مصنف: ڈاکٹر خلیل احمد

گذشتہ برس، یکم جنوری، 2011 کو روزنامہ” ایکسپریس“ ادیب اور مفکر انتظار حسین کا کالم ”دلیل کی موت، نعرے کابول بالا“ شائع ہوا تھا ۔ اس میں انھوں نے بتایا کہ ’کہاں سے چل کر ہم کہاں پہنچے ۔‘ ایک زمانہ تھا جب مختلف مذاہب کے ماننے والوں میں دلیل کا بول بالا تھا ۔ ”افسوس کہ اس زمانے سے ہمارے زمانے تک آتے آتے ایک بڑا واقعہ گزر گیا ۔ دلیل کی شہادت ہوگئی ۔ اس کے ساتھ ہی مکالمہ کی روایت کی موت واقع ہو گئی ۔ انسانی عقل سے اعتبار اٹھ گیا - - - “

 سو، دلیل اور عقل دونوں کا ارتحال ہو چکا۔ یہ تو بہت بڑی چیزیں ہیں ۔ انسان کی تشکیل اور انسان کی تعریف ان دونوں کے بغیر نامکمل بھی ہے اور ناکافی بھی ۔ مگر وہ چیز جو قدیمی انسان نما، انسان میں بھی موجود تھی، میں تو اس کی بات کر رہا ہوں ۔ تخیّل کی بات ۔ عقل اور دلیل کے معاملات تو بہت بعد میں آتے ہیں ۔ بلکہ کیا خبر تخیّل نے ہی ان کے لیے زمین ہموار کی ہو!

 تو ذلیل دلیل کی موت کے بعد، اگلی بڑی خبر یہ ہے کہ تخیّل بھی ہمارے بیچ سے غائب ہو چکا ہے ۔

 جبکہ حقیقت یہ ہے کہ جو چیز انسا ن کی ترکیب میں ایک لازمے کی طرح گندھی ہوئی ہے، وہ تخیّل اور تخیّل کی صلاحیت ہے ۔ مجھے انسان، یا پورے انسان کی تلاش نہیں، جیسے دیو جانس کلبی کو تھی ۔ مجھے صرف اس تخیّل کی تلاش ہے، دوسری بہت سی چیزوں کے ساتھ، انسان جس سے عبارت ہے ۔ اور میں ایک ایسی سرزمین پر زندہ ہوں، جہاں سے تخیّل، کافور ہو گیا ہے ۔ شاید ڈر کر کہیں بھا گ گیا ہے!

 اخبارات، رسائل، ٹی، وی چینلز، فلمیں، ہر میڈیم، جس میں انسانی زندگی اظہار پاتی ہے، تخیّل سے عاری ہو چکا ہے ۔ ادب، شاعری، وغیرہ، میں، کہیں اس کے کھنڈرات مل جائیں تو مل جائیں، ورنہ وہاں بھی اس نے جگالی کی صورت اختیار کرلی ہے ۔ جوکچھ پہلے لوگ سوچ اورخیال کر گئے، اسے باربار بنا بگاڑ کر سامنے لایا جا رہا ہے ۔

  یہ بھی تو خود اس بات کا ثبوت ہے کہ تخیّل عنقا ہو گیا ۔ وحشت ہوتی ہے، تخیّل کے بغیر انسانی زندگی کیسے ہو سکتی ہے، کیسی ہو سکتی ہے ۔ تخیّل سے محروم لوگ کیسے ہو سکتے ہیں ۔ سب کچھ سامنے ہے: تخیّل کے بغیر زندگی بھی، اور تخیّل سے محروم لو گ بھی ۔

  اسی بات کو سازشی انداز میں، بہت سے دانشور اور مفکر یوں بیان کرنا چاہیں گے کہ لوگوں کو تخیّل سے محرو م کردیا گیا ہے ۔ ان کی سوچ یہ ہے کہ جیسے تخیّل کا غائب ہو جانا، کسی سازش کا نتیجہ ہے، اسی طرح اس کی واپسی بھی ایک سوچی سمجھی سازش (یعنی منصوبہ بندی) کے ذریعے ممکن ہو سکتی ہے ۔ یا یوں کہہ لیں کہ تخیّل کا ہونا اور نہ ہونا برابر ہے ۔ یعنی تخیّل ایک ایسی چیز ہے، جسے انسانوں کے اندرسے بیدخل کیا جا سکتا ہے، اور ان میں دوبارہ داخل بھی کیا جا سکتا ہے ۔

یہ نظریہ بہت سی شکلوں میں پایا جاتا ہے ۔ لیکن اس کا خا صہ اور جوہر یہ ہے کہ یہ انسانوں کوایک ایسی مخلوق گردانتا ہے، جسے جیسا چاہیں، بنالیں، بگاڑ لیں ۔ صرف سانچے بنانے کی ضرورت ہے ۔ اورپھر انسانوں کو ان سانچوں میں ڈالنے اور نکالنے کی ضرور ت ہے، تا کہ وہ اس طرح کے انسان بن جائیں، جس طرح اینٹیں ہوتی ہیں، جن کو جوڑ بٹھا کر دیواریں اور محل تعمیر کیے جا سکتے ہیں ۔

  اور یہ سمجھ دار، دانا، دانشور، عقل مند لوگ ہیں، یا حکمران لوگ ہیں، یا اشراف ہیں، جن کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ طے کریں، انسانوں کو کیسا انسان بنا نا ہے ۔ مثلا ً، تخیّل کا حامل، یا تخیّل سے عاری ۔

  یہاں سے آگے بڑھیں تو ان سازش پسندوں میں اختلاف پیدا ہو جاتا ہے ۔ ایک طرح کے سازش پسند، انسانوں کو اپنی پسند کا انسان بنانا چاہتے ہیں، اِنھیں دایاں بازو کہہ لیجیے ۔ دوسری طرح کے سازش پسند، انسانوں کو دوسری طرح کا انسان بنانے پر تلے ہیں ۔ اِنھیں بایا ں بازو کہہ لیجیے ۔

 یہاں ان بازؤوں کی تفصیل میں جانا مناسب نہیں، بس اتنا جان لینا کافی ہے کہ دونوں بازو ، انسانوں کو آزادی نہیں دینا نہیں چاہتے کہ وہ کیسے انسان بننا چاہتے ہیں ۔ جیسا انسان دائیں بازو والے انھیں بنانا چاہتے ہیں ۔ یا جیسا انسان بائیں بازو والے انھیں بنانا چاہتے ہیں ۔ یا اس سے بڑھ کر یہ کہ جیسا انسان، وہ خودبننا چاہتے ہیں ۔

 میں اسے کوئی سازش نہیں کہتا، لیکن میری رائے یہ ہے کہ اسی بازوئی تسلط، اور اسی طرح کے متعدد نظریات کے حاملوں کے استبداد نے تخیّل کے بیج کو پنپنے نہیں دیا ۔ جہاں جہاں اور جب جب تخیّل کی کونپل نے سر اٹھایا، اسے کاٹ ڈالا گیا ۔

 اگرچہ تخیّل خود آزادی ہوتا ہے، اور تخیّل کی ضمانت بھی؛ تاہم، بازوئی تسلط کے خوف اور استبداد نے تخیّل کو ماند کر دیا ہے ۔ اسے موت کی، یا موت جیسی نیند سلا دیا ہے ۔

 یہاں پاکستان میں چونکہ تخیّل کو کھلا چھوڑنا بھی موت کو دعوت دینے جیسا ہو گیا ہے(جبکہ تخیّل تو ایک بگٹٹ گھوڑا ہے!) ۔ جیسے دلیل دینا قتل کا بلاوا بن گیا ہے ۔ سو، سب نے یہ ٹھان لی ہے کہ تخیّل سے کام لینے کی کوئی ضرورت نہیں ۔ بنے بنائے ، ڈھلے ڈھلائے تخیّل کے نمونے موجود ہیں، ان کی جگا لی کریں، اور دنیا اور عاقبت، دونوں میں فلاح پائیں ۔ ہر کہیں، ہر شعبے میں یہی کچھ ہو رہا ہے ۔

 اس سے بھی بڑی بات یہ ہے کہ سب کے سب یہ بھی سمجھنے لگے ہیں کہ سودا برا نہیں ۔ سوائے ان تھوڑے سے سرپھروں کے جو زندگی کو حسن اور خوبصورتی کی نظر سے دیکھتے ہیں ۔ اور زندگی کو ایک لطیف احساس کی طرح جانتے ہیں، اور اسے اس احساس سے معمور بھی پاتے ہیں ۔ اور تخیّل کی تراشی کسی دنیا میں زندگی گزارنے کی جرأت بھی رکھتے ہیں ۔ اور اس موجود دنیا پر تخیّل کی دنیا کو متقدم سمجھتے ہیں، اور اس موجود دنیا کو تخیّل کے مطابق بنتا دیکھنا چاہتے ہیں ۔

 یا یہ کہ زندگی کو تخیّل سمجھتے ہیں ۔ یا زندگی کو تخیّل سے بھرپور حقیقت مانتے ہیں ۔ ایسا تخیّل جو کتنی ہی صورتوں میں اظہار پاتا ہے ۔ شاعری، افسانہ، مصوری، موسیقی، گائیکی، وغیرہ، وغیرہ ۔

 جیسا کہ کسی کا کہنا تھا کہ اگر گالی نہ ہوتی تو میں گھٹ کے مرجاتا ۔ اسی طرح، یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ اگر تخیّل نہ ہو تو انسان گھٹ کے رہ جائے ۔ بلکہ تخیّل کے بغیر انسان، ایک ایسا انسان بن جاتا ہے، بالکل اس جانور کی طرح کا، جو جو کچھ کھاتا ہے، وہی ہگ دیتا ہے ۔ جو بھی کھاتا ہے، اسے گو بنا کر خارج کر دیتا ہے ۔ انسان بھی، بالخصوص پاکستان کا انسان بھی ایسا ہی جانور بن گیا ہے ۔ گاربیج اِن، گاربیج آؤٹ ۔ جو اندر ڈالیں، وہی باہر نکلے گا ۔ بلکہ اچھا بھی اندر ڈالیں، تو وہ بھی بدصورتی بن کر باہر آئے گا ۔

 پاکستان کا انسان عجیب انسان بن گیا ہے ۔ یہ بد صورتی دیکھتاہے؛ بد صورتی کھاتا ہے؛ بد صورتی پیتا ہے؛ اور اگر کہیں کوئی لقمہ خوبصورتی کا، دیکھنے، کھانے اور پینے کو مل جائے، تو اسے بھی بدصورتی بنا کر باہر نکالتا ہے ۔ پاکستا ن کا انسان بھی ایک عجیب سانچہ بن گیاہے، ایک فرما، اس میں کچھ بھی ڈلے، باہر وہی بد صورتی نکلے گی ۔ یوں لگتا ہے اس کے اندرکا تخیّل کا کارخانہ جیسے صدیوں سے بند پڑا ہے ۔

 اس کی جو کچھ وجوہ اوپر بیان ہوئیں، ان کے علاوہ بھی کچھ اسباب ہیں: جیسے کے پاکستان میں رائج ثقافت کا نظریہ؛ اور علم کا نظریہ ۔ ان نظریات نے بھی تخیّل کی بیخ کنی میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی ۔

 جیسا کہ علم کی بنیاد دلیل پر ہے، اور پاکستان میں دلیل کی موت تو کب کی ہوچکی ۔ انتظارحسین نے تو اس کی موت در موت کا نوحہ لکھا تھا ۔ اور جب دلیل مرچکی، تو علم کہاں سے آئے گا ۔ بہ ایں سبب، پاکستان کی زمین علم کے لیے شور زمین بنی ہوئی ہے ۔

 اور، ثقافت کو پاکستان میں نچلے طبقوں کے رہن سہن کا نمونہ سمجھا جاتا ہے ۔ اسے ”ڈیکوریشن پیس“ کی صورت میں اشرافیہ کے گھروں میں پوجا جاتا ہے ۔ یا ثقافتی ورثے کے عجائب گھروں کی زینت بنا کر محفوظ رکھا جاتا ہے ۔ اسے بیچنے کے لیے نمائشوں کا انعقاد بھی ہوتا ہے، اور ان میں ثقافت کے مختلف مظاہر کا مظاہر ہ کرنے والے زندہ نمونے پرفارمینس دیتے دکھائے جاتے ہیں ۔ اس ثقافت کو محفوظ کرنا بہت بڑے شعبے اور فن کی حیثیت رکھتا ہے ۔ یہ نچلے طبقات پر بڑا احسان کرنے کے برابر کام گردانا جاتا ہے ۔ اور شاید کہیں یہ خواہش بھی کارفرما رہتی ہے کہ یہ طبقات اسی انداز پر جیتے رہیں ۔

 سو، پاکستان میں حقیقی ثقافت پروان نہیں چڑھ سکی ۔ یہاں ثقافت کا یہ دوسرا نظریہ جڑ نہیں پکڑ سکا: کہ ثقافت کی بنیاد تخیّل پرہے ۔ ماضی، یا ریاست، یا حکومت، یا اشرافیہ پر نہیں ۔ اور یہ کہ تخیّل انتہائی انفرادی اور شخصی چیز ہے ۔ اوریہ بھی کہ تخیّل کی بنیاد فرد ہے ۔ آزاد فرد ۔ اندر سے آزاد فرد ۔

  میں اندر سے آزاد فرد کی بات اس لیے کر رہا ہوں کہ باہر کی آزادی کو تو قوانین، اور قواعد وضوابط کی مدد سے یقینی بنایا جا سکتا ہے؛ لیکن اندر کی آزادی کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی ۔ ہاں، باہر کی آزادی، وہ کم سے کم ضمانت ہے اندر کی آزادی کی، جسے ممکن کردکھا نا ممکن ہے ۔ اندر کی آزادی، پھر وہی انفرادی اور شخصی معاملہ ہے ۔ یعنی انفرادی انتخاب اور انفرادی طرز ِ حیات کا معاملہ ہے ۔

  جیسے کنوئیں کا مینڈک بننے کے لیے کنوئیں کی موجودگی ضروری نہیں، اسی طرح، کنوئیں سے باہر آ جانے کا مطلب، آزاد ہوجانا نہیں ۔ کنوئیں میں رہ کر بھی آزاد رہا جا سکتا ہے ۔ کہنا میں یہ چاہ رہا ہوں کہ جبر کے تحت بھی تخیّل سرگرم رہ سکتا ہے، اور آزادی میں بھی ۔ اور شہادت تو یہ بھی ہے کہ آزادی کے تحت، تخیّل سست پڑجاتا ہے ۔

  لیکن پاکستان کے ضمن میں یہ ساری باتیں بیکار معلوم ہوتی ہیں ۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے روشندان کو پنبہ، ڈکّا، لگا کر بند کر دیا گیا ہے ۔غلط ہو گیا ۔ بند نہیں کیا گیا ۔ خود بند کر لیا گیا ہے اس روشندان کو ۔ اور یہ روشندان باہر سے بھی بند نہیں ہوا ۔ بلکہ اسے اندر سے بند کیا گیا ہے ۔ اوراندر سے کسی دوسرے نے بند نہیں کیا ۔ بلکہ خود اندر والے نے اس روشندان کو اندر سے بند کر لیا ہے ۔ جیسے کنوئیں کا مینڈک خود کو کنوئیں کے اندر بند کرنے کے ساتھ ساتھ کنوئیں کے منہ کو بھی اندر سے بند کر لے ۔

  اور یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ہوا، دھوپ، چاندنی، بارش، اورایسی ہی لاتعداد نعمتیں جو ہمیں باہر کی دنیا سے ملتی ہیں، یا کارل پاپر کے مطابق، جنھیں ہم باہر کی دنیا سے کشید کرتے ہیں، یہ سب چیزیں ہمارے اندر پہلے ہی موجود ہیں ۔ ہمیں کسی چیز کی کچھ ضرورت نہیں ۔ ہم کامل اور اکمل اندازمیں خود کفیل ہیں ۔

 سو، ہم ایک گنبد ِ بےدر میں قید ہیں ۔ اورالمیہ یہ ہے کہ یہ گنبد ِ بےدر کوئی طبعی، ٹھوس عمارت نہیں ۔ خود ہمارے تصورات نے اسے تعمیر کیا ہے ۔ اس کی اینٹ گارا خود ہمارے تصورات ہیں ۔ ہم نے تصورات کا ایک قید خانہ بنا کر خود کواس میں قید کرلیا ہے ۔ ان تصورات میں دائیں اور بائیں دونوں بازؤوں کے تصورات شامل ہیں ۔

 یوں، ہم تخیّل میں بھی آزاد نہیں، اور ہمارا تخیّل بھی آزاد نہیں ۔ ہمارا تخیّل منجمد ہو گیا ہے ۔ ہم نے یہ تصور کر لیا ہے، ہمیں تخیّل کی کوئی ضرورت نہیں ۔

 اور یہ سب کچھ ہم نے خود کیا ہے، کسی اور نے نہیں ۔ بلکہ کوئی اور تو یہ کام کر ہی نہیں سکتا ۔ کوئی اور جسم و جاں کو توقید کر سکتا ہے، تخیّل کو نہیں ۔ یا ہمارے تصورات یہ کام کر سکتے ہیں ۔ اور انھوں نے یہ کام کر دکھایا ہے ۔

 تو تخیّل کی موت کا ذمے دار کوئی اور نہیں، ہم خود ہیں ۔ اور سونے پر سہاگہ یہ کہ ہم اس جامد، برف تخیّل کو پگھلانا بھی نہیں چاہتے ۔ گوکہ، جیسا کہ اوپر ذکر ہوا، تخیّل کی تجدید یا اس کے احیا کے لیے اولین شرط فرد کی آزادی ہے، لیکن جب فرد خود آزاد نہ ہونا چاہے تو کوئی حکیم، ڈاکٹر کچھ نہیں کر سکتا ۔

ہاں، لیکن کم ازکم یہ تو ہو کہ جو لوگ تخیّل کو ترک نہیں کرنا چاہتے، انھیں تو آزادی ملے کہ وہ تخیّل سے معمور زندگی جی سکیں ۔ یعنی خارجی شرط تو پوری کی جائے، تاکہ پھر جو چاہے، وہ تخیّل کو ترک کرے، جو نہ چاہے، وہ ترک نہ کرے ۔ اور یہ بھی ضروری ہے کہ تخیّل کو ترک کرنے کی بندش، جو پاکستان میں زندگی کا چلن، زندگی کا قانون بنا دی گئی ہے، وہ ختم ہو ۔

 سو اصل میں تخیّل کو کسی نے موت کی نیند نہیں سلایا ۔ خود فرد نے تخیّل کو ترک کردیا ہے، اور یہی تخیّل کی اصل موت ہے!

 مگرکیا ہم اپنے تخیّل کو اپنے تصورات کی قید سے آزاد کرنے کے لیے تیار ہیں! اس سوال کا مثبت جواب ہی تخیّل کو دوبارہ زندگی دے سکتا ہے ۔