جمہوریت یا قانون کی حکمرانی 

مصنف ڈاکٹر خلیل احمد 

ترجمہ سردار حسین

 

جمہوریت یا قانون کی حکمرانی کا وقت آگیا ہے کہ پاکستان کے لوگ اس بات کا فیصلہ کریں کہ وہ جمہوریت چاہتے ہیں یا قانون کی حکمرانی ۔


سپریم کورٹ کے این۔آر۔او کے فیصلے کی شق 6 میں لکھا ہے: ریاست کے تینوں ستونوں مقیننہ ، انتظامیہ اور عدلیہ میں آئینی توازن بالمقابل اختیارات کی تقسیم ایک نہائیت ہی نازک مسئلہ ہے اور اگر کسی صورت حال میں انتظامیہ عدلیہ کے آخری فیصلے پر عمل کرنے کی بجائے اسے خاطر میں نہ لائے اور اس سلسلے میں کسی بھی حد تک جانے کے لئے تیار ہو تو ایسی صورتحال میں عدلیہ انتظامیہ پر اپنے فیصلے کے نفاذپر اصرار کرنے اور اس طرح آئینی ڈھانچے کے انتشار کا خطرہ مول کی بجائے کورٹ عدالتی ضنط کا مظاہرہ کرتے ہوئے خطا کار کے معاملے سے مناسب طرح سے نپٹنے کا مسئلہ معاملہ ملک کے لوگوں یا پارلیمنٹ میں موجود ان کے نمائندوں پر چھوڑ سکتی ہے کیونکہ بحیثیت مجموعی آئین اور اس سے متعلقہ جتنے بھی ادارے ہیں ان کے مالک عوام ہیں اور ایسی صورت حال آسکتی ہے جب بہتر یہ ہو کہ جب لوگ خود ایسے ضدی عناصر کو آئین کی پاسداری پر مجبور کریں ۔ بہتر ہو گا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین 1973 کے دیباچہ میں درج متعلقہ الفاظ یہاں دھرائے جائیں : ہم پاکستان کے عوام قومی اسمبلی میں اپنے نمائندوں کے ذریعے سے اس آئین کے اختیار اور نفاذ کو خود اپنے سپرد کرتے ہیں۔


مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ وقت آنے ہی والا تھا ۔ جب سے موجودہ سیاسی جمہوری حکومت نے اقتدار سنبھالا ہے اورجمہوریت کی لازمی شرائط جن میں سب سے اہم اور پہلی قانون کی حکمرانی کی مسلسل نفی کر رہی ہے ۔

 

کہ کوئی بھی سیاسی پارٹی جو کہ" عوامی خوشنودی" کا نظریہ ایک ایسی طاقتور جبلت ہے جو کی اپنے سرکش اور فسادی عارضی سیاسی پڑاوکی راہ میں کسی بھی روایت ، اصول، قدر اور قانون کو برداشت نہیں کرتا ہے۔ ایک" نظریہ عوامی خوشنودی" پر عمل کرنے والی سیاسی جماعت کی طرح پی پی پی کا مزاج بھی کبھی بھی ان اصولوں پر کار بند رہنے کا نہیں رہا حتیٰ کہ وہ بھی جو اس نے خود بنائے ہوں اور ان پر عمل کرنے کا وعدہ بھی کیا ہو۔ اس کی سب سے واضع اور بہترین مثال 1973 کا آئین ہے جس کی تشکیل کا سب سے زیادہ سہرا پی پی پی کے سر باندھا جاتا ہے۔ مگر یہی وہ جماعت ہے جو سب سے پہلے اس کو خاطر میں نہیں لائی تھی ۔حاصل مسئلہ یہ ہے کہ" عوامی خوشنودی" کا نظریہ کبھی بھی چاہے کچھ دیر کیلئے بھی کیوں نہ ہو، کبھی آئین اور قانون سے مطابقت نہیں کھاتا ہے۔


مسئلہ کی ایک اور خوبی یہ ہے کہ" عوامی خوشنودی" کا نظریہ کسی بھی آئینی یا دوسرے ادارے کو ماسوائے اپنے قائم کردہ انوکھے اداروں کے، نہ تو تسلیم کرتا ہے اور نہ ہی خاطر میں لاتا ہے۔ پی پی پی کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہے خاص طور پر سپریم کورٹ ، یا عموماََ اعلیٰ عدالتوں کے حوالے سے، الیکشن کمیشن آف پاکستان ، اعلیٰ تعلیمی کمیشن وغیرہ کے حوالے سے پی پی پی نے ان اداروں کو اپنے مقاصد ، چاہے وہ اچھے ہوں یا برے ، قانونی ہوں یا غیر قانونی ، آئینی یا غیر آئینی جنہیں وہ ہر صورت حاصل کرنا چاہتی تھی، کو رکاوٹ سمجھا تھا۔


نظریہ " عوامی خوشنودی" کی یہ ایک عجیب خوبی ہے: یہ نظریہ اس طرح اپنے آپ کو پیش کرتا ہے جیسے اس نے وہ تمام اصول اور قوانین اور ادارے جو یہ تشکیل دے رہاہے یا جن پر کاربند ہونے پر مجبور ہے، کو اپنے سم لیا ہو۔ پی پی پی کی موجودہ حکومت اور پارٹی کا رویہ کچھ مختلف نہیں ہے۔ صدر، وزیرِاعظم ، دیگر وزراء اور ان کے مقرر کردہ افسران کے بیانات اور اقدامات اسی نقطہ نظر کا جیتا جاگتا ثبوت ہیں ۔


پس وہ دن جب وزیرِاعظم اور بعد میں صدر نے حلف اٹھایا، بلکہ اس سے بھی بہت پہلے، یہ واضع تھا کہ اب وقت آگیا ہے کہ اس ادارے کے ذریعے جسے آئین خود اپنا نگہبان قرار دیتا ہے۔ جمہوریت اور قانون کی حکمرانی میں سے کسی ایک کو منتخب کرنے کا وقت آگیا ہے۔


اگر آئین پسندی کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے مگر یہ نقطہ نظر تجزیہ نگاروں میں واضع طور پرنہ صرف ایسے معاملات میں بلکہ تقریباََ تمام معاملات میں ہمیں خال خال ملتاہے۔ یہ صورت حال اب جمہوریت یا قانون کی حکمرانی میں سے کسی ایک کو منتخب کرنے کی صورتحال نہیں ہے۔ کون کہے گا کہ آئین اور قوانین پر عمل نہیں ہونا چاہئے؟ کوئی کہے گا کہ جمہوریت کا مطلب اصول، قوانین اور آئین کو روندنا ہے؟ کون کہے گا کہ جمہوریت کی پرورش قوانین اور آئین کی بھینٹ چڑھا کر ہونی چاہئے؟


ایسی جمہوریت جو اصولوں، قوانین اور آئین کا احترام نہیں کرتی اور انکا مذاق اڑاتی ہے ایک مجرم جمہوریت ہی ہوسکتی ہے۔ بلکل اسی طرح کی جیسی کہ پاکستان میں ہے۔ جمہوریت خواہ اسکی کوئی بھی تعریف کی جائے قانون کی حکمرانی کو مضبوط کرتی ہے اور اسے کرنا بھی چاہئے ۔قانون کی حکمرانی کے بغیر جمہوریت بلکل اسی طرح ڈاکوؤں کا ایک عظیم جتھہ ہے جیسے سینٹ آگسٹائن نے کہا تھا کہ کوئی بھی سلطنت عدل کے بغیر ہو۔


پس سوال یہ نہیں ہے کہ جمہوریت اور قانون کی حکمرانی میں سے کسی ایک کا انتخاب کیا جائے بلکہ قانون کی حکمران کے نفاظ کا ہے۔ قانون کی حکمرانی کو محفوظ بنانے سے جمہوریت محفوظ ہو گی لیکن اگر قانون کی حکمرانی کو قربان کر دیا گیا تو جمہوریت " نظریہ عوامی خوشنودی" کے نشہ میں سرشار لوگوں کی حکمرانی میں تبدیل ہو جائے گی۔

 

یہ مضموں مختلف انگریزی روزناموں میں چھاپ چکاہے۔