حکو متیں کیسے ختم ہوتی ہیں اور آزادی (انفرادی) کی سمت کیسے لوٹا جائے ؟


ویک لیف کلاس نے یہ خطاب مانٹ پیلرین سوسائٹی کی علاقائی کانفرنس بمقام فیص مراکو میں بتاریخ21اپریل2012 کو کیا۔

 

ترجمہ: اظہر صدیقی


جناب ریکٹر صاحب ، مونٹپالیرن سو سائٹی کے معزز ممبر ان اور مہانِ گرامی ، خواتین و حضرات میں اس دعوت کے سلسلے میں آپ کا بہت مشکور ہوں ۔ میرے لیے اس جگہ ہونابہت ہی تحریک کا باعث ہے ۔ میں آج سے پہلے کبھی مراکش اور دُنیا کے اس خطے میں نہیں آیا اوراگر میں ابتدائی گھنٹو ں کا جائزہ ہ لوں جو میں نے یہا ں گزارے ہیں تو میں محسوس کر تاہوں کہ میرا یہ دورہ ناقابلِ فراموش ہونے کے ساتھ ساتھ سیکھنے کے عمل سے بھر پور ہو گا۔

 
مونٹپالیرن سوسائٹی (ایم۔ پی ۔ ایس)کا افریقہ کا پہلا علاقائی اجلاس میرے خیال میں ایک عظیم انقلابی واقع ہے ۔ اگر آپ مجھے اس موقع سے فائدہ اٹھانے کی اجازت دیں۔ توہم چیک لوگوں کے لیے بڑے اعزاز کی بات ہے کہ ہمیں ایم ۔ پی ۔ ایس 2012کے جنرل اجلاس منعقدہ پراگ کی میزبانی کا موقع دیا جا رہا ہے ۔ مجھے اُمید ہے کہ یہاں موجودہ کچھ افراد سے میری ملاقات اُس اجلاس میں ضرور ہو گی۔ ایم ۔ پی ۔ ایس ۔ کو نئے چہروں اور نئی نسل کی ضرور ت ہے تاکہ آج کے دور کے نئے خطرات اور چیلنجوں کا مقابلہ کیا جا سکے ۔ ہم سے اس بات کی توقع نہیں کی جاسکتی کہ ہم نصف صدی پہلے والا ایم ۔ پی ۔ ایس ۔ کا عظیم دور دوبارہ واپس لائیں ۔ کیونکہ اُس زمانے کے عظیم نام آج ہم میں موجو دنہیں ہیں۔ لیکن اس مجبوری کے باوجود ہمیں ان خطرات اور چیلنجوں کے حل پیش کر کے اپنے وجود کا احسا س دلانا ہو گا۔ میرا خیال تھا کہ جب میں نے اپنی آ ج کی تعارفی تقریر کے نوٹس تیار کرنے شروع کیے تو مجھے حیرانی ہو ئی کہ مجھے کس شخص نے میرے ابتدائی خطاب کا عنوان تجویز کیا۔ کیونکہ عنوان بہت ہی بے باک دکھائی دیتاہے۔ میں نے اس مشکل عنوان کو قبول کرکے بہت غلطی کی ہے کیونکہ میرے خیال میں’’بتدریج تبدیلی‘‘کے عمل کی کوئی سائنس نہیں ہوتی اور نہ ہو گی ۔ اس لیے کسی بھی عنوان پر سائنسی طورپر مربوط تقریر لکھنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے ۔

 
سب سے پہلی مشکل توعنوان خود ہے جبکہ دوسری مشکل کا تعلق عنوان کے دوسر ے حصے سے ہے ۔ کیادُنیا کے اس خطے میں واپس جانا کی ترکیب استعمال کرنا مناسب ہو گا؟ یعنی کیا یہ ، آگے بڑھنانہیں ہونی چاہیے ؟ جہاں تک میرے ملک میں کیمونزم کے زوال کے دور کا تعلق ہے تو بات مختلف ہے کیونکہ ہم 1920اور 1930کی دہا ئیوں میں یورپ کی انتہائی ترقی یا فتہ جمہوریتوں میں سے ایک جمہوریت میں رہتے تھے ۔ مصر ، تیونس یا شام کو واپس آزادی (انفرادی ) کی طرف جانا چاہیے ؟ کیا ان ممالک کی سیا سی تاریخ میں کوئی جمہوری دور ہے ۔ جس کو وہ دوبارہ واپس لائیں مجھے اس بارے میں کچھ یقینی علم نہیں ہے بہر حال میں اس نقطے کی طرف بعدمیں آؤں گا۔

 
آج کی بحث کے سلسلے میں اپنی گفتگوکا آغاز مطلق الغان نظام کے خاتمے یعنی کیمونزم کے زوال کے حوالے سے اپنے ذاتی تجربے سے کروں گامیں نہیں سمجھتا کہ دنیا کہ اس حصے میں مطلق العنان نظام کے بارے میں بحث کرنا کچھ مناسب ہو گا مجھے یہ بھی علم نہیں ہے کہ تیونس اور مصر میں جو موجودہ انقلابا ت آئے ہیں آیا وہ مطلق العنان نظام کے خلاف تھے جیسا کے ہمارے معاملے میں تھا میرے خیال میں اس صورتحال میں یہ کہنا زیادہ بہترہو گاکہ یہ انقلابات ایسی حکومتوں کے خلاف تھے جو کہ جابر انسانی آزادی کو ختم کرنے والی اور انسانی وقار کی تذلیل کرنے والی حکومتیں تھیں نہ کہ مطلق العنان نظام کے خلاف مطلق العنان نظام کے سلسلے میں ایک مربو ط نظریہ کی ضرور ت ہوتی ہے۔ کیو نکہ مطلق العنان نظام میں سیاسی کنٹرول اور خوف کا مکمل نظام ہو تاہے جبکہ اقتصادیات کو اوپر سے کنٹرول کیا جاتا ہے۔ اور مجھے یقین ہے کہ ان ممالک میں ایسا نہیں ہے۔ میرے دوسرے نقطہ کا تعلق اِن ممالک میں آنے والی تبدیلی کی وجوہات سے ہے ۔ مغربی ممالک غیر مہذبانہ طریقے سے کوششیں کرتے ہیں کہ دُنیا کے دیگر ممالک کو اپنا طرز حکومت برآمد کریں۔ جب دیگر ممالک مغربی جمہوری نظام کو اپنا لیتے ہیں تو مغرب والے اسے اپنی فتح سے تعبیر کرتے ہیں ۔ میں اس پر یقین نہیں رکھتا ۔ ہمارا تجر بہ بتاتاہے کہ حکومتوں کی تبدیلی ملک کی اندرونی وجوہا ت کی وجہ سے ہوتی ہے یقیناًمغربی ممالک کے سیاستدان یہ بات سننا پسند نہیں کریں گے مگرہمیں ان کو یہ بات باور کروانی چاہیے ۔ کمیونزم کے زوال کے حوالے سے یہ بات مکمل درست تھی اور میرے خیال میں عرب او رافریقی ممالک میں جو حکومتی تبدیلیاں آئی ہیں۔ ان کے حوالے سے یہ بات سچ ہے ۔ دنیا کے دیگر ممالک کا اس حوالے سے کردار اگرچہ نہ ہونے کے برابر نہیں تھا مگر اتنا زیادہ بھی نہیں تھا۔ مغربی جمہوریتوں اور کچھ مطلق العنان حکومتوں کے درمیان پہلے سے موجود دوستانہ تعلقات بھی کچھ خاص مدد گار نہیں تھے۔ اگر یورپی تناظر میں دیکھاجائے تو ہماری مدد اُس نام نہاد ہیلسنکی امن مشن جس کی ابتدا 70اور 80کی دہائیوں میں یور پ کی سوشل ڈیموکریٹ حکومتوں کی تھی ، نے بھی نہیں کی تھی۔ ہا ں اگر ہماری مدد کسی نے کی تھی تو وہ رونالڈ ریگن اور مارگریٹ تھیچر کی کمیونزم کے خلاف سخت پالیسیوں نے کی تھی۔


نومبر2009 میں دیوار برلن کے زوال کے بیسویں برسی کے موقع پر کیلیفورینیا میں رونالڈ ریگن صدارتی لائبریری میں منعقد ایک کانفرنس میں میں نے یہ کہنے کی جرأت کی تھی کہ میرے تجربے کے مطابق تمام قسم کی حکومتوں کی تبدیلی بیرونی اور اندرونی عوامل کے اشتراک کے نتیجے میں آتی ہے اور کمیونیزم کے زوال میں نظام کی اندرونی کمزوری، اس کی ڈھیلی پڑتی ہوئی گرفت، واضع بتدریج غائب ہوتا ہوا نظریہ نظام کی خامی کہ یہ لوگوں کو مثبت نتائج نہ دے سکا اور آخر میں لوگوں کے ذہنوں سے نظام کی استنبدادیت کے خوف کا ختم ہونا، یہ وہ اندرونی وجوہات تھیں جو کہ کیمونزم کے زوال کا باعث بنیں۔


میرے خیال میں2011 میں دنیا کے اس حصے میں جو کچھ ہوا وہ ہمارے ہاں ہونے والی تبدیلی کے عمل سے مشابہت یا تقریباً اس جیسا بھی تھا کم از کم موجودہ حالات کے حوالے سے میراناقص فہم یہی ہے۔
یہاں یہ ذکر اہم ہو گا کہ کیمونزم کے زوال کے وقت ہمارا ارادہ صرف سیاسی حکومت تبدیل کرنا نہیں تھا بلکہ پورے نظام کی تبدیلی تھا ایسا اقتصادی نظام جو کہ مکمل طور پر ریاست کے مرکزی کنٹڑول میں تھا کو آزاد مارکیٹ اور نجی جائیداد کی بنیاد پر استوار نظام میں تبدیل کرنا تھا اس لئے یہ تبدیلی محض حکومت کی تبدیلی نہیں تھی بلکہ ایک باقاعدہ تبدیلی کا عمل تھا۔


ہمارے ہاں نجی جائیداد کا تصور عملی طور پر موجود نہیں تھا جب کہ میرے خیال میں یہ مسئلہ عرب اور افریقی ممالک میں نہیں ہے۔ مارکیٹ کے اصولوں کا تصور بھی نہیں تھا۔ نج کاری سے مراد ٹیلی کام یا بڑے بنکوں اور اسٹیل کے کارخانوں کی نج کاری نہیں بلکہ چھوٹے کریانے کے سٹور، بیکریاں اور کیفے نج کاری کے پروگرام میں شامل کئے گئے۔ نج کاری کا یہ تصور نہ صرف اصطلاحاًبلکہ عملی طور پر انتظامی حوالے سے بھی ایک مشکل کام تھا بلکہ ہمارے ہاں آنے والے سیاسی ویلوٹ انقلاب سے بھی زیادہ مشکل تھا۔ تاہم ہمیں ایک برتری ضرور حاصل تھی کہ ہماری پرانی نسل نے کیمونسٹ دور سے قبل کے جمہوریت اور مارکیٹ کے اصولوں کا تجربہ بھلایا نہیں تھا۔ ہمارے ہاں معیار زندگی نسبتاً بہتر تھا۔ شہری تعلیم یافتہ تھے اور ہمسائے یورپ میں جمہوی نظام بہت بہتر تھا۔


جہاں تک آپ کے خطے کے ممالک میں آنے والی اقتصادی تبدیلی کا تعلق ہے یہ واقعی باقاعدہ تبدیلی نہیں ہو گی یہ تبدیلی مقداری ہو گی نہ کہ ہیتی جس کا تعلق حکومت کی تبدیلی سے کم اور مارکیٹ یا اقتصادی تبدیلی سے زیادہ ہو گاجس میں کچھ ڈی ریگولیشن اور آزادی ہو گی۔ کیوں کہ ماضی میں حکومتی نظریہ مارکیٹ اور نجی جائیداد کے تصور کا مخالف نہیں تھا۔

 
شاید ایک دوسرے شعبے میں تبدیلی باقاعدہ ہو کیونکہ یورپی سرمایہ دار نظام کے تحت چلنے والے ممالک اور کیمونسٹ ممالک میں فرق ثقافتی، تہذیبی یا مذہبی نہیں تھا دونوں حصوں کے لوگ سیکولر نظام کے تحت زندگی گزار رہے تھے۔ کیمونسٹ چیکو سلاواکیہ اور سرمایہ دار فرانس میں مذہب کا کردار کچھ مختلف نہیں تھا۔


میرے خیال میں عرب اور افریقہ کے ممالک کو ایک مختلف چیلنج کا سامنا ہے ۔ پچھلی نصف صدی میں اس خطہ کی مطلق العنان حکومتوں نے کچھ مذہبی اور ثقافتی روایات کو کمزور کیا ہے کیا ان کے منظر سے ہٹنے کے بعد روشنی خیالی کہ ایک نئے دور کا آغا ز ہو گا جیسا کہ یورپ میں ہوا تھا یا وہی پرانے مذہبی اعتقادات یا طرز زندگی کو زیادہ بنیادی شکل میں نافذ کیا جائے گا بہر حال دونوں صورتوں میں تبدیلی باقاعدہ ہو گی جس میں سے ہمیں نہیں گزرنا پڑا تھا۔

 
ہمارا خیال تھا دوسرے شعبوں کی نسبت سیاسی شعبہ میں تبدیلی لانا آسان ہو گا۔ ہمارے ہاں ویلویٹ انقلاب کے وقت کیمونسٹ نظام اتنا کمزور ہو چکا تھا کہ پرانی سیاسی اشرافیہ تبدیلی کے خلاف کوئی مؤثر مزاحمت نہ کر سکی اور اس نے اپنی شکت کو تسلیم کرتے ہوئے اپنے سیاسی وجود کو طوالت دینے کی کوشش نہیں کی۔ میں نے اپنے کچھ ہم خیالوں کو یہ دلیل دی کہ کیمونزم کو شکست نہیں ہوئی بلکہ تحلیل ہو گیا ہے ۔ اصل میں ہمارا مقصد یہ تھا کہ سیاسی مارکیٹ میں داخلہ کو آزاد کیا جائے اس کے علاوہ اور کچھ نہیں تھا ۔

 
نئی سیاسی پارٹیاں(ایک وقت میں ان کی تعداد بیالیس تھی) وجود میں آئیں جن میں سے پانچ منتخب ہو کر پارلیمنٹ میں پہنچیں ان میں سے ایک میری جماعت سوک ڈیموکریٹک پارٹی تھی یہ تمام سیاسی پارٹیاں نظریاتی لحاظ سے مکمل طور پر شناخت رکھتی تھیں اور یہ سیاسی پارٹیاں جون 2010میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات تک موجود تھیں مگر ان سیاسی پارٹیوں کا واضح نظریاتی رخ تبدیل ہو گیا ہے اس کی وجہ سیاسی پارلیمانی نظام پر مغرب میں ہونے والی تنقید ہے جو کہ میرے خیال میں کافی حد تک خطر ناک ہے۔ یورپ اب بعد از جمہوری دور میں داخل ہو گیا ہے سیاسی پارٹیاں اپنا جوہر کھو رہی ہیں اور اس صورت حال کو تبدیل کرنے کے لئے ایک اور ویلویٹ انقلاب کی ضرورت ہے مگر مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ بہت سے یورپی سیاستدان اور دانشور اس صورت حال سے لا علم ہیں۔


دوسری طرف مکمل اقتصادی تبدیلی بھی بہت ضروری تھی کیمونزم کے زوال کے بعد نئی تبدیل شدہ صورت حال میں پرانے اقتصادی نظام سے جڑے ادارے فوراً غائب ہو گئے ہمیں وراثت میں ایک ایسا اقتصادی نظام ملا جس میں مارکیٹ کی شکل بگڑی ہوئی تھی ایسا معاشی نظام جو کہ نیم بند جس میں کارکردگی کے مواقع کم اور نجی جائیداد کا کوئی تصور نہیں تھا ۔ مزید برآں ہمارے پاس نہ اندرونی سرمایہ تھا اور نہ ہی سرمایہ دار لیکن ایک مثبت بات یہ تھی کہ ہمارے پاس اتنے لوگ تھے جو اس بات کے لئے تیار تھے کہ اس نئی آزادی کا استعمال کرتے ہوئے تمام اقسام کی اقتصادی سرگرمیوں میں حصہ لیں ان کو یہ بتانا ضروری نہیں تھا کہ ایسا کیسے کرنا ہے لوگ ہمیشہ اور ہر جگہ اقتصادی انسان ہوتے ہیں بس ان کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لئے مواقع کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک نئے اور بنیادی طور پر مختلف اقتصادی نظام کو تعمیر کرنا سیاسی نظام کو آزاد بنانے سے زیادہ پیچیدہ کام ہے یہ بات عمومی طور پر سچ ہے لیکن ایم پی ایس کے ممبران اور حمایتیوں کو ایک خاص پہلو سے مشکل درپیش ہے کہ اس پیچیدہ عمل کو عملی شکل کیسے دی جائے ان میں سے زیادہ افراد پروفیسر ہائیک کے پیروکار ہیں جو کہ تعمیر ہونے والے (خود بخود)نظام پر یقین رکھتے ہیں اور ہر قسم کی شعوری سیاسی تعمیر کے خلاف ہیں۔ مائزیرین اور ہائیکین کاقول ’’دنیا کی بنیاد انسانی تدبیر کی بجائے انسانی عمل پر ہے‘‘ ہم بہت سارے افراد کے لئے عام ہے تاہم جیسا کہ میں نے پہلے کہا کہ ایک باضابطہ تبدیلی خود تعمیری اور شعوری تبدیلی کے اشتراک سے عمل میں آتی ہے اور ہاں اس تبدیلی کے عمل میں دونوں کا تناسب انفرادی جگہ اور تاریخی مواقعوں کے حساب سے مختلف ہوتا ہے۔ ہائیکین اور بالخصوص یوکنینزEukenians کی دلیل یقیناً اپنی جگہ درست ہے کہ تبدیلی کے عمل کے ابتدائی دور میں ہی کھیل کے قوانین وضع کر لینا بہتر ہوتا ہے یہ بات صحیح ہے مگر اس پر زور دینا ضروری ہے کہ ایک نظام سے دوسرے نظام میں تبدیلی ایک رات میں نہیں آجاتی اس کے لئے وقت درکار ہوتا ہے اور اس کی قیمت بھی ہوتی ہے۔ اس بات کو لوگ نہ تو پسند کرتے ہیں اور نہ ہی قبول کرنے کے لئے تیار ہیں۔


سیاست دانوں کا کام یہ بھی ہے کہ وہ تبدیلی کی قیمت کو نا صرف کم کریں بلکہ لوگوں کو یہ ناخوشگوار سچائی بھی بتائیں کہ تبدیلی بلا قیمت نہیں آسکتی جن ممالک میں اصلاحات ہو رہی ہوتی ہیں ان کو ایک خاص قسم کے جے۔خط یعنیJ-Curveسے گزرنا پڑتا ہے اگرچہ لوگ یہ توقع کرتے ہیں کہ ترقی کا خط تیز نہ صحیح مگر سیدھا اور اوپر جاتا ہو ۔ یہ بھی ضروری ہے کہ ناگزیر طور پر بڑھتے ہوئے توقع ۔حقیقت کے فرق کو کم بھی کیا جائے کیونکہ یہ فرق انتہائی سطح پر پہنچ جاتا ہے تو نا سلجھنے والے سیاسی مسائل شروع ہو جاتے ہیں ہمارے ارد گرد آپ کو اس طرح کے بہت سے تجربے ملیں گے ایک اور اہم چیز سیاستدانوں کو آزادی اور خوشحالی کے موقع کا وعدہ کرنا چاہیے لیکن اس سے زیادہ کچھ نہیں انہیں نتائج کا وعدہ نہیں کرنا چاہیے انہیں یہ واضح کرناچاہیے کہ نتائج سیاستدانوں اور اصلاحات کرنے والوں کے ہاتھ میں نہیں بلکہ لوگوں کے ہاتھوں میں ہیں۔ مختصراً یہ کہ سیاستدانوں کو تین کام ایک وقت میں کرنے چاہیے

.1 ان کے پاس مستقبل سے متعلق واضح اور صاف پروگرام ہونا چاہیے جس کا مطلب یہ ہے کہ واضح 
پروگرام تشکیل دیں کہ کس سمت جانا ہے۔
.2
انہیں تبدیلی کے عمل میں شامل بنیادی تکنیکی باتوں سے متعلق اپنی مہارت کا اظہار کرنا چاہیے 
دوسرے الفاظ میں مطلب یہ کہ وہاں کیسے جانا ہے ۔
.3
اور آخر میں ان میں اس بات کی اہلیت ہونی چاہیے کہ وہ اپنے خیالات کی اپنے ممالک کے 
لوگوں کو مکمل وضاحت کریں کیونکہ لوگوں کی سرگرم شمولیت کے بغیر تبدیلی کا عمل آگے نہیں بڑھ 
سکتا۔تینوں نقاط بہت ضروری ہیں بلکہ برابر کی اہمیت کے حامل ہیں۔ بہت سارے ممالک میں 
سیاستدان صرف اس وجہ سے ناکام ہوئے کہ وہ تینوں باتوں کو بھول گئے یا ان میں سے کوئی ایک 
نکتہ چھوڑ دیا۔


کس سمت جانا ہے ‘کا مسئلہ سادہ نہیں ہے کچھ عر ب ممالک میں آج جو صورتحال ہے اس میں اور ہماری صورتحال میں ایک اہم مماثلت ہے ہم اصلاحات پسند سیاستدانوں کو پرانے نظام کو مسترد کرنے کے سلسلے میں بہت زیادہ حمایت حاصل تھی لیکن’’کس سمت جانا ہے‘ ‘والے معاملے میں وہی حمایت حاصل نہیں تھی۔ لوگ کیمونزم نہیں چاہتے تھے وہ آزادی اور سیاسی جمہوریت چاہتے تھے لیکن سرمایہ داری آزاد مارکیٹ کے حوالے سے وہ گومگو کا شکار تھے۔ ہم ان کو یہ بات باور کرانے میں کامیاب ہوئے کہ صرف سرمایہ داری اور مارکیٹ کے نظام کے ذریعے بھی وہ آزاد اور خوشحال ہو سکتے ہیں۔
میں عرب اور افریقی ممالک میں ’کس سمت جانا ہے‘ کے حوالے سے کوئی واضح پروگرام نہیں دیکھ پا رہا ہوں ہو سکتا ہے کہ اس حوالے سے بحث ہو رہی ہو اور پروگرام موجود ہوں مگر میں لا علم ہوں’کس سمت جانا ہے‘ کہ حوالے سے متضاد خیالات ہمیشہ سے موجود ہوتے ہیں اور میں امید کرتا ہوں کہ اس کانفرنس میں اس سلسلہ میں کچھ جاننے کا موقع ملے گا۔ آج جس آزادی کے لئے لوگ جدوجہد کر رہے ہیں کیا اس کا مطلب پارلیمانی جمہوریت ہے؟ یا انفرادی ایم پی ایس کے معنوں میں اس خطے کے اصلاحات کے حامی سیاستدانوں کا حقیقی مقصد ہے؟ شمالی افریقہ کے وہ ممالک جہاں لوگ پرانے سیاسی نظام کے خلاف مزاحمت کر رہے ہیں کیا ان ممالک میں اصطلاحات کے حامی سیاستدان موجود ہیں؟ کیا لیڈر کے بغیر انقلاب کی اصطلاح زیادہ مناسب نہیں؟ کیا خاموش اکثریت واقعی آزادی چاہے گی کیا ان معاشروں میں مذہبی گروپ دوسرے گروپوں کی نسبت زیادہ منظم نہیں ہیں وغیرہ وغیرہ مجھے ان سوالوں کے جوابات کا علم نہیں مگر میرے کچھ خدشات ضرور ہیں۔ یعنی مقصد اور اس کے حصول کے ذرائع کا مسئلہ بھی کچھ کم اہم نہیں لیکن اس سلسلہ میں وہ مبصر اور تجزیہ کار جو ہمارے انقلابی اور اصلاحاتی پروگرام میں ذاتی طور پر شامل نہیں اکثر ترتیب یا تواتر کے مسئلہ پر مفروضاتی رائے دیتے نظر آتے ہیں۔ کیمونزم کے زوال کے بعد ابتدائی سالوں میں ہمیں صدماتی معالجہ اور بتدریج ترقی کے اصول کے درمیان انتخاب جیسے مصنوعی مباحثے کا سامنا کرنا پڑاتھا۔ میری طرح کے لوگوں پر الزام لگایا گیا کہ ہم نے اپنے اپنے ممالک کے لوگوں پر صدماتی معالجہ(Shock Therapy) اوپر سے نافذ کر دی ہے جو کہ سچ نہیں تھا چونکہ حقیقی دنیا میں اس طرح کا تصور نہیں ہوتا مصلح کو اصلاحات کا کریٹیکل ماس (Critical Mass)

اکٹھا کرنا چاہیے اور جب ان کو عملی شکل دینے کا موقع ملے عملی شکل دے دینی چاہیے اور
کسی قسم کے پیچیدہ سلسلے کی ضرورت نہیں۔ اس سلسلے میں کسی چیز کے انتظار کی کوئی وجہ نہیں ہے کیوں کہ لوگ انتظار نہیں کریں گے بلکہ پیچیدہ سلسلے کے عمل سے تھک جائیں گے۔ جے۔خطJ-Curve ایک نا ساز گار رخ اختیار کرے گا اور اصلاحات کا عمل رک جائے گا مجھے ڈر ہے کہ عرب دنیا شاید اسی طرف جا رہی ہے جیسا کہ میں نے ابتدا میں کہا تھا پرانے نظام سے چھٹکارا پانا نئے نظام کو تشکیل دینے سے آسان ہے میری خواہش ہے کہ اس خطہ کے ممالک دونوں معاملات میں کامیاب ہوں۔