ڈاکٹر عبدالسلام کے نام ایک خط
محترمی و مکرمی!
آپ کے خیالات کی مخالفت کوئی خوشگوار کام نہیں ، تا ہم دیانت داری کیساتھ اختلافات کا اظہار کر دینا ضروری معلوم ہوتا ہے۔
آپ کی رائے واضح طور پر یہ ہے کہ ترقی یافتہ اقوام کی سطح پر آنے کے لیے پاکستان بغیر ' سائنس اور ٹیکنالوجی ‘ کے کچھ نہیں کر سکتا۔ یہی ہتھیار ہیں جن کی مدد سے غریبی کی مختلف صورتوں کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے اور انہیں ختم کیا جا سکتاہے۔
اس سلسلے میں دلائل کی ضرورت نہیں ۔ لیکن مسئلے کی پیچیدگیوں کو سامنے لانے کی خاطر میں کچھ اہم ذیلی مسائل کی طرف اشارہ کرنا چاہتا ہوں:
(1)موجودہ ' سائنس اور ٹیکنالوجی‘ ایک خاص تہذیب و تمدن کے منطقی ارتقا کی مظہر ہیں ۔ انھیں ان کی جائے پیدائش کی سماجی ، تاریخی اور فلسفیانہ صورت حال سے علیحٰدہ کر لینا جدلیاتی طور پر ممکن نہیں ۔
(2)مادی فلاح کو ذہنی روشن خیالی سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ایک عمل ہیں ۔ ان میں سے کوئی ایک بھی دوسرے کی ضمانت نہیں۔ تاہم، ایک شعوری صورت حال میں ، جیسے کہ ہماری ہے، ذہن کو تقدم حاصل ہونا چاہیے۔
(3)انسانی تاریخ کے موجود ہ مرحلے پر چیزیں (اشیائ، مشینیں ، وغیرہ) مقداریوں(QUANTA) کی طرح فلسفیانہ مخفی قوت کی حامل ہیں ۔ وہ انسانوں پر حاوی ہو سکتی ہیں اور ہوتی ہیں ۔ فلسفیانہ طور پر یوں کہا جا سکتا ہے کہ ایک مکمل نظام اشیاءکی غیر موجودگی میں ، اشیاءخود ہی ایک اپنا نظام بنا لیتی ہیں ، جس میں انسان کو سب سے نچلی سطح پر جگہ ملتی ہے۔
اس پس منظر کے مقابل میرا خیال یہ ہے کہ مقامی طور پر متشکلہ اور درآمدہ 'سائنس اور ٹیکنالوجی‘ کے حصول کے ساتھ ساتھ ہمیں ذہنی انقلاب برپا کرنے کے لیے بھی یکساں توجہ دینی پڑے گی۔ یہ کہا جا تا ہے: شے کی ملکیت کوئی وصف نہیں ، وصف تو اس کے مناسب اور درست استعمال میں پوشیدہ ہے ۔اگر ہم'سائنس اور ٹیکنالوجی‘ کے استعمال اور اپنے فلسفیانہ کائناتی نقطہءنظر (اگر کوئی ہے!) میں اس کے مقام سے لاعلم ہیں ، تو ان کا حصول ، اور وہ بھی جزوی طور پر ، ہمارے لیے کو ئی اچھے نتائج پیدا نہیں کر سکتا۔ میں انھیں مسترد نہیں کر رہا ہوں ، صرف جانچنے کی کوشش کر رہا ہوں ۔ مزید یہ کہ میں ایک ذہنی اور فلسفیانہ ماحول پیدا کرنے پر زور دینا چاہتا ہوں، جس میں سائنسی تحقیق و جستجو اور یوں'سائنس اور ٹیکنالوجی‘ نشوونما پا سکیں۔
'سائنس اور ٹیکنالوجی‘کے دائرے میں، شمال کے ہاتھوں جنوب کا استعمال عیاں ہے۔ لیکن جنوب کی جدوجہد کے مختلف پہلو ہیں ۔ استحصال کر نے والے ممالک 'سائنس اورٹیکنالوجی‘ کی جنوب کو منتقلی میں روکاوٹیں ڈالتے ہیں؛ جنوب کے حکمران طبقات نہ صرف اپنے آقاﺅں کے مفادات کا تحفظ کر تے ہیں بلکہ اپنے عوام کو دوہرے استحصال کا نشانہ بھی بناتے ہیں ؛ لہٰذا ، وہ 'سائنس اور ٹیکنالوجی‘ حاصل کرنے کی اپنی کوششوں میں مخلص نہیں۔ نہ تو جنوب کے حکمران طبقات اور نہ ہی ان کے آقا یہ چاہتے ہیں کہ لوگ ذہنی پسماندگی کے شکنجے سا آزاد ہوں، بلکہ وہ اس سمت میں کی جانے والی کوششوں کو غیر انسانی طریقوں سے کچلتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جنوب کے حکمران طبقات' سائنس اور ٹیکنالوجی‘ کے حصول کے لیے کی جانے والی جدوجہد میں اپنے عوام کو شامل نہیں کرتے ہیں ۔ وہ خود 'سائنس اور ٹیکنالوجی‘ سے خوف زدہ ہیں ۔ 'سائنس اور ٹیکنالوجی‘ کا حصول در اصل تیسری دنیا کے عوام الناس کا مطالبہ اور ضرورت ہے۔
مختصر یہ کہ 'سائنس اور ٹیکنالوجی‘ کے حصول کا مسئلہ عوام الناس کے انقلاب کے مسئلے کیساتھ جڑ ا ہو ا ہے، جس کے لیے ،میری نظر میں، ذہنی روشن خیالی اور مادی ترقی کو ساتھ ساتھ چلنا چاہیے۔
مزید برآں، میں آپ کی توجہ خاص طور پر فلسفے اور سماجی علوم کی تعلیم کی حالت کی طرف مبذول کروانا چاہتا ہوں۔ جہاں تک طبیعی اور حیاتیاتی علوم کا تعلق ہے،آپ کی رہنمائی میں پہلے ہی کو ششیں جاری ہیں ۔ ان علوم کے مقابلے میں فلسفے اور سماجی علوم کی تعلیم کی حالت بدترین ہے ۔ دوسرے علوم میں نااہلیت ، فلسفے اور سماجی علوم کا طالب علم بننے کے لیے اہلیت کا درجہ رکھتی ہے۔ اہل اور قابل اساتذہ بھی نہ ہونے کے برابر ہیں ؛ نہ ہی اعلیٰ تعلیم اور تحقیقی کام کے لیے قابل ِقدر ادارے موجود ہیں ۔ حد یہ کہ "سماجی سائنسدان" بھی ذہنی اور عقلی طور پر اتنے ہی پسماندہ ہیں جتنا کہ ایک لاعلم شخص ۔
ان حالات میں ، جبکہ مجموعی طور پر تعلیم کی حالات مخدوش ہو، سائنسی اور تکنیکی مضامین کی تعلیم پر زور دینا امرِمسلمہ نہیں ۔ یہ صورتِ حال حقیقتاً ایک جان دار فلسفہ تعلیم کی عدم موجودگی اور ضرورت کو ظاہر کرتی ہے۔
امید ہے کہ آپ ان خیالات کو سنجیدگی سے پرکھیں گے؛ اور میں آپ کی رائے کا منتظر رہوں گا۔
| شُکریہ مخلص خلیل احمد |
ڈاکٹر عبدالسلام کی طرف سے جواب
ڈئیر مسٹر احمد!
پر وفیسر عبدالسلام نے مجھے کہا ہے کہ آپ کے 2مئی 1988 کے دلچسپ خط کے لیے آپ کا شکریہ ادا کروں۔
میں نے آپ کا خط بہت خوشدلی سے پڑھا اور آپ کے خیالات کے بارے میں حسبِ ذیل آراءکا اظہار کر نا چاہوں گا:
1۔ سائنس ثقافت ہے اور پوری تاریخ میں یہ انسانی زندگی کا لازمی حصہ رہی ہے۔ یہ یکتا ہے، اور ہر ایک کے لیے، امیر کے لیے اور غریب کے لیے، یکساں ہے، اور اسی لیے ہر ایک کی رسائی اس تک ہونی چاہیے۔
2۔اس بات کو تسلیم کر نا چاہیے کہ ایک ملک کی ترقی کے لیے سائنس سب سے زیادہ اہم رہنما ہے ۔ لہٰذا ، ترقی کی طرف کوئی بھی دوسرا قدم اٹھانے سے پہلے، اسے انتہائی ابتدائی مرحلے پر موجود ہونا چاہیے۔ سائنس برائے ترقی کا تصور ، درحقیقت ، معاشی ، سماجی اور صنعتی ترقی کے بڑے سوال کا ایک نہایت اہم پہلو ہے۔
3۔آج کے دور میں مختلف ملکوں کے لیے ترقی کے ماڈل مختلف نہیں ؛ یہ صرف سائنس اور سائنس کی بنیادوں پر تعمیر کی جانے والی ٹیکنالوجی ہے، جس کی طرف تمام توجہ دی جانی چاہیے۔ اس سے مراد یقینا ان کوششوں کو خارج کر دینا نہیں ، جو کسی معاشرے میں سماجی علوم ، ادب اور متعلقہ مضامین کی ترقی کے لیے کی جانی چاہییئں۔مثال کے طور پر ، زبان اورایک ہی ملک میں بولی جانے والی زبانیں، ترقیاتی پالیسی کا ایک اہم مسئلہ ہیں۔ اس پر بہت زیادہ توجہ دی جانی چاہیے۔
4۔ ماضی قریب میں ترقی پذیر ملکوں میں سائنس اور اس کی ترقی کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا۔ ان ملکوں کو یہ تسلیم کر نا چاہیے کہ ان کے مسائل کا حل ایک مضبوط سائنسی بنیاد مہیا کرنے میں مضمر ہے جس پر ترقی کے عمل کو تعمیر کیا جاسکتا ہو۔ فی الحال ، ترقی کے لیے صرف یہی ایک راستہ ہے، جیسا کہ مغرب میں ابتدائی دور میں تھا۔
یہ سب کچھ کہنے کہ بعد کوئی بھی شخص آسانی سے اس بات سے انکار نہیں کر سکتا کہ ترقی پذیر ملکوں میں سائنس اور سائنس کی تعلیم کے ساتھ ساتھ ایک معاشرے کی ثقافت میں موجود دوسرے علوم کی ترقی پر بھی بہت زیادہ توجہ دی جانی چاہیے ، جیسا کہ آپ نے بھی اشارہ کیا ہے۔
پروفیسر سلام نے اپنی کتاب" آدرش اور حقیقتیں "(Ideals and Realities) میں اس مسئلے پر تفصیل سے بحث کی ہے۔ اس کتاب کی ایک عدد کاپی میں آپ کو علٰیحدہ ارسال کر رہا ہوں۔
میں ایک مرتبہ پھر آپ کا شکریہ ادا کر تا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ آپ دوبارہ بھی توجہ کریں گے۔
نیک خواہشات کے ساتھ
آپ کا مخلص
ایچ۔ آر ڈیلافی
نوٹ: انگریزی میں لکھے گئے خطوط کا اردو ترجمہ
ڈاکٹر سلام کے نام لکھا گیا خط: 11مارچ 1988 ،کلر سیداں( راولپنڈی)
ڈاکٹر سلام کی طرف سے لکھا گیا خط: 10جون1988، تریست ، اٹلی