ۔ یہ جب ناکام ہو تا ہے تو اپنی ناکامی کو چالاکی سے جوازات کے پردے میں چھپا دیتا ہے ۔ اس سے یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ تکنیکیہ، ترقی کے بجائے جمود کو جنم دینے کا سبب کیوں بنتی ہے ۔
 
            آزادی کا مطلب ہے کہ آپ صیحح یا غلط وجوہات کی بنا پر، یا بغیر وجوہا ت کےبھی، کچھ بھی کرنے میں آزاد ہیں۔ اور جہاں مضمر علم کی بات آ جائے وہاں تو ایک صیحح وجہ خود ہی موجود ہے ۔ تحرک پسند، افراد اور افراد کے گروہوں کو خود اپنے علم کی بنیاد پر عمل کرنے میں آزاد سمجھتے ہیں ۔ یہ تحرک پسندوں کا پہلا قاعدہ ہے ۔
 
            حکمرانی کی مختلف اقسام کے ضمن میں ورجینیا ”نوماکریسی“ (قانونیہ) اور” ٹیلیوکریسی“ (نتائجیہ) کو ایک دوسرے کے متقابل رکھتی ہے ۔ اول الذ کر سے مراد ہے ”قانون کی حکمرانی“۔ یعنی کھیل کسی طرح کھیلا جا ناہے، اس میں نتائج کو پیش نظر نہیں رکھا جاتا ۔ ثانی الذ کر کا مطلب ہے” نتائج کی حکمرانی“؛ اس میں مخصوص نتائج کو سامنے رکھا جاتا ہے اور انہیں وجود میں لانے کے لیے قانون سازی کی کوشش کی جاتی ہے، اور اس کے لیے تکنیکیہ کی ضرورت پڑتی ہے ۔ قانونیہ لوگوں سے یکساں انداز میں پیش آتی ہے کیونکہ یہ اس بات کی پروا نہیں کرتی کہ وہ کون ہیں اور ان کا انجام کیا ہو تا ہے ۔ اگر کچھ لوگ مختلف ہیں اور ایک مخصوص نتیجے کا استحقاق رکھتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ ہم نتائجیہ میں جا پھنسے ہیں ۔ یہاں ”حیثیت“ (سٹیٹس ) اور ”معاہدے“ (کانٹریکٹ) کے درمیان تفریق کو بھی مد نظر رکھنا ضروری ہے ۔ حیثیت میں قانون اس بات کا دھیان رکھتا ہے کہ افراد کون لوگ ہیں، جبکہ معاہدے میں تمام افراد کی حیثیت مساوی ہوتی ہے اوران میں اختلافات کاانحصار معاہدے پر ہوتاہے کہ وہ کیا معاہدات کرتے ہیں ۔ ایک ایسا معاشرہ جو کلیتاً حیثیت پر مبنی تھا، جاگیرداری کے سوا کہاں مل سکتا ہے ۔
 
            سو، تحرک پسندی کو نشانہ بنانے کے لیے اس سے آسان بات کیا ہو سکتی ہے کہ معاہدے پر حیثیت کی برتری کا چرچا کیا جائے ۔ رجعت پسند، مقررہ حیثیتی کردار سے متعلق گرمیءجذبات کو بھڑکاتے ہیں ۔ یہ طبقے، نسل، جنس، علا قے کی روایتی جکڑ بند یوں کو اصلاً انسا نی بنا کر پیش کرتے ہیں اور یوں وہ قبل جدید ی طبی سہولیات اورکمر توڑ زرعی مشقت کو نظر انداز کر دیتے ہیں ۔ فلسفی جان گرے، بالکل اسی قسم کی بات کرتا ہے جب وہ کہتا ہے کہ ”انسان کی عمیق ترین ضرورت ایک گھر، مشترک معمولات کا ایک سلسلہ اور ورثے میں ملنے والی روایات ہیں جو اسے”متعینہ شناخت “ کی عنایات کا حامل بناتی ہیں ۔ انسان، ناپائیدار مخلوقات ہیں جن کے لیے زندگی کی معنویت ایک معمولی سا معا ملہ ہے جو آسانی سے معدوم ہو جاتا ہے ۔ ان کی آزادی ان کے لیے صرف مشترک ثقافتی پیکروں کے تناظر کے مقابل ہی قابل قدر اور بامعنی ہوتی ہے۔ یہ ثقافتی پیکر ہر نسل کے لیے نئے سرے سے تخلیق نہیں کیے جا سکتے ۔“
 
            اس کا مطلب ہے کہ ہمارے پاس ”متعینہ شناخت“ کو برقرار رکھنے کی خاطر لوگوں کی آزادی کو محدود کرنے کا جواز موجود ہے ۔ یہاں، لوگوں سے یہ پوچھ لینا بھی کوئی ضروری نہیں کہ آیا وہ اس مقصد کے لیے اپنی آزادی کو ترک کرنے پر تیار ہیں ۔ سرمایہ داری کی قانونیہ، افراد کو ایک مخصوص حیثیت اور اپنی خود اختیاریت کا احترام عطا کرتی ہے۔ یہ معاہدے کی بنیاد ہے جو خود اختیاریت کو قابلِ احترام سمجھتا ہے: مراد یہ کہ رضا کا رانہ معاہدے بذریعہ قانون نافذ کروائے جاتے ہیں ۔ ایسے قواعد، دولت کی پیدائش میں معاون ثابت ہوتے ہیں کیونکہ ان میں لوگ خود اپنے علم ( کہ وہ کیا چاہتے ہیں) کی بنیاد پر بہترین معاہدے کرتے ہیں ۔ اگر انہیں اور ان کی دولت کو قانونی تحفظ دیا جائے اور ان کے معاہدوں کو طا قت اور فراڈ سے قانونی بچاﺅ مہیا کیا جائے تو ایسے قوانین سامنے آتے ہیں جو تیز رفتار افزائش اور ترقی کا سبب بنتے ہیں ۔ اس کا معکوس وہ کچھ ہے جو ہمیں بیشتر ممالک میں نظر آتا ہے ، یعنی دولت کا تعفن ۔
 
            ایک مثال ملاحظہ کیجیے۔ پیرو میں کوئی کاروبار شروع کرنے یا گھر کی ملکیت حاصل کرنے کے لیے کیا کیا پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں ۔ ایک چھوٹی سی گارمنٹ فیکٹری شروع کرنے کے لیے 289 دن، گیارہ مختلف اجازت نامے، اور 1231 امریکی ڈالر (جو کم از کم ماہانہ اجرت کا 32 گناہے) درکار ہیں ۔ مناسب معیار کے مکانات تعمیر کرنے کے لیے بیکار بڑی ریاستی زمین اور اس پر تعمیرات کے لیے ضروری اجازت ناموں کے حصول کے لیے 83 مہینوں (سات بر سوں میں بس ایک مہینہ کم) ، اور پانچ لاکھ ڈالر سے زیادہ کی ضرورت پڑتی ہے ۔ یہ ہے بدترین قانون ۔ پیرو کی انتہائی افسر شاہانہ تجارتیتی حکومت رجعتی مقاصد اور تکنیک پسندانہ ذرائع کا مکمل ترین امتزاج ہے ۔ یہ ایک روایتی سماجی سلسلہءمراتب کو پیچیدہ قوانین کے ماہرانہ نظم و نسق کے ذریعے برقرار رکھنا چاہتی ہے ۔ یہی کچھ جمود پسند، یعنی رجعت پسند
( شعوری طور پر)، اور تکنیک پسند (غیر شعوری طور پر) ہر جگہ جلوہ گر دیکھنا چاہتے ہیں ۔
 
            علم سے متعلق ایک اور اہم بات ۔ تکنیکیہ اپنے تحفظ کی خاطر ایسے تمام علم کو د با د ینے کے لیے سب کچھ کر گزرتی ہے جو مقامی لین دین کے لیے ضروری ہو سکتا ہے ۔ رضا کا رانہ انجمنوں، با ہمی رضامندی پر مبنی معاہدوں، اور دوسری روایتی آزادیوں پر لگائی جانے والی پابندیاں، ہر طرح کے کاروبار اور ملازمین کے باہمی تبادلہءخیال کے عمل میں تکنیک پسندوں کی مداخلت کو آسان بناتی ہیں ۔ یہ سب کچھ لوگوں کو ان کی خود اختیاریت سے محروم کرنے اور ہر طرح کے تعلقات پر سیاست زدہ اور اخلاق پرست نگران تعینات کرنے کے لیے کیا جاتا ہے ۔ یوں منافع کے بارے میں فکر مند ہونے کے بجائے ہر کوئی سیاسی اور قانونی پارسائی کے پیچھے پڑجاتا ہے ۔ اس کا منطقی نتیجہ سٹالن ازم کی صورت میں نکلتا ہے جہاں صرف اور صرف عمل کی سیاست اہمیت رکھتی ہے ۔ پیداوار، کارکردگی، ملکیت، حقوق، آزادی یا معا شی افزائش جائیں جہنم میں ۔ جنت میں حکمرانی کی نسبت دوزخ میں بھوکے مرنا بہتر ہے !
 
            فطرت خود متحرک ہے ۔ رجعتی ماحولیاتی جنونیوں کو یہ بات ہضم نہیں ہوتی ۔ ان کے نزدیک فطرت جامد، غیر متغیر ہم آہنگی اور توازن کی حامل ہے اور ہمیں اس میں کسی قسم کی دخل اندازی نہیں کرنی چاہیے کہ کہیں یہ زمین کو تبدیل اور تباہ کر دے ۔ ”زمین کو بچاﺅ“ کے نعرے کا مطلب یہی ہے ۔ اگرچہ یہ بات تشویش کا با عث ہو سکتی ہے انسانی سرگرمی زمین کا درجہ ءحرارت بڑھا نہ دے یا سمندر کی سطح کو تبدیل نہ کردے، مگر صداقت یہ ہے کہ قدیم دور میں انسانوں کی موجودگی سے پہلے یا ان کے زمین پر کچھ بھی کرنے سے قبل زمین خاصی گرم، خاصی سرد، اورسمندر کی سطح کافی اونچی اور کافی نیچی تھی ۔ ایک وقت میں میکسیکو کی خلیج ڈینور کے برابر تھی ۔ دس ہزار برس پہلے صحارا کا ریگستان ایک سبزہ زار تھا، اور زمین اتنی گرم تھی کہ ماہرینِ ارضیات اس دور کو ”موسمی انتہا“ کا نام دیتے ہیں ۔
 
            اس سلسلے میں ایک نمایاں مثال ”ہچی سن میموریل فاریسٹ“ کی ہے ۔ رٹجر یونیورسٹی نے 1950 کی دہائی میں اسے’جنگلی مامن‘ کے طور پر محفوظ کیا ۔ اسے با لکل تنہا چھوڑ دیا گیا ۔ بد قسمتی سے یہ اس بنا پر تبدیل ہونے لگا ۔ بلوط کے درخت اگنے بند ہوگئے اور ہر طرف میپل کے پیٹر پھیل گئے ۔ مردہ درختوں کے تنوں پر پائے جانے والے آگ کے اثرات سے محققین نے اپنی محبوبہ، فطرت، کی اختراع کو پا لیا ۔ نیو جرسی میں یورپیوں کے ورود سے پہلے انڈین لوگ تقریبا ً ہر دہائی کے بعد جھاڑ جھنکاڑ کو جلا دیتے تھے ۔ اس کا مطلب جانوروں کو ہنکانا یا سفر میں آسانی پیدا کرنا ہو سکتاہے ۔ یہ آگ نباتات کی نچلی منزل کا صفایا کرتی، میپل کے درختوں کے بجائے بلوط کی افزائش کو ساز گار بناتی، اور طویل القامت درختوں کے جنگل کو وجود میں لاتی تھی۔ 1960کی دہائی کی ابتدا میں فطرت پسند ایسے جنگلوں کو قدیمی، دائمی اور انسانی اثرات سے غیر متاثر جنگل قرار دیتے تھے ۔
 
            ماحولیا ت کے ماہرین کے لیے نہیں تو تکنیک پسندوں کے لیے ”آگ“ ابھی بھی ایک خوفناک مسئلہ ہے ۔ دیکھا جائے تو آگ بردگی، فطری عمل ہے، اور بیسو یں صدی سے قبل جنگلا تی آگ، خواہ یہ آسمانی بجلی سے لگی ہو یا انسان کی کارگزاری سے، زیادہ تر خود ہی جل جلا کر بجھ جاتی تھی ۔ یہ ماحولیاتی نظام کا ایک اہم پہلو ہے ۔ جنگلاتی آگ کی تادیب میں کامیابی سے ایسی نباتات اور حیوانات کے وجود کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے جو جلنے کے عمل پر انحصار رکھتے ہیں ۔ مثال کے طور پر سیرانیویڈا کے بوڑھے درخت، ریڈوڈ کی چھال، آگ کے اثرات کو دفع کرتی ہے اور ان کا سبزہ تنے کی بلندی پر ہوتاہے ۔ جب بھی جنگل میں آگ لگتی یہ محفوظ رہتے۔ اب ان درختوں پر کیٹرے حملہ آور ہوگئے ہیں جن کی پیدائش کا سبب جنگل کے فرش پر موجود ان جلا کوڑ کباڑ ہے ۔ اس طرح، گرد و نواح میں موجود صنوبر اتنے بلند ہو چکے ہیں کہ جب یہ جلتے ہیں تو ریڈووڈ کے بالائی سبزے کو بھی جلا ڈالتے ہیں ۔
 
            چونکہ فطرت خود متحرک ہے، لہٰذا جمود کا نصب العین انسان کے سر بندھ جاتا ہے ۔ یہ انسانیت ہے جو رجعت پسند ہے، فطرت نہیں ۔ بعض ماہرین ِماحولیات پوری نوعِ انسانی کو اصلاً شر خیال کرتے ہیں کیونکہ اغلباً انسان نے ہی عہدِ برفانی میں بیشتر دیوسار ممالیہ جانوروں کو شکار کرکے ختم کر دیا تھا ۔ حالیہ دور میں یورپ میں شیر اور مشرق وسطیٰ میں ہاتھی ختم ہو گئے ۔ ٹھیک ہے کہ ہم مصریوں کے ہاتھوں ہاتھیوں کی ہلاکت کو فطرت کی جدید تسخیر کا نام دے دیں، لیکن قدیم ترین دور کے شکاریوں کے ذہن میں ایسی کوئی بات نہیں تھی کہ وہ کیا کر رہے ہیں ۔ انہیں شر کے طور پر اخلاقی ردّ کا نشانہ تب ہی بنا یا جا سکتاہے اگر اندھی فطرت نے اس سے قبل ایسا کام نہ کیا ہو ۔ لیکن، واقعہ یہ ہے کہ فطر ت ہمیشہ یہی کچھ کرتی ہے ۔ نہ صرف ڈائینو سار بلکہ بہت سی ارضیاتی انواع پلک جھپکتے ہی نابود ہو گئیں ۔ اگر انسانوں نے دیو سار جانوروں کو ختم کیا تو خود ڈائنو سار وں نے رینگنے والے ممالیہ جانوروں کو مٹا ڈالا جن کی نسل ننھے ننھے ممالیہ جانوروں کی صورت میں ہی باقی بچی ہے ۔
 
            چونکہ فطرت خود لوچ دار ہے، لہٰذا ، ماحولیات پسندوں کو تخلیق پسندوں کی پناہ میں ہی آرام ملتاہے جو ” جامد انواع“ پر یقین رکھتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ جمود پسند حیاتیاتی اخلاق پرستوں کو غیر متغیر انسانی فطرت نہایت قابل احترام معلوم ہوتی ہے ۔ وہ اسے ایک فطری امر سمجھتے ہیں ۔ جینیاتی ا ینجیئر نگ اسی لیے خو فنا ک محسو س ہوتی ہے کیو نکہ یہ انسا نی فطرت کو تقد س سے محروم کر د یتی ہے ۔ خواہ نوع ِانسانی ہو خواہ سائنس، یہ واحد اداکار نہیں ۔ دونوں پیچیدہ فطری نظام ہیں جو مختلف النوع انفرادی انسانوں پر مشتمل ہیں ۔ ان میں سے کوئی بھی کسی مرکزی کنٹرول کے تابع نہیں ۔ معاشرے کے بارے میں بھی یہی بات درست ہے جویہ فیصلہ کر سکتا ہے کہ ایک مخصوص جلدی رنگ ایک عارضہ ہے ۔ لیکن ایک تحرک پسند معاشرے میں ایسا کوئی بھی فیصلہ ممکن نہیں کیونکہ یہاں ایسا فیصلہ کرنے والی کوئی واحد اتھارٹی موجود نہیں ۔
 
            اس انکشاف کی اہمیت اس با ت میں پوشیدہ ہے کہ رجعت پسند، جمود پسند اور تکنیک پسند دونوں اتھارٹی کی اصطلاحات میں سوچتے ہیں ۔ ان کے نزدیک معاشرے کا مطلب حکومیتں ہیں جو قوانین اور ضوابط تشکیل دیتی ہیں جہاں ایک خاص جلدی رنگ کو ایک عارضے کا نام دیا جا سکتا ہے ۔ وہ پو پر کے مفہوم کے مطابق ”متشکل معاشرے“ کی بات کرتے ہیں ۔ جبکہ ورجینیا کا غیر متشکل، تحرک پسند، روشن خیال معاشرہ، اتھارٹی اور فیصلے کی غیر مرکزی تقسیم کاحامل ہے ۔ یہ خود افراد کا معاملہ ہے کہ وہ جو چاہتے ہیں وہ فیصلہ کریں ۔ جمود پسند، حکومت کے ایسے فیصلوں سے تو خوف کھاتے ہی ہیں، وہ اس وقت خوف سے کانپنے لگتے ہیں جب وہ یہ دیکھتے ہیں کہ افراد اپنے فیصلے خود کر رہے ہیں۔ وہ اس میں اپنی دخل اندازی چاہتے ہیں ۔ بلکہ وہ یہ کہتے ہیں کہ ایسے فیصلے کرنا ممکن ہی نہیں جب تک پولیس فورس کو استعمال نہ کیا جائے ۔
 
            ورجینیا، بے لذتیت کے موقف کو بھی نشانہ بناتی ہے جو جمود پسند انہ سیاسی اخلا قیت کا ایک اہم پہلو ہے ۔ کھیل بے ہودگی ہے اور بڑوں کو بچکا نہ چیزوں سے اجتناب کر نا چاہیے۔ اس موقف کے حامی کہتے ہیں کہ کھیل کے جذبے کی حوصلہ افزائی سے سرمایہ داری خود اپنے آپ کو تباہ کر لے گی ۔ معلوم نہیں کہ یہ برا ہو گا یا درست ۔ یہ ایک مختلف معاملہ ہے ۔ کھیل لازماً لذت پسند ی نہیں ۔ یہ فعالیت ہے، اور یہ اتنا ہی فعال اور تخلیقی ہو سکتا ہے جتنی کام کی کوئی پیوریٹن اخلاقیات، فعال اور تخلیقی ہو سکتی ہے ۔ بلکہ کھیل، توقع سے زیادہ تخلیقی ہو سکتا ہے ۔ کسی موجد کی فعا لیت جو دریا فت کی پگڈنڈی پر سر گرم کار ہے، کام جیسی چیز نہیں ، کھیل جیسی چیز ہے ۔ جمود پسندانہ تکنیکیاتی سوویٹ یونین کا بے رحم اور سیاسی سخت گیری کا ماحول، ایجاد کے ضمن میں بہت معمولی یا نہ ہونے کے برابر پیش رفت بھی نہیں کر سکا ۔ تکنیک پسندوں کا خیال ہے کہ ہرچیز پہلے ہی ایجاد ہو چکی ہے کیونکہ وہ کسی نئی چیز کے بارے میں سوچنے کی اہلیت سے قطعاً عاری ہیں ۔
 
            ساحلی والی بال کوئی سنجیدہ ایجاد معلوم نہیں ہوتا لیکن ’ کھیل ‘ ایک ایجاد ہے اور ایک بڑی صنعت بھی ۔ والی بال اس صنعت کا اتنا اہم جز نہیں جتنا فٹ بال ہے؛ لیکن اس کا اپنا مقام ہے ۔ اس نوع کی انسانی سرگرمیاں، کمپیوٹر ٹیکنالوجی جیسی کسی چیز کی نسبت تماشائیوں کے لیے زیادہ لذت پسندانہ ہیں ۔ یہ انسانی زندگی کی دلکشی میں، ساتھ ساتھ معیشت میں بھی، ایک اضافے کی حیثیت رکھتی ہیں ۔ لیکن، فیشن جیسی فضول خرچی کے ساتھ کھیل، اخلاق پرستانہ جمودیوں کو بے لذتیت اور عد م جمالیت کی انتہا پرلے جاتا ہے ۔ ُبنائی اور کشیدہ کاری جیسی آرائشی چیزیں تخلیق کرنا عورتوں کا روایتی کھیل ہے ۔ یہ برتن سازی، ٹوکری سازی، سنگھاریت، زلف تراشی، اور زیور سازی میں بھی کارفرما دیکھا جا سکتا ہے ۔ یہ ایک خاص طرز کے اندر رہتے ہوئے اختراع کے چیلنج سے عبارت ہے اور ذہن کے بہاﺅ کو ایک سمت دے کر عملی ضروریات کو ُپر جودت تعیشات میں بدل دیتا ہے ۔ یہ تخلیقیت، فیشن کی دنیا کی جد امجد ہے ۔ لیکن جمود پسند اسے التباس اور چڑیلوں کی فریب کاری قرار دیتے ہیں ۔ جب یہ زیبائشی فنون کو مسترد کرتے ہیں تو اصل میں یہ حسن کی جستجواور اس سے ملنے والی طمانیت کو مسترد کرتے ہیں۔
 
            یہ موقف حاکمیتی تحریکِ نسواں کی طرح عورت دشمنی کا حامل ہے ۔ ساری دنیا میں کھیل اور فیشن کی سب سے زیادہ مخا لفت کی جا تی ہے اور یہ سرما یہ داری کی شا ن و شوکت کا ایک نشا ن بھی ہے ۔ اب شیطا نی کارخا نے زیادہ تررجعتی غیض و غضب کا نشانہ نہیں رہے ۔ ان کا ہد ف اب شاپنگ مال اور کھیل کے میدان ہیں جو جدید معاشرے میں بچوں اور بوڑھوں ، عورتوں اور مردوں کویکساں اپنی طرف کھنچتے ہیں ۔ کھیل، جمود پسندوں کے لیے ایک بھیا نک خواب ہے کیونکہ یہ صنعت اور لذت، تخلیقیت اور مسرت کا امتزاج پیش کرتا ہے ۔ اس ضمن میں ایک اہم مثال طباخی کی ہے جو خورا ک کی ضرورت کو جنم دیتی ہے، لیکن جس کی جما لیا تی توسیع کی کوئی حد نہیں ۔ جب معیشت کے مینوفیکچرنگ سیکٹر میں زراعت (جو افرادی قوت کے صرف 2 فیصد پر مشتمل ہے) کی طرح محنت کی ضرورت بہت کم رہ جائے گی تو بیشتر معیشت کھیل، آرائش اور تزئین سے متعلق ہو جا ئے گی ۔
 
            جمود پسند اور مفاد پست گروہ تبدیلی کے خلاف بہت سے دلائل د یتے ہیں ۔ یہ دونوں ایک دوسرے کی پردہ پوشی بھی کرتے ہیں ۔ نظریہ باز اس بات کا اہتمام کرتے ہیں کہ مفاد پرست گروہ، احمق اور خود غرض معلوم نہ ہوں، اور مفاد پرست گروہ یہ کوشش کرتے ہیں کہ نظریہ بار نیچ، خواص پسند، اور سنکی ظاہر نہ ہوں ۔ جمود پسند، تصوریت پسندی سے کام لیتے ہیں، اور مفاد پرست گروہ، چٹکلوں، پیسوں اور سیاسی اثر و رسوخ سے کام چلاتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ انیسویں صدی میں تجارتیت پر آزاد تجارت کی نظری اور عملی فتح کے بعد، تجارتیت اب بیسویں صدی میں بڑے زور دار طریقے سے واپس لوٹ آئی ہے ۔ اگرچہ آزاد تجارت کے فوائد عام طور پر تسلیم کیے جاتے ہیں، لیکن تحفظاتی اور جوابی محصولات کے لیے مفاداتی گروہ کا پروپیگینڈا مسلسل جاری رہتا ہے ۔ اور اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ تحفظا تی محصولات اور تجارتی رکاوٹوں کا عمل بغیر تسلیم کیے جاری رہتا ہے ۔
 
            تبد یلی کے دشمن نظریہ بازوں اور پیوستہ مفا دا ت کے درمیا ن اتحاد کی وجہ سے ٹیکنا لوجی کی تخلیقیت نا یا ب اور نا پا ئیدار ہو گئی ہے ۔ اس خصوصیت کو سنہری دور کانام دیا جاتاہے، جبکہ پلک جھپکتے میں یہ ماضی کا حصہ بن جاتی ہے ۔ قنوطیت پسند یہ د لیل دیتے ہیں کہ ایسا کوئی بھی معاشرہ جسے خود اس کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے، زیادہ د یر تک تخلیقی نہیں رہتا ۔ جیسے کہ ہم مستقبل کی پیش بینی نہیں کرسکتے، اسی طرح، ہمیں یہ بھی معلوم نہیں کہ ٹیکنالوجی کی تخلیقیت کتنی نا یا ب اور کتنی نا پا ئیدار ہوگی۔ ریاستہائے متحدہ 1970 کی دہائی کی عدم فعلیت سے ابھر کر قدم بڑھاتا 80 اور 90 کی دہائی میں پھر دنیا پر غالب آ گیا ۔ تاہم، وہ تما م برائیاں، جو سوویٹ یونین میں موجود تھیں اور جنھوں نے 90 کی دہائی میں مغربی یورپ کی افزائش اور تخلیقیت کا گلا گھونٹے رکھا وہ ریاستہائے متحدہ میں بھی جنم لے رہی ہیں ۔ پریس، درسگاہیں، اور قانون ، تعریف و تحسین کے ساتھ انھیں فروغ دے رہے ہیں ۔ بہت سے امریکیوں کے لیے امریکہ کا فرانس بن جا نا ایک شاندار بات ہوگی جہاں حکومت نے نجی نوکریوں کی تخلیق کو بالکل ہی تباہ کر ڈالا ہے ۔
 
            ایسی مثا لیں موجود ہیں کہ ایک عظیم تہذیب کے ارتقا کو زوال آشنا کر دیا گیا ۔ چین کی تاریخ نہا یت تعجب خیز ہے ۔ صدیوں تک یہ ایک انتہائی اختراع پسند معاشرہ تھا ۔ پھر پندرھویں صدی میں یہ سب کچھ رک گیا ۔ کتا بیں تک غائب ہو گئیں ۔ تحقیق کی خاطر کیے جانے والے بحری سفر ممنوع قراردے دیئے گئے ۔ سابقہ بحری سفروں کے ریکارڈ کو جلا دیا گیا ۔ 1500 تک یہ حالت ہو گئی کہ دوباد با نوں سے زیادہ والے بحری جہازوں کی تعمیر کے جرم کی سزا موت ہو گئی ۔ نصف صدی بعد بحری تجارت کے لیے سفر کو بغاوت قرار دے دیا گیا ۔ قدیم سے جاری کان کنی، ریشم کو لپٹینے، اور وقت کی پیما ئش کی ٹیکنا لوجی فراموش کر دی گئیں ۔ بیرونی تجارت کے کچھ حصے پر ریاست قابض ہوگئیاور بقیہ تجارت کو بند کر دیا گیا ۔ اور اس طرح، تاجرانہ شہروں کا پھیلاﺅ روک دیا گیا ۔ سولہویں صدی میں موجود یورپیوں کے چین میں وارد ہونے تک، منگ خاندان کی مقامی حکومت نے دوسو برس تک افسر شا ہا نہ فولادی ڈھکنے کو سختی سے بند کیے رکھا ۔ چینی افسر شاہی کی فتح اور کلرکوں کی بغاوت اس تاریخ کے سبق ہیں۔
           
             ہم اس آئینے میں پاکستا ن کے بحران کو بہت آسانی سے سمجھ سکتے ہیں۔    
           
            (یہ ترجمہ 26-28 اگست 2000 کے دوران کیا گیا ۔)