(ایک گفتگو)
ڈاکٹر خلیل احمد
یہ عنوان positively اس بات کا اشارہ دیتا ہے کہ میڈیا کو شہریوں کے معاشی حقوق کو promote کرنا چاہیے ۔
(ایک گفتگو)
ڈاکٹر خلیل احمد
یہ عنوان positively اس بات کا اشارہ دیتا ہے کہ میڈیا کو شہریوں کے معاشی حقوق کو promote کرنا چاہیے ۔ اور میرے خیال میں promote کرنے سے یہاں مراد ہے :
1۔ شہریوں کو ان کے معاشی حقوق سے آگاہ کرنا یعنی ان کے معاشی حقوق کیا ہیں۔
2۔ شہریوں کو اس بات سے باخبر رکھنا کہ آیا ان کے معاشی حقوق کا تحفظ ہو رہا ہے یا نہیں ۔
3۔ شہریوں کو یہ بتانا کہ اگر ان کے معاشی حقوق کا تحفظ نہیں ہو رہا تو اس کا ذمے دار کون ہے ؛ یعنی ان کے معاشی حقوق کون غصب کر رہا ہے اور کیسے غصب کر رہا ہے ۔
4۔ شہریوں کو یہ بتانا کہ ان کے معاشی حقوق کا تحفظ کون کر سکتا ہے ؛ یا یہ کہ وہ اپنے معاشی حقوق کا تحفظ کیسے کر سکتے ہیں۔
اب اگر ہم ان سوالوں کے جواب دے لیں تو یہ بات خود بخود طے ہو جائے گی کہ میڈیا شہریوں کے معاشی حقوق کو promote کرنے میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے یا نہیں ۔ کر رہا ہے تو بہت خوب؛ نہیں کر رہا ہے تو اسے ایسا کرنا چاہیے ، سو معاملہ ختم ہوا ۔ لیکن معاملہ اتنا سیدھا نہیں ۔
پہلی بات تو یہ کہ کیا خود میڈیا سے وابستہ افراد اس بات سے واقف ہیں کہ شہریوں کے معاشی حقوق کیا ہیں ۔
دوسری بات یہ کہ اگر وہ اس بات سے واقف نہیں تو ہو سکتا ہے کہ وہ اس حوالے سے غلط معلومات پھیلا رہے ہوں ۔
تیسری بات یہ کہ وہ لاعلمی میں یا دانستاً شہریوں کے حقوق کے بجائے کسی اور کے معاشی حقوق کا تحفظ کر رہے ہوں - یہ’ کسی اور‘ سیاسی و معاشی گروہ بھی ہو سکتے ہیں یا خود میڈیا کے گروہ بھی ۔
چوتھی بات یہ کہ خود میڈیا کے اپنے مفادات کیا ہیں، اور ان مفادات اور شہریوں کے معاشی حقوق کے مابین ٹکراﺅ کی صورت میں میڈیا کیا رول ادا کرتا ہے ۔
چونکہ وقت کم ہے ، مجھے 10 سے 15منٹ کا ٹائم دیا گیا ہے ، لہٰذا ،میں یہاں متذکرہ بالا سوالوں کے مختصر جواب دینے پر اکتفا کروں گا۔
پہلا سوال یہ ہے کہ شہریوں کے معاشی حقوق کیا ہیں ۔
اس سوال کا جواب دینے سے پہلے ایک نہایت اہم وضاحت ضروری ہے ، جس سے متعلق غلط فہمی زبان زد عام ہے ۔ یہ ہے حق یا حقوق کا مسئلہ۔ کہاجاتاہے کہ جیسے ، روٹی ، کپڑا ، مکان ، صحت اور تعلیم ، سب کا حق ہیں۔ اور جب یہ بات کی جاتی ہے تو یہ سمجھا جاتاہے کہ کسی دوسرے کو عوام کے ، لوگوں کے ، شہریوں کے ، یہ حقوق پورے کرنے چاہئییں۔ یہ ’دوسرا‘ ، عام طور پر حکومت ہوتی ہے ۔ اور عوامی سوچ کی انتہائی نچلی سطح پر پیسے والے لوگ۔ مراد یہ کہ حکومت کو عوام کے ، اور پیسے والوں کو غریبوں کے یہ حقوق پورے کرنے چاہیئیں ۔
حق یا حقوق کی مروجہ اصطلاح میں یہ مفہوم شامل ہے کہ کسی ایک کا کسی دوسرے پر حق۔ یا زیادہ واضح الفاظ میں یہ کہ کسی ایک پر کسی دوسرے کی ضروریات پوری کرنے کی ذمے داری عائد ہوتی ہے ۔ ایک مثال لیتے ہیں : ’تعلیم سب کا حق ہے‘۔ مراد یہ کہ حکومت کو عوام کو مفت تعلیم مہیا کرنی چاہیے
( دوسرے لفظوں میں یہ کہ تعلیم کی نجکاری نہیں ہونی چاہیے ) ۔ جبکہ تھوڑا سا غور کیاجائے تو خاص طور پر تعلیم ’ حق‘ نہیں بلکہ ایک فرض کے طور پر سامنے آتی ہے ۔
جہاں تک دوسری چیزوں کی بات ہے روٹی ، کپڑا ، مکان اور صحت ، تو یہ چیزیں بھی حق نہیں ۔ ہاں ، یہ کہا جا سکتا ہے کہ اولاد کا والدین پر حق ہے ، اور والدین کا یہ فرض ہے کہ اپنی اولاد کو روٹی ، کپڑا ، مکان ، صحت اور تعلیم مہیا کریں ۔
پھر یہ بات بھی ہے کہ ریاست یا حکومت نے تو عوام کو جنم نہیں دیا۔ جو وہ انہیں پالے پوسے ۔ یا کسی دوسرے نے یعنی پیسے والوں نے عوام کو جنم نہیں دیا جووہ والدین بن کر ان کے یہ حقوق پورے کریں ۔
بلکہ حق بات یہ ہے کہ عوام نے ، افراد نے ریاست کو، حکومت کو جنم دیا ہے اور وہ ہی اپنی ٹیکس منی سے اسے پالتے پوستے ہیں ۔ اور ریاست اور حکومت کے عمائدین کو روٹی ، کپڑا ، مکان ، صحت اور تعلیم بلکہ اس کے علاوہ اور بہت کچھ مہیا کرتے ہیں ۔ لہٰذ ا،یہ فیصلہ بھی وہی کر سکتے ہیں کہ حکومت کو کیسا ہونا چاہیے ،اور اس کے پاس کیا اختیارات ہونے چاہیئیں ۔
تو بات یہ بنی کہ حق یا حقوق کا یہ مفہوم اصل میں حکومت اور ریاست میں موجود افراد کے مفادات کا تحفظ کرتا ہے ، شہریوں کے حقوق کا نہیں ۔ شہریوں کے ’ حقوق‘ کے تحفظ کا مفہوم حقیقتاً جو اصطلاح ادا کر سکتی ہے وہ ہے ’ آزادی‘ (Freedom) کی اصطلاح ۔
مراد یہ کہ شہریوں کو یہ آزادی ہونی چاہیے کہ وہ کسی رکاوٹ ، مداخلت یا پابندی اور خوف کے بغیر باعزت طریقے سے اپنی بنیادی ضروریات ، روٹی ، کپڑا، مکان ، صحت اور تعلیم وغیرہ کو پورا کرنے کے لیے کوئی معاشی سرگرمی شروع کر سکیں ، اسے جاری رکھ سکیں یا اس میں حصہ لے سکیں ۔
اس مفہوم میں شہریوں کے معاشی حقوق اصل میں ان کی معاشی آزادیاں ہیں۔ شہریوں کی ان آزادیوں کے راستے میں رکاوٹ کون پیدا کرتاہے ، پابندی کون لگاتاہے، مداخلت کون کرتاہے ، سیدھی سی بات ہے جس کے پاس اختیار ہے ، طاقت ہے ۔ اور یہ اختیار اور طاقت حکومت کے پاس ہے ۔ اور حکومت کے ساتھ ان گروہوں کے پاس جنہیں حکومت کی سرپرستی حاصل ہوتی ہے ۔
حکومت اور یہ گروہ اپنے مفادات کو پورا کرنے کے لیے شہریوں کی معاشی آزادی کو سلب کرتے ہیں ۔ جبکہ حکومت پر جو بنیادی فرض عائد ہوتا ہے ، اور کسی ملک کے شہری اسے جو اختیار اور طاقت دیتے ہیں (اور وہ اس سے یہ اختیار اور طاقت واپس بھی لے سکتے ہیں ،حکومت کے بنائے قوانین کی پابندی نہ کر کے اور ٹیکس نہ دے کر) وہ شہریوں کی ان آزادیوں کی حفاظت کے لیے ہوتی ہے ۔ جیسے کہ اپنے طریقے سے زندہ رہے کی آزادی ، کمانے کی ، معاشی سرگرمی کی آزادی ، اپنی کمائی دولت کو اپنی پسند کے مطابق صرف کرنے کی آزادی۔ جائیداد بنانے ، رکھنے ، بیچنے ، منتقل کرنے کی آزادی، وغیرہ۔
اب اگر شہریوں کو یہ آزادیاں میسر ہیں تو یقینا ان کے ” معاشی حقوق“ کا تحفظ ہو رہا ہے ۔ یہ ہمارا دوسرا سوال تھا۔
اگر نہیں تو پھران کے معاشی حقوق کو کون غصب کر رہا ہے؟ اور کیسے؟ یہ ہمارا تیسرا سوال تھا۔
جیسا کہ اوپر بھی ذکر آچکا شہریوں کے معاشی حقوق یا آزادیوں کا تحفظ جس کی ذمہ داری ہے وہی انہیں غصب کر رہا ہے ۔ اور اس کا میکانزم کچھ اس طرح ہے :
شہریوں کویہ بتایا جاتاہے ( یقینا میڈیاکے ذریعے ، پبلک اور پرائیوٹ دونوں ) کہ انہیں کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ، ان کی کفالت کی ذمے داری حکومت پرہے ،اسے وہ فلاحی ریاست کہتے ہیں ۔ یعنی شہریوں کی فلاح کرنے والی۔ لیکن حقیقتاً یہ حکومت میں موجود اور حکومت سے وابستہ افراد کی فلاح کا فریضہ انجام دیتی ہے ۔ شہریوں سے ٹیکس لے کر کچھ تھوڑا بہت شہریوں کی فلاح پر خرچ کر دیا اور غالباً 70-80 فی صد خود کھالیا۔ یہ development expenditure کہلاتے ہیں ۔
لیکن یقینا شہریوں کو معاشی فلاح کی نہیں ،چاہے وہ کسی طرف سے بھی ہو - حکومت کی طرف سے یا پیسے والوں کی طرف سے - بلکہ معاشی آزادی کی ضرورت ہے ۔ وہ اپنی فلاح خود کر سکتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے انسٹی ٹیوٹ کا موٹو ہے :
’’“welfare of the people, by the people
اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ پبلک سیکٹر کی بجائے نجی سیکٹر کو مضبوط ہونا چاہیے اور اس میں competition ہونا چاہیے ۔ حکومت کو کسی بھی گروہ کی سرپرستی نہیں کرنی چاہیے۔ اسے Rent-seeking کو بھی discourage کرنا چاہیے ۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اسے rule of law قائم کرنے کی ذمے داری پوری کرنی چاہیے جو اس کا اصل کام ہے ۔
ہم کبھی اس بات کی طرف توجہ نہیں دیتے ، جبکہ یہ حقیقت ہے کہ ہماری ضروریات اور بنیادی ضروریات ، بالخصوص پبلک سیکٹر کے بجائے پرائیو یٹ سیکٹر زیادہ احسن طریقے سے پوری کر رہا ہے ۔ جہا ں جہاں حکومت کا کنٹرول ہے ، Regulations ہیں ، وہاں شدید Exploitation موجود ہے ، مہنگائی ہے، سروسز کی کوالٹی نہ ہونے کے برابر ہے ۔ اور جہاں جہاں پرائیویٹ سیکٹر کو آزادی دی گئی ہے ، جبکہ یہ آزادی محدودو مشروط ہے ، وہاں شہریوں کے لیے انتخاب کی آزادی موجود ہے ، Choice موجود ہے ، جو معاشی آزادی کا بنیادی ستون ہے ۔ ہاں ،جہاں حکومت کی ملی بھگت کے ذریعے پرائیویٹ سیکٹر نے اجارہ داریاں بنائی ہوئی ہیں، وہاں مسائل موجود ہیں لیکن اس کی ذمے داری بھی حکومت پر آتی ہے ۔
تو اگر یہ صورت حال ہے تو شہریوں کے ” معاشی حقوق“ یا معاشی آزادیوں کا تحفظ کون کر سکتا ہے ؟ یہ ہمارا چوتھا سوال تھا۔
صاف بات ہے کہ ہم اپنی آزادی کاتحفظ سب سے بہتر خود کر سکتے ہیں ۔ اگر ہم اپنی آزادی کا تحفظ کسی اور کے ذمے ، جیسے کہ حکومت ، کے ذمے لگاتے ہیں تو ہم خوب واقف ہیں کہ اگر حکومت پر آئینی ، قانونی ، اخلاقی پابندیاں نہیں لگائی جائیں گی تو وہ ہر لمحہ نئے سے نئے قانون ، ضابطے بناکر نت نئے ٹیکس لگاکر، ہماری آزادیوں کو کم سے کم کرتی جائے گی ۔
اصول یہ ہے کہ جتنے زیادہ ضابطے اور ٹیکس ہو ں گے اور ٹیکسوں کی شرح جتنی زیادہ ہو گی، معاشی آزادی میںاتنی ہی کمی آئے گی ۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ حکومت جتنابڑھتی اور پھیلتی جائے گی،لوگوں کی آزایاں بشمول معاشی آزادی ، محدود اور کم ہوتی جائیں گی ۔
یہی وجہ ہے کہ ہمیں اپنی آزادیوں کے تحفظ کے لیے ہر لمحہ چوکنا اور ہوشیار ر ہنا پڑتا ہے ۔ کہا جاتا ہے :
“Eternal vigilance is the price of Liberty.”
ہمیں حکومت پر نظر رکھنی پڑے گی ، دیکھنا پڑے گا ، وہ کیا کر رہی ہے ، کیا وہ غیر ضروری قانون سازی کررہی ہے ، کیا وہ ایسی قانون سازی کر رہی ہے جو ہماری بنیادی آزادیوں کو محدود و مشروط کردے گی ۔ جیسا کہ امریکہ میں ہو رہا ہے ۔ Bill of Rights کے موجود ہوتے ہوئے ۔
ہمیں دیکھنا پڑے گا کہ حکومت غیر ضروری اخراجات تو نہیں کر رہی ، اس نے غیر ضروری ذمےداریاں تو نہیں سنبھال لیں ، اس کے سائز میں غیر ضروری اضافہ تو نہیں ہو رہا ۔ کہیں یہ اپنے بنیادی منصب سے ، یعنی افراد کی جان و مال اور ان کی آزادیوں کی حفاظت کے فریضے سے، عہدہ برآ ہونے کے بجائے ، غیر ضروری کاموں میں یا ایسے کاموں میں ملوث تو نہیں ہو رہی جو شہریوں کی آزادیوں میں مداخلت پر منتج ہو رہے ہوں ۔
اور یقینا ، اگر شہریوں کو اپنی آزادیوں کی حفاظت کے لیے Eternally vigilant رہنا ہے تو اس کے لیے انہیں درست information کی ضرورت ہے ۔ اور بلاشک میڈیا ( پبلک اور پرائیویٹ ، اور پرنٹ اور الیکٹرا نک دونوں) information کی ترسیل کا سب سے بڑا ذریعہ ہے ۔ دوسرے ذرائع جیسے کہ سینہ بہ سینہ بات، افواہ وغیرہ، اگر چہ غیر اہم نہیں ، تاہم ان کا دائرہ خاصا محدود ہے ۔
یہ ہے وہ سیاق و سباق جس میں شہریوں کے معاشی حقوق کی promotion میں میڈیا کا رول طے ہوتاہے ۔ اب یہ دیکھا جا سکتاہے کہ آیا میڈیا یہ رول اداکر رہا ہے یا نہیں ، یا کس حد تک ادا کر رہا ہے ۔
جہاں تک پہلی بات کا تعلق ہے کہ میڈیا سے وابستہ افراد اس بات سے واقف ہیں کہ شہریوں کے معاشی حقوق کیا ہیں ، اس کا جواب ہے بہت کم ۔ اس حوالے سے میڈیا نے حکومت کے ایجنڈے پر ہی عمل کیا ہے اور کر رہا ہے ۔ وہ شہریوں کی ایک خاص طرح کی ذہن سازی میں حکومت کا تقریباً پورے کاپورا حصے دار ہے ۔اس نے شہریوں کو آزادی کے بجائے حکومت کی محتاجی کا سبق دیا ہے ۔ حکومت بھی یہی چاہتی ہے ۔ اس نے بیشتر مراعت یا فتہ سیاسی اور معاشی گروہوں کے مفادات کو شہریوں کے’ حقوق‘ کانام دے کر شہریوں کو گمراہ کیاہے ۔ بلکہ میڈیا خود ان مراعت یافتہ گروہوں میں شامل اور ان کی سازشوں میںملوث ہے اور Rent-seeking میں بھی حصے دار ہے ۔ یہاں دوسری اور تیسری بات کا جواب مو جو د ہے ۔
اب آخری بات یہ ہے کہ میڈیا کے مفادات کیا ہیں ۔ اور شہریوں کے معاشی حقوق یا آزادیوں اور اپنے مفادات کے مابین ٹکراﺅ کی صورت میں میڈ یا کیا کرتاہے ۔
مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ خاص اس حوالے سے صورت حال مایوس کن ہے ۔ پاکستان کی معیشت ایک Elitist state کی معیشت ہے۔ چند Elite groups حکومت اور Public resources پر قابض ہیں ۔ پاکستان میں جو صنعت سب سے زیادہ پھل پھول رہی ہے، وہ Rent-seeking کی صنعت ہے ۔ یعنی حکومت اور حکومت کی پالیسیوں اور قانون سازی پر اثر انداز ہو کر معاشی فائدہ اٹھانا اور منافع کمانا۔ یہ سب کچھ انتہائی ناجائز اور غیر اخلاقی ہے ۔ اور میڈیا اس میں شامل ہے ۔
سرکاری اشتہارات ، Connections، شملہ پہاڑی پر پریس کلب، پریس کے لیے حکومتی گرانٹس، جرنلسٹ کالونیاں ، صحافیوں کے لیے اور دوسری مراعات ،وغیرہ یہ سب چیزیں میڈیا اور حکومت کے مابین ایک ناجائز اتحاد کی علامتیں ہیں ۔ یہاں Media نے Compromise کرتے ہوئے شہریوں کے معاشی حقوق یا آزادیوں کی نمائندگی اور حفاظت کرنے کے بجائے حکومت کے ساتھ مل کر شہریوں کی ٹیکس منی میں حصے دار بننے کو ترجیح دینا بہتر سمجھاہے ۔
یہاں میں 20 جنوری 2006 کے Daily Times میں ایڈیٹر کے نام ایک خط کے کچھ الفاظ quote کرنا چاہوں گا :
"My generation - one that once lived under British governance - knows what the rule of law meant. What we have today is anarchy. People like me who are not affiliated with a political party, the bureaucracy, the army or the press are treated as though we are not even citizens of the state. "
کہنے سے مرا د یہ ہے کہ Media، پاکستان کی Elitist state میں ایک حصے دار بنا ہوا ہے ۔ اسے اپنے اس رول پر نظر ثانی کرنی چاہیے ۔ یہ مطالبہ سرکاری میڈیا سے بھی بالکل بجا ہے کیو نکہ وہ ابھی تک شہریوں کی ٹیکس منی اور ٹی- وی لائیسینس فیس پر پل رہا ہے یا چل رہا ہے ۔ اب تو ایسے حالات بھی پیدا ہو رہے ہیں کہ پرائیویٹ میڈیا مضبوط ہوتا نظر آرہا ہے ۔ اس میں ایک مقابلے کی فضا ہے ۔ اور اسے خاصی آزادی بھی میسر ہے ،اور وہ زیادہ سے زیادہ آزادی کی طرف بڑھ رہا ہے ۔
سب سے بڑی بات یہ ہے کہ پرائیویٹ میڈیا کا حجم بڑھنے سے میڈیا سے وابستہ افراد کو زیادہ سے زیادہ آزادی اور زیادہ سے زیادہ مواقع میسر آرہے ہیں ،اب وہ نہ رہنا چاہیں تو میڈیا مالکوں کے اس طرح’غلام‘ نہیں جیسے پہلے تھے۔
انہیں ان آزادیوں سے پوری طرح کام لینا چاہیے ۔ اور درست Information کی ترسیل کا فریضہ نہایت دیانت داری سے نبھانا چاہیے ۔ بلکہ انہیں آگے بڑھ کر جس چیز کو Investigative reporting کہا جاتا ہے اس کی طرف آنا چاہیے ۔” تہلکہ ڈاٹ کام“ کی مثال ہمارے سامنے ہے ۔ انہیں اس آزادی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے شہریوں پر اپنے بھروسے ، اعتماد اور ٹرسٹ کو بحال کرنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔ اور اس کا واحد راستہ ہے ، درست Information ، درست Information، درست Information۔
ان کی دی ہوئی درست Information شہریوں کو بروقت ہوشیار کرنے کے ساتھ انہیں Empower بھی کر سکتی ہے( جیسا کہ سینٹر فار سوک ایجو کیشن civiceducation.org کا مو ٹو بھی ہے،
(Information is empowerment) ، اور شہریوں میں میڈیا کے اعتماد کی بحالی کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔ اس طرح وہ میڈیا کو اپنی آزادی اور بالخصوص معاشی آزادی کے تحفظ کی جدو جہد میں اپنا Ally سمجھ کر اس پر بھروسہ کر سکتے ہیں ۔ ویسے بھی میڈیا کو مارکیٹ میں Survive کرنے کے لیے معیاری اور جمالیاتی Entertainment کے ساتھ ساتھ Timely اور درست Information کی ترسیل کی طرف آنا پڑے گا۔
ختم کرنے سے پہلے ایک وضاحت ضروری ہے ۔ اس گفتگو سے میں قطعاً یہ تاثر نہیں دینا چاہتا کہ شہریوں کے حقوق، بالخصوص معاشی حقوق یا آزادیوں کے تحفظ میں میڈیا نے کوئی کردار ادا نہیں کیا یا منفی کردار ادا کیا ہے ۔ میں میڈیا سے وابستہ ان افراد کو سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے حکومت کے ساتھ Compromise نہیں کیا اور حکومتی دباﺅ کے آگے سر تسلیم خم نہیںکیا ۔ بلکہ آزادیءاظہار کے تحفظ کے لیے ہر طرح کی قربا نیاں دیں ۔
ہمیں اس بات کو Realize کرنا چاہیے کہ میڈیا کی آزادی شہریوں تک درست اور Timely Information کی ترسیل کا سب سے بڑا اور اہم چینل ہے۔ اگر یہ نہیں ہو گا تو یا حکومت کے ساتھ نتھی ہوگا، تو ہمیں صرف سرکاری کہانیاں اور افسانے ہی سننے اور پڑھنے کو ملیں گے ۔ لہٰذا، میڈیا کی آزادی شہریوں کی وسیع تر آزادی کا ناقابل علیٰحدہ حصہ ہے۔ اس کے تحفظ کے لیے شہریوں کو میڈیا کا ساتھ دینا ہوگا ۔
پاکستان کے تمام برسوں میں اب تک شہریوں تک جو بھی درست Information پہنچی ہے اس کا سہرا میڈیا اداروں اور اس سے وابستہ افراد کے سر بندھتا ہے ۔ مگر دوسر ی جانب غلط اور گمراہ کن Information کا داغ بھی ہے ۔
میڈیا شہریوں کے” معاشی حقوق“ کو Promote کرنے میں نہایت اہم اور فیصلہ کن کردار ادا کرتاہے اور کر سکتاہے ۔ اب تک مجموعی طور پر اس کا جھکاﺅ حکومت اور اس سے وابستہ سیاسی ، معاشی گروہوں کے معاشی حقوق کے تحفظ کی طرف رہاہے ۔ کیونکہ خود اس نے اپنے مفادات کو ان گروہوں کے ساتھ جوڑا ہوا تھا، یا جوڑا ہوا ہے ۔ اب Globalization، Privatization اور Competition کی فضا میں اسے کچھ نہیں تو کاروباری تقاضوں اور کاروباری اخلاقیات کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے اصل Clients کی طرف واپس آنا چاہیے ، اور یہ ہیں اس ملک کے شہری ۔ میڈیا کو اپنے Clients کو معیاری سروس یعنی درست اور Timely information کی ترسیل کی طرف آنا چاہیے ۔ آج کی فضا میں اسی میں اس کی بقا ہے ۔
[14مارچ 2006 کو سینٹر فار سوک ایجوکیشن ، اسلام آباد، کے تحت ہو نے والے ایک روزہ سیمینار ،
” شہریوں کے معاشی حقوق کے فروغ میں میڈیا کا کردار“میں کی گئی گفتگو کا تحریری روپ۔ ]