مصنف: ڈاکٹر خلیل احمد 

غیر آزاد علمی فضا کی پہچان اور خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ یہاں مغالطوں کا دور دورہ ہوتا ہے، اور کلیشے بول چال کا درجہ رکھتے ہیں ۔ یہ ایسے ہی ماحول کی دین ہے کہ ” تعلیم پسندی“ بھی پاکستان میں ایک مغالطے کا درجہ اختیار کر چکی ہے ۔ نہ صرف تعلیم پسندی، بلکہ تعلیم سے متعلق لا تعدا د مغالطے رواج پا چکے ہیں ۔ ذیل میں صرف تعلیم پسندی کے مغالطے کا جائزہ لیا جاتا ہے۔

 یہاں تعلیم پسندی سے مراد یہ ہے کہ ہر مسئلے کا حل تعلیم کو قرار دینا ۔ یا پھر یہ موقف اختیار کرنا کہ تعلیم کے بغیر کوئی مسئلہ حل نہیں ہو سکتا ۔ مختصرا ً یہ کہ یہ رجحان، تعلیم کوایک نسخہء کیمیا کا مرتبہ دیتا ہے ۔ مزید وضاحت اس کی یہ ہے کہ کسی بھی نوع کا مسئلہ ہو، معاشی ہو، سیاسی ہو، یاسماجی، یا پھر اخلاقی، ہر موقعے پر جو کچھ سننے کو ملتا ہے، وہ یہ ہے کہ بھئی تعلیم کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا ۔ یعنی تعلیم ہر مرض کا تیر بہدف علاج ہے ۔

 پھر یہ کہ اس میں یہ کوئی قید نہیں کہ یہ کلیشے کسی خاص طبقے میں زبان زد ِ عام ہے، جیسے کہ متوسط تعلیم یافتہ طبقہ ۔ بلکہ میری رائے میں کوئی مغالطہ، کلیشے بنتا ہی اس وقت ہے، جب یہ اوپر سے نیچے تک ہر طبقے میں قبولیت پا لیتا ہے (کلیشے کے لیے مغالطہ ہونا ضروری نہیں!) ۔ تعلیم پسندی بھی ایک ایسا ہی مغالطہ ہے ۔ یہ پبلک پالیسی کے ذمے داران سے لے کر، گھریلو پالیسی کے ذمے دار فرد تک یکساں مقبول ہے ۔

 چونکہ اس مغالطے کی لاتعداد صورتیں رائج ہیں، جنھیں یہاں زیر بحث لانا ممکن نہیں، بہ ایں سبب، صرف ایک صورت جو بہت اہم اور سیاسی مضمرات کی حامل ہے، اس پر توجہ دی جاتی ہے ۔

 حال ہی میں تعلیم پسندی کے حوالے سے ایک یہ موقف سامنے آیا ہے کہ جب تک تعلیم عام نہیں ہو جاتی، بالخصوص دیہی علاقوں میں، اس وقت تک پاکستان کی سیاست میں بہتری نہیں آ سکتی ۔ مراد یہ کہ جس طرح کے مطلب پرست اور بے ضمیر سیاست دان پاکستانی سیاست پر قابض ہیں، وہی یہاں کے کرتا دھرتا بنے رہیں گے ۔ یہ موقف نیا نہیں ہے، بلکہ تعلیم پسندی کے بڑے انداز ِ نظر کا جزو ہے، اور سیاست کے مسائل کو اس وقت تک ٹالے رکھنا چاہتا ہے، جب تک پورے پاکستان میں تعلیم کا چرچا نہیں ہو جاتا ۔

 تفصیل اس کی یہ ہے کہ چونکہ پاکستان کی بیشتر آبادی، تازہ ترین اعداد وشمار کے مطابق 65 فیصد، دیہی علاقوں میں رہائش رکھتی ہے، اور وہاں تعلیم کی شرح، شہروں کی نسبت خاصی کم ہے (دیہات49:شہر74 فیصد)، لہٰذا، وہاں ووٹ دینے کا طور شہروں سے بہت مختلف ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں سے ایسے نمائندے منتخب ہو کر اسیمبلیوں میں آجاتے ہیں، جن کی سیاسی وابستگی نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے ۔ وہ کبھی اِس پارٹی میں گرتے ہیں، اور کبھی اُس پارٹی میں ۔ ان کے نزدیک اپنے مفادات زیادہ عزیز ہوتے ہیں، اور ووٹ دینے والے محض مزارعے کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ اس مشکل کی ایک مثال یہ دی جاتی ہے، اور اسے ستم ظریفی کا ایک نمونہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے، کہ موجودہ پیپلز پارٹی کی حکومت کی کارکردگی گو کہ صفر کے بجائے منفی رہی ہے، پھر بھی آئندہ انتخابات میں لوگ اسی پارٹی کو ووٹ دیں گے، یا یہ کہنا زیادہ درست ہو گا کہ پیپلز پارٹی کے حامی، جو ابھی تک معتد بہ تعداد کے حامل ہیں، پھر اسی پارٹی کو ووٹ دیں گے ۔ اور اگر آئندہ انتخابات میں ایسا ہی ہوتا ہے تو یہ کوئی ستم ظریفی سی ستم ظریفی ہوگی، بلکہ المیے سے بھی زیادہ بڑی کوئی چیز ہو گی ۔

 اس سے دوباتیں واضح ہوتی ہیں ۔ ایک تو یہ کہ دیہی علاقوں کے باسی، جس بھی پارٹی کے حامی ہیں، وہ اس پارٹی کی کارکردگی سے کوئی سروکار نہیں رکھتے، وہ اچھا کرے، بُرا کرے، اس کے لیڈر سیاہ کو سفید اور سفید کو سیاہ کرتے پھریں، وہ ووٹ اسی پارٹی کو دیں گے ۔ یعنی وہ اس کے لگے بندھے ووٹر ہیں ۔ تعلیم پسند یہ سمجھتے ہیں کہ اگر یہ ووٹر، تعلیم یافتہ ہوجائیں گے، تو ان کا ووٹ دینے کا طور طریقہ بد ل جائے گا ۔ پھر وہ اِس یا اُس پارٹی کے لگے بندھے ووٹر نہیں رہیں گے ۔ اور ہر پارٹی کو اس کی، یا اس کی حکومت کی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ دیں گے ۔

 دوسر ی بات یہ کہ تعلیم، سیاسی شعور پید ا کرتی ہے ۔ اس موقف میں یہ دلیل مخفی ہے کہ چونکہ تعلیم یافتہ ہوجانے سے ووٹروں کا ووٹ دینے کا انداز تبدیل ہو جائے گا، اوریہ چیز اس بات کا مظہر ہو گی کہ ان میں سیاسی شعور پیدا ہو گیا ہے ۔

 دونوں باتوں پر کچھ ٹھہرتے ہیں، اور دیکھتے ہیں کہ کیا صورتِ حال ایسی ہی ہے، جیسی یہ مغالطہ پیش کرتا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ کیا تعلیم کی مدد سے متذکرہ بالا دونوں چیزوں ( سیاسی شعور اور ووٹ دہی کے طور میں تبدیلی) کی تحصیل ممکن ہو سکے گی ۔ یا اس کے محرکات کچھ اور ہیں ۔

 جہاں تک شہریوں کے ووٹ دینے کے طورطریقے کا تعلق ہے، تو پاکستان میں اس کا سائینسی مطالعہ بہت کم ہوا ہے ۔ یہ چیز اس قسم کے مطالعات کی اشد ضرورت کو عیاں بھی کرتی ہے ۔ پھر یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ جس چیز کا بہتان، دیہی علاقوں کے ووٹروں پر لگایا جارہا ہے، کیا شہر کے ووٹر اس سے بری قرار دیے جا سکتے ہیں ۔ کیا شہرکے باسی ووٹروں میں بھی سیاسی پارٹیوں کے ساتھ اسی طرح کی وابستگی موجود نہیں ۔ کیا وہ دیہی ووٹروں کے برعکس سیاسی پارٹیوں، یا ان کی حکومتوں کی کارکردگی کو نظر میں رکھتے ہیں، اور اس کے مطابق ووٹ ڈالتے ہیں ۔

 غالبا ً ایسا نہیں ہے ۔ میر ی رائے میں دیہی اور شہری ووٹروں کے ووٹ دینے کی نفسیات اور عمرانیات، یا یوں کہہ لیں کہ مجموعی طور پر ان کا ووٹ دینے کا طور بہت زیادہ مختلف نہیں ۔ ہاں، یہ ہو سکتا ہے کہ دیہی ووٹر کے محرکات کچھ اور ہوں گے، اور شہری ووٹر کے محرکات کچھ اور ۔ تاہم، ان محرکات کی نوعیت اور اثرات یا نتائج میں زیادہ اختلاف نہیں ہوگا ۔ مثلاً، اگر ایک دیہی ووٹر کسی مخصوص امیدوار کو اس لیے ووٹ دیتا ہے کہ وہ اسے سماجی اور قانونی تحفظ دلا سکے گا، اور اس کے کچھ سرکاری کام نکلوا سکے گا، تو شہری ووٹر بھی بہ حیثیتِ مجموعی اسی سوچ کے تحت ووٹ دے گا ۔ اس ”سماجی تحفظ“ کی تفصیلات دیہہ اور شہر کے حساب سے مختلف ہو سکتی ہیں ۔ شہر میں، جیسے کہ سرکاری معاملات اور خدمات کے حصول میں معاونت اہم ہو سکتی ہے؛ جبکہ دیہی علاقوں میں، جیسے کہ تھانے کچہری کے معاملات، ذات برادری کے تنازعات اور جھگڑے، زمینوں سے متعلق کشاکش اور مقدمہ بازی، اہم ہوں گی ۔

 اس کا مطلب یہ ہے کہ ووٹروں (یا شہریوں) کو، خواہ وہ دیہات کے باسی ہوں یا شہرکے، جو چیز درکار ہے، وہ ہے سماجی اور قانونی تحفظ ۔ یہاں سماجی اور قانونی تحفظ سے، جان و مال، اور حقوق اورآزادیوں کا تحفظ مراد ہے ۔ یعنی ہر فرد کو ہر فرد سے، ہر گروہ سے، ہرحکومتی اور غیر حکومتی ادارے سے، اور مجموعی طور پر پورے سماج سے تحفظ ۔ مختصرا ً یہ کہ معاشرے میں اپنے انداز سے زندہ رہنے کا تحفظ ۔ اور یونہی ہر ایک کو ہر ایک سے تحفظ ۔ اور بالخصوص پاکستان کے حوالے سے ہر فرد کو پاکستان کی ہر حکومت سے تحفظ ۔ صاف بات ہے کہ یہ تحفظ ہر شہری کو اس لیے درکار ہے، کیونکہ یہ تحفظ اسے پاکستان کے ایک شہری ہونے کے ناتے میسر نہیں ہے ۔ جبکہ یہ اس کا آئینی اور قانونی حق ہے ۔

 یہ چیزنہایت اہم ہے، اوربیشتر یہی ہے جو ووٹروں کے ووٹ دینے کے طور طریقے کا تعین کرتی ہے ۔ مراد یہ کہ اگر یہ تحفظ، ووٹرو ں (شہریوں) کو بلا کسی امتیاز دستیاب اور میسر ہو، یعنی وہ آئینی اور قانونی ادارے، جو اس مقصد کی تکمیل کے لیے تشکیل دیے گئے ہیں، اگر وہ اپنی ذمے داری نبھا رہے ہوں، تو شہریوں کے ووٹ دینے کے طور طریقے میں تبدیلی پیدا ہو سکتی ہے ۔ یوں، ہر شہری، چاہے وہ دیہی علاقے سے تعلق رکھتا ہو، یا شہر سے، ان مجبوریوں سے آزاد ہو جائے گا، جن کے تحت وہ اس انداز میں ووٹ دیتا ہے ۔

 اس کے ساتھ ہی یہ بات بھی جُڑی ہوئی ہے کہ جہاں تک سرکاری خدمات کا تعلق ہے، تو ان کی ڈیلیوری بھی، جو ضابطہ بنایا گیا ہے، اگر اس کے مطابق ہو رہی ہو، تو دیہی اور شہری، دونوں ووٹروں کو، اس حوالے سے اپنا ووٹ کاسٹ کرنے کی ضرورت یا مجبوری نہیں رہے گی ۔ انصاف کا معاملہ بھی، اس سے مختلف نہیں ۔ اگر عدالتوں سے انصاف مل رہا ہو، تو کسی شہری کو اس کے حصول کے لیے با اثر اور بارسوخ شخصیات کے در پر جانے کی ضرورت نہیں رہے گی ۔

 سو، یہ ہے وہ سیاق وسباق جس میں تعلیم پسندی کے مغالطے کو رکھ کر جانچا جانا چاہیے ۔ اس سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ تعلیم سے زیادہ جس چیز کی اشد ضرور ت ہے، وہ یہ ہے کہ حکومت ہر فرد کے لیے اس کی جان ومال اور اس کے حقوق اور آزادیوں کے تحفظ کو یقینی بنائے ۔ یہاں یہ اعتراض کیا جا سکتا ہے کہ تعلیم، ووٹروں میں یہی شعور (یا سیاسی شعور) تو پیدا کرے گی ۔ اگر یہ بات ہے تو یہ سوال بجا ہو گا کہ کیا تعلیم شہروں کے تعلیم یافتہ طبقے میں، جس کی تعداد 74 فیصد ہے، یہ شعور پیدا کر سکی ہے ۔ کیا شہروں کا تعلیم یافتہ طبقہ اس شعور کی روشنی میں ووٹ دیتا ہے ۔ یقیناً ایسا نہیں ہے ۔

 سو، تعلیم پسندی کا یہ مغالطہ دو گمراہیوں کو جنم دیتا ہے ۔ ایک تو یہ کہ اس مغالطے سے اصل ایشو، پس ِ پشت ڈل جاتا ہے، یعنی شہریوں کی جان ومال اور حقوق کے تحفظ کا ایشو ۔ اور دوسرے یہ کہ جس چیز پر حکومت کے لیے ڈٹ جانا ضروری ہے، حکومت کو اس سے ہٹا کر کسی اور کام پر لگانے کا حیلہ پیدا کر دیتا ہے ۔ یعنی، یہ حکومت کو تحفظاتی کام سے ہٹا کر تعلیم پھیلانے کے فریضے پر مامور کر دیتا ہے ۔ اندھا کیا مانگے، دو آنکھیں ۔ چلو بھائی، تعلیم عام کرو ۔ ذرا سوچیں حکومت کب سے تعلیم عام کرنے کے اس خاص کام پر لگی ہوئی ہے، اور ابھی تک اس میں کوئی عام سی کامیابی بھی حاصل نہیں کر پائی ہے ۔

 جون 8، 2012