ترجمہ: ڈاکٹر خلیل احمد 

            ”پاپائے روم کے مراسلات آزاد کاروبار کے ہمارے معاشی نظام کو رد نہیں کرتے، بلکہ ایسے کسی بھی نظام کے لیے ٹھوس اخلاقی اساس مہیا کرتے ہیں ۔“
 
            1947 میں لکھے گئے ان الفاظ کے ساتھ فادر ایڈورڈ کیلر(1989-1903) نے چرچ کی سماجی تعلیمات اور مارکیٹ معیشت کے مابین تعلق کے بارے میں ایک ایسی رائے کا اظہار کیا جو امریکہ کے بیشتر کیتھولک سماجی مفکرین کے نظریات کے ساتھ لگا نہیں کھاتی تھی۔ گو مورخ، کیتھولک ، یا آزاد مارکیٹ کے حامی کیلرکو زیادہ قابل توجہ نہیں سمجھتے لیکن درحقیقت وہ بیسویں صدی میں مارکیٹ نظام کے پرزور اور منضبط داعیوں میں سے تھا۔
 
            کیلر 27 جون 1903 کو سن سینیٹی میں پیدا ہوا۔ ’ مقدس صلیب ‘کے مذ ہبی اجتماع ( جس نے یونیورسٹی آف نوٹرے ڈیم کی بنیاد رکھی اور اس کا مہتمم ہے ) سے تحصیل کے بعد اس نے یونیورسٹی آف منی سوٹا سے معاشیات پڑھی ۔ جیسا کہ ابتدائے بیسویں صدی میں معمول تھا ، کیتھولک سکولوں اور کالجوں کے سرپرست مذہبی اجتماعات ، اساتذہ کی کمی پوری کرنے سے قاصر تھے، تو کیلر کو بھی اپنا مقالہ مکمل کرنے سے پہلے بغرض تدریس نوٹرے ڈیم بھیج دیا گیا۔
 
            تاہم پی ایچ ڈی کا تقاضا کیلر کوایک کامیاب معاشی محقق اور استاد بننے سے روک نہ سکا ۔ شروع میں اس کی توجہ آمدنی کی تقسیم پر مرکوز رہی، اور 1940کی دہائی میں اس نے شریک مصنف کی حیثیت سے کئی کتابیں شائع کیں جن کا استدلال یہ تھا کہ سرمایہ داریت کے مخا لفین کے دعوے کے برعکس ریاستہائے متحدہ میں آمدنی کی تقسیم کہیں زیادہ مساویانہ تھی ۔ ایک اور جگہ وہ لکھتا ہے کہ امریکی سرمایہ دار با لعموم پوپ پائیس کی تعلیمات کی از حد پیروی کرتے ہیں اور زائد دولت کو نئے کام اور نئی نوکریاں تخلیق کرنے کے لیے پیداواری انداز میں استعمال کرتے ہیں ۔
 
            1950 کی دہائی میں جب کیلر ” کام کرنے کے حق“ کی تحریک کی فکری قوت بنا ہوا تھا، اس کے بیشتر رفیق پادری (خاص طور پر ” مزدور پادری “ جو یونینوں میں سرگرم تھے) اس کے خلاف ہو گئے ۔ کیلر کی د لیل یہ تھی کہ لازمی یونین بازی کی کسی بھی صورت سے متعلق اس کی مخالفت کو کیتھولک تعلیمات سے خاص تقویت ملتی ہے ۔ اس کا اصرار تھا کہ ’کام کرنے کے حق‘ سے متعلق قوانین یونین سازی میں رکاوٹ نہیں بلکہ یہ لیبر یونینوں کے اس کردار کو تحفظ دیتے ہیں جو اصلا ً رضاکارانہ انجمنوں پر مبنی ہے ۔ تب سے ہی متعدد مذہبی مبصرین کی طرح کیلر نے بھی یونین بازی کے تقاضوں کی ناانصافی کو واضح کیا جن کی رو سے ارکان اپنے چند ے کے ذریعے ایسے سیاسی اور اخلاقی موقف کی حمایت کرتے ہیں جن کے وہ ذاتی طور پر مخالف ہوتے ہیں ۔
 
            کیلر نے اپنی اہم تصنیف ’ مسیحیت اورامریکی سرمایہ داریت‘ (1953) میں اس بات کا اعتراف کیا کہ ریاستہائے متحدہ میں معاشی صورت حال مثالی نہیں اوریہ کہ اصلاح درکار ہے ۔ تاہم ، اس کا خیال تھا کہ یہ اصلاح ” امریکی سرمایہ داریت کے اداروں میں انقلابی تبدیلی کی متقاضی نہیں ۔“ سرمایہ داریت کے عیوب سے باخبر ہونے کے باوجود وہ آزاد معیشت کی مادی رحمتوں کا معترف تھا ۔ مزید برآں ، اس کے عقائد ان تمام مادی ملاحظات کو ایک سیاق و سباق کا پابند بنانے میں اس کی مدد کرتے تھے۔ اس کے ایک شاگرد کے مطابق،” وہ ایک منکسرالمزاج، پاکباز شخص تھا جس کی زبان پر ہمیشہ یہ بات رہتی تھی کہ اس دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کی نسبت بعد کی دنیا میں جو کچھ ہونا ہے وہ زیادہ اہم ہے ۔“
 
[یہ مضمون’ریلیجین اور لبرٹی‘(یو ایس اے) شمارہ جنوری و فروری 2003میں شائع ہوا۔اسے 10جون 2003کو اردو میں ترجمہ کیا گیا۔]