تحریر: رچرڈ ڈبلیو ۔فلمر
ترجمہ: ڈاکٹر خلیل احمد

 
            اختیار پسند (Libertarians)عجیب و غریب چیز ہیں ۔ یہ ” معقول ذاتی مفاد“ کی بات کرتے نہیں تھکتے۔ یہ ” معقول بے غرضی“ کی بات کیوں نہیں کرتے ، یعنی زیادہ سے زیادہ لوگوں کی زیادہ سے زیادہ بھلائی؟
 
            آخر کار ، لوگوں کی ضرورتیں بے شمارہیں ۔ لوگوں کو خوراک ، کپڑا ، رہائش ، دوا، چاہیے؛ یہ سب زندگی کی ضروریات ہیں۔ اختیار پسند خود پر توجہ دینے کے بجائے دوسروں کو یہ چیزیں بہم پہنچانے کی بات کیوں نہیں کرتے؟ صرف کپڑے کی مثال ہی لے لیجئے ۔ وہ دوسروں کی تن ڈھانپنے کی ضرورت سے نفع کمانے کی کوشش کے بجائے غریبوں کو کپڑا مہیا کرنے کی بات کیوں نہیں کرتے ؟
 
            میرا مطلب ہے ، میں اپنے تمام کپڑے کسی کو دے سکتا ہوں ؛ یوں لوگوں کی مدد بھی ہو جائے گی ۔ بہت خوب، مگر یہ اتنا معقول نہیں ہوگا کیونکہ پھر میں خود کونسے کپڑے پہن کر کام پر جاﺅں گا ۔ یہ کوئی بہتر سودا نہیں ، مجھے چند ایک جوڑے خود اپنے لیے رکھنے پڑیں گے۔
 
            ٹھیک ، اگر میں صرف اپنے کپڑے کسی کو دیتا ہوں ، تو یہ صرف ان لوگوں کے کام آئیں گے جن کا سائز اور جسم میرے جیسا ہے ۔ اور صاف با ت ہے کہ میرے پاس اتنے زیادہ کپڑے ہیں بھی نہیں کہ بہت سے لوگوں کی مدد ہو سکے ۔ خیر، میں یہ تو کر سکتاہوں کہ ہر سا ئز کے کپڑے خریدوں اورضرورت مند لوگوں کو دے دوں ۔ لیکن مجھے یہ معلوم نہیں کہ لوگوں کو کس قسم کے کپڑوں کی زیادہ ضرورت ہے ۔ یقینا، میں یہ کپڑے منافع کما نے والی کمپنیوں سے ہی خریدوں گا جس کا مطلب یہ ہے کہ مجھے انہیں بہت زیادہ رقم ادا کرنی پڑے گی۔ اگر میں کہیں سے سستے کپڑے خرید سکوں تو کپڑے بھی زیادہ خرید سکوں گا اور یوں زیادہ لوگوں کی مدد بھی ہو سکے گی ۔
 
            مجھے معلوم ہے ۔ میں کپڑے خود تیار کروں گا اور انہیں بغیر کسی منافعے کے بیچوں گا ۔ میں انہیں اس قیمت پر بیچوں گا جتنی ان پر لاگت آئے گی ۔ اچھا، اگر میں اپنا سارا وقت کپڑے بنانے پر صرف کروں تو مجھے اپنی نوکری چھوڑنی پڑے گی ۔ بھلائی کا یہ کام کرتے ہوئے میں خود اپنی خوراک ، کپڑے ، اور رہائش کی ضروریات کیسے پوری کروں گا؟ مجھے کپڑے کچھ زیادہ قیمت پر فروخت کرنے پڑیں گے تاکہ میرے گزارے کے لیے بھی کچھ نکل آئے ۔ لیکن یہ قیمت کوئی بہت زیادہ نہیں ہو گی؟
 
            آئیں ذرا دیکھتے ہیں۔ میں تین سو ڈالر ماہانہ پر کوئی مکان کرائے پر لے سکتا ہوں ۔ پھر خوراک کا مسئلہ ہے ۔ غالبا ً دو سو ڈالر ماہانہ اور لگا لیں ۔ فون اور دوسری سہولتیں ، چلیں سو کے قریب ڈالر اور سہی ۔ پھر مجھے ایک گاڑی بھی درکار ہو گی ، تاکہ میں خام مال خریدنے جا سکوں ، بنائے ہوئے کپڑے لوگوں کو پہنچا سکوں اور اسی طرح کے دوسرے اور کام انجام دے سکوں ، یہ کار کی قیمت کی ادائیگی کے لیے دو سو ڈالر ماہانہ اور ہوگئے ۔ اس میں کار کی انشورنس کے سو ڈالر اور جمع کر لیں ۔ آخر کار ، مجھے ایک سلائی مشین بھی خریدنی ہو گی اور دوسرا خام مال بھی ۔
 
            ذرا ٹھہریں ، علاقوں کی تقسیم کے قوانین مجھے اس مکان کے باہر کاروبار نہیں کرنے دیں گے ۔ شاید اسی لیے اختیار پسند ان قوانین کی مخالفت کرنے میں حق بجانب ہیں۔ خیر ، چھوڑیں ، میں تین سو ماہانہ پر کوئی سستا سا دفتر یا ویئر ہاوس کرائے پر لے سکتا ہوں ، سو ڈالر مزید دوکان کے اخراجات کے لیے رکھ لیں ۔ یہ سب تقریبا ً 1500ڈالر ما ہا نہ بن جاتا ہے ۔
 
            مجھے کچھ اندازہ نہیں میں ایک دن میں کتنے کپڑے تیار کر لوں گا ۔ اچھا، اگر میں نیلی جینز تیار کرنے کا فیصلہ کرتا ہوں تو ہو سکتا ہے میں ایک دن میں ایک جوڑا تیار کر لوں ۔ اگر میں سیدھا حساب لگاﺅں تو مجھے ایک جوڑا 50 ڈالر میں بیچنا ہو گا ۔ اور یہ اس صورت میں ممکن ہے جب میں مہینے کے پورے تیس دن کام کروں ۔ یقینا ، مجھے ٹیکس بھی دینے پڑیں گے، تو غالباً یہ قیمت 60 یا 70 ڈالر تک پہنچ جائے گی۔ یہ تو اس سے بھی بہت زیادہ ہے جس قیمت پر یہ پیسے کی بھوکی فیکٹریاں جینز فروخت کرتی ہیں ۔
 
            فیکٹریاں ۔ ہُوں ، میں خود فیکٹری کیوں نہ بنا لوں ؟ اس طرح میں بہت سستی نیلی جینز تیار کر سکوں گا اور یوں بڑی تعداد میں جینز تیار ہوں گی اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کی مدد بھی ہو گی ۔ نہ صرف یہ، بلکہ ساتھ ساتھ کتنی ہی نوکریوں کے مواقع بھی پیدا ہو جائیں گے ۔ زبردست خیال ہے!
 
            آئیں حساب لگاتے ہیں ۔ مجھے فیکٹری تعمیر کرنے کے لیے ایک خطیر رقم قرض لینی پڑے گی ۔ غالبا ً لاکھوں ڈالر۔ میرا خیال ہے یہ رقم بینک سے حاصل کی جا سکتی ہے ، مگر پھر مجھے وہ سود بھی تو دینا ہے ۔ نہ صرف یہ ، بلکہ مجھے یہ سود ایک بڑے مالیاتی ادارے کو دینا پڑے گا۔ دفع ، وہ میرا قرضہ کسی ملٹی نیشنل کارپوریشن کو بھی تو دے سکتے ہیں ، اور یہ لوگ تو اصلاً ُبرُے ہیں ؟ یہ ٹھیک رہے گا۔ مجھے سٹاک ہولڈروں کو ان کی سرمایہ کاری پر کچھ نہ کچھ ادائیگی تو کرنی پڑے گی ، بصورت دیگر وہ مجھے قرض کیوں دینے لگے ۔ ٹھیک ہے ، یہ کام میں کر سکتا ہوں ۔
 
            اجرتوں کی ادائیگی ۔ اب میں یہ سوچ رہا ہوں کہ مجھے اپنی فیکٹری کے کارکنوں کو اتنا کچھ تو دینا ہو گا کہ وہ زندہ رہ سکیں ۔ اگر میں یہاں امریکہ میں فیکٹر ی قائم کرتا ہوں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ انہیں کم از کم 20,000 ڈالر سالانہ ضرور ملنے چاہیئں ۔ اصل میں ،میں انہیں قومی اوسط سے ، جو تقریبا ً 29,000 ڈالر سا لا نہ ہے، کچھ زیادہ دینا چاہتا ہوں۔ صاف بات ہے میں کسی کا استحصال تو نہیں کرنا چاہتا ۔ بلاشبہ ، سوشل سیکیورٹی ، تلافی ء کارکنان ، صحت انشورنس، اور اسی قسم کی دوسری چیزیں مل ملا کر میری فی کارکن لاگت کو 40,000 ڈالر سالانہ تک پہنچا دیں گی ۔ یوں تو میری جینز کی قیمت بہت زیادہ ہوجائے گی، جس کا مطلب یہ ہو گا کہ انہیں بہت کم غریب لوگ خرید سکیں گے ؛ ہاں ، میں یہ کر سکتا ہوں کہ اپنی فیکٹری سمندر پار قائم کروں جہاں زندگی کے اخراجات کم سے کم ہوں ۔ یوں ، لوگوں کے لیے یہ جینز خریدنا ممکن بھی ہو گا ۔
 
            ذرا توقف کریں ۔ یہی تو خرابی ہے ۔ میرا طرز عمل ان بدمعاش منافع اندوز ملٹی نیشنل کار پوریشنوں جیسا ہی ہو جائے گا ۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟ میں نے زیادہ سے زیادہ لوگوں کی زیادہ سے زیادہ بھلائی کی کوشش سے شروع کیا تھا۔ معقول بے غرضی سے ۔ اور کیا میرا انجام ان لوگوں جیسا نہیں ہو رہا جو محض ذاتی مفاد سے شروع کرتے ہیں ۔ یہ صحیح نہیں ہو سکتا ؟
 
            ٹھیک ہے میرے محرکات ان سے مختلف ہوں گے ۔ یہ اہم بھی ہے ۔ میری دلچسپی دوسروں کی بھلائی میں ہوگی جبکہ وہ صرف اپنے مفاد سے سروکار رکھتے ہو ں گے ۔ اور وہ میرا مقابلہ بھی کریں گے ، میں جو صرف بھلائی چاہتا ہوں ، اور کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ ہمارے درمیان کیا فرق ہے ۔ کوئی ایسا قانون ہونا چاہیے کہ صرف نیک نیت لوگوں کو کاروبار کرنے کی اجازت ہونی چاہیے ۔
 
            ٹھیک ، مگر اس کا کوئی فائدہ نہیں ، میرا مطلب ہے ، اگر ایسے لوگ بھی جو منافع کمانا چاہتے ہیں اس شخص جیسا طرز عمل اختیار کرتے ہیں جو صرف دوسروں کی بھلائی چاہتاہے ، تو پولیس کو یہ کیسے پتہ چلے گا کہ کون کون ہے ؟ پھر یہ بھی کہ بد نیت لوگوں کو کاروبار کرنے سے روکنے کے لیے آپ کو طاقت استعمال کرنی پڑے گی ، اور یہ غلط ہے ۔
 
            خیر ، گو کہ ان کے محرکات میرے جیسے پاکیزہ نہیں ، وہ کپڑے تو تیار کر رہے ہیں نا جن کی لوگوں کو ضرورت ہے ؛ کیا وہ ایسا نہیں کر رہے ؟ لوگوں کی مدد کرنا اچھی بات ہے۔ اگر آپ غلط نیت سے لوگوں کی مدد کر رہے ہیں ، تو کیا لوگوں کی یہ مدد اچھی بات نہیں ؟ میرا قیاس یہی ہے ۔ یہ مطالبہ کرنا کہ تمام لوگوں کے محرکات میرے جیسے ہی ہوجائیں خود پسندی ہی تو ہے، اور اسی چیز کا تو میں گِلا کر رہا ہوں ۔
 
            عجیب بات ہے ، ایک آدمی جو معقول بے غرضی سے شروع کرتا ہے اس کا انجام بھی اس شخص کی طرح انہیں چیزوں پر ہو تا ہے جو معقول ذاتی مفاد سے شروع کرتا ہے۔ میرا خیال ہے مجھے اس پر دوبارہ غور کرنا چاہیے ۔
 
[یہ مضمون ’’آئیڈیاز آن لبرٹی‘‘ کے شمارہ اپریل 2003میں شائع ہوا۔ اسے 7جون 2003کو اردو میں ترجمہ کیا گیا۔]