خلیل احمد

 

            ایک زمانہ تھا کہ اپنے ملک میں ایک شہر سے دوسرے شہر جاتے ہوئے یوں محسوس ہوتا تھا کہ آدمی کسی دوسرے ملک میں داخل ہو رہا ہے۔ اجنبی قسم کے بدمعاش، ڈاکوﺅ ں کی طرح آپ اور آپ کے سامان کے درپے ہوجاتے تھے اور جس طرح اسسٹنٹ کمشنرآنکھیں بند کرکے ٹریفک چالان کا جرمانہ نشر کرتے ہیں، یہ اسی طرح اپنی مرضی کی " کسٹم ڈیوٹی" وصول کرتے تھے۔ اس کسٹم ڈیوٹی کو مطلق العنان بلدیاتی حکومتیں ، چونگی اور ضلع محصول کہتی تھیں اور لوگ اسے غنڈہ ٹیکس کا نام دیتے تھے۔

 

            یہ بلدیاتی حکومتیںخود کچھ بڑے بڑے سیاسی بادشاہوں کی مٹھی میں ہوتی تھیں اور ان ٹیکسوں کا ٹھیکہ لینا دینا ایک سیاسی کاروبار تھا۔ ہر عام و خاص ، اس غنڈہ ٹیکس اور اس کے وصول کرنے والے مسلح و غیر مسلح غنڈوں کی لوٹ کھسوٹ اور دھونس دھاندلی کا شکار تھا۔مراد یہ کہ 'عام معافی‘ کی طرح یہ ظلم بھی عام اور سرِ عام تھا۔ بلدیاتی حکومتیں اگرچہ اشیاءکے مقررہ محصول کی طویل فہرستیں شائع کرتی تھیں لیکن یہ فہرستیں ملک کے آئین کی طرح کہیں دفتروں میں پڑی رہتی تھیں ۔ چونکہ بلدیاتی حکومتوں کے مطلق العنان فرمانروا اس گنگامیں خود ہاتھ دھوتے تھے، بلکہ ڈبوئے رہتے تھے،لہٰذا ڈاکو نما ٹھیکیداروں اور ان کے کارندوں کو کھلی چھٹی ملی ہوئی تھی۔ آپ کو شہروں کی سرحدوں پر ٹرانسپورٹ کی لمبی قطاریں تویادہوں گی اور آ پ نے چونگی یا ضلع محصول بھی ادا کیا ہوگا۔ آپ کے پاس اس محصول کی ادائیگی کی رسید بھی موجود ہوگی۔ یاد کیجئے آپ نے کتنی رقم ادا کی ۔ یادکیجئے رسید پر کتنی رقم درج تھی۔ مشکل ہے۔ رسید پر درج تحریر اور رقم پڑھنا کسی پڑھے لکھے فانی انسان کے بس کی بات نہیں۔

 

            لیکن پھر کیا ہو ا کہ موجودہ حکو مت کا دماغ پھر گیا۔کہتے ہیںکہ یہ حکو مت جا گیر داروں، زمینداروں کی حکو مت نہیں ، گر چہ یہ اس میں بھی گھسے ہو ئے ہیں۔ خیر نجا نے بیٹھے بٹھا ئے اس حکومت کے سر میں کیا سمائی کہ اس نے ان غنڈہ ٹیکسوں کو ختم کرنے کا اعلان کر دیابلکہ مقررہ تاریخ کو حقیقتاً اس اعلان پرعمل بھی کر ڈالا۔ جس دن یہ ظلم کی رات ختم ہوئی اس صبح اخبارات نے سرخیاں لگائیں کہ چونگی ناکے سیل ، ظلم کے گھر بند، ڈاکو نما ٹھیکیداروں اور ان کے کارندوں پر کیا گزری ، ایک اخبار کی زبانی سنیئے: "بر آمد گی ٹیکس اور محصول چونگی کا عملہ نظام کے خاتمے کے بعد چارپائیاں اور کرسی میز سر پر اٹھا کر گھروں کو چل دیا۔ ایک طویل عرصے تک شہریوں سے گیارہ گنا کے نام پر غنڈہ گردی کا مظاہرہ کرنے والے دوبارہ اس نظام کی بحالی کے لیے آس لگائے چونگیات کے دفاتر سے زار و قطار روتے ہوئے رخصت ہوئے۔ جبکہ عملے نے نظام کے خاتمے کے آخری ایام میں شہریوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا۔"

 

            چونکہ سونے کی اس کان سے وزرا، اراکین اسمبلی ، سیکرٹری بلدیات، میڑوپولٹین اور میونسپل کارپوریشنوں کے لارڈمیئر اور میئر، ضلع کونسلوں کے چیئرمین،اور سیاستدان متمتع ہوتے تھے، لہٰذا ایک ناقابل شکست چونگی مافیا اور کمیشن مافیا، وجود میںآچکاتھا۔ ایک ہفت روزہ کے مطابق جب سے "حکو مت نے چونگی مافیا کے خا تمہ اور کمیشن مافیا کے آگے بند با ندھتے ہوئے یکم جو لائی سے محصول چونگی اور ضلع ٹیکس کے خاتمے کا اعلان کیا ہے ، چونگی مافیا نے اندھیر مچا رکھا ہے اور کئی گنا زائد وصولی کر رہے ہیں۔ (جبکہ) عوام میں خوشی کی لہردوڑ گئی ہے جو اس مافیا کے ہا تھو ں پریشان تھے۔ سرکاری اراکین پارلیمنٹ اس فیصلے پر بظاہر داد کے ڈونگرے برساتے نظر آتے ہیں لیکن ان کے دل کی کیا حالت ہے ، یہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔"

 

            ہمارے یہاں تو جو شخص کروڑ دو کروڑ کھا جاتا ہے، اس پر ہاتھ ڈالنا مشکل ہوتاہے۔ حساب کتاب یہ ہے کہ کروڑ دو کروڑ میں اتنی گنجائش تو ہوتی ہے کہ چند لاکھ زکوٰة نکال دینے کے بعد بھی خاصا کچھ بچ جائے۔ اب جہاں اربوں کی بات ہو وہاں تو یہ سوچنا بھی قابل گرفت جرم بن جاتا ہے کہ کسی پر ہاتھ ڈالا جائے ۔ بتایا جاتا ہے کہ چونگی و ضلع ٹیکس کے نظام سے بلدیاتی حکومتوں کو تو صرف 19ارب روپے پہنچتے تھے جبکہ ٹھیکیدار بہادر اور ان کے معاونین 80ارب روپے ڈکار جاتے تھے۔ ان ارب پتی ڈاکوﺅں کا ناطقہ بند کرنا یقینا بہت بڑا کارنامہ ہے اور حکومت کے لیے بہت بڑا خطرہ بھی!( یہ خطرہ آہستہ آہستہ زیادہ سنگین ہوتا جا رہا ہے۔)

 

            اس ظالمانہ نظا م کا بیک جنبش قلم خا تمہ ایک نہا یت قا بلِ تحسین اقدام ہے۔ اس کے پیچھے کو ئی مخصو ص مفاد یا مقصد کا فرما نظر نہیں آتا۔ اس نظا م کے خاتمے سے اب تاک حزب ِ اختلا ف یا حزبِ اقتدار یا حکومت کے مخالفین اور ناقدین اس پر شک و شبے کی نظر ڈالنے کے با وجود فی الحا ل کوئی ایسا نکتہ تلاش نہیں کر سکے ہیں جو کسی پیوستہ مفا د کا پتہ دیتا ہو ۔ یہ اصلاً ایک ایسا صاف ستھرا کام ہے جس میں حکو مت کے ہا تھ بالکل گندے نہیں ہوئے۔ اسے سراسر بھلائی ہی بھلائی کہا جا سکتا ہے۔

 

            تاہم ، نقص ڈھونڈ نکالنے والوں کا منہ بند نہیں کیا جا سکتا۔ کیا بھی نہیں جا نا چاہیے۔ نیت صاف ہو تو خامیوں کی نشاندہی فائدہ ہی پہنچاتی ہے ۔ ایک اخبار نے27جولائی 99 19کو ایک چھوٹی سی خبر شائع کی ہے ۔اس کا عنوان ہے: "ضلع ٹیکس اور محصول چونگی کا نظام اگست کے آخر تک بحال ہونے کا امکان ۔" اس میں بتایا گیا ہے کہ "ملک کے دو بڑوں نے اربوں روپے کا ٹیکس بچانے کے لیے لاکھوں غریبوں کو بے یار و مدد گار کر دیا ۔ جبکہ اگست کے آخر میں ضلع ٹیکس اور محصول چونگی کی بحالی کا امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق ملک کی دو بڑی شخصیات نے اپناسیمنٹ کلیئر کروانے کے لیے ضلع ٹیکس اور محصول چونگی ختم کر وا دی اور اس نوٹیفکیشن پر پنجاب اور سندھ میں عمل در آمد کروا دیا جبکہ بلوچستان اور سرحد نے عمل درآمد کروانے سے انکار کر دیا۔"

 

            اس خبرکی صحت، سچائی اوراس کے قابل یقین ہونے سے قطع نظر اصل سوال یہ ہے کہ کیاحکومت یہ ظالمانہ نظام بحال کر دے گی۔

 

            30جون1999 کو اگرچہ چونگی اور کمیشن مافیا کے ارب پتی زخمی سانپ شاہراہوں سے رینگتے گھسٹتے اپنے اپنے بلوں میں گھس گئے ، لیکن رات کے اندھیرے میں یہ مختلف نقاب چڑھائے پھر سے نمودار ہوگئے ہیں۔ ایک اخبار نے بجٹ میں چونگی محصول اور ضلع ٹیکس کے خاتمے کے اعلا ن کے فوراً بعدلکھا کہ "چونگی اور ضلع ٹیکس کا خاتمہ سیا سی مسئلہ بن گیا ہے۔ حزب ِ اختلاف کی جماعتیں اسے صوبوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے اور قومی یکجہتی کو نقصا ن کے مترادف قرار دے رہی ہیں۔"

 

            یہ دونوں اعتراضات "سیاست" پر مبنی ہیں۔دیکھنا یہ ہے کہ اگر صوبائی حکو متو ں کے ادارے شہریوں کی جیبوں پر ڈاکہ ڈال رہے ہوںاور وفاقی حکومت انھیں اس ظلم و ستم سے نجا ت دلا نا چاہے (اور جبکہ و فاقی حکو مت ان ٹیکسو ں کے خاتمے سے صو بائی حکو متو ں کو ہو نے والے نقصا ن کی تلافی بھی کر رہی ہے)توکیا یہ صو بائی حقوق پر ڈاکہ ہو جائے گا۔ اور قومی یکجہتی کو پہنچنے والے نقصا ن کی بات تو تا قابل فہم ہے ۔ فرض کریں اگر ایساہی ہے تو کیا جب چونگی اور کمشن ما فیا 80ارب غصب کر رہا تھا تو قومی یکجہتی مضبوط ہو رہی تھی۔ یہ سب زخمی سا نپو ں کی منطق ہے۔  

 

            یہ زخمی سانپ ،ان کے سر پر ست، ان کے کارندے اور پر وردے، طرح طرح کے حربے استعمال کر رہے ہیں ۔ افواہیں پھیلا رہے ہیں۔اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ بے روزگاری کے جواز کو بڑے حملے کے طور پرکام میں لا رہے ہیں۔ ابتدا ہی سے حزب ِ اختلاف اور حزبِ اقتدار کے بہت سے سیا ستدان یہ دلیل پیش کر رہے ہیں کہ ہزاروں افراد بے روزگار ہو جائیں گے۔ حکو مت بڑا ظلم کر ہی ہے، ان بے روزگاروں کا کیا بنے گا۔یہ اعتراض قطعاً بے جا اور بے بنیا دہے۔ سوچنے والے بات یہ کہ پوست اگانے ، اس سے ہیروئن بنا نے ، اور پھر ہیروئن بیچنے کی اجازت کیا محض اس لیے دے دی جائے کہ اس سے بہت سے افراد کا روزگار وابستہ ہے۔ کیا چونگی اور ضلع ٹیکس کا نظام محض اس لیے بحا ل کر دیا جائے کہ یہ ہزاروں افراد پھر سے روزگار پر لگ جائیں گے۔ کیا ان لاکھو ں کروڑوں افراد کی ابتلا کسی کھاتے میں نہیں آتی جو چونگی اور کمیشن مافیا کی غنڈہ گردی اور نوچ کھسوٹ کا شکار تھے، اور جو اب بھی اس نظا م کی بحالی کی خبروں سے لرز رہے ہیں۔            

            مزید برآں ، حزب اختلاف اور احزب اقتدار کے یہ زخمی سانپ نئے سے نئے دلائل و شواہد پیش کر رہے ہیں۔ وہ بلدیاتی اداروں کے منتخب افراد کو احتجاج اور استعفٰی دینے پر اکسا رہے ہیں۔ فارغ ہونے وال چونگی ملازمین کی پشت پناہی کر رہے ہیں ،اور انھیں بھڑکا رہے ہیں۔ان کی بے روزگاری کو انسانیت کا بہت بڑا مسئلہ بنا کر جذ با ت ابھارنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ کہا جا رہا ہے کہ وفاقی حکو مت صو بائی حکو متو ں کو فنڈز مہیا نہیں کر رہی ۔ چونگی ملازمین کو فارغ کیا جا رہا ہے ۔ انھیں تنخوا ہیں دینے سے انکا ر کیا جا رہا ہے۔یہ بتا یا جا رہا ہے کہ بلدیا ت اداروں کی آمدنی ختم ہو کر رہ گئی ہے؛ وہ اب ترقیا تی پروگرامو ں پر عم ل درآمد کس طرح کریں گے۔ مراد یہ کہ مختلف حیلے بہا نے تراشے جا رہے ہیں، اور ہر پہلو سے حکو مت کے اس اقدام کی مخالفت کی جارہی ہے ، اور اس پر دباﺅ ڈالا جا رہا ہے ۔ کچھ اخبار بھی اپنی اخباریت چمکانے کے لیے اس معاملے کو خوب اچھال رہے ہیں اور اس زہریلے پروپیگنڈے کو پھیلانے میں زخمی سانپوں کے معاون ثابت ہو رہے ہیں ۔

 

            سیدھی سی بات ہے کہ 80ارب کھانے والے خاموش نہیں بیٹھیں گے ۔ وہ پلٹ کر وار ضرور کریں گے۔ وہ ہر ہتھکنڈہ استعمال کر رہے ہیںاور کریں گے۔ عام شہری تو متحد او ر منظم نہیں ، ہاں، وہ لوگ جنہیں حقیقتاً اس غنڈہ گردی سے نجات ملی ہے اور جو متحد و منظم ہیں یا ہو سکتے ہیں ، انہیں ہوشیار ہو جانا چاہیے ۔ کاشتکاروں ، دکانداروں ، تاجروں ، صنعتکاروں، کو اپنے مفاد کے تحفظ کے لیے کھل کر سامنے آنا چاہیے تاکہ چونگی اور کمیشن مافیا حکومت پر دباﺅ ڈالنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ اس ظالمانہ نظام کو بحال نہ کروا سکے بلکہ فرض کریں کوئی اور حکومت آجائے تو بھی یہ نظام پھر سے اپنے پاﺅں نہ جما سکے ۔ ہمیں زخمی سانپوں سے مستقل طور پر اپنی حفاظت کرنی ہو گی ۔ کتاب ظلم کا ایک باب کسی طور ختم ہو ہی گیا ہے تو یہ دوبارہ نہیں کھلنا چاہیے!

 

(یہ کالم ہفت روزہ زندگی لاہور ،-10 16اکتوبر 1999، میں شائع ہوا۔)