”اگر آپ آ زاد مارکیٹ پیدا نہیں کریں گے تو بلیک مارکیٹ پیدا ہو گی“
( لیتھونیا کی فر ی ما رکیٹ انسٹیٹوٹ کا ما ٹو)
خوراک کی قیمتوں پر کنٹرول ہر حکو مت کا مر کز ی نقطہ رہا ہے۔ چاہے با بل کا ہمورابی) 1760 قبل مسیح ) ہو یا روم کا شہنشاہ ڈائیو کلائٹین (284قام ) سب عوام کو کنٹرول نر خوں پر خوراک مہیا کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں لوگ حکم عدولی کرتے مگر ڈائیو کلائٹین اس حکم عدولی کو برداشت نہ کر تا اور مقررہ نرخ سے زیادہ پر خوراک فروخت کرنے والو ں کو مو ت کی سزا دیتا۔ ان ڈریکولائی اقدامات کی وجہ دو کا نیں خالی ہو گئیں اور ان بنیادی اشیاء کا کال پڑ گیا۔
پاکستان کی حکومتیں بھی چاہے وہ فوجی ہوں یا سول خوراک کی قیمتوں کے مسئلہ پر یہی کر تی رہی ہیں ۔ وہ الف سے لیکر ے تک خوراک کی پیداوار اور خوراک کی نقل و حمل کو کنٹرول کرتی ہیں ۔ یہ کنٹرول مختلف فصلوں کی بوائی، آبیاری ،کھاد ڈالنے سے لیکر فصلوں کی کٹائی ،انکے نرخ مقرر کرنے انہیں ہو ل سیل اور ریٹیل میں بیچنے تک کے عمل میں کار فرما ہو تا ہے۔ پھر وہ اجناس کی ایک صوبے سے دوسرے صوبے حتیٰ کہ ایک ضلع سے دوسرے ضلع تک نقل و حمل پر پابندی لگا دیتی ہیں۔ اس کے علاوہ در آمد برآمد پر بھی حکو مت کا کنٹرول ہو تا ہے۔
ان اقدامات کے نتائج ہر با ر حکومت کی مرضی کے خلاف برآمد ہوے ہیں۔ اور انکا فائدہ اشرافیہ کو پہنچا ہے۔ اور عوام گھا ٹے میں رہتے ہیں ۔ حکومت اور طبقہ اشرافیہ کے اس مجرمانہ گٹھ جوڑ کیوجہ سے فو ڈ مارکیٹ تباہ ہو ئی ہے۔ جس کا نتیجہ عوام کو خوراک کی قلت اور مہنگائی کی صورت میں بھگتنا پڑا ہے۔ جبکہ عوام کو یہ بتایا جاتا ہے اور عوام اس پر یقین بھی کر تے ہیں کہ یہ تا جر ہو ل سیلر ، ریٹیلر ذخیرہ اندوز ، سمگلر اور منافع خور طبقات ہیں جو قلت پیدا کر تا ہے اور بھاری منافع کمانے کے لیے قیمتوں میں اضافہ کر تے ہیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اصل مجرم حکومت ہے۔ یہ حکومت کی مینجمنٹ ہے جس کی وجہ سے لوگوں کو اسطرح کی قلت کا سامنا کر نا پڑ تا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ تاجروں ،ہول سیلروں ، ریٹیلروں کو ایک بند مارکیٹ میں کاروبار کر نا پڑ تا ہے جہاں پر کسی ایٹم کی طلب ہمیشہ اسکی رسد سے زیادہ ہوتی ہے۔اور یہ جاننے کے لے معاشیات کے بہت گہرے علم کی ضرورت نہیں کہ کسی ایٹم کی کم رسد اور زیادہ طلب اسکی قیمت میں اضا فے کا باعث بنتی ہے۔ اور یہ بھی اکنامکس کا بنیادی کلیہ ہے کہ فوڈ ایٹم کی طلب ہمیشہ ایک سی رہتی ہیں ۔ فوڈ ایٹم کی طلب میں زیادہ تبدیلی نہیں ہوتی جبکہ انکی رسد میں بہت سی و جوہا ت کی بناء پر کمی ہو سکتی ہے۔ ایسے وقت میں انکی قیمتوں میں اضافے کا رجحان دکھائی دے سکتا ہے۔مگر پاکستان میں فی الحال ایسا وقت نہیں آیا۔
اور جہاں تک ذخیرہ اندوزوں ،امنافع خوروں اور سمگلروں کا تعلق ہے تو وہ ہمارے محسن ہیں ۔ وہ آخر کار ہمیں فائدہ پہنچاتے ہیں۔ اور آڑے وقت میں ہمیں وہ چیز مہیا کرتے ہیں۔ جنکی ہمیں ضرورت ہوتی ہے۔ بعض صورتوں میں تو وہ ہمیں اچھی کو الٹی کی اشیاء کم قیمت اور کوالٹی اشیاء مہیا کر تے ہیں ۔ جو کہ مقا می طور پر بنی ہوئی اشیاء سے کم قیمت ہو تی ہیں ۔ وہ قیمتیں اپنی مرضی کی لگاتے ہیں کیو نکہ اشیاء کو ذخیرہ کرنے سٹور کرنے اور ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے کے عمل میں کئی خطرات ہو تے ہیں ۔ اور کسی حادثے کی صورت میں انکا ذخیرہ شدہ مال ضائع ہو سکتا ہے۔ کسی اور غیر متوقع طور پر رسد میں اضافہ ہو جانے کی صورت میں انکے منافع کمانے کے امکانات بھی محروم ہو سکتے ہیں ۔ بعض دوسرے عوامل کی وجہ سے انکو متو قع منافع سے بھی محروم ہو نا پڑ سکتا ہے۔ مگر حقیقت یہی ہے کہ کسی چیز کی طلب میں اضافے کے نتیجے میں اس کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں ۔
خوراک کے معا ملے میں حکومت جسطرح کی طرز عمل کا مظاہرہ کرتی ہے وہ بہت تباہ کن ہے ۔ حکومت کی اتنی ایجنسیاں اور ادارے ہیں جو زراعت کی نگرانی کرتے ہیں ۔ اور فصلوں کی بوائی اور کھاد وغیرہ کے استعمال کے بارے میں تجاویز دیتے ہیں ۔ وہ ملک میں مختلف فصلوں کی متوقع طلب کو سا منے رکھ کر پیداوار کا اندازہ لگاتے ہیں اور فصلوں کی کٹائی کے وقت امدادی قیمت مقرر کر کے اسکی قیمتو ں کو کنٹرول کر تے ہیں ۔پھر وہ ان اشیا ء کی ایک مخصوص مقدار خرید لیتے ہیں تاکہ مقامی مار کیٹ میں قلت کے وقت بھی یہ اشیاء ملتی رہیں ۔تو کیا یہ ذخیرہ اندوزی نہیں؟ جس کی مرتکب خود حکومت ہوتی ہے۔ پھر حکومت ان اشیاء کی نقل و حمل پر نظر رکھتی ہے اور اسے مخصو ص علاقوں تک محدود کر دیتی ہے۔ چاہے یہ صوبہ ہو یا ضلع ۔
مگر ان سب کا کیا فائدہ ان سب اقدامات کے باوجود حکومتیں عوام کو کم قیمتوں پر زیا دہ سے زیادہ خوراک مہیا کر نے کا مقصد حاصل نہیں کر پاتیں۔ یہ تمام ایجنسیاں اور ان تمام اقدامات کا نتیجہ فوڈ مارکیٹ کی تباہی کی صورت میں نکلتا ہے۔ راشن کارڈوں ، یوٹیلیٹی کمپنیوں ، حکومت کے یو ٹیلیٹی سٹوروں اور آٹا سپلائی کر نے والے ٹرکو ں کے سامنے لمبی قطاروں سے بڑھ کر فوڈ مارکیٹ کی تباہی کی علامتیں اور کیا ہوں گی؟
خوراک کے موجودہ بحران نے حکومت کی انتظامی کمزوریوں کو واضح کر دیا ہے۔ جیسا کہ دوسرے مضامین میں بھی واضح کیا گیا ہے ۔ حکومت نے پہلے تو گندم کی پیداوار کا اندازہ کہیں زیادہ لگایا جس کی بنیاد پر اس کی بر آمد کی اجازت دے دی گئی۔ پھر ظاہر ہے کہ مقامی مارکیٹ میں گندم /آ ٹے کی قلت پیدا ہو نا تھی۔ اور پھر حکومت نے زیادہ قیمت پر گندم کی بر آمد شروع کر دی یہ حکومت کی بد انتظامی کی انتہا تھی کہ اس نے اس موقع پر ہمسایہ اور دوسرے ممالک سے گندم کی آزادانہ بر آمد کی اجازت دینے کی بجائے ایسے اقدامات اٹھائے جس نے فوڈ مارکیٹ کو بر با د کر کے رکھ دیا ۔
چو نکہ حکو متی ایجنسیاں مقامی فلور ملوں کو گندم کی سپلائی کو کنٹرول کر تی ہیں ۔ لہذا آٹے کی " سمگلنگ " کو روکنے اور مقا می ما رکیٹ کو ضرورت کے مطابق آٹے کی فراہمی برقرار رکھنے کیلئے فلور ملوں میں پیراملٹری فور سسز اور رینجر کے سپاہی بٹھا دیے گئے۔ یہ ظالمانہ اقدام فلور ملوں کی ایک اور نیشنلائزیشن کے مترادف تھا۔ ان اقدامات نے مل مالکان کو خوفزدہ کر دیا اور کاروبار کرنے کی انکی آزادی کو محدود کر دیا۔ اس سے افغانستان کو آٹے کی " سمگلنگ"تو نہ رکی تاہم مقامی مارکیٹ میں اس کی قیمتں ضرور بڑھ گئیں۔
جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ اکنامک پالیسیوں کو ٹھوس شکل اختیار کرنے اور متوقع نتائج دینے میں وقت لگتا ہے۔ لہذا اینٹی مارکیٹ پالیسیوں کے سو سال بعد آج ہم اس مقام پر کھڑ ے ہیں کہ بنیادی فوڈ آیٹمز کی سپلائی میں اضا فہ کرنے یا انکی قیمتوں پر کنٹرول کرنے کے تمام حکومتی اقدامات نے الٹ نتائج دینا شروع کر دیے ہیں خوراک کا موجودہ بحران پچھلے سال کے وسط سے شروع ہوا اور ہم سب اس حقیقت کے گواہ ہیں کہ کوئی بھی حکومتی اقدام عوام کو ریلیف دینے میں کامیاب نہیں ہوا۔ فوڈ آیٹمز خصوصاً گندم / آٹے کی قلت مستقل ہے۔ قیمتوں کا رجحان اضافے کی طرف ہے اور عام آدمی کو ریلیف کی کوئی صورت دکھائی نہیں دیتی۔
اس مشکل وقت میں ہر کوئی جاننا چاہتا ہے کہ آگے ہمارے مقدر میں کیا ہے ؟ کیا خوراک کی قیمتوں میں یہ مسلسل اضافہ ہمارا مقدر ہے ؟ کیا خوراک کی قلت ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ہمارا مقدر بن چکی ہے؟ اور ہمیں ہمیشہ اس قلت کے ساتھ دینا ہو گا یا اس کا کوئی حل بھی ہے؟
انیسویں صدی کے پہلے نصف میں فرنچ اکانومسٹ فریڈرک باستیا نے ہمیں بتایا ہے کہ پیرس کے باشندوں کو جس چیز کی ضرورت ہوتی وہ مارکیٹ کسی مر کزی منصوبہ باز کی مداخلت کے بغیر انہیں فراہم کرتی تاجر پیرس کے باشندوں کی ضرورت پوری کرنے کیلئے دنیا کے کونے کونے سے ہر چیز لے کر آتے۔
تو کیا یہ بات حیرتناک بلکہ مضحکہ خیز نہیں کہ آج اکیسویں صدی میں اور ایک ایسی دنیا میں جہاں اتنی زیادہ خوراک پیدا کی جاتی ہے اور جہاں یہ اتنے زیادہ کاشتکار اور تاجر حضرات اپنا مال دوسرں کو بیچنے کیلئے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں ،پاکستانی عوام کو قلت کا سامنا ہے انہیں اپنے پیسوں کی درست مارکیٹ پرائس نہیں مل رہی اور انہیں زیادہ قیمت پر فوڈ آیٹمز مہیا کی جا رہی ہیں صرف اس لیے کہ مرکزی منصوبہ ساز یعنی حکومت پاکستان انہیں زبردستی ضروری فوڈ آیٹمز دوسرے ممالک سے خریدنے اور اپنا مال غیر ملکی مارکیٹوں میں فروخت کرنے سے روک رہی ہے۔کسی کو بھی اپنی رقم کی صیح قیمت وصول کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ ایک ایسی دنیا میں جہاں سیاسی حد بندیاں اور ان حدبندیوں کے منصوبہ سازوں اور مینجروں کی بد انتظامیاں قحط سے ملتی جلتی خوراک کی قلت پیدا کر رہی ہیں ۔ کیا اس میں بجث کی کو ئی گنجائش ہے؟ کہ ایک ضلع یا صوبے میں گندم / آ ٹے کی قلت ہے اور دوسرا صوبہ یا ضلع اس آئیٹم کی آزادانہ نقل و حمل پر پابندی لگا رہا ہے؟ کیا اس میں بحث کی کوئی گنجائش ہے کہ ایسی دنیا میں جہاں خوراک کی بہتات ہے مگر ہم اس کی قلت کا سامنا کر رہے ہیں ؟ کسی بحث کی ضرورت نہیں یہ بقاء کا مسئلہ ہے ۔
ان حالا ت جس امر کی فوری ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ حکومت فوڈ سپلائی کا انتظام بلکہ بد انتظام نہ کرے حکومت اپنا کنٹرول ڈھیلا کرے اور فوڈ مارکیٹ کو آزادانہ کام کرنے دے اس کے نتیجے میں کاشتکاروں کو مارکیٹ سے صیح سگنل ملیں گے یعنی انہیں یہ پتہ چلے گا کہ مارکیٹ میں کس چیز کی طلب زیادہ ہے اور زیادہ منافع دے گی اس سے کھانے پینے کی اشیاء کی پیداوار کو تقویت ملے گی اس کے ساتھ حکومت کو چاہیے کہ وہ کھانے کی اشیاء کی درآمد اور بر آمد کیلئے سرحدیں کھول دے مگر ایسا نہ ہو کہ اس سے ایک اور طرح کا " لائسنس راج "شروع ہو جائے ۔ بلکہ درآمدی اور برآمدی لائسنس جاری کرنے کی شفاف پالیسی اختیار کی جائے اور اس پر عمل کیا جائے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ فوڈمارکیٹ کو اس کی فطری صورت میں بحال کر دینے سے سارے پاکستان کا پیٹ بھرے گا اور اس سے تھوڑے عرصے میں فوڈآیٹمز کی سپلائی اور انکی قیمتوں میں بھی استحکام پیدا ہو گا۔