نئی تحقیقی رپورٹ: معاشی آزادی کے بغیرافراد کی خوشحالی ممکن نہیں

مارکیٹ اور پالیسی قانون کی حکمرانی کے تحت ہر فرد کے لیے خو شحالی کی ضما نت بن سکتی ہیں

معاشی آزادی اور خوشحالی کے آمدنی کی ہر سطح پر مر بو ط ہو نے کا مطلب ہے کہ غربت میں کمی کے تمام پروگراموں کی ابتدا معاشی آزادی میں اضافے سے ہو نی چاہیے

            لاہور 3 دسمبر2009 : پنجاب کے دو سامپل ضلعوں، بہاولپور اور سیالکوٹ، کے تجربی مطا لعے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ محض سما جی مواقع مہیا کر نے سے ، جیساکہ ترقی کے تقریباً تما م دعوے داروں(مثلاً امرتیہ سین)،اور امداد دینے والی تقریباً تمام ایجنسیوں کامنترا رہا ہے، اور جیسا کہ پاکستان میں غربت میں کمی لانے والے ادارو ں کا عمل بھی رہا ہے، نہ تو عا م افراد کی حالت میں بہتری آتی ہے اور نہ ہی انھیں آزادی میسر ہو تی ہے۔ یہ تحقیق علی سلمان نے آلٹر نیٹ سالوشنز انسٹیٹیوٹ(اے۔ایس۔انسٹیٹوٹ) کے لیے کنڈکٹ کی ، جولاہور میں قائم ایک رجسٹرڈ فلاحی غیر سرکاری تعلیمی اور تحقیقی تنظیم ہے۔ اس مطالعے کے مطابق قانون کی حکمرنی کی عدم موجودگی میں ، لوگوں کی حالت میںبہتری لانے کے حوالے سے کی جانے والی تما م سرمایہ کاری نہ صرف ان کی حالت میں بہتری لانے میں ناکام رہتی ہے بلکہ الٹا ان کی آزادی میں کمی کا سبب بن جاتی ہے۔

            یہ رپورٹ،"خوشحالی اور آزادی دوراہے پر: ترقی کا ایک تحقیقی جائزہ" (Well-Being and Freedom at Crossroads: An Inquiry into Development) آج3 دسمبرکو یہاں لاہور میں جاری کی گئی۔ اس موقعے پر رپورٹ کے مصنف علی سلمان نے بتا یا،" غربت کا تعلق آمدنی کی سطحو ں کے ساتھ نہیں، یہ اصل میں ناگہانی دھچکو ں کے نتائج کو سہ سکنے کی عدم اہلیت کا نام ہے۔"انھوں نے مزید کہا کہ قانون کی حکمرانی کے بغیر، گورننس کا ڈھانچہ ایک بلیک ہول بن جا تا ہے ،جہا ں تما م ترقی فنا ہو جا تی ہے۔

            انسٹیٹیوٹ کے ایگزیکیٹوڈائریکٹر خلیل احمد نے اس بات کی طرف توجہ دلا ئی کہ اس مطالعے کے حاصلات غربت میں کمی لا نے کی حکومتی کوششوں کے لیے ایک چیلنج کی حیثیت رکھتے ہیں، جو مستقل طورپر ناکامی کاشکار ہو تی رہی ہیں جیسا کہ اس با ت سے ظاہر ہے کہ ان کوششو ں کے باوجود غربت میں کمی کے بجائے ان لوگو ں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے جو خط ِ غربت سے نیچے ہیں۔ ڈاکٹر خلیل نے یہ بھی بتایاکہ یہ تحقیق اگرچہ پنجاب کے دو ضلعوں کے جائزے پر مبنی ہے، تاہم یہ غربت میں کمی لانے کی حکومتی کوششوں کو ایک بہت بڑے سوالیہ نشان سے دوچار کر دیتی ہے۔

            اس مطالعے کے نتائج بتا تے ہیں کہ دیہی علاقو ں میں افراد معاشی آزادی، یعنی مارکیٹ پر مبنی انعامی ڈھانچے، کو بخوشی قبول کر تے ہیں، کیونکہ یہ زرعی پیدوار کی قیمتوں کے تعین کے ذریعے انھیں اپنی خوشحالی کے فروغ کا موثر موقع فراہم کرتاہے۔ اس ضمن میں کسان اپنے اِن پُٹ ، یعنی بیج اور کھاد پر ملنے والی سبسڈی کو بھی چھوڑنے پر تیا ر ہو تے ہیں بشرطیکہ وہ اپنے آﺅٹ پُٹ پرمارکیٹ کی قیمت وصول کر سکتے ہو ں۔

            اس جائزے کی سب سے اہم سفارش کو اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے:

            معاشی آزادی کو فروغ پانے دو اور لوگ اپنی غر بت دور کر کے خوشحالی خود حاصل کر لیں گے!

 

 

            کتاب کا نام:

Well-Being and Freedom at Crossroad: An Empirical Inquiry into Development

            مصنف: علی سلمان

            اشاعت اول: نومبر 2009

            صفحات: 70

            قیمت: Rs. 160

 

 

            معلومات اور خریداری کے لیے، رابطہ کیجیے:

            فون / فیکس: 042 - 35 77 54 15

            ہینڈ سیٹ: 4000 161 042 -

            ای میل ایڈریس: info@asinstitute.org

            پوسٹل ایڈریس: پوسٹ باکس نمبر 933، جی پی او، لاہور - 54000

            آفس ایڈریس: کمرہ نمبر 32، تیسری منزل، لینڈ مارک پلازا، جیل روڈ، لاہور