ڈاکٹرخلیل احمد

            " میں آپ کو یقین دلاتا ہوں مجھے اداکاری نہیں آتی۔ اگر مجھے سیاسی اقتدارکی خواہش ہو تو روکنے والا کون ہے۔ فوج میرے ساتھ ہے اور میرے پاس طاقت ہے جو جی میں آئے کروں ۔ آئین کیا ہوتا ہے؟ دس بارہ صفحات کا ایک کتابچہ۔ میں کل ہی اسے پھاڑ کر پھینک سکتا ہوں اور ایک نئے نظام کے تحت حکومت شروع کر سکتا ہوں۔ کون ہے جو مجھے روکے۔" (جنرل محمد ضیاءالحق)

            مورخین نے پاکستان کی متعدد آئینی تاریخیں لکھی ہیں ؛ اور مستقبل میں بھی ایسی تاریخیں لکھی جائیں گی۔ لیکن تاحال پاکستان کی غیرآئینی تاریخ لکھے جانے کا کو ئی منصوبہ سامنے نہیں آیا ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ غیر آئینی تاریخ کو سامنے رکھے بغیر آئینی تو کیا پاکستان کی کوئی بھی تاریخ لکھنا ممکن نہیں ہو گا۔ پاکستان کی عمر کا تقریباً نصف حصہ غیر آئینی ادوار پر مشتمل ہے اور بقیہ نصف حصہ آئینی اور نیم آئینی ہوتے ہوئے بھی اس غیر آئینی حصے سے گہنایا ہوا ہے۔ اس بات کو یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان میں نصف صدی غیر آئینی حکومتیں بر سر اقتدار رہیں اور بقیہ نصف صدی غیر آئینی حکومتیں برسر اقتدار نہیں رہیں۔ سو ایسے میں غیر آئینی عوامل کو نظر انداز کر کے پاکستان کی ''تاریخی پیش رفت" کو سمجھنا اور قلمبند کرنا اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مارنے کے مترادف ہے ۔ کہنے سے مراد یہ ہے کہ پاکستان کی آئینی تاریخ کے مقابلے میں غیر آئینی تاریخ زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔ یہاں اس غیر آئینی تاریخ کا ایک مختصر خاکہ وضع کرنے کی کوشش کی جارہی ہے:

            ٭ 1945-46 ءمیں ہندوستان میں مرکز اور صوبوں کے انتخابات کا انعقاد ہوا۔ کانگریس نے بیشتر عمومی سیٹوں پر اور مسلم لیگ نے بیشتر مسلم سیٹوں پر کامیابی حاصل کی۔ فروری 46 ءمیں سیکرٹری آف سٹیٹ فار انڈیا، لارڈ پیتھک لارینس نے برطانوی ہاﺅس آف لارڈ ز میں اور برطانوی وزیر اعظم ایٹلی نے ہاﺅس آف کامنز میں ایک پالیسی کا اعلان کیا۔ یہ تین نکات پر مشتمل تھی:

i - آئین کی تشکیل کے لیے طریق کا ر کے ضمن میں برطانوی ہند کے منتخب نمائندگان سے صلاح و مشورہ کیا جائے گا۔

ii - آئین ساز مجلس کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔

iii - ہندوستان کی بڑی جماعتوں کے تعاون سے ایگزیکٹو کونسل یا عبوری کابینہ قائم کی جائے گی۔

 ٭اس موقعے پربرطانوی وزیراعظم نے واضح کیا کہ ” ہندوستان کو اپنے مستقبل کے آئین کا فیصلہ خود کرنا چاہیے۔“ متذ کرہ پالیسی پرعمل درآمد اور آئینی تنازعے کے حل کی تلاش کے لیے ایک خصوصی مشن ،” کابینہ مشن“ ہندوستان بھیجاگیا۔ اس مشن کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہندو- مسلم تنازعہ تھا۔ کانگریس انڈین یونین میں ایک مضبوط مرکز چاہتی تھی جبکہ مسلم لیگ مضبوط مسلم صوبوں کی حامی تھی۔ دونوں جماعتیں آئینی مسائل کے کسی متفقہ حل پر راضی نہ ہو سکیں۔ بہ ایں وجہ، شملہ کی سہ فریقی کانفرنس (مئی1946) ناکام ہوگئی۔ 

٭کابینہ مشن کی ناکامی سے یہ واضح ہو گیا کہ ہندو- مسلم تنازعے کا آئینی حل ممکن نہیں۔ لہذٰا ، برطانوی حکومت نے ہندوستان کے لیے واحد آئین ساز اسمبلی کا تصور ترک کر کے بھارت اور پاکستان دونوں کے لیے علیحدہ علیحدہ آئین ساز اسمبلیوں کے قیام کا فیصلہ کیا۔

            ٭4 جولائی 1947 کو بر طانوی پارلیمنٹ میں انڈین انڈی پینڈینس بل پیش کیا گیا۔ 18 جولائی کو اس بل کو شاہی تصدیق حاصل ہوگئی اور 19 جولائی کو یہ بل انڈین انڈی پینڈینس ایکٹ بن گیا۔ اس طرح،دہلی کی عبوری حکومت کو بھارت اور پاکستان میں تقسیم کر دیا گیا۔ یہ دو مملکتوں کا قانونی جنم تھا۔ اس کے ساتھ ہی دو آئین ساز اسمبلیاں بھی وجود میں آگئیں ۔ انڈین انڈی پینڈینس ایکٹ کی رو سے ان اسمبلیوں کو دو فرائض سونپے گئے تھے: (i) آئین تیار کرنا؛ اور (ii) جب تک اس اسمبلی کا بنایا ہوا آئین نافذالعمل نہ ہو جائے تب تک وفاقی آئین ساز اسمبلی یا پارلیمنٹ کی حیثیت سے کام کرنا۔ واضح رہے کہ آئین کی تشکیل کے لیے کسی مدت کا تعین نہیں کیا گیا تھا ۔ آئین کی تیاری تک گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935 ہی پاکستان کا عملی آئین تھا۔

            ٭پاکستان کی آئین ساز اسمبلی کا افتتاحی اجلاس 10-14اگست 1947 منعقد ہوا۔ قائد اعظم صدر اور اقلیتی رکن جے ۔ این منڈل کو عارضی چیئر مین منتخب کیا گیا۔ ابتدائی طور پر آئین ساز اسمبلی کے ارکان کی تعداد 69 تھی جو بعد میں بہاولپور، خیر پور اور بلوچستان کی ریاستوں اور قبائلی علاقوں کو نمائندگی دینے سے بڑھ کر 74 ہو گئی۔ آئین کی تشکیل کے لیے مختلف کمیٹیاں اور ذیلی کمیٹیاں قائم کی گئیں۔ 'بنیادی اصولوں کی کمیٹی‘ سب سے اہم تھی۔ اس نے دسمبر 1950 میں اپنی حتمی رپورٹ پیش کی ۔ دوسری کمیٹیوں میں شہریوں کے بنیادی حقوق ، اقلیتوں سے متعلق معاملات، ریاستوں سے مذاکرات اور قبائلی علاقہ جات کے معاملات سے متعلق کمیٹیاں شامل تھیں۔

            ٭پہلے مجوزہ آئین کا دوسرا ڈرافٹ قیام پاکستان کے پانچ برس بعد 22 دسمبر 1952 کو آئین ساز اسمبلی کے سامنے رکھا گیا اوراس پر بحث شروع ہوئی۔ لیکن اس ضمن میں پیش رفت کے بجائے ڈیڈ لاک پیدا ہو گیا۔ مگر وزیر اعظم محمد علی کی کوششوں سے حائل رُکاوٹوں کو دور کرنے میں کامیابی ہوئی۔ 16 ستمبر 1954 کو آئین ساز اسمبلی نے پاکستان کے پہلے آئین کا حتمی ڈرافٹ منظور کر لیا۔ 17 اکتوبر 1954 سے آئین پر بحث کا آغاز ہونا تھا۔ محمد علی نے قوم کو آئین کا تحفہ دینے کی تاریخ ( 25دسمبر1954) بھی مقرر کر دی تھی۔           

٭14اکتوبر 1954 کو "ڈان "نے یہ خبر دی کہ " آئین سازی کی تکمیل کے لیے پندرہ دن سے بھی کم عرصے میں آئین ساز اسمبلی کا اجلاس منعقد ہو گا۔ بتایا جاتا ہے کہ آئینی بل تیار ہے اور اس کے ایکٹ بننے میں بس اب رسمی منظوری کی دیر ہے ۔" 25 دسمبر 1954 کو اس آئین کا نفاذ عمل میں آجانا تھا۔

            ٭ لیکن ابھی چند دن ہی گزرے تھے کہ گورنر جنرل غلام محمد نے ہنگامی حالت کے نفاذ کا اعلان کر دیا اور وہ تاریخی جملے ادا کیئے جو بعد میں ایسے ہی مواقع پر دہرائے جانے تھے۔ انھوں نے کہا "ملک سیاسی بحران کا شکار ہے ۔ آئینی مشینری تباہ ہوچکی ہے ۔ لہٰذا ، پورے پاکستان میں ہنگامی حالت کے نفاذ کا اعلان کیا جاتا ہے۔ آئین ساز اسمبلی اپنی موجودہ شکل میں عوام کا اعتماد کھو چکی ہے اور مزید کام نہیں کر سکتی ۔ آخری اختیار عوام کے ہاتھوںمیں ہے۔ وہ اپنے نمائندوں کے ذریعے آئینی معاملات سمیت تمام معاملات کا فیصلہ کرلیں گے۔ جتنی جلد ممکن ہو گا انتخابات منعقد کیے جائیں گے۔"

            ٭یہ تھا انجام پہلی آئین ساز اسمبلی اور اس کے تیا ر کردہ آئین کا ۔ یہ آئین، آئین ساز اسمبلی کی سات برس کی کوششوں کے بعد تیار ہوا تھا۔ اس کی تباہی کے بعد ملک کو کیا حاصل ہوا: ایک ایسا آئین جو غلام محمد کے شخصی احکامات سے متر تب ہوتا تھا۔

            ٭آئین ساز اسمبلی کے صدر، مولوی تمیز الدین خاں نے گورنر جنرل کے اس اعلان کو "غیر آئینی ، غیر قانونی ، دائرہ اختیار سے تجاوز اور ناقابل عمل" قرار دیتے ہوئے سندھ کی عدالت میں چیلنج کیا۔ چیف کورٹ آف سندھ کے فل بینچ نے متفقہ طور پر مولوی تمیز الدین کےحق میں فیصلہ دیا اور یہ کہا کہ آئین ساز اسمبلی ایک مقتدر مجلس ہے جسے ایک خاص مقصد کے لیے بنایا گیا تھا اور جب تک اس کا مقصد پورا نہیں ہو گا اس وقت تک برقرار رہے گی تاآنکہ اس کے ارکان کی دو تہائی اکثریت اسے خود تحلیل نہ کر دے ۔ عدالت نے یہ قرار دیا کہ آئین ساز اسمبلی کو تحلیل کر نے کا اختیار تو اب انگلستان کے پاس بھی نہیں رہا اور یہ بات کس طرح ممکن ہے کہ جو اختیار اب انگلستان کے پاس بھی نہیں رہا وہ 1947 کے بعد پاکستان میں پھر سے استعمال میں لایا جاسکے۔

            ٭حکومت نے سندھ کورٹ کے فیصلے کے خلاف فیڈرل کورٹ میں اپیل دائر کی ۔ اس و قت چیف جسٹس مشہور زمانہ محمد منیر تھے ۔ فیڈرل کورٹ نے ایک تکنیکی نکتے کا سہارا لیتے ہوئے 21مارچ 1955 کو چار۔ ایک کی اکثریت سے گورنر جنرل کے حق میں فیصلہ دے دیا اور پاکستان کی پیشانی پر مہر لاقانونیت ثبت کردی۔

            ٭ اب ایک نیا " آئین توڑو، آئین بناﺅ" کھیل شروع ہو گیا۔ اس فیصلے کے چھ دن بعد 27 مارچ 1955 کو گورنر جنرل نے ایک آرڈیننس کے ذریعے متعدد اختیارات سنبھالنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے لیے نئے آئین کی تشکیل کا اعلان بھی کیا ۔ تاہم ،13اپریل 1955 کو فیڈرل کورٹ نے یہ فیصلہ دیا کہ آئین کی تشکیل کا کا م صرف آئین ساز اسمبلی کر سکتی ہے ؛ گورنر جنرل اور اس کی کابینہ اس اختیار کی حامل نہیں۔ یہاں کورٹ نے اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے گورنر جنرل کو ایک "نئی آئین ساز اسمبلی " کے قیام کا اختیار بھی دے دیا۔ حکومت نے 60رکنی "آئین ساز کنونشن" بلانے کا اعلان کیا۔ یوں ایک دوسری آئین سازاسمبلی وجود میں آگئی۔ اس کے ارکان کی تعداد بعد میں 80 کر دی گئی۔ اس نے چھ ماہ کے اندراندر اپنا کام مکمل کرنا تھا وگرنہ یہ خود بخود تحلیل ہو جاتا۔

            ٭7جولائی 1955 کو دوسری آئین ساز اسمبلی کا افتتاحی اجلاس مری میں منقعد ہوا۔ 8جنوری 1956 کو ااس نے آئین کا ڈرافٹ پیش کیا جسے کچھ تبدیلیوں اور ترامیم کے بعد 29 فروری 1956 کو منظور کو لیا گیا ۔2 مارچ 1956 کو آئین کا بل گورنر جنرل کی منظوری کے لئے بھیجا گیا۔ اس دوسرے آئین کی 245 دفعات میں سے بیشتر دفعات پہلے آئین کے ڈرافٹ پر ہی مبنی تھیں۔ 23 مارچ 1956 کو یہ "غیر قانونی" آئین نافذ کر دیا گیا۔

            ٭یہ دوسرا آئین نفاذ کے بعد محض ڈھائی بہاریں دیکھ سکا۔ 7 اکتوبر 1958 کی ایک رات کے نصف پہر میجر جنرل سکندر مرزا نے مارشل لا لگا دیااور آئین منسوخ کردیا۔ بعد ازاں جنرل ایوب نے سکندر مرزا کو معزول کر کے ملک سے باہر بھیج دیا اور اقتدارسنبھال لیا۔ مرکزی اورصوبائی کابینہ برطرف اور قومی اور صوبائی مقننّہ تحلیل کردی گئیں۔ اس کے ساتھ ساتھ تمام سیاسی جماعتوں پر پابندی لگا دی گئی۔ قوم سے خطاب کرتے ہوئے جنرل ایوب نے کہا کہ ہمارا پہلااورآخری مقصد جمہوریت کی بحالی ہے لیکن ایسی جمہوریت جسے لوگ سمجھ سکیں اور جو لوگوں کے کام آسکے۔ یہ مارشل لا 8 جون 1962 تک نافذ رہا۔

            ٭10اکتوبر 1958 کو جنرل ایوب نے ایک انٹرویو میں کہا کہ "ہم نے جمہوریت کومستقل بنیادوں پرخیر باد نہیں کہا ہے ۔ ہمیں جمہوریت کی طرف واپس جانا ہو گا۔ ہمیں اسے کارآمد بنانا ہوگا۔" اسی روز انہوں نے ایک حکم جاری کیا جس کےمطابق صدرکسی بھی وقت کسی بھی قانون کو تبدیل کر سکتا تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ بنیادی حقوق ختم ہو گئے ہیں اورصدرکو قانون سازی کا لامحدود اختیارحاصل ہے اور یہ کہ اس کےاس اختیا رپرکسی قسم کی کوئی پابندی عا ئد نہیں ہے ۔ اگر چہ اس حکم کے مطابق پاکستان کی حکومت کو مقدور بھر مرحوم آئین کے مطابق چلایا جانا تھا لیکن اس میں حکومت سے مرحوم آئین کے قوانین نہیں بلکہ حکومت کا ڈھانچہ مراد تھا۔ جبکہ آئین کو تو پہلے ہی منسوخ کر دیا تھا۔

            ٭17 فروری 1960 کو جنرلایوب نے پاکستان کے سابق چیف جسٹس کی سربراہی میںایک"آئینی کمیشن" تشکیل دیا۔ اس کا مقصد پاکستان میں پارلیمانی حکومت کی ناکامی کے اسباب کا پتہ چلانا تھا۔ مزید برآں کمیشن نے مستحکم حکومت کے قیام کے لیے آئینی تجاویز بھی پیش کرنا تھیں۔ کمیشن نے اپنی "تحقیقات" کے نتیجے میں یہ ثابت کردکھا یا کہ پاکستان میں پارلیمانی نظام حکومت ناکام ہو چکا ہے۔ اس نے ناکامی کے تین اسباب بھی تلاش کئے:

 

i- انتخابات کا عدم انعقاد اور سابقہ آئین کی خامیاں

ii- وزارتوں اور سیاسی جماعتوں میں سربراہان مملکت کی اور صوبائی حکومتوں کی بے جا مداخلت

iii - منظّم اور نظم و ضبط کی حامل جماعتوں کی قیادت کا فقدان اور بالعموم کردار سے عاری سیاستدان اورانتظامیہ میں ان کا غیر ضروری عمل دخل

            ٭سیاستدانوں نے اس کمیشن کے نتائج کو مسترد کر دیا۔ان میں چودھری محمد علی پیش پیش تھے۔ ان کا خیال تھا کہ پارلیمانی نظام حکومت ناکام نہیں ہوا ہے اورنہ ہی سیاستدانوں کو موردالزام ٹھہرایا جاسکتا ہے۔ خود صدر میجر جنرل سکندرمرزانے اپنے حلف سے غداری کی ہے۔ ڈھائی برس قبل انہوں نے جس آئین کے تحفظ کا حلف اٹھایا تھا اس آئین کو انہوں نے خود ہی منسوخ کر دیا۔ چودھری محمد علی کا موقف تھا کہ میجر جنرل سکندر مرزا نے دانستاً پارلیمانی جمہوریت کو بگاڑااور تباہ کیا تاکہ وہ تاحیات آمر بن سکیں بلکہ حالات ساز گار ہوں تو اپنی بادشاہت قائم کر لیں۔ انہوں نے یہ تسلیم کیا کہ اگرچہ عام سیاستدان ہوس اقتدار میں مبتلا ہیں لیکن آئین کی مبینہ ناکامی کی سب سے زیادہ ذمہ داری خود میجر جنرل سکندر مرزا پر آتی ہے۔ چودھری محمد علی نے کہا کہ آئین پرکھنے کے لیے ضروری ہے کہ یہ خاصے عرصے تک نافذالعمل رہے۔

            ٭تاہم کمیشن نے پاکستان کے لیے کسی بھی نوع کے استبدادی نظام کی تجویز کو مسترد کر دیااور یہ تجویز کیا کہ طرز حکومت خواہ کوئی بھی ہو اسے بہر صورت نمائندہ کردار کا حامل ہونا چاہئے۔ کمیشن نے اس ضمن میں لارڈایکٹن کے معروف قول کا حوالہ بھی دیا۔ " اختیار خواہ کیسا بھی ہو کرپٹ بناتا ہے ا ور اختیار مطلق تومطلقاً کرپٹ بنا دیتا ہے۔" کمیشن نے صدارتی نظام کی سکیم پیش کرتے ہوئے بھی اس بات پر زور دیا کہ قانون سازی ہو یا اہم تقرریاں یا مالیات 'آزاد اور خود مختار مقننّہ ناگزیرہے۔

            ٭کمیشن نے مئی 1961 میں اپنی رپورٹ صدر جنرل ایوب کو پیش کی ۔ صدراور کابینہ نے اس پر غورو خوض کیا۔ اس کا جائزہ لینے کے لیے مزید کمیٹیاں بنائی گئیں ۔ پھران کمیٹیوں کی رپوٹوں کو جانچا پرکھا گیا۔ اس طرح چار ماہ میں تیسرے آئین کا حتمی ڈرافٹ تیار ہو گیا۔ یکم مارچ 1962 کو اس کے نفاذ کا اعلان کیا گیا۔

            ٭اس آئین میں انتخابات کے نظام ' بنیادی حقوق‘ سیاسی جماعتوں اور عد لیہ کے کردارسے متعلق کمیشن کی اہم تجاویز کو نظر انداز کر دیا گیا تھا۔ اصل میں یہ آئین صدارتی نظام حکو مت کا داعی تھا۔ اس کے پیچھے یہ نظریہ کار فرما تھا کہ ملک کے نظم و نسق کا ذمے دار صدر ہے اور قومی اسمبلی کے ارکان کا منصب عوام کے جذبات کی نمائندگی کرنا ہے۔

            ٭13مارچ 1969 کو صدرجنرل ایوب خان نے پارلیمانی نظام اور براہ راست انتخابات کے احیا کا اعلان کیا۔ اس مقصد کے لیے قومی اسمبلی کے ذریعے آئین میں ترمیم کی جانی تھی اور یوں مارچ 1970 میں بالغ حق رائے دہی پر مبنی انتخابات ہو نے تھے۔ اس طرح جو اسمبلی وجود میں آتی وہ آئین میں کوئی بھی ترمیم کر سکتی تھی۔ یہ احیا چھ ماہ کے احتجاجی جلوسوں ، ہڑتالوں، ہنگاموں اوربا لآخر سیاستدانوں کے ساتھ راﺅنڈ ٹیبل کانفرنس کے نتیجےمیںممکن ہوا تھا۔

            ٭لیکن کچھ سیاستدان صدرجنرل ایوب کے استعفیٰ کے مطالبے پر ڈٹے رہے اور انہوں نے مجوزہ انتخابات کو سبوتاژ کرنے کی دھمکی بھی دی ۔ صورتحال اتنی خراب ہوئی کہ صدرجنرل ایوب نے مستعفی ہو کر اقتدار آرمی کے کمانڈر انچیف جنرل یحییٰ خان کو سونپ دیا۔ جنرل یحییٰ نے 5مارچ 1969 کو مارشل لاءنافذ کیا اور آئین کو منسوخ کردیا۔ یہ ابتدائی بائیس برسوں میں بننے اور منسوخ ہونے والا پاکستان کا تیسرا آئین تھا۔

            ٭30مارچ 1970 کو جنرل یحییٰ نے لیگل فریم ورک آرڈر جاری کیا ۔ اس آرڈر میں ان نکات کو واضح کیا گیا تھا جن کے مطابق آئین تشکیل دیا جانا تھا۔ اس کی رو سے قومی اسمبلی کے لیے 120 دنوں کےاندراندر آئین وضع کرنا ضروری تھا ورنہ یہ خود بخود تحلیل ہو جاتی۔

            ٭دسمبر 1970 میں بالغ رائے دہی کی بنیاد پر عام انتخابات منعقد ہوئے ۔ مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ اور مغربی پاکستان میں پاکستان پیپلز پارٹی اکثریتی جماعت کے طور پر سامنے آئیں ۔ مجموعی طور پر پاکستان کی اکثریتی  جماعت عوامی لیگ تھی ۔ جنرل یحییٰ کے لیگل فریم ورک آرڈر کے مطابق (قانونی طور پر) آئین کی تشکیل عوامی لیگ کا حق تھا اورحکومت بنانے کی جائز حقداربھی وہی تھی ۔ 3مارچ 1971 کو قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کا اعلا ن کیا گیا۔ عوامی لیگ، پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر آئین بنا سکتی تھی لیکن بوجوہ ایسا نہیں ہوا یا نہیں ہونےدیا گیا۔ پیپلز پارٹی نے 13مارچ 1971 ڈھاکہ میں منعقد ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس کا بائیکاٹ کرنے کی دھمکی دی۔ اس پر جنرل یحییٰ نے یہ اجلاس ملتوی کر دیا۔ مشرقی پاکستان میں ہنگامے پھوٹ پڑے ۔ بزور فوج بنگا لیوں کومطیع کرنےکی کوشش کی گئی۔ دسمبر 1971 میں مشرقی پاکستان ، پاکستان سےعلیحدہ ہو گیا۔ پاکستان بھی انتخابات کے نتیجے میں وجود میں آیا تھا اور بنگلہ دیش بھی انتخابات کے نتیجے میں قائم ہوا!

            ٭اس طرح 1971 کا آئین سقوط ڈھاکہ کی نذر ہوگیا۔ جنرل یحییٰ نے 17 دسمبر1971 کو اس کے نفاذ کا اعلان کرنا تھا۔ یہ پاکستان کا چوتھا آئین تھا جو بن کھلےمرجھا گیا۔

            ٭ نئے اور" مختصر" پا کستان میں 20 اکتوبر1971 کو جنرل یحییٰ نے عنانِ اقتدار پاکستان پیپلز پارٹی کے سپرد کر دی۔ ذوالفقارعلی بھٹو پاکستان کے پہلے اورشاید آخری سویلین چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بنے۔ وہ صدر مملکت بھی تھے۔

            ٭14اپریل1972 کو قومی اسمبلی کا اجلاس منعقد ہوا۔ 17اپریل 1972 کو عبوری آئین کی منظوری کے ساتھ 21اپریل 1972 کوعبوری آئین کا نفاذ عمل میں آیا اور مارشل لا اٹھا لیا گیا۔ 21اپریل کو ہی قومی اسمبلی نے 25ارکان پر مشتمل ایک کمیٹی مقررکی ۔ اس نے یکم اگست 1972 تک آئین تیار کرنا تھا۔ پھر اس معیاد میں 31دسمبر 1972 تک توسیع کر دی گئی۔ اس کمیٹی نے 2 فروری1973 کو آئین کا مسودہ قومی اسمبلی میں پیش کیا۔ 19 اکتوبر1972 تک پارلیمانی رہنماﺅں میں اہم آئینی امور پر سمجھوتہ ہو گیا تھا مگر پھراختلافات پیدا ہو گئے۔ فروری سے مارچ 1973 تک کشیدگی اتنی بڑھی کہ حزبِ اختلاف نے 24مارچ سے آئین سازی کے عمل کا بائیکاٹ کر دیا۔ تاہم ،اپریل 1973 میں حزبِ اختلاف کی ترمیمات منظور کر لی گئیں اور بائیکاٹ ختم ہوگیا۔ 10اپریل 1973 کو قومی اسمبلی نے اور 12 اپریل 1973 کو صدرمملکت نے آئین کی منظوری دی۔ 14اگست1973 کو یہ پانچواں آئین نافذ ہو گیا۔

            ٭یہ آئین پہلی مرتبہ براہ راست انتخابات کی بنیاد پر منتخب ہونے والے عوام کے نمائندوں نے تشکیل دیا تھا۔ اسے متفقہ طور پر منظور کیا گیا۔ حزبِ اقتدار اور حزبِ اختلاف کے تمام ارکان نے اس پر دستخط کئے۔ ہاں، تین ارکان نے آئین سے متعلق کاروائی میں حصہ نہیں لیا تھا۔ اس آئین میں دفعہ: 6 کی صورت میں خود اپنی بقا کا میکانزم بھی رکھا گیا تھا جس کے مطابق آئین کو جزوی یا کلی طور پر معطل یا منسوخ کرنے والا سزائے موت کا حق دار تھا۔

            ٭ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے آئینی مدت پوری ہونے سے قبل ہی مارچ 1977 میں انتخابات منعقد کئے۔ حزبِ اختلاف نے حکومت پر قومی اسمبلی کے انتخابات میں وسیع پیمانے پر دھاندلی کے" الزامات" عائد کیے اور صوبائی انتخابات کا بائیکاٹ کردیا۔ جلسے جلوس اور ہنگامے شروع ہو گئے۔ موسم ساز گار دیکھتے ہوئے 5جولائی1977 کو جنرل ضیاءنے مارشل لا نافذ کر کے آئین معطل کر دیا۔ گرچہ ظاہر یہ کیا گیا کہ آئین کے چند حصے ہی معطل کئے گئے ہیں ( ان معطل حصوں میں دفعہ : 6 یقینا شامل تھی)۔

            ٭24مارچ 1981 کو چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر،جنرل ضیاءکی طرف سے عبوری آئینی حکم ( یا بدنام زمانہ پی۔ سی ۔او) مجریہ 1981 جاری کیا گیا۔ ایسا کرنے کی ضرورت اس لئے محسوس ہوئی تھی کہ اعلیٰ عدالتیں ، مارشل کورٹس کے فیصلوں پر نظر ثانی کر رہی تھیں۔ اب اس حکم کی دفعہ : 2کے تحت 1973کے آئین کی چند دفعات کے علاوہ تمام آئین کو معطل کر دیا گیا۔ اسی حکم کی دفعہ: 16 کے تحت صدر اور چیف مارشل لا ایڈمنسٹر یٹر نے آئین میں ترمیم کے اختیارات بھی حاصل کر لئے۔

            ٭جنرل ضیاء تقریباً پونے چار برس جزوی طور پر معطل شدہ آئین سے کام چلاتے رہے۔ 24 دسمبر1981 کو انہوں نے مجلس شوریٰ کے قیام کا اعلان کیا۔ ان کا خیال تھا کہ اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے آئین میں کچھ بنیادی تبدیلیاں ضروری ہیں ۔ لہٰذا، ملک کو ایک نیا سیاسی ڈھانچہ دینے کے لیے تین کمیٹیاں قائم کی گئیں ۔ (i) کابینہ کمیٹی، (ii) اسلامی نظریاتی کونسل کی کمیٹی؛ اور (iii) مجلس شوریٰ کی کمیٹی۔ فروری 1983 میں ایک اور خصوصی کمیٹی مقرر کی گئی۔ 2 اپریل 1983 سے جولائی 1983 کے دوران اس کمیٹی کے پانچ اجلاس ہوئے۔ 16مئی 1983 کے اجلاس میں اس کمیٹی نے ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا۔ اس کمیٹی نے 1983 کے آئین میں درج صدراور وزیراعظم کےاختیارات میں توازن پیدا کرنے، اوراسلامی سیاسی ڈھانچے کی روشنی میں سیاسی جماعتی نظام کے قیام کے لیے سفارشات پیش کرنی تھیں ۔ اس کمیٹی نے 8 جون 1983 کو اپنی رپورٹ خصوصی کمیٹی کو پیش کی۔

            ٭مگر جنرل ضیاءان کمیٹیوں کی رپورٹوں سے مطمئن نہ ہوئے۔ انھوں نے تمام کمیٹیوں کی رپوٹوں کا جائزہ لینے اورجامع سفارشات کی تیاری کے لیے ایک آئینی کمیشن ، قائم کر دیا ۔ کمیشن کے سربراہ مولانا ظفراحمد انصاری تھے۔ انھوں نے 6 اگست1983 کو کمیشن کی سفارشات پر مبنی رپورٹ جنرل ضیاء کوپیش کی۔ اس کمیشن نے غیرجماعتی بنیادوں پرانتخابات کی سفارش کی تھی۔ 12اگست 1983 کوجنرل ضیاء نے مجلس شوریٰ کو بتایا کہ ہمارے پاس تین راستے تھے: (i) 1973 کے آئین کو بحال رکھا جائے؛ (ii) اسے منسوخ کر دیا جائے؛ (iii) اسے کچھ ترامیم کے ساتھ بحال رکھا جائے۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے تیسرا راستہ اختیار کیا ہے۔ کیونکہ پہلےدو راستوںمیں کئی خطرات پو شیدہ تھے۔ انھوں نےمجلس شوریٰ کو یقین دلایا کہ غیرجماعتی بنیادوں پرانتخابات اورانتقالِ اقتدار کا کام 23مارچ 1985 تک مکمل کرلیا جائے گا۔

            ٭اب اس تجویز کا چرچا بھی کیا گیا کہ پارلیمانی جمہوریت یا کسی اور جمہوریت کے بجائے اسلامی نظام جمہوریت، یعنی شوریٰ کریسی کے نفاذ کے لیےموجودہ نظام میں صدارتی انتخاب کا اضافہ کیا جائے۔ 14 اگست 1983 سے 'تحریک بحالی جمہوریت‘ کا آغاز ہو گیا۔ 1984 میں جنرل ضیاء نے ریفرنڈم یا صدارتی انتخاب کا چرچا کئے رکھا اور یکم دسمبر 1984 کو انھوں نے ریفرنڈم کااعلان کر دیا ۔ اس کے لیے ریفرنڈم آرڈر 1984 جاری کیا گیا۔ 19دسمبر 1984 کو ریفرنڈم ہوا ۔ اسے کسی بھی عدالت ، ٹریبیونل، یا اتھارٹی میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا تھا۔ اب جنرل ضیاء، صدرایوب، صدریحییٰ کی طرح صدر ضیا ہو گئے۔

            ٭12جنوری 1985 کو جنرل ضیاء نے انتخابات کے انعقاد کا اعلان کیا۔ 25 فروری کو قومی اسمبلی، اور28 فروری کو صوبائی اسمبلیوں کےانتخابات ہوئے۔ مارچ کے وسط میں سینٹ کے انتخابات کے بعد 23 مارچ 1985 کو غیر جماعتی بنیادوں پر منتخب، پارلیمنٹ کا اجلاس منعقد ہوا۔ جنرل ضیاء نےمحمد خان جونیجو کو وزیراعظم نامزد کیا اوران سے حلف لیا۔

            ٭2 مارچ 1985 کو جنرل ضیاء نے آئین کی بحالی کا حکم ، صدارتی حکم نمبر 14، مجریہ 1985 جاری کیا۔ اس حکم کی رو سے آئین کی متعدد د فعات میں تبدیلی یا ترمیم کی گئی۔ پھر تو یہ کام خوب چلا۔ 30 دسمبر1985 کو جنرل ضیاء نے مارشل لاحکم نمبر107 جاری کیا۔ اس کی رو سے 5 جولائی 1977 کے مارشل لا کے نفاذ کے حکم کو منسوخ کر دیا گیا۔ تاہم، چیف آف آرمی سٹاف کا عہدہ انھوں نے اپنے پاس ہی رکھا۔ 29 مئی 1988 کو جنرل ضیاء نے آئین کی دفعہ: B-2-58 کے تحت وفاقی کابینہ اور وزیراعظم جونیجو کوبرطرف کردیا اور قومی وصوبائی اسمبلیاں توڑد یں۔

            ٭آخر کار، 17اگست 1988 کو C-130 کے حادثےمیں جنرل ضیاء کی موت سے مارشل لا کا دور اختتام پذیر ہوا۔

            ٭سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق، 16نومبر 1988 کو دوبارہ جماعتی بنیادوں پرانتخابات منعقد ہوئے۔ حکومت بنی۔ پھر ٹوٹی۔ پھر بنی، پھر ٹوٹی، ماورائے آئین کئی اقدامات ہوئے۔ یہ سلسلہ یو نہی چلتا رہا۔ یہاں تک کہ 12 اکتوبر 1999 کو پاک فوج نے ایک مرتبہ پھر اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ شامت آئین کی ہی آئی کیونکہ طاقت اور آئین دونوں ایک دوسرے کے جانی دشمن ہیں ۔ آئین کو معطل کر دیا گیا اور وہی جنرل ایوب والا فارمولا دہرایا گیا کہ کاروبارمملکت مقدور بھر آئین کے مطابق چلایا جائے گا اور جہاں آئین رکاوٹ بنے گا یا روڑے اٹکائے گا اسے آئین نہیں سمجھا جائے گا۔ اس کا مطلب ہے کہ 12 اکتوبر1999 سے آئین ایک مرتبہ پھر سپریم نہیں ہے۔

            ٭مختصراً ، یہ کہ 24 اکتوبر1954 کو آئین ساز مجلس اور آئین کی تحلیل سے پیدا ہونے والا آئینی خلا مسلسل بڑھتا رہا ہے ۔ اسے پُر کر نا تو ایک طرف، خلا درخلا پیدا کیے جاتے رہے ہیں ۔ عدالتیں آئینی تسلسل کو تقویت دینےاورآئینی خلاﺅں کو دور کرنے کے بجائے ان پر مہرتصدیق ثبت کرتی رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کا ایک 'نا قابلِ حکومت‘ اور بے سمت ملک کہا جانے لگا ہے۔ اس کے اداروں نے ایک مو قع پرست شخص کی طرح اصول و اقدار اور قانون و آئین جیسی ہر شےکوتسلیم کر ناچھوڑ دیا ہے۔ نتیجتاً آئین کی بالادستی کی عدم موجودگی میں ملک مقتدر ہاتھوں میں ایک کھلونا بن کر رہ گیا ہے۔ یہی اس کی غیر آئینی تاریخ ہے۔

(یہ مضمون تین اقساط میں ہفت روزہ زندگی لاہورمیں جولائی - اگست 2000 میں شائع ہوا۔)