کیر و لین بو ئن

د نیا میں کل 850 بلین لوگ دائمی بھو ک کا شکا ر ہیں۔ جبکہ بھو ک ا و ر افلا س دونو ں کے ہاتھو ں روزانہ پچیس ہزار لوگ ہلا ک ہو جا تے ہیں۔ اس ہولنا ک المیے کی یاد دلا نے کیلےٴ اقوام متحدہ کی فو ڈ اینڈ ایگر یکلچر آگنائیز یشن (FAO) نے 16اکتو بر کو سا لانہ خو را ک کا د ن منا یا ۔ اس کا نعرہ تھا" خوراک کا حق"(خوراک سب کیلےٴ) مگر FAOکو چاہیے تھا کہ وہ ان حقو ق سے زیادہ تو جہ دیتی جو بے زمین کاشتکار وں /کسا نو ں شہری کچی آ بادیو ں میں رہنے والو ں اور انتہا ئی غریب کیلےٴ اہم ہے۔ یعنی جائیداد/ پراپر ٹی بنانے جائیداد خریدنے اور بیچنے کا حق اور قو می اور بین ا لا قوامی سطح پر آزاد تجا رت کا حق۔

 

16اکتوبر کو منا ئے جانے والے خوراک کے عا لمی دن کے ارادے بلا شبہ نیک تھے مگر یہ نیک ارادے بھو ک افلاس اور قحط کی اصل وجو ہا ت پر توجہ دینے میں ناکام رہے FOAڈائیر یکٹر پاک ڈی اوف نے بڑے جزباتی انداز میں سوال کیا"اگر ہماری زمین اتنی خوراک پیدا کر تی ہے جو اس پر رہنے والے تمام انسانو ں کا پیٹ بھر نے کیلےٴ کافی ہے تو پھر 850ملین لوگ بھوکے پیٹ کیوں سوتے ہیں؟"

اس کا جواب ہے حکومتوں کی تباہ کن پالیسیاں ہیں۔

بہت سی حکومتوں نے کسانو ں اور بھوک کے مارے لو گوں کے نام پر زراعت کو اپنے کنٹرول میں لےرکھا ہے جس کا نتیجہ محض یہ نکلا ہے کہ زراعت کو نقصان پہنچا ہے اور یہ غیر منافع بخش بن گئی ہے۔ فوڈ مار کیٹنگ بورڈوں کے قیام ،تجارت پر عائد پابندیوں اور بھاری ٹیرف کے نتیجے میں کسان زیادہ غریب ہوئے ہیں،فصلوں کی پیداوار میں کمی واقع ہوئی ہے اور صارفین کو نقصان پہنچا ہے۔ان پابندیوں کی وجہ سے کسان اپنی پیداوار کو منافع کی خاطر نہیں بیچ پاتے اور نتیجے میں کسان اور صارف دونوں بھوکے رہ جاتے ہیں قحط اور خوراک کے بحرانوں کے موقع پر حکومتوں کی طرف سے عائد کی گئی ان بے جا پابندیوں کی وجہ سے انسانی صحت اور زندگی کو پہنچنے والے نقصانات زیادہ نمایاں ہو جاتے ہیں۔  

گزشتہ سال کینیا میں پڑنے والے قحط کے دوران ملک کے مغر بی حصے میں فصلیں بہت زیادہ تھیں جبکہ ملک کے شمالی حصے کے عوام بھوک سے مر رہے تھے۔یہ انوکھی بات نہیں اور اگر مارکیٹوں کو آزادانہ کا م کرنے کا موقع نہ دیا گیا اور ان کے پیروں سے حکومتی پالیسیوں کی زنجیریں نہ ا تار ی گئیں تو ایسا ہو تا رہے گا۔تجارتی پابندیوں کی وجہ سے زرعی ادویات کھادوں اور ہایئبریڈ بیجوں جیسی زرعی ٹیکنالوجی تک کسانوں کی رسائی ناممکن ہو جاتی ہے۔ اس زرعی ٹیکنالوجی کے وجہ سے کمر توڑ محنت میں کمی ہو جاتی ہے اور فصلوں کی پیداوار بڑھ جاتی ہے۔ افریقی صحارا کے ذیلی میدانوں میں کھیتی باڑی کر نے والے کسانوں کو صرف کھیتوں سے جڑی بوٹیاں تلف کرنے میں ساٹھ سے ایک سو بیس دن لگتے ہیں۔

افریقی صحارا میں زراعت پر درآمدی ٹیرف دنیا میں سب سے زیادہ ہے اوسطاً 33.6 فیصد ٹیرف کی وجہ سے زرعی اشیاء کی قیمتیں اس قدر بڑھ جاتی ہیں کہ وہ عام آدمی کی پہنچ سے دور ہو جاتی ہیں۔افریقی کسانوں کو کھاد باقی دنیا کے مقابلے میں چھ گنا مہنگی خریدنا پڑتی ہے۔پچھلے سال جو ن میں منعقد ہونے والی ابو جافر ٹیلائزرسمٹ میں افریقی یونین کے چالیس سے زیادہ سربراہان مملکت نے متفقہ طور پر فیصلہ کیاکہ "فوری اقدام کے طور پر کھاد اور کھاد کے خام پر تمام ٹیرف اور ٹیکس ختم کرنے کی تجویز دی۔

اس بات کو ایک سا ل سے بھی زیادہ عرصہ گزر چکاہےمگر اس ضمن میں پراگریس کی کو ئی رپورٹ نہیں۔ تما م زرعی اشیاء کی علاقائی تجارت پر عائدپابندیاں دنیا میں سب سے زیاد ہ ہیں ۔بھوک نے زندگی کے تمام شعبوں پر اثرات مرتب کیے ہیں۔ مناسب اور غذائیت سے بھر پور خوراک کی عدم دستیابی کی وجہ سے لوگ کام کرنے ، اپنے خاندانوں کی کفالت کرنے، سکول جانے اور بیماریوں کے خلاف مزاحمت کرنے کے قابل نہیں رہے۔نام نہاد فوڈ سکیورٹی حاصل کرنے کیلئے ضروری ہے کہ لوگوں کو اس بات کا حق اور آزادی حاصل ہو کہ وہ اپنی اور اپنے لواحقین کی ضروریات پوری کر سکیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ زراعت میں مداخلت بند کرے اور خود کفالت کی ناقابل حصول منزل کیلئے کوشش ترک کر کے ا تنا سوچے کہ انسان اس وقت زیادہ سے زیادہ ذمہ دار اور اہل ہو تے ہیں جب وہ آزاد ہوتے ہیں۔

اگر کسانوں کو جائیداد بنانے اسے خریدنے اور بیچنے کا حق حاصل ہو گا تو وہ اپنی زمین پر زیادہ وقت اور زیادہ پیسہ لگائیں گے۔اگر کسانوں کو یقین ہو گا کہ ان کی محنت اور سر ما ئے سے حاصل ہو نے والا منافع ان کے پا س رہے گا تو وہ زرعی ٹیکنا لو جی کا استعمال بھی کر یں گےزمین کا ما لک ہونےکی وجہ سے کسان اپنی زمین کے بدلےبینکو ںسےقرضہ حا صل کرسکیں گے اور اس کے سا تھ کسا ن نیا کارو با ر شرو ع کر سکیں گے اپنے موجودہ کا رو با ر کو بہتر بنا سکیں گے یا محض اپنی اور لو ا حقین کی بہتر صحت ،تعلیم اور حالا ت کی بہتری کو یقینی بنا سکیں گے۔