ڈاکٹر خلیل احمد 

انصاف کو ایک طرف رکھ دیں تو پھر مملیکتں ڈاکوؤ ں کے عظیم جتھوں سے سوا کیا ہیں آخر ڈاکوؤں کے جتھے چھوٹی چھوٹی مملکتوں کے سوا کیا ہیں؟ ڈاکو ؤ ں کو جتھوں میں کمانڈر اپنے ماتحت کام کرنے والوں کو ہدایات دیتاہے ان کے گروہ مل کر حلف اٹھاتے ہیں اور مال غنیمت کو ایک قانون کے تحت ایک دوسرے میں بانٹتے ہیں اور اگر یہ ڈاکو اس قدر طاقتور ہو جائیں کہ وہ قلعوں میں رہ سکیں رہائش گاہیں بنائیں اور شہروں کے مالک بن جائیں اور اپنی ہمسایہ قوموں کو فتح کر لیں تو پھر ان کی حکومت کو ڈاکوؤں کا جتھہ نہیں کہتے بلکہ ان کو سلطنت کے نام سے پکارتے ہیں اس لیے نہیں کہ انہوں نے اپنا دھندا چھوڑ دیا ہے بلکہ اس لیے کہ اب وہ یہ دھندا قانون کے خوف کے بغیر کرتے ہیں ۔ ( سینٹ آگسٹائین سیٹی آف کاڈ بکء)

ہمارے سیاستدانوں کو ایک آئین پر متفق ہونے اور اسے روبہ عمل لانے میں 25سال لگتے ہیں اور پھر اگلے سالوں میں ہم پوری کوشش کرتے ہیں کہ اس سے رو گردانی کریں ۔1973ء سے پہلے ہم آئینی طوائف اطلوکی کے ویرانے میں ٹھیک رہے تھے جبکہ اس کے بعد سے ہم آئینی قبرستان میں زندگی بسر کر رہے ہیں ۔   

  یہ دونوں حالتیں پاکستان کے عوام کے مفادات کیلئے مساوی طور پر نقصان دہ ہیں جہاں تک طبقہ اشرافیہ کا تعلق ہے اس کیلئے یہ کوئی زیادہ خطرناک نہیں وہ ان حالات سے لطف اندوز ہوتے ہیں بلکہ ان حالات میں پھلتے پھولتے ہیں حال ہی میں آئین کی نیم معطلی کے دوران اس طبقے نے پاکستان پر اپنا قبضہ جما لیا اور اسے اشرافیہ کی ریاست میں بدل دیا جس پر دراصل سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ کی حکومت تھی۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ کسطرح آ ئین کو طبقہ اشرافیہ کے مفاد کیلئے استعمال کیاگیا ۔اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ آئین کے ہونے یا نہ ہونے سے پاکستان کے عام لوگوں پر کوئی فرق نہیں پڑتا ان دونوں ادوار میں نہ تو انصاف تک انکی رسائی تھی اور نہ ہی انکے بنیادی حقوق محفوظ تھے اور نہ ہی انکی آزادی کو تحفظ حاصل تھا۔  

پچھلے سال مارچ میں عدلیہ کی بحالی کی تحریک کے ذریعے اور متحرک میڈیا کی وجہ سے انصاف اور بنیادی حقوق (شخصی آزادی) کا مسئلہ عام آدمی کی توجہ کا مرکز بنا۔انہیں اس با ت کا احساس ہوا کہ قانون کی حکمرانی ،انصاف تک رسائی اور بنیادی حقوق کے تحفظ کیلئے انہیں ایک آزاد عدلیہ اور آئین کی کس قدر ضرورت ہے۔ عوام نے جلی حروف میں دیوار پر لکھا یہ سبق بھی پڑھ لیا کہ یہ اسٹیبلشمنٹ اور اس کے اتحادی یعنی پاکستان کا طبقہ اشرافیہ ہے جنہیں آئین،آ زادعدلیہ، قانون کی حکمرانی اور پاکستان کے عام شہری کے بنیادی حقوق کے تحفظ کی ضرورت نہیں۔  

اب فروری انتخابات اور اسکے بعد رونما ہونے والے واقعات کے جلوس میں تاریخ ایک بار پھرخود کودھرا رہی ہے ایک بار پھر سیاستدانوں خصوصاً پاکستان پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کے سیاستدانوں نے اسٹیبلشمنٹ سے گٹھ جوڑ کر لیا ہے۔ اصل مجرم پیپلز پارٹی ہے جس نے آئین کی گردن پر چھری چلائی ہے اور اسے دفن کر کے اسکی قبر پر موجودہ "جمہوری حکومت"کامحل تعمیر کیا ہے۔ پارٹی کے لیڈروں، ارکان صوبائی و قومی اسمبلی اور پیروکاروں نے بے لگام طاقت کے حصول کیلئے اپنی اعلیٰ قیادت کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے آئین کو پس پشت ڈال دیا ہے۔    

پچھلے کئی سالوں میں سیاستدانوں کو بدعنوان طاقت کا پجاری نااہل اور نالائق کہنا کلیشے بن چکا ہے کہا جاتا ہے کہ طاقتور ایلیٹ کلاس سیاستدانوں کو بے جا نشانہ بنا رہی ہے ہو سکتا ہے کہ سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ نے اپنے غیر آئینی اقدامات کو چھپانے کیلئے ایک باقاعدہ مہم کے ذریعے سیاستدانوں کو بدنام کیا ہو مگر کون کہہ سکتا ہے کہ غیر فوجی حکمران گناہگار نہیں وہ بے قصور ہیں۔ پیپلزپارٹی کی موجودہ حکومت جوکہ ایک غیر آئینی انتظام کےتحت وجود میں آئی اور جو سابقہ غیر آئینی آمرانہ حکومت کا ہی تسلسل ہے نے بار بار دہرائے جانے والے کلئیے کی صداقت کو ثابت کر دیا ہے۔ میں پھر ایک بار زور دے کر کہتا ہوں کہ یہ ہمارے سیاستدانوں میں جو کہ عوام کے غدار ہیں وہی ہیں جو آئین کے قتل میں ہاتھ بٹاتے ہیں جو آئین کو زمین میں دفن کرنے میں اسٹیبلشمنٹ کا ساتھ دیتے ہیں ۔ یہ سیاستدان ہی ہیں جو آئین کی قبر پر ایک جمہوری حکومت کا محل تعمیر کر نے میں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ گٹھ جوڑ کر تے ہیں۔  

1973سے ہم بار بار یہ منظر دیکھتے رہے ہیں کہ ہم ہر بار ایک نئے "عوامی جمہوری "دور میں داخل ہوتے ہوئے کٹے پھٹے زخمی آئین کا علم اٹھاتے ہیں فوجی آمروں کے غیر آئینی اقدامات کو اینڈیمنی دیکر انہیں محفوظ راستہ دیتے ہیں 1973کے آئین کے نفاذ کے فوری بعد ملک کو آئین دینے کی دعویدار پارٹی نے خود ہی اس آئین کا تمسخر اُڑایا اور1977 میں جب ایک فوجی آمر نے ملک میں مارشل لاء نافذ کیا تو سیاستدانوں نے اسےخوش آمدید کہا اور اس کے ساتھ ہاتھ ملا لیے وہ مجرمانہ انداز میں آمر کی قائم کردہ ایک نیم جمہوری حکومت کو "سچی جمہوریت"کا بہروپ دینے کیلئے اس میں شامل ہو گئے اور 1999میں ایک بار پھرجب کوئی دوسرا فوجی ڈکٹیر آئین کو مسمار کرتا ہے تو یہ سیاستدان خود کو اسکی خدمت میں پیش کر دیتے ہیں ڈکٹیٹر شپ کی چھتر چھاوٴں میں ایک اور نیم جمہوری حکومت وجو د میں آتی ہے اور وہی ڈرامہ ایک بار پھر دہرایا جاتا ہے ۔    

ایک بار پھر 2008میں یہ سیاستدان ہی ہیں جو اس اسٹیبلشمنٹ کو مضبوط بنانے کیلئے اسکے اتحادی بنے ہوئےہیں جس کی گرفت پاکستانی حکومت اورریاست پرعد لیہ بحالی کی تحریک کی وجہ سے کمزور پڑ گئی تھی۔جو نہی پی پی نے حکومت حاصل کی وہ پاورگیم میں شامل ہونے کیلئے تیار ہو گئی الیکشن سے پہلے ہی وہ ڈکٹیٹر کے ساتھ بدنام زمانہ ڈیل میں ملوث تھی یہ ڈیل پاکستان کی تاریخ میں بدترین قانون سازی کانمونہ تھی جسے NRO کہا جاتا ہے ۔ پیپلز پارٹی نے عوام سے غداری کی ہے وہ 1970-71 سے بھی زیادہ خوفناک اور بڑی مہلک ہے اس بار وہ تباہ ہوتی اسٹیبلشمنٹ کو زوال سے بچارہی ہے یہ ملک میں چلنے والی پہلی حقیقی ، جمہوری، عوامی اور آئینی تحریک یعنی عدلیہ بحالی کی تحریک کو کچل رہی ہے۔ یہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کا ساتھ دے رہی ہے تاکہ وہ پاکستان ریاست پر اپنے اقتدار کو مضبوط کر سکے۔ یہ ایک ایسے آئین کو تسلیم کررہی ہے جس نے دوبار آئین کو معطل کیا جس نے پاکستان میں انصاف کو تباہ کرکے رکھ دیا اس سے بڑا جرم کیا ہو سکتا ہے جرم میں ساتھ دینا اور اس کا جواز فراہم کرنا حقیقی جرم جتنا ہی قابل تعزیر جرم ہو تا ہے۔  

ان حالات میں اس حکومت سے کسی قسم کی توقعات وابستہ کرنا بچگانہ فعل ہو گا۔ یہ دن کی روشنی میں خود کو دھوکہ دینے کے برابر ہو گا مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ اس وقت یہاں ان حماقتوں کا ایک سمندر ٹھاٹھیں مار رہا ہے۔ اس حماقت کا شکار ہونے کی بجائے وقت کا تقاضہ ہے کہ دو چیزوں کو اپنی جدوجہد کا مرکز بنائیں ایک تو وہ در نایاب ہے جسے لوگ افتخار چوہدری کے نام سے جانتے ہیں اور پاکستان کے عزت مآب چیف جسٹس ہیں اور دوسری چیز وہ قیمتی دستاویز ہیں جسے ہم 1973کے آئین کے نام سے پہچانتے ہیں آج کل اس تاریکی میں یہ دونوں چیزیں مینارہ نورکے برابر ہیں ۔یہ دو چیزیں ہی ہمیں اس تاریکی سے نکالے اور آگے بڑھنے کاراستہ دکھائیں گی۔