تحریر: رابرٹ اے- سیریکو
ترجمہ: ڈاکٹر خلیل احمد
 

            جدید فلاحی ریاست سے متعلق کسی بھی بحث میں مستحق لوگوں کی مدد کے ضمن میں مذہبی اور اخلاقی وجوہات پیش کرنا مفید مطلب نہیں ۔ بلکہ محض یہ اقتباس کافی ہو گا :
           
            ” میں تم سے سچ کہتاہوں کہ جب تم نے میرے سب سے چھوٹے بھائیوں میں سے کسی کے ساتھ یہ سلوک کیا تو میرے ساتھ ہی کیا ۔“ ( متی ، 40:25)
 
            تاہم یہ احساس ہمیں اس فریضے سے سبکدوش نہیں کر دیتا کہ ہم اس پر عمل درآمد کے مناسب ترین طریقے پر دانائی سے غور نہ کریں ۔ جب پال نے ضرورت مندوں کی مدد کے لیے ابتدائی مسیحیوں کی حوصلہ افزائی کی تو ساتھ یہ تنبیہ کی کہ ”جسے محنت کرنا منظور نہ ہو وہ کھانے بھی نہ پائے ۔“ مسیحیت نے ایک بنیادی نیکی کے طور پر محبت پر اپنے اصرار کے ساتھ ساتھ اس بات کو کبھی قبول نہیں کیا کہ اخلاقی ذمے داری کا مطلب ان لوگوں کی مدد کرنا ہے جو خود اپنی مدد آپ کر سکتے ہیں لیکن کرنا نہیں چاہتے ۔
 
            یہ چیز امریکی لوگوں کا ایک عام رویہ معلوم ہوتی ہے ۔ مختلف سروے اور پول یہ بتاتے ہیں کہ امریکی ایسے سماجی پروگراموں کو ترجیح دینا پسند کرتے ہیں جو محتاجی کے بجائے اپنی مدد آپ کو فروغ دیتے ہیں ۔ تاہم ، جب مشیگن کے سابق گورنر جان اینگلر نے حکومت کے حجم کو کم کرنے اور حکومت سے عمومی مدد حاصل کرنے والے اسی ہزار صحت مند لوگوں کو فارغ کرنے کے انتخابی مہم کے دعوے پر عمل کرنا شروع کیا تو اس کے سخت ترین ناقدین فلاح کی وکالت کرنے والے ایسے گروہ تھے جن کے سربراہ سرکردہ پروٹیسٹینٹ اور کیھتولک مذہبی قائدین تھے۔ فلاحی ریاست کے مذہبی دفاع کے حوالے سے دو استدلال سامنے آتے ہیں۔ پہلااستدلال افادیت پسندانہ ہے جو یہ کہتا ہے کہ اس قسم کی حکومتی امداد غربت کو کم کرنے اور جرائم کو گھٹانے میں موثر ثابت ہوتی ہے ۔ دوسرا استدلال یہ ہے کہ کسی معاشرے کی اخلاقی سالمیت کا یقین ریاست کے اس ڈھانچے کے استعمال سے ہوتاہے جس کے ذریعے معاشی طور پر پسماندہ لوگوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ٹیکس لگائے اور تقسیم کیے جاتے ہیں ۔
 
            ان دونوں دلائل کی بنیادی کمزوری یہ ہے کہ دونو ں ہی ضرورت مندوں کی مدد کے حوالے سے مذہبی کمیونٹی کی جائز تشویش کے ضمن میں مذہبی کمیونٹی کو یہ اجازت دیتے ہیں کہ وہ حکومت سے مداخلت کا تقاضا کریں ۔ اس طرح چرچ، بھلائی کے لیے کام کرنے کی اپنی روحانی ذمے داری سے دامن بچا لیتا ہے اور یوں اس کے لیے صرف حکومت کو قائل کرنے کا کردار باقی رہ جاتا ہے ۔ فلاحی ریاست کے دفاع میں پیش کیے جانے والے یہ دعوے اخلاقیات کا ایک غیر واضح تصور بھی سامنے لاتے ہیں ۔ رابن ہڈ جن لوگوں کی دولت چراتا تھا ان کی اخلاقی حیثیت، اس حقیقت سے بڑھ نہیں جاتی تھی کہ ان کی دولت غریب لوگوں کی مدد کے لیے استعمال کی جاتی تھی کیونکہ اس طرح یہ نہیں سمجھا جا سکتا کہ اس مدد سے ان کی مدد کا عمل حقیقتا ً ختم ہو گیا ۔ کیونکہ دولت کی جبری تقسیم سے کسی نیک مقصد کے حصول کی توقع تو کی جا سکتی ہے لیکن یہ مقصد کسی بھی صورت اخلاقی نہیں ہو سکتا ۔ جبری اخلاقیات، اخلاقیات نہیں ہوتی کیونکہ آزادانہ انتخاب نیکی کی لازمی شرط ہے ۔ اخلاقیات کے اس غیر واضح تصورنے بھلائی کو استحقاق میں ،اور انصاف کے خاتمے کو محبت کی سطح تک گرا دیاہے ۔
 
            تاہم فلاحی ریاست کی اخلاقی بے مائیگی سے متعلق مذہبی حلقوں میں بیداری کا احساس پیدا ہونے لگا ہے ۔ فلاح کی وکالت کرنے والے مذہبی گروپوں کے لیے جان پال دوم کا یہ بیان بہت مایوس کن ثابت ہوا ہے کہ ” سماجی امدادی ریاست کی براہ راست مداخلت اور معاشرے کو اپنی ذمے داری سے محروم کرنے کا نتیجہ انسانی کوششوں کے خاتمے اور سرکاری ایجنسیوں میں غیر ضروری اضافے کی صورت میں نکلا ہے جن میں لوگوں کی خدمت کے جذبے کے بجائے بیوروکرٹیک انداز فکر غالب ہے ۔“ وقت آچکا ہے کہ مذہبی قائدین حکومتی پروگراموں کی وکالت ترک کر دیں اور ضرورت مندوں کی فلاح و بہبود کی اپنی جائز بنیادی ذمے داری سے عہدہ برآ ہونے کے لیے تیار ہو جائیں ۔
 
[ رابرٹ اے- سیریکو کا یہ مضمون ایکٹن انسٹیٹوٹ (یو -ایس-اے) کے جریدے، ریلیجین اینڈ لبرٹی، شمارہ جنوری و فروری 2003 میں شائع ہوا۔ اسے 10اپریل 2003 کو اردو میںترجمہ کیا گیا۔]