مصنف امین لاکھانی

ترجمہ اظہر صدیقی 

سا لانہ بجٹ 2012 کی آمد آمد ہے اور سا تھ ساتھ پاکستان کی سیاسی فضاء میں انتخابی بخار بھی بتد ریج بڑھ رہا ہے۔

پا کستان کی سوِل سوسا ئٹی کے لیے یہ بہترین مو قع ہے کہ ملک میں بلواسطہ ٹیکس کے حوالے سے ایک منظم بحث کا آغاز کرے اوراِس بات کا مطالبہ کرے کہ تمام سیاسی پارٹیاں اپنے انتخابی منشو ر میں بلواسطہ ٹیکس کو بتدریج کم کرکے ختم کرنے کا اعلان شامل کریں۔

پچھلے 65 سال سے کرپٹ، لالچی ، اور ذمہ داری سے آذاد نوکر شاہی ، سیاسی ، فوجی ، جا گیردار ، اورشہری اشرافیہ پر مشتمل گروہوں نے بلاواسطہ ٹیکس میں اپنا حصہ معاف کروالیاہے یا اُس سے بچنے کے حربے دریافت کرلیے ہیں اور اگرکبھی ٹیکس ادا کرنا بھی پڑاتو اپنے حصے سے بہت کم ادا کیا نیتجتًاریا ست کے کاروبار کو چلانے کے لیے اخراجات کا بوجھ اُس طبقے اُوپر ڈال دیا جاتا ہے جو آمدنی کے لحاظ سے سب سے نیچے ہے مگر اب حالات حکومت سے اِس با ت کا تقاضا کرتے ہیں کہ مند رجہ ذیل وجوہات کی بنا پر بلواسطہ ٹیکس کا بو جھ عوام یا عام لوگوں پرکم کیا جائے 

.1

 بلواسطہ ٹیکس مثلاً جنرل سٹو ر سیلز ٹیکس ان صارفین کو زیادہ متا ثر کر تا ہے جو کہ آمدنی یا دولت کے لحا ظ سے درجہ بندی میں سب سے نیچے ہیں جمہوری، مہذب اورفلاح پسند معا شروں میں بتد ریج پڑھنے والے ٹیکس کے نظام کی حو صلہ افزائی کی جا تی ہے جس میں ٹیکس کے ذریعہ حاصل ہونے والی آمدنی کا کثیر حصہ بلاواسطہ ٹیکس کے ذریعہ سے حا صل کیا جاتا ہے نہ کہ بلو اسطہ ٹیکسوں کے ذریعہ سے جو کہ مصارف اور اخراجات پر منحصر ہوتے ہیں پاکستان میں بلاواسطہ اور بلواسطہ ٹیکسوں کا تناسب چالیس او ر سا ٹھ فیصد ہے جو کہ متوسط اور کم آمدنی والے طبقوں کے ساتھ نا انصافی ہے ۔

.2 

بلواسطہ ٹیکس میں کمی سے اقتصادی نمی میں اضافہ ہو گا مثا ل کے طو ر پر اگر مو ٹر سائیکل کی فروخت کے حوالے سے جنرل سیلز ٹیکس کی شرح 16 فیصد کم کرکے 11فیصد کر دی جائے تو اِس کمی کے نتیجے میں درمیانے طبقے کی سواری مو ٹر سائیکل کی قیمت میں 5 فیصد تک کمی ہو جائیگی مو ٹر سا ئیکل کی قیمت میں کمی کی وجہ سے طلب میں اضافہ ہو گا اور پیداواری حجم بڑھنے سے فی موٹر سائیکل لا گت بھی کم آئے گی نتیجتاََ مانگ میں مزید اضافہ ہو گا۔ مزیدبرآں پیٹرول کی قیمت میں کمی سے موٹر سائیکل کی قیمت کم ہو جائے گی اور اُس کی طلب بڑھے گی چونکہ قدرتی گیس اورمائع گیس بھی جنرل سیلزٹیکس کا شکار ہیں اگر ان پر بھی جنرل سیلز ٹیکس کے ریٹ میں کمی کی جائے تو رہائشی،کمرشل،انڈسٹریل اور زرعی شعبہ جات کو مہیا کی جانے والی بجلی کی لاگت میں کمی سے قیمت میں بھی کمی آئے گی اس سارے عمل میں صارفین کی بچت میں اضافے سے اُن کی قوت مزید بڑھے گی۔

.3

ٹیکس کی شرح میں کمی سے محصولات سے آمدنی(ریاست کی) بھی بڑھتی ہے ۔پاکستان میں ٹیکسوں سے حاصل ہونے والی آمدنی کا ریکاڈ بہت مایوس کن ہے جارجیہ اسٹیٹ ،یونیورسٹی ،عالمی بنک اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو پاکستان کی مشترکہ طو ر پر کی گئی تحقیق کے مطابق سال 2007/08 میں حکم عدولی کے نتیجے میں ٹارگٹ اور وصولیوں میں فرق 79 فیصد تھا۔ٹیکس کی اُونچی شرح کرپشن اور ٹیکس چوری کی ترغیب دیتی ہے کارخانہ دار اور پرچون فروش ٹیکس افسران کو جھا نسہ دیکر ٹیکس سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں اور اپنی اشیا کو ایسے ذرائع سے فروخت کرتے جہاں جنرل سیلز ٹیکس سے بچا جاسکے یا سیلز ٹیکس افسران سے ملی بھگت کرکے اصل پیدوارسے کم پر جنرل سیلزٹیکس ادا کرتے ہیں۔نتیجتاََ مینوفیکچررز ، پرچون فروش اور سیلز ٹیکس سٹاف کبھی کبھار صارفین پر سبقت لے جاتے ہیں اور حکومت نقصان برداشت کرتی ہے۔ محصولات موصول کرنے کے اس نظام میں ان گنت مثالیں مل جائیں گی کہ جبکہ ٹیکس کی شرح انتہائی حد سے بڑھی ہے تو اصل آمدنی کم ہو گی ۔پاکستان میں جنرل سیلز ٹیکس میں نمایاں کمی کی جانی چاہئیے کیونکہ 16% کی موجودہ شرح محصولات کے نظام میں سودمند نہیں ہو سکتی۔

.4

جنرل سیلز ٹیکس کی شرح کی کمی سے بلاواسطہ ٹیکس پر پھر ذیادہ تو جہ دی جائے گی اعتراض کرنے والے کہہ سکتے ہیں کہ اِس طرح ریاست کی سالانہ آمدنی میں کمی ہو گی ۔بے شک محض ٹیکس ریٹ میں کمی سے ریاستکی سالانہ آمدنی کو ہونے والے نقصان کو پورا نہیں کیا جا سکتا آمدنی میں ہو نیوالے نقصان کو پورا کرنے کے لیے ٹیکس کی بنیاد کو وسیع کرنا پڑے گا اور اس کے ساتھ ساتھ لوگوں کو ٹیکس کے حوالے سے آگاہی بھی دینی پڑے گی تاہم اگر جنرل سیلز ٹیکس کے ریٹ میں کمی سے آمدنی کو ہونیوالا نقصان پورا نہیں ہوتا تو یہ بھی ایک طرح سے باعث رحمت با ت ہو گی اِس طرح سیاست دان اور پالیسی تشکیل دینے والے ادارے بلاواسطہ محصولات کیلئے ان شعبوں پر توجہ مرکوز کریں گے جنہیں یا تو ٹیکسوں سے چھوٹ رہی ہے یا کم محصولات لاگو کئے گئے ہیں مثلاََ(زراعت، رئیل اسٹیٹ، مالی اثاثہ جات وغیرہ) اور محصولات وصول کرنے کے لئے موجود قوانین کا ریاستی طاقت سے اطلاق پر غور۔ مزید یہ ادارے سبسڈیز اور حکومتی سیکٹر کی کارکردگی کے کڑھے جائزے کی طرف توجہ مرکوز کریں گے ۔ تاہم بلاواسطہ ٹیکس پر توجہ اُسی وقت مرکوز ھو گی اگر سولِ سوسائٹی ٹیکس پالیسی کے حوالے سے سیا سی جماعتوں کو بحث میں شا مل کرے یہ مسئلے کا ایک پہلو ہے دوسرا اہم پہلو یہ ہے کہ جنرل سیلز ٹیکس کے ریٹ میں زیادہ سے زیادہ کس حد تک کمی کی جائے اگر مختلف ممالک سے اِس سلسلے میں حاصل کی گئی معلومات کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ تمام افراد پر کم شرح ٹیکس ، ٹیکس چھو ٹ کسی کے لئیے بھی نہیں حکومت کامحدود کردار اور زیادہ سے زیادہ ٹیکس ادا کرنے کی زیادہ سے زیادہ ترغیب، یہ وہ طریقے ہیں جن سے خوشحالی پیداہوتی ہے۔اس لئیے میرے خیال میں خردہ فروشی / پرچون فروشی کی سطح پر ایک فیصد کمی قابل قبول ہو گی اگر آٹھ فیصدکمی کی تجویز دی جائے تو یہ اُن قو توں کے لئیے نا قابل قبول ہوگا جوکہ موجودہ نظام کے حق میں ہیں اور یہ قو تیں اِس کی مزاحمت کریں گی اِس لئیے درمیانی راہ یعنی پانچ فیصد کمی ایک اچھا نقطہ آغاز ہو گا۔

حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ کہنا بے جا نہ ہوگاکہ اب وقت آگیا ہے کہ ٹیکس پالیسی کے حوالے سے مختلف سیاسی پارٹیوں کو شریک بحث کیاجائے دوسری طرف یہ ایک بہت بڑی غلطی ہو گی اگر سیاست دان اِس بات کو بہانے کے طور پر استعمال کریں کہ اٹھارویں ترمیم کے بعدزراعت کا شعبہ صوبائی حکومت کے دائرہ اختیار میں آگیا ہے اگر پاکستان کے جاگیرداروں کو اِس بات پر قائل نہیں کیا جا سکتا کہ وہ اپنے حصہ کا ٹیکس ادا کریں تو آئینی ترمیم کے ذریعے زراعت کا شعبہ وفاقی حکومت کے حوالے کردینا چاہیے سیاسی جماعتوں کویہ پیغام واضع طور پر ملنا چا ہیے کہ اگر آپ ہماری بات نہیں سنتے، تو عوام کو حق ہو گا کہ وہ اُس کو ووٹ دیں جوآواز سنتا ہو۔

پاکستانی میڈیا اِس حوالے سے ایک اہم خدمت سر انجام دے سکتا تھا اگر بجٹ کے حوالے سے بجٹ اور ٹیکس فورم کا اہتمام کیا جاتا جس میں بجٹ، بجٹ کی ترجیحات، ٹیکس اور چھوٹ کے حوالے سے تقابلی بحث کی جا ئے تو ہر سیاسی پارٹی اِس حوالے سے بحث اور ٹیکس کے حوالے سے جو پروگرام اور تجا ویز پیش کی جائیں اور ماہرین اُنکا تقابلی جائزہ لے تاکہ اِس بات کا پتہ چلے کہ کس طرح مختلف ٹیکس تجا ویز آمدنی دولت ، مختلف طبقات، شعبے، انڈ سٹریز اورصوبوں پر اثر انداز ہونگی اِس تمام مشق سے یہ بھی کھل کر سامنے آ سکتا ہے کہ ہر پارٹی کا حقیقی کرتا دھتا کون ہو اور اس کی وفادای کس کے ساتھ ہے دوسرا فائدہ یہ ہوتا کہ عام آدمی کو آگہی حاصل ہوتی اوروہ اپنے ووٹ کا استعمال بہتر طریقے سے کرتااِس طرح ایک غیر سیاسی سولِ سو سائٹی مومنٹ کا آغاز ہو سکتا ہے جوکہ منصفانہ ترقی پسند اور شفاف آمدنی اور دولت کی بنیاد پر ٹیکس کا نظام ملک میں متعارف کرواسکے۔

مصنف توانائی پیدا کرانے والی ایک ملٹی نیشنل کمپنی سے منسلک ہے۔

یہ مضمون ہیرلڈ ٹریبیون میں شائع ہوا۔