پاکستان میں ایک نئی جمہوریت کا ظہورا ہورہا ہے ۔ اسے ”نراجی جمہوریت“ کا نام دینا مناسب ہی نہیں، درست بھی ہو گا ۔

اگر چہ جمہوریت کی یہ قسم ابتدا سے ہی پاکستان میں اپنا ڈول ڈالے ہوئے ہے، لیکن اسے ایک جدا اورمتمیز صورت پاکستان پیپلز پارٹی کی موجودہ حکومت کے آغاز سے نصیب ہوئی ہے ۔ تاہم، یہ بات شروع میں ہی واضح ہوجانی چاہیے کہ اس میں پیپلز پارٹی کی حکومت کا کوئی قصور نہیں ۔ اور اس کا سبب یہ ہے کہ پیپلز پارٹی جو کچھ اب کر رہی ہے، یہ کوئی نئی چیز نہیں ۔ یہ تو اس کا پرانا وطیرہ ہے: یعنی روایات، قواعد و ضوابط، قوانین، آئین، اور پھر اداروں کی تضحیک وتباہی، ہمیشہ سے اس کا امتیاز ی وصف رہی ہے ۔


سو، جموریت کی یہ نئی قسم اصلاً دانشوروں، رائے عامہ پر اثر رکھنے والوں، میڈیا پر دسترس رکھنے والوں، تجزیہ کاروں، کالم نگاروں، اور اسی قبیل کے متعدد ”مفکروں“ کی تخلیقی اُپج کی مرہون ِمنت ہے ۔ گو کہ اس نوع کی سوچ، جیسا کہ اوپر ذکر ہوا، اس قسم کی جمہوریت کے وجود کے ساتھ ہمیشہ سے موجود رہی ہے، لیکن اس کا اظہار جس شد ومد سے گذشتہ چند ماہ سے ہو رہا ہے، ایسا پہلے نہیں تھا ۔ اس سے یہ نتیجہ نکالنا بجا ہو گا کہ جمہوریت کی یہ قسم اب پک کر تیار ہوگئی ہے، اور اس کا نوٹس لینا ضروری ہے ۔
 

مجھے یاد ہے، یہ پی، این، اے، یعنی پاکستان نیشنل الائینس، کے احتجاج کے دن تھے ۔ اور کچھ دوستوں کا گروہ اس احتجاج میں پوری طرح شامل تھا ۔ اس سے کچھ عرصہ پہلے، دوستوں کا یہ گروہ پیپلز پارٹی کے جھنڈے تلے سستایا کرتا تھا ۔ لیکن 1977 کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کی دھاندلی کے ”جھرلو“ نے اسے مخالف کیمپ میں دھکیل دیا تھا ۔ اور اس کے بعد جب جولائی میں جینرل ضیا کا مارشل لا وارد ہوا، تو یہ گروہ ایک مرتبہ پھر پیپلز پارٹی کے ساتھ نظر آرہا تھا ۔ اس گروہ کے چند ارکان ایک روز ایک دوست کے گھر جمع تھے ۔ ان دوست کے والد سے سیاسی نوک جھونک ہوئی ۔ وہ اس گروہ کی سیاسی وابستگیوں کی تاریخ سے واقف تھے، اور ان کے ایک جملے نے اس گروہ کی حقیقت کو چھانٹ کر رکھ دیا: آپ تو نہ پیپلز پارٹی کے ساتھ ہیں، نہ اس کے مخالف، آپ لوگ تو مظلوم پسند ہیں ۔

تو اس نئی جمہوریت کی تہہ میں مظلوم پسندیت کی مٹی کی خاصی مقدار بھی شامل ہے ۔ اسی لیے تو جب سپریم کورٹ نے حاضر سروس وزیر ِاعظم کو نااہل قرار دیا، تب سے ہی اس جمہوریت کے مفکرین جوش ِ جہاد سے بولائے پھِر رہے ہیں ۔ اور جمہوریت کی یہ نئی قسم اپنی صورت شکل کے میک اپ میں لگی ہوئی ہے ۔ بلکہ جمہوریت کی اس نئی قسم کو ہنگامی طورپر نظریاتی بنیادیں مہیا کی جا رہی ہیں ۔ یہ بنیادیں اس مفروضے پر کھڑی ہیں کہ جمہوریت ایک مکمل اورخود کفیل نظام ِحکومت ہے ۔ اس سے مراد یہ ہے کہ جمہوریت، اپنا مقصود خود ہے، یعنی یہ مقصود بالذات ہے ۔ یہ کسی اور برتر مقصد کے حصول کا ذریعہ نہیں ۔ اور پھر یہ کہ جمہوریت، ہر مسئلے کا حل ہے، اور یہ خود کچھ اورنئے مسائل کو جنم نہیں دیتی ۔ یہ ایک ایسا علاج ہے، جس کے کوئی سائیڈ ایفیکٹ (نقصانات ) نہیں ۔ اور فرض کریں اگر اس سے کچھ مسائل، یا سائیڈ ایفیکٹ، یا تکالیف پیدا ہوتی بھی ہیں، تو اس میں خود یہ صلاحیت موجود ہے کہ یہ ان کی تصحیح کر لیتی ہے، یا ان کا علاج، یا حل ڈھونڈ لیتی ہے ۔ مختصرا ً، یہ کہ جمہوریت، نسخہ ءکیمیاہے؛ ہر بیماری کا تیر بہدف علاج ہے ۔ یہ ایک مکمل نظام ہے ۔

اس نئی جمہوریت کی نظریاتی تشکیل کا بیڑا، اگر سیاست دانوں کے طرف سے اٹھایا جاتا، تو بات سممجھ میں آتی تھی ۔ اور وہ تو اول دن سے یہی کہہ رہے ہیں، اور اسی کہے کے مطابق کرتے چلے آ رہے ہیں کہ وہ روایات، اخلاقیات، آئین، قانون، اور قواعد و ضوابط سے مبریٰ بھی ہیں اور ماورا بھی ۔ وہ خود آئین اور قانون ہیں ۔ خود اصول ہیں، خود قاعدہ اور خود ضابطہ ہیں ۔ مگر اچنبھے کی بات یہ ہے کہ یہ ’’شاہانہ دعویٰ“ کسی اور سمت سے منضبط ہوا ہے ۔ میں اسے کسی سازش کا شاخسانہ کہنے سے اجتناب کروں گا، اوراوپر بتائے گئے مفکرین، وغیرہ، کو ملوث کہنے سے بھی پرہیز کروں گا، اور صرف اس دعوے کے نتائج و عواقب پر ایک نظر ڈالنا چاہوں گا ۔

ایک بات تو یہ صاف ہو نی چاہیے کہ جمہوریت سمیت، یا یوں کہہ لیجیے کہ اس کی تمام اقسام سمیت، اور اس کے علاوہ دوسرے تمام نظامات، کسی بھی صورت مکمل اور خودکفیل نہیں کہے جا سکتے ۔ ایسے نظام اگر کہیں اور سے بھی اُترے قرار دیے جائیں، یا سمجھے جائیں، تب بھی وہ انسانوں کے بیچ آ کر مکمل اور خود کفیل نہیں رہتے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہر وقت اور ہر مقام پر انھیں بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ ان پر نظر اور نگرانی کی بندشیں لگانا ناگزیر سے بھی زیادہ ناگزیر ہوتا ہے ۔

یہی وجہ ہے کہ نظام ِ حکومت کو تین شاخوں پرمشتمل تعمیر کیا جاتا ہے ۔ اور ان تین شاخوں میں سے اصل اختیارآئین اور قانون کے نگران کے پاس ہوتا ہے ۔ اسے یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ اصلا ً یہ چونکہ آئین اور قانون کی حکومت ہوتی ہے، (پارلیمینٹ کی حکومت یکسر نہیں، جیسا کہ سیاست دانوں اور ان کے نظریہ دانوں کا دعویٰ ہے)، اور یوں اختیار اس شاخ کے پاس چلا آتا ہے، جس نے آئین اور قانون کی تشریح و تعبیر کرنی ہوتی ہے ۔ یہاں یہ بات مسلمہ سمجھی جاتی ہے کہ اس تشریح وتعبیر میں غلطی ہوسکتی ہے، لیکن اس غلطی کے ازالے کے لیے کوئی اور برتر ادارہ، یا برتر نظام وضع نہیں کیا گیا ۔ بلکہ اس کے لیے گنجائش یوں پید ا کی گئی کہ عدالت کی ہرتشریح و تعبیر پر رائے زنی کے حق کوعام کر دیا گیا ۔

پاکستان کا پارلیمانی نظام بھی اس سے جدا کوئی آسمانی نظام نہیں ۔ اس کی جمہوریت بھی قطعاً مکمل اور خود کفیل نہیں ۔ اور اگر گذشتہ ساٹھ پینسٹھ برس نہیں، تو پچھلے تیس برس تو اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ پاکستانی جمہوریت، نظر اور نگران کے بغیر اشرافی اور شہری دشمن جمہوریت رہی ہے ۔ یہ کسی آئین، قانون کی متابعت میں آنے کے لیے تیار نہیں ۔ یہ کتنی عجیب بات ہے، اور اس سے بھی بڑھ کر، کتنی عجیب دلیل ہے کہ جمہوریت کی بیماریوں کا علاج، مزید جمہوریت تجویز کیا جاتا ہے ۔ دوسرے الفا ظ میں یہ کہ بیماری کا علاج، مزید بیماری ہے ۔ یہ تمام دلائل جس چیز پر منتج ہوتے ہیں، وہ یہ ہے کہ آئینی جمہوریت کوئی چیز نہیں ہوتی ۔ بس جمہوریت، جمہوریت ہوتی ہے ۔

اس نئی جمہوریت کے دعوے دار کسی قاعدے، ضابطے، آئین اور قانون کو خاطر میں لانے کو تیار نہیں ۔ وہ خود جمہوریت کو ایک برتر قدر قرار دے رہے ہیں ۔ ان کا یہی انداز ِ نظر پاکستانی تاریخ کی اولین آزاد عدلیہ کو جمہوریت کی افزائش کے راستے کی رکاوٹ گردان رہا ہے ۔ یا یوں کہہ لیجیے کہ وہ جمہوریت کے تحت، یا جمہوریت کے لیے ایک ایسی عدلیہ کا تصور رکھتے ہیں، یا ایک ایسی عدلیہ چاہتے ہیں، جیسی بغل بچہ عدلیائیں اب تک پاکستان میں پلتی رہی ہیں ۔ اور جیسی عدلیہ خودصدرِ پاکستان، آصف علی زرداری کا ماڈیل رہی ہے، یعنی ”ڈوگر کورٹ“ جیسی عدلیہ ۔

مزید یہ کہ اگر دوافراد پر مشتمل کوئی بھی تنظیم یا انجمن بنائی جاتی ہے، تو اس کے بھی کچھ نہ کچھ قاعدے اور ضابطے وضع کیے جاتے ہیں، اور غایت یہ ہوتی ہے کہ افراد کی خواہشات کے بجائے، اسے قاعدوں اور ضابطوں کے مطابق چلایا جائے ۔ اور جیسا کہ حکومت کو انجمنوں کی انجمن کہا جاتا ہے، توکیا اسے چلانے کے لیے، قطع نظر اس سے کہ نظام ِ حکومت کوئی بھی اور کیسا بھی ہو، کیاکسی قاعدے اور ضابطے کی ضرورت نہیں ہو گی ۔ نئی جمہوریت کے علمبرداروں کا استدلا ل یہی ہے کہ جمہوریت خود ایک ایسا قاعدہ اور ضابطہ ہے، جس کے لیے کسی اور قاعدے، اور کسی اورضابطے کی ضرورت نہیں ۔ یہ نراجی جمہوریت نہیں تو اور کیا ہے!

آخرا ً، میں یہ کہنا چاہوں گا، گوکہ میں یہ بات نہیں کہنا چاہتا تھا، کہ یہ نراجی جمہوریت کس کے فائدے میں رہے گی، اور کس کے نقصان میں ۔ پاکستان کی چھ دہائیوں کی تاریخ بتاتی ہے کہ ابتدائی نصف دور کی غیر آئینی جمہوریت، اور بعد کے نصف دور کی آئینی جمہوریت نے، نہ صرف پاکستان کے اشرافی طبقات کوتشکیل دیا اور مضبوط کیا، بلکہ پاکستان کی ریاست پر ان کے قبضے کوبھی ممکن بنایا ۔ اور اس کا فائدہ تو اشرافی طبقات ہی کو ہوا ۔ نتیجہ سامنے ہے کہ پاکستا ن کی ریاست، سیاست اور حکومت پر ریاستی اشرافیہ چڑھی بیٹھی ہے ۔ اور یہ کسی صورت پاکستان میں آئین اور قانون کی حکومت کو برداشت کرنے کو تیار نہیں ۔ یہی سبب ہے کہ اشرافی طبقات سپریم کورٹ کی معمولی کوتاہیوں کو بھی گناہ ِعظیم بناکر پیش کر رہے ہیں، اور ان کے حواری، اشرافیہ نواز طبقات، سب کے سب، لٹھ لیے سپریم کورٹ کے پیچھے دوڑ پڑے ہیں ۔ کیونکہ نراجی جمہوریت میں ان سب کی بھلائی ہے!

یکم جولائی 2012