(ایک گفتگو)
ڈاکٹر خلیل احمد

            مجھے اس موضوع پر ’معیشت ‘ کے حوالے سے بات کرنے کے لیے کہا گیا ہے ، مگر میں اپنی بات کا آغاز اخلاقیات سے کرنا چاہتا ہوں ۔
 
            جیسا کہ اکثر کہا جاتا ہے, اور خود میں بھی ایسا ہی سمجھتا ہوں, کہ ہمارا بحران یا ہمارا قومی بحران، بنیادی طور پر ایک اخلاقی بحران ہے، ایک  Moral crisis۔
 
            اور میں شروع میں ہی یہ بھی واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ اس اخلاقی بحران کی جڑیں ہمارے طرز معیشت میں پیوست ہیں ۔
 
            کچھ سال پہلے مجھے ایک سکول کے ساتویں کلاس کے طلبہ سے Interact کرنے کا موقع ملا ۔ میں نے سوچا کہ  Abstract conceptsسے متعلق ان کی  Understandingکو پرکھا جائے ۔
 
            میں نے طلبہ سے کہا کہ نیکی، سچائی، انصاف، ۔ یہ کیا چیزیں ہیں ؟ ان میں سے خاصے طلبہ نے’انصاف‘ کی جو تعریف بیان کی,  وہ چونکا دینے والی تھی ۔ ان کا کہنا تھا انصاف یہ ہے کہ جو چیز جس کی ہے اس کے پاس رہے ۔
 
            آج میں انصاف کی اس تعریف کو Property rights کے حوالے سے زیادہ بہتر انداز میں سمجھ سکتا ہوں ۔ یعنی انصاف ، حق ملکیت کا تحفظ ہے ۔ اور یہی وہ تیسرا ستون ہے جس پر کسی ریاست کی عما رت تعمیر ہوتی ہے ۔ مراد یہ کہ کسی امتیاز کے بغیر تمام شہریوں کی جائیداد کا تحفظ۔ ( دوسرے ستون، جان اور آزادی کا تحفظ ہیں۔)
 
            اور حق ملکیت کا یہ تصور اخذ ہوتا ہے Self-ownership کے تصور سے ۔ یہ کہ : ہم اپنے جسم و جان کے خود مالک ہیں ۔ یہ Positive سے زیادہ ایک Negative assertion ہے ۔ یعنی : کوئی دوسرا فرد، گروہ ، جماعت یا ادارہ یا ریاست ہمارے جسم و جان کی مالک نہیں ۔ اسی سے یہ نتیجہ بھی اخذ ہوتاہے کہ اپنی زندگی سے متعلق فیصلوں کا اختیار خود ہمیں حاصل ہے ۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ کسی دوسرے فرد، گروہ، جماعت یا ادارے یا ریاست کو ہمارے لیے فیصلے کرنے کا اختیار حاصل نہیں ۔
 
            اور اسی سے یہ نتیجہ بھی اخذ ہوتا ہے کہ ہمارے جسمانی اور ذہنی محنت کے ثمر، یعنی Income یا Profit پر بھی ہمارا ہی اختیار ہونا چاہیے ۔ اور اس Income، اور Profit کے ذریعے حاصل کی گئی جائیداد پر بھی ہمارا ہی اختیار ہونا چاہیے ، کسی دوسرے فرد، گروہ ، جماعت یا ادارے یا ریاست کا نہیں ۔
 
            یہی Property rights ہیں، جو انصاف کی بنیاد ہیں ۔ یعنی ، کسی فرد، گروہ ، جماعت ، یا ادارے یا ریاست سے فرد کی Income ، Profit ور جائیداد کا تحفظ۔
 
            لیکن اس کے برعکس، ایک Collective اور Welfare state - اور پاکستان کی ریاست ان دونوں کا ملغوبہ رہی ہے - عملاً،فرد ، اس کی جان، مال، اور آزادی کو بالکل قابل اعتنا نہیں سمجھتی ۔ یہ ہر پہلو سے اس کے جسم و جان کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرتی ہے ۔ سیاسی طور پر بھی، فکری طور پر بھی، تعلیمی طور پر بھی، مذہبی طور پر بھی، روحانی طور پر بھی، جمالیاتی طور پر بھی اور اخلاقی طور پر بھی ۔
 
            بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ یہ فرد کو سب سے زیادہ معاشی طور پر کنٹرول کرنے کی کوشش کرتی ہے ۔
 
            یہ سب کچھ کیا جاتا ہے Taxation اور Regulation کے ذریعے ۔
 
            اور یہ سب کچھ کیا جاتاہے مساوات پسندی اور عوامی فلاح و بہبود کے نام پر۔ غریبوں کے نام پر ۔ غربت کو دور کرنے کے نام پر ۔
 
            Collective یا اجتماعی ریاست تمام ذرائع پیداوار کو نجی سے اجتماعی ملکیت میں لے لیتی ہے ۔ لیکن حقیقتاً یہ ایک خاص گروہ یا جماعت کی ملکیت میں آجاتے ہیں ۔
 
            جبکہ فلاحی ریاست جن کے پاس ہے ان سے لے کر جن کے پاس نہیں ان کو عطا کرنے کے نعرے پر عمل کرتی ہے ۔ لیکن یہ حقیقتاً تمام شہریوں سے لیتی ہے ( کیا غریب امیر سب ٹیکس نہیں دیتے!) اور کچھ خاص گروہوں کو نواز تی ہے ۔
 
            پاکستان میں نیشنلائزیشن کے ذریعے Collective ریاست قائم کرنے کا تجربہ دس برس سے بھی کم عرصے میں ناکام ہو گیا ۔ اب Privatization اور De-nationalization ہر حکومت کی مجبوری ہے ۔
 
             جبکہ فلاحی ریاست کا جادو ابھی بھی سر چڑھ کر بول رہا ہے ۔
 
            سوچنے کی بات یہ ہے کہ کوئی بھی ریاست دولت پیدا نہیں کرتی ۔ لیکن یہ ایک Distributor کا رول اختیار کر لیتی ہے ۔ اس سے لے کر اسے تقسیم کردیا ۔ اور جس کے پاس تقسیم کا یہ اختیار آ جاتاہے وہ پھر اپنی پسند اور نا پسند کے مطابق ہی تقسیم کرتا ہے ۔ کیا یہ بہتر نہیں کہ ریاست کے پاس دولت کی تقسیم کا یہ اختیا ر ہو ہی نہ ۔
           
            یہی وجہ ہے کہ ساری سیاست، جمہوریت، آمریت وغیرہ ، اصل میں “Periodic auction of available resources” بن جاتی ہے ۔
 
            مزید سوچنے بات یہ ہے کہ آج تک بیشتر فلسفوں، مذاہب، نظریات، Ideologies میں صرف اور صرف تقسیم دولت (Distribution of wealth) پر ہی زور دیا گیا ہے، اور دولت کی پیدائش (Production of wealth) کے عمل پر بہت کم توجہ دی گئی ۔
 
            لہٰذا ، ریاست نے بھی تقسیم دولت کو ہی اپنا مقدس فریضہ بنا لیا ۔
 
             جبکہ ریاست کا اہم ترین منصب دولت کی پیدائش کے عمل کو Facilitate کرنا ہونا چاہیے ۔
           
            Let the wealth be created first, it won't stink in the lockers!            
           
            اسی سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ ریاست کا ایک بڑا فریضہ Rule of law قائم کرنا ہے ۔ اور اس سے مراد ہے کہ بلا کسی امتیاز کے ہر شہری کی جان ومال اور آزادی کا تحفظ۔ یہی ایک محدود حکومت کا تصور ہے ۔ اور اس میں یہ بات بھی شامل ہے کہ کوئی ایسی قانون سازی نہ کی جائے جو فرد کی بنیا د ی آزادیوں پر قدغن عا ئد کرتی ہو۔
 
            اس میں Property rights سب سے زیادہ اہم ہیں ۔ یہ چیز براہ راست فرد کی معاشی آزادی پر اثر انداز ہو تی ہے ۔ جب ایک فرد کا اپنی کمائی، آمدنی، ملکیت وغیرہ ،پر اختیار نہیں رہتا یا کم ہوجاتا ہے تو یہ ایک غلامی کی صورت ہی ہے ۔ یعنی ، آپ کام کرتے ہیں، کماتے ہیں، دوسروں کے لیے، ریاست کے لیے ۔
 
            یہیں سے ایک بحران جنم لیتاہے، جو کسی بھی معاشرے کی اخلاقی بنیا د یں ہلا کر رکھ دیتاہے ۔ ہمارے ساتھ یہی کچھ ہوا ہے ۔  
 
            Index of Economic Freedom 2004 کے مطابق جسے امریکہ کی Heritage Foundation اور Wallstreet Journal شائع کرتے ہیں، معاشی آزادی کے حوالے سے پاکستان Mostly unfree ہے ۔
 
            یعنی تجارتی پالیسی بہت زیادہ Protectionism پر مبنی ہے ۔
            انکم ٹیکس اور کارپوریٹ ٹیکس کی شرح بہت زیادہ ہے ۔
            معیشت (یا مارکیٹ) میں حکومت کا کافی عمل دخل ہے ۔
            Property rights کو مناسب تحفظ حاصل نہیں ۔
            اور Informal market کی سرگرمی کی شرح بہت زیادہ ہے ۔              
 
            اس Index کے مطابق معاشی آزادی کے حوالے سے دنیا میں پاکستان کا نمبر 109 بنتا ہے ۔
 
            اور Economic Freedom of the World 2003 کے مطابق، جسے کینڈا کا Fraser Institute شائع کرتا ہے، دنیا میں پاکستان کا نمبر 101 بنتاہے ۔
 
            تاہم ، یہ توتھی Ranking جو اعداد وشما ر پر مبنی ہے ۔ جبکہ، معاشی اصطلاحات اور اعداد و شمار کی زبان اس اخلاقی بے مائیگی، دکھ اور بے بسی کو بیان نہیں کر سکتی جس کا ہم شکار ہیں ۔
 
            ہمارے اس بحران کو ، جس پر آج ہم بات کر رہے ہیں ، ایک Dichotomy کے ذریعے سمجھنا آسان ہے یہ ہے Control اور Freedom کی Dichotomy ۔
 
            کیا ریاست افراد کی جان ومال، اور آزادی کو کنٹرول کرے یا نہیں ۔ اس کنٹرول سے Controlled economy وجود میں آتی ہے ۔ جیسا کہ ہماری Economy ہے ۔ اور یہ کنٹرول نہ ہویا بہت کم ہو تو Market economy یا Free market economy وجود میں آتی ہے ۔
 
            نہ تو Prefectly controlled economy ، اور نہ ہی Perfectly free market economy ، Practicable ہے۔
           
            لیکن یقینا مارکیٹ میں یا دولت کی پیدائش، تبادلے، تقسیم اور صرف میں حکومت کی مداخلت کم سے کم ہونی چاہیے، اس کا مطلب یہ ہے کہ ٹیکسوں کی تعداد اور ٹیکسوں کی شرح کم سے کم ہونی چاہیے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ Regulation کم سے کم ہونا چاہیے ۔
 
            پاکستان کا بحران مارکیٹ میں حکومت کی بہت زیادہ اور بے جا مداخلت سے پیدا ہوا ہے ۔
 
            Collectivization یا Nationalization نے نہ صرف مارکیٹ فورسز کو بری طرح کچل ڈالا، بلکہ Social اور Moral values کا تانا بانا بھی بکھیر کر رکھ دیا۔
 
            یہ نیشنلائزیشن صرف فیکٹریوں، بینکوں، کالجوں، سکولوں کی نیشنلائزیشن نہیں بلکہ Nationalization of social and moral values بھی تھی۔
 
            Property rights اور انصاف کا تصور بری طرح مسخ ہو گیا۔
 
            جوکچھ انفرادی طور پر لوگوں کا تھا وہ سب کا ہوگیا ۔ نتیجہ یہ کہ کسی کا بھی نہ رہا۔ سکول، کالج، کارخانے، مالیاتی ادارے سب تباہ ہو گئے۔
 
             ایک نئی اخلاقیات نے جنم لیا جس کی قدریں یہ تھیں:
 
             دولت ناجائز دولت ہوتی ہے ۔
            دولت ناجائز طریقے سے ہی کمائی جا سکتی ہے یا
            دولت ناجائز طریقے سے ہی پیدا ہوتی ہے ۔
            جس کے پاس دولت ہے وہ ناجائز طریقے سے ہی کمائی گئی ہے ۔
             یا یہ کہ : کسی کے پاس دولت ہونے کا مطلب یہ ہے کہ یہ کسی دوسرے سے چھینی گئی ہے ۔
             اور یہ کہ دولت کسی کی نجی ملکیت نہیں ، یہ سب کی ملکیت ہے ۔
 
            ان قدروں نے نہ صرف Profit motive اور Business ethics کو تباہ کیا بلکہ انصاف کے تصور کو بھی پامال کر کے رکھ دیا ۔
 
            دوسری طرف Welfare state کے تصور اور Practice نے بھی انہیں اقدار کو تقویت بخشی ۔
 
            مختصرا ً یہ کہ ریاست کے اجتماعی، فلاحی اور تقسیمی تصور اور Practice نے مارکیٹ کو بہت کمزور، پسماندہ اور Inefficient کر دیا۔
 
            ایک Potent ریاست کے اسی تصور اور Practice نے مختلف طبقات، گروہوں، اور جماعتوں کو یہ سمجھا یا کہ ریاست کے ساتھ مل کر ہی Survive کیا جا سکتا ہے، کاروبار کیا جا سکتا ہے، دولت کمائی جا سکتی ہے، فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے، لوگوں کا استحصال کیا جا سکتا ہے ۔
 
            ان طبقات، گروہوں اور جماعتوں میں، مقامی و بیرونی سرمایہ دا، مینوفیکچرر، تاج، امپورٹر، ایکسپورٹر، مزدور، مزدوریونینیں، زمیندار، سیاسی، مذہبی جماعتیں سب شامل ہیں ۔
 
            یہ طبقات، گروہ، یا جماعتیں اپنی پسند نا پسند، اور فائدے نقصان کو سامنے رکھ کر ٹیکس لگواتے ہیں، یا ختم کر واتے ہیں، یا کم کرواتے ہیں یا بڑھواتے ہیں ۔ Regulations جاری کرواتے ہیں یا ختم کرواتے ہیں، Subsidies لیتے ہیں یا ختم کرواتے ہیں ۔
 
            اور یہ سب کچھ ’مقا میت‘ کے نام پر ہوتا ہے ۔ جیسے کہ کسی مقامی صنعت کو بچانے کے لیے اسے لاتعداد صارفین کے استحصال کی اجازت دے دی جاتی ہے ۔
 
            یوں ریاست تمام شہریوں کی جان و مال اور آزادی کے تحفظ کی نما ئندہ ہونے یا بننے کے بجائے ان کے استحصال کی آلہ ء کار بن کر رہ گئی ہے ۔
 
            یہی ہمارا قومی بحران ہے ۔
 
            اور یہ بحران سماجی زندگی کے انتہائی ناگزیر تانے بانے، یعنی اخلاقی اقدار کو بھی پارہ پارہ کر چکا ہے ۔
 
             اس کا کوئی فوری حل ممکن نہیں ۔ حل طویل اور صبر آزما ہے ۔
 
             تاہم ، کچھ معاشی اقدامات کی ابتدا اس سمت کی طرف پیش قدمی کی ضامن ضرور بن سکتی ہے ۔
 
            جلد یا بدیر ہمیں ان معاشی اقدامات کی طرف آنا ہوگا:
 
De-nationalization and privatization
 
 Low taxes (abolition of income tax)
 
 Less and less regulation
 
 Less and less intervention in the economy
 
 Less and less regulatory hurdles at the entry point of any business activity
 
 Limited government expenditure
 
 No monopolies
 
 No subsidies
 
 Free trade
 
 No price-controls
 
 Restoration of an independent judiciary
 
 Protection of property rights
 
 Democracy under the rule of law
 
[31مارچ 2004 کو لبرل فورم پاکستان، لاہور چیپٹ، کے زیر ِ اہتمام لاہور میں ہو نے والے سیمینار، ”قومی بحران: حل کی طرف پیش قدمی“ میں کی گئی گفتگو کا تحریری روپ ۔]