ڈاکٹر خلیل احمد

             پیپلز پارٹی کی سیاست ابتدا سے ہی عوامیت (پاپولزم)سے مملو تھی۔ یہ تو اب این- آر-او کی پیدائش اور موت نے کراما ت کی کہ اس کی عوامیت کھل کر سامنے آگئی۔ اس عوامیتی موقف نے پیپلز پارٹی کی لیڈر شپ اور کارکنوں کوان تمام چیزوں کے مقا بل لا کھڑا کیا ہے جسے ہم اخلاقیا ت، قانون اور آج کے پاکستان کے نام سے جانتے ہیں۔ قوم اور ملک کو یہ چیز کیسا اور کتنا نقصان پہنچا سکتی ہے اس کا اندازہ لگا نا کوئی مشکل نہیں۔

            عوامیت اپنی نوعیت کے اعتبار سے اخلاقیات کے اصولوں اور قانون کے تقا ضو ں سے عناد رکھتی ہے۔ ایک اندھی قوت کی مانند یہ ہر شے کو پامال کر دیتی ہے ۔ اس کا پہلا نشانہ اخلاقیات اور قانو ن بنتے ہیں،یوں یہ معاشرے کی بنیادوں پر وار کرتی ہے۔ پیپلز پارٹی آج کل عین یہی کچھ کر رہی ہے ۔ اس نے خود کو ایک خول میں بند کر لیا ہے اور باہر کی دنیا سے کسی با معنی مکالمے سے انکاری ہے۔ اس نے خود کو ایک پیمانے کا درجہ دے لیا ہے اور جو کچھ اس کے دائرے سے با ہر موجود ہے اسے اس پیمانے سے نا پ اور تول رہی ہے۔ اس رو میں یہ اخلاقیات اور قانو ن دونوں کے درپے ہے۔

            اس کی موجودہ سیا ست کو عوامیت کی یلغار کا نام دیا جا سکتا ہے۔ اسے اپنے عروج کے زمانے میں جو مقبولیت حا صل ہو ئی اس نے اسے خود اپنے ساتھ محبت میں مبتلا کر دیا۔ چا ر دہا ئیوں کے بعد بھی اس کا ووٹ بینک پہلے کی طرح برقرارہے ، یہ اور اس سے متعلق اس قسم کے دوسرے فسا نو ں کی پڑتا ل ضروری ہے، تب ہی خو واپنے ساتھ اس کی محبت میں کو ئی کمی واقع ہو سکتی ہے۔ یہاں منشا محض یہ دکھانا ہے کہ اس کی عوامی مقبولیت، خود اپنے ساتھ اس کی محبت میں کس طرح منتقل ہوئی اور کس طرح ایک نظریا تی پارٹی ایک ایسی پارٹی میں ڈھل گئی اب جس کا نظریے سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں۔

            یہا ں یہ جاننا ضروری ہے کہ پیپلز پارٹی کے بنیادی سیاسی اصولوں میں تو کوئی تبدیلی نہیںآئی، تاہم اس کے انتخابی منشور وقت کے تقا ضو ں کے مطابق تبدیل ہو تے رہے۔ یہ کہ اس نظریاتی تبدیلی یا جمود سے اس کی مقبو لیت میں کوئی کمی واقع نہیں ہو ئی، یہی چیز اس پارٹی کے عوامیتی فلسفے میںمتمکن ہو نے کا سبب بن گئی۔ مزید یہ کہ جیسا کہ پارٹی کے طبقہ ء خو اص کے مفادات اور اس کی مفاداتی سیا ست بھی اس کی مقبولیت کو زک نہ پہنچا سکی، اس با ت نے اس کی عوامیت کو اور راسخ کر دیا۔

            ان حالات میں جبکہ اس کا نظریہ پہلے ہی کا فو ر ہو چکا ہے، پیپلز پارٹی کی عوا میت اپنی آ ئی پر آ گئی ہے: یعنی یہ کہ چونکہ اسے عوامی حمایت حاصل ہے،لہٰذا یہ جو چا ہے کر نے میں آزاد ہے۔ اس کا یہ چرچا کہ اسے ہمیشہ ظلم کا نشانہ بنا یا جاتا ہے اور اس کے خلاف سازشوں کا بازار گرم رہتا ہے ، عوامیت پر ہی استوار ہے: مراد یہ کہ عوام کو ان کی اپنی حکمرانی اور ان کی اپنی پارٹی، یعنی پیپلز پارٹی کی حکو مت سے محروم رکھنے کے لیے اس پارٹی کو ہمیشہ نشانہءستم بنایا جاتا ہے۔ اس کے پیچھے یہ مفروضہ بھی کا رفر ما ہے کہ یہ واحد پارٹی ہے جو عوام کے مفادات کی نما ئندہ ہے۔

             اب این - آر- او کے بارے میں سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد اس کی عوامیت پھر اپنا غیض و غضب دکھا رہی ہے، جیسا کہ ججوں کی بحالی کے ضمن بھی دیکھا گیا تھا۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ جس این- آر- او کو یہ قو می اسمبلی سے منظور نہ کرواسکی ، اور جسے اس نے سپریم کورٹ میں بھی قابلِ دفاع نہ سمجھا، اسی کے دفاع کو اس نے اب زندگی موت کی جنگ بنا لیا ہے۔

            یہ سپریم کورٹ کی ساکھ کو نقصان پہنچانا چاہتی ہے یا نہیں، اس سے قطع نظر یہ با ت تو یقینی ہے کہ یہ عوامیت کے ذریعے ہمیشہ کی طرح آئین اور آئینی اداروں، جیسے کہ آزاد ی پسند اعلیٰ عدالتیں ، قانون کی حکمرانی، اور بنیا دی حقو ق کے صرف ایک مظہر یعنی آزاد میڈیا، کوضرور تہس نہس کر نا چاہتی ہے۔ یہاں اخلاقی اقدار کا ذکر نہ ہی کریں تو بہتر ہے۔ زمیں جنبد نہ جنبد گل محمد کی طر ح اس کا موقف پرنا لے کی طرح اپنی جگہ قا ئم ہے: ہمیں عوام کا مینڈیٹ ملا ہے اور ہم جو ہما را جی چا ہے کر نے میں پوری طرح آزاد ہیں، نہ ہی ہمیں کو ئی پو چھ سکتا ہے نہ ہی کو ئی روک سکتا ہے ۔

            یہ عوا میت کا خا لص روپ ہے: نہ تو اخلاقی اصولو ں کا کو ئی پا س ہے، نہ قا نو نی تقا ضو ں کا، نہ آئینی پا سداریو ں کا کوئی خیال نہ کسی سیا سی روایت کا کو ئی لحا ظ ۔ ہمارے پاس عوامی حمایت کا اجازت نامہ ہے اور یہ ہمیں یہ اختیار دیتاہے ہم جیسے چا ہے حکو مت کریں۔ یہ چیز کتنی خطرناک ہو سکتی ہے اسے جاننے کے لیے پیپلز پارٹی کی ماضی کی تاریخ پر ایک نظر ڈالنا کا فی ہے۔ جس انداز سے یہ اخلاقیات ،قانون اور آئین کو روند رہی ہے وہ ملک و قوم کو ایک ایسے بحران سے دو چا ر کر سکتا ہے جس سے نکلنا آسان نہ ہو گا۔ یہ خود سمیت ہر چیز کو پامال کر نے پر تلی ہوئی ہے ۔

            یہ صورتِ حال ہمیں کجیل میگنے بانڈے وک کے، جو دو مر تبہ ناروے کے وزیرِ اعظم بنے ،ایک قول کی یاد دلا تی ہے: "اصولو ں کے بد لے میں مقبولیت کا سودا کر نا لبھا تا تو ہے۔ یہی عو امیت کا جو ہر ہے۔ ہم اصولو ں کی جگہ کسی اور چیز کا تبا دلہ کر یں تو بہتر ہے۔"

            اس وقت ہمیں بھی یہ فیصلہ کر نا ہے کہ ہم اخلا قی اصولوں، یا آئین ، یا اعلیٰ عدالتوں، یا قانون کی حکمر انی ، یا آزاد میڈیا کے بد لے میں پیپلز پارٹی کی عوا میت کو قبو ل نہیں کر نا چاہتے ۔ ہمیں بدلے میں پیپلز پارٹی کو کچھ اوردینا چاہیے!