( میری گولڈ واٹر ۔ امریکی سیاستدان اور سینٹر)1909-1998))

            کہا جاتا ہے کہ حکومت تنقید کا کامل ترین ہدف ہوتی ہے یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں کہ آج کل پاکستان میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہدف تنقید ہے اور یقینا اسے تو اقتدار سے باہر ہوتے ہوئے بھی ہدف تنقید ہوناچاہیے۔ تاہم تنقید کا اصل ہدف پاکستان مسلم لیگ( ن) کو ہونا چاہیے یہ آرٹیکل اس نکتے کی وضاحت کرے گا جہاں تک 18فروری کے الیکشن سے پہلے اور بعد میں گزشتہ 7ماہ کے دوران رونما ہونے والے واقعات میں پاکستان پیپلز پارٹی کی سیاست کا تعلق ہے تو یہ بات بغیر کسی شک و شبے کے ثابت ہو چکی ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی طبقہ اشرافیہ کیساتھ اتحاد کرنے کے اپنے معمول کے راستے پر چل رہی ہے۔ یہ جنرل مشرف اور سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ کی پالیسیوں کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ کو ئی بھی مسلہ اٹھا کر دیکھ لیں آپ دیکھیں گے کہ پیپلز پارٹی پرویز مشرف کے راستے پر چل رہی ہے اور اس کے جیسے طرز عمل کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ بلکہ پیپلزپارٹی تو ہر وہ چیز حاصل کرنے کیلئے تیار ہے بلکہ حاصل کر بھی رہی ہے جو مشرف چاہنے کے باوجود حاصل نہ کر سکا۔ اب تک پیپلز پارٹی کی سب سے بڑی کامیابی قانون کی حکمرانی کی تحریک کا انکار ہے۔ افتخار چوہدری سمیت 3نومبر 2007سے پہلے والی عدلیہ کی بحالی سے انکار ہے اسکے ساتھ پیپلز پارٹی 3نومبر 2007کو معزول کیے جانے والے معتدد ججوں کی بحالی سے بھی انکاری ہے۔ اور ایسا کرتے ہوے وہ فوری عوامی ردعمل کاخیال بھی نہیں کر رہی۔

 

            پیپلز پارٹی کی دوسری بڑی کامیابی یہ ہے کہ اس نے دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ کو پوری طرح اپنی جنگ بنا لیا ہے۔ پیپلز پارٹی کے شریک چیرمین اور پاکستان کے صدر جناب آصف علی زرداری اپنے پہلے دورہ امریکہ کے دوران امریکی انتظامیہ کو اپنی محبت کا یقین دلانے میں تمام حدیں پار کر گئے جنرل پرویز مشرف شکار کا کردار ادا کرنا پسند کرتے تھے جبکہ پیپلز پارٹی اس شکاری کتے کا کردار ادا کر رہی ہے جو ہمیشہ مالک کے آگے چلتا ہے۔ جہاں تک داخلی دہشت گردی کے خلاف جنگ کے میکانزم کا تعلق ہے تو پیپلز پارٹی اس عملی ، بے عملی یا دونوں کی ملی جلی پالیسی کے ذریعے اس کا بیڑہ غرق کر رہی ہے۔ اکنامک محاذ پر چھ ماہ کا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی کوئی ایسی سنجیدہ بات سامنے نہیں آئی جسے مثبت کہا جا سکے اس کی بجائے پستی کا سفر ہے جو جاری ہے۔

 

            لہذا بدنظمی ، اقربا ء پروری اور بد عنوانی کی اپنی سیاست کے ساتھ پیپلز پارٹی کی حکو مت خود کے جنرل مشرف کی پراکسی گورنمنٹ کے طور پر پیش کر رہی ہے ۔ یقینا اپنے اعمال اور بد اعمالیوں کی وجہ سے پیپلز پارٹی کی حکومت بجا طور پر تنقید کا سامنا کر رہی ہے دوسری طرف یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ سیاست کے اس کھیل میں پاکستان مسلم لیگ (ن)پر داد و تحسین کے ڈونگرے کیوں برسائے جا رہے ہیں کہ یہ اصولی سیاست کر رہی ہے یہ کہ اپنی سیاست میں استقلال کا مظاہرہ کر رہی ہے اور یہ کہ اس نے اپنے انتخابی وعدوں یعنی معزول ججوں کی بحالی کے وعدے کی خاطر وفاقی وزارتیں قربان کر دی ہیں اور اپنے مقصد کے حصول کیلئے وہ اس حد تک چلی گئی ہے کہ اس نے پی پی پی سے اپنی راہیں تک الگ کر لی ہیں اور یہ کہ مسلم لیگ (ن) اسی نوحے کی دہائی والی انتقامی سیاست نہیں کر رہی یعنی یہ پارٹی پیپلز پارٹی کی حکو مت کو کمزور کر نے والے کسی عمل میں حصہ نہیں بنے گی۔ یہ پیپلز پارٹی کی حکو مت کو گرانے یا ختم کرنے کیلئے کوئی سازش نہیں کرے گی گویا یہ پیپلز پارٹی کو پورا موقع دے رہی ہے کہ وہ جو چاھے کرے۔ یہ کہ مسلم لیگ(ن) پی پی کے مینڈیٹ کا احترام کرتی ہے اور چاہے گی کہ وہ اپنا 5سالہ عرصہ بحفاظت پورا کرے اور یہ کہ وہ جہاں مناسب سمجھے گی پیپلز پارٹی کا ساتھ دیگی یہ کہ اس نے جنرل مشرف کو اقتدار سے الگ کرنے کیلئے پیپلز پارٹی کا ساتھ دیا یہ کہ کسی ایسے عمل کی حمائت نہیں کرے گی جس سے ایک عوامی حکومت کو اقتدار سے محروم کیا جا سکے یعنی مسلم لیگ (ن) چارٹر آف ڈیموکریسی پر عمل کر رہی ہے۔ یہ سب سننے میں بہت عظیم ا لشان اور پاکستان کی سیاسی حرکیات کے سیاق و سباق میں تھوڑا الگ سا لگتا ہے مگر کیا واقعی ایسا ہے ہو سکتا ہے ایسا نہ ہو کیونکہ ایک اور نقطہ نظر ہے جو مسلم لیگ (ن) کی سیاست کی دوسری کہانی پیش کرتا ہے یہ مسلم لیگ (ن) کی سیاست کو در پیش بعض اندرونی و بیرونی مجبوریوں کی داستان سنا تا ہے ۔ ان مجبوریوں کو نواز شریف شہباز شریف یا انکے قریبی رفقاء ہی جانتے ہیں مگر ہم تجزیہ کر سکتے ہیں کہ واقعات کسطرح پیش آئے اور کس طرح آگے بڑھ رہے ہیں اسطرح ہم تجزیےکی مدد سے اصل کہانی تک پہنچ سکتے ہیں مثلاً 6 ستمبر کےصدارتی انتخابات میں اگرمسلم لیگ (ن) پیپلز پارٹی کے امیدوار آصف زرداری کو ٹف ٹائم دینا چاہتی تو اس نے جسٹس (ر) سعیدا لزماں صدیقی کو اپنا صدارتی امیدوار نامزد کیوں کیا؟ کیا وہ زرداری کو آسانی سے جیتنے کا موقع دینا چاہتی تھی؟ کیا اسکا امیدوار بھی مسلم لیگ (ق) کے امیدوار کی طرح جس کیلئے مسلم لیگ (ق) نے بڑی پرُ جو ش مہم چلائی محض خانہ پرُی کے لیے تھا۔ مسلم لیگ (ن) کے اس اقدام نے ہمیں پیپلز پارٹی کے اس طرز عمل کی یاد دلادی جس سے اس نے نومبر 2007کے صدارتی الیکشن میں صدر مشرف کو جیتنے میں مدد دی اس تقابل میں مسلم لیگ (ن)کہا ں کھڑی ہے؟ وہ کیا مجبوری تھی جس نےمسلم لیگ (ن) کوصیح اقدام سے روکے رکھا؟

 

            معزول ججوں کی بحالی کے ایشو پر مسلم لیگ (ن) کا موقف اور اسکی کوشش قابل تعریف ہیں مگر کیا وہ اتنا کچھ ہی کر سکتی تھی کیا اس کا عمل یہی ہونا چاہیے تھا کیا اسے یہی کرنا چاہیے؟ یقینا سٹریجٹی کے لحاظ سے پیپلز پارٹی کو مذاکرات کی میز پر لانا اور پرویز مشرف کی معزول کردہ عدلیہ کی بحالی کیلئے معاہدے پر دستخط کروالینا بڑی بات تھی۔ مگر کیا لکھے الفاظ اور وہ بھی زرداری جیسے انسان کے الفاظ پر اعتماد پر لینا کافی تھا۔ مسلم لیگ (ن ) کو مری /بھوربن معاہدے پر معاف کیا جاسکتا ہے کیونکہ یہ پہلا ڈنگ تھا۔ مگر اسے زرداری کے ساتھ دوسرے معاہدے پر جسے زرداری نےایک بار پھرتوڑ دیا،معاف نہیں کیاجاسکتا۔ اس بات کا اعتراض کیا جا سکتا ہےکہ اس وقت یہ بات کہنا اس وقت عمل کرنے سے نہیں آسان ہے مگر میرا استدلال مختلف ہے کیا معاہدوں پر دستخط کر کے انتظار کرنا کہ وہ ان معاہدوں پرعمل درآمد بھی کریں گے کافی تھا مسلم لیگ (ن) کے پالیسی ساز اس قدر کمزور سہارے پر کیوں کھڑے تھے وہ کچھ لو اور کچھ دو کے کھیل کو کیوں نہ سمجھ سکے۔ دراصل مسلم لیگ (ن) نے بھاری غلطی کی کہ اس نے مرکز میں پیپلز پارٹی کی حکومت بنوانےمیںمدداورپی پی کے وزیراعظم کو اعتماد کے ووٹ کی نقد رقم (ہارڈ کیش) دیکر بدلے میں اس سے محض دستخط شدہ معاہدے (مری / بھوربن/ اسلام آباد/لندن کے معاہدے) حاصل کیے۔

 

            یہ ہو بھی سکتاہے اور نہیں بھی ہو سکتا کہ انکو مرکزی وزارتوں کا لالچ تھا،مگر یہ با لکل اسی طرح ہوا جسطرح نہیں ہونا چاہیے تھا۔ اس کے علاوہ مسلم لیگ (ن) جیسی پارٹی کیلئے یہ بعیدازقیاس ہے کہ وہ دستخط شدل معاہدوں کی ایک ایسی سنجیدہ دستاویز سمجھ لے جو بڑی اور خواہش کے مطابق تبدیلی کے آئے گی۔ راجہ ظفر ا لحق ،جاوید ہاشمی اور خواجہ آصف جیسے لو گوں کو پاکستانی سیاست کی فریب کارانہ فطرت سے آگاہ ہونا چاہیے اورخاص طور پر زرداری سے معاملات طے کرتے وقت زیادہ محتاط ہونا چاہیے تھا۔ ہم اس بات کو یہیں چھوڑتے ہیں انہوں نے غلطی کی مگر کیا انہیں یقین تھا کہ وہ ان معاہدوں پرعمل درآمد کرانے کیلئے، سٹریٹ ایجیٹیشن یا دوسرے ذرائع سے دباؤ ڈالنے کیلئے ہوم ورک کررہے ہیں۔ میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ مسلم لیگ (ن) نے کس بھولپن سے ان معاہدوں پر اعتماد کر لیا۔

 

            اب ذرا لانگ مارچ کی مثا ل لیں اس میں بحث کی گنجائش نہیں کہ مسلم لیگ (ن) نےخود کو اس سے الگ رکھا۔ اور نہ ہی اس میں بحث کی گنجائش ہے کہ مسلم لیگ (ن) اسے بڑا اشو بنا سکتی تھی اور پیپلز پارٹی کی حکومت کو یہ پیغام بھیج سکتی تھی کہ اگر اس نے معزول ججوں کہ بحال نہ کیا تو وہ کس حد تک جا سکتی ہے۔ مزید برآں آخری معاہدےکی مدت گزر جانے کےبعد مسلم لیگ(ن) نےخود کوقانون کی حکمرانی کی تحریک سے الگ کرلیا ہے۔ یہ اس تحر یک کو اس طرح مضبوط نہیں کر رہی جس طرح اسے کرنا چاہیے تھا۔ اس کی کیا مجبوریاں ہیں؟ اس کے پیچھے کیا راز ہے ؟ ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں میں صرف اس واحد نکتے پر بحث کرنا چاہوں گا جو مسلم لیگ (ن) کی انتخابی مہم کی بنیاد تھا ۔کہ وہ ان ججوں کہ بحال کرے گی جن کو پرویز مشرف نے 3نومبر 2007کو اپنی جعلی صدارت بچانے کیلئے معزول کر دیا تھا۔

 

            میں یہ دیکھنا چاہتا ہوں کہ وہ کتنے خلوص اور کتنی قوت کیسا تھ اس مقصد کے حصول کیلئے کوشاں ہے یہاں یہ بات بتا دینا بھی ضروری ہے کہ یہ صرف ایک وعدہ ہی نہیں بلکہ یہ وہ واحد راستہ ہے جس پر چل کر ہم اس ملک میں قانون کی حکمرانی ، آئین کی بالادستی ، آزاد عدلیہ اور پاکستانی عوام کے بنیادی حقوق کو یقینی بنا سکتے ہیں ۔ اس وعدے کی اہمیت یہ ہے کہ اگر مسلم لیگ (ن) نے ججوں کی بحالی اور آئین کی سترہویں ترمیم کے خاتمے کیلئے وہ سب کچھ نہ کیا جو وہ کر سکتی ہے تو یہ سلو پوائزننگ کے ذریعے موت کے برابر ہو گا پیپلز پارٹی کے برعکس سوچے سمجھے قتل ہونے کا راستہ اختیار کیا ہے۔

 

            ہذا ہم ایک بار پھر مسلم لیگ (ن) سے پوچھتے ہیں کہ کیا وفاقی وزارتوں سے علیحدگی کافی تھی کیا کولیشن گورنمنٹ سے علیحدگی کافی تھی ؟ کیا قومی اسمبلی میں اپوزیشن کی نشستوں پر بیٹھنا کافی تھا؟ کیا مسلم لیگ(ن) اپنے وعدے کو پورا کرنے کیلئے اور کچھ نہیں کر سکتی تھی یا کر سکتی تھی؟ یا وہ صرف لوگوں کو سامنے اپنے نمبر بڑھا رہی ہے ؟ پچھلے چند ماہ کے واقعات پرایک طائرانہ نظر ثابت کرتی ہے کہ مسلم لیگ(ن) پی پی حکومت کے سلیپنگ پارٹنر کا کردار ادا کر رہی ہے وفاقی وزارتوں سےعلیحدگی کولیشن گورنمنٹ سے علیحدگی اور اپوزیشن بنچوں پر بیٹھنے جیسے اس کے تمام اقدامات بے عملی کانمونہ ہیں پی پی حکومت کا خاموش پارٹنر بن کر مسلم لیگ(ن) بھی ان جرائم کے الزامات اپنے سر لے رہی ہے جو پیپلز پارٹی کر رہی ہے۔ پیپلز پارٹی کی حکومت کو اپنی مرضی کے مطابق سب کچھ کرنے کی اجازت دینے کا مطلب ان سب باتوں پر مہر تصدیق ثبت کرنا ہے جو وہ کر رہی ہے یا وہ کرنے جا رہی ہے ۔پیپلز پارٹی کی حکومت کو مضبوط بنا کر وہ در اصل پرویز مشرف کے غیر آئینی اقدامات کو جائز قرار دے رہی ہے۔ مسلم لیگ(ن) کی ساری سیاست کا مطلب یہ ہے کہ وہ معزول ججوں کی دوبارہ اپوائنمنٹ ،پیپلز پارٹی کی طرف معزول ججوں کی بحالی اور سترھوں ترمیم کے خاتمے سے انکار اور NRO جیسے دوسرے اقدامات کی خاموش حمائت کرتی ہے ۔ مختصراً یہ کہ مسلم لیگ(ن) جنرل مشرف کے غیر آئینی اقتدار میں اٹھائے گئے تمام اقدامات کو جائز قرار دیتی ہے۔ اس کے علاوہ اسکا مطلب یہ بھی ہے کہ وہ پیپلز پارٹی کی طرف سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکی پالیسی پر عمل کرنے پر بھی اس کے ساتھ ہے۔ اور یہ بات خود مسلم لیگ (ن) کی اس ضمن میں اپنی پالیسی کےبالکل برعکس ہےمعاشی میدان میں بھی اسکا مطلب یہ ہےکہ جو کچھ پیپلز پارٹی کے مینجر کر رہے ہیں یا جو بگاڑ پیدا کر رہے ہیں مسلم لیگ (ن) اس کی منظوری دے رہی ہے۔

 

            اس ساری بحث کا نتیجہ یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کی حکومت کی طرف مسلم لیگ (ن) کی امن پالیسی (ٹھنڈپالیسی ) جو کہ سوچی سمجھی ہے یا حالات کے مطابق اختیار کی گئی ہے ، اصولی سیاست کے اس کے دعووں کو مشکوک بنا رہی ہے۔ یہ حیران کن ہے کہ مسلم لیگ (ن) ان اصولوں کو سپریم اور قابل عمل کیسے سمجھتی ہے جو پاکستانی آئین کے مطابق نہیں اور جو اس سے اخذ شدہ نہیں یہ بڑے مخمصے والی بات ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی سیاست کو کس طرح اصولی سیاست قرار دیا جا سکتا ہے اگر یہ صرف پی پی حکومت کے غیر آئینی اقدامات کو سپورٹ فراہم کر رہی ہے ۔ مسلم لیگ (ن) اور اس کے حامیوں کی اس بات پر یقین کر لینا ایک بڑی حماقت ہو گی کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) ایک مختلف پار ٹی ہے اور یہ کہ وہ پیپلز پارٹی کی طرح کسی دوسرے ذرائع سے اقتدار حاصل کرنے کیلئے کوشاں نہیں جیسا کہ پیپلز پار ٹی نے کیا ہے وہ اقتدار حاصل کر نے کیلئے اپنی باری کا انتظار کر رہی ہے اس موقع پر ہم بے نظیر کے اس بیان کا حوالہ دے سکتے ہیں جو انہوں نے چارٹر آف ڈیموکریسی پر دستخط کرتے وقت دیا تھا کہ پہلے ہم حکو مت کریں گے اور اس کے بعد نواز شریف ۔

 

            تاہم مسلم لیگ (ن) اس وقت واقعی ایک مختلف پار ٹی ہے تو اسے یہ بات ثابت کرنی چاہیے اسے پی پی حکومت کی طرف اپنی موجودہ پالیسی ترک کر دینی چاہیے۔ اسے یہ خوف اتار دینا چاہیے کہ حکومت کے خلاف آئینی جدو جہد کے نتیجے میں ان پر اسی اور نر حے کی دہائی جیسی انتقامی سیاست کرنے کا الزام لگ جائے گا یا اس کے نتیجے میں فوجی بغاوت ہو جائے گی یا اس کے نتیجے میں وہ پنجاب میں حکومت سے محروم ہو جائے گی (دونوں صورتوں میں وہ پنجاب حکومت سے محروم ہو گی) مسلم لیگ (ن) کو واضح کر دینا چاہیے کہ وہ ایسے کسی ٹیک اوور کی ڈٹ کر مخالفت کر ے گی اسے پیپلز پار ٹی حکومت یا کسی دوسرے فریق کی جانب سے تمام غیر آئینی اقدامات کے خلاف دلیرانہ موقف اختیار کر نا چاہیے نہ صرف مختلف فورموں پرزبانی موقف بلکہ گلیوں اور مارکیٹوں میں اس مو قف کو عملی شکل بھی دینی چاہیے اسے چاہیے کہ وہ عوام کے پاس جائے انہیں اعتماد میں لے اور پاکستان کو واپس آئین کی حکمرانی کے دور میں لانے کیلئے ان کی حمائت حاصل کر نی چاہیے۔بیری گولڈ واٹر کے الفاظ میں جن کا حوالہ اوپر دیا گیا ہے میں مسلم لیگ (ن) کو یاد دلانا چاہوں گا کہ پاکستان کے آئین کے تحفظ کیلئے انتہا پسندی برائی نہیں اور انصاف، آزاد عدلیہ اور قانون کی حکمرانی کے حصول کی جدو جہد میں اعتدال پسندی کوئی نیکی نہیں ۔