مصنف: راس دوڈیٹ

مترجم: زینب خالد

جب اختیار پسند فلسفیانہ موڈ میں ہوتے ہیں تو ایک فرد اور حکومت کے درمیان تصادم کی بجائے ایک فرد اور طبقے کے مابین تضاد کو بیان کرتے ہوئے حکومت کے کردار پر بحث کرنا پسند کرتے ہیں۔ اختیار پسندافراد باہمی تعاون اور مشترکہ کوشش کے حق میں ہیں جبکہ قدامت پسندافراد ذاتی مفاد اور خود غرضی کی حمایت کرتے ہیں۔اختیار پسند افراد ہوور ڈیم اور بین الریاستی شاہراہیں تعمیر کرتے ہیں جبکہ قدامت پسند افراد گھر بیٹھے ’’دی فاؤنٹن ہیڈ ‘‘ کے مسودات کی ورق گردانی کرتے رہتے ہیں۔ اختیارپسند افراد کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ کوئی بھی کام کرنے میں بہت سے لوگوں کی مشترکہ کاوش درکار ہوتی ہے جبکہ قدامت پسند افراد اسی خمار میں رہتے ہیں کہ بس جان وائن جیسا ایک ہیرو اکیلے ہی سب کچھ کر سکتا ہے۔

اس دنیاوی تناظر میں حکومت صرف ہمارے قومی طبقے اور اس جگہ کا فطری اظہار ہے جہاں ہم مشترکہ بھلائی کی کیلئے مل کر کام کرتے ہیں۔ یا پھر ’ریپریزینٹیٹو بارنے فرینک‘ کی ایک سطر کے مطابق: ’’حکومت صرف ان چیزوں کا نام ہے جو ہم اکٹھے کرتے ہیں‘‘۔

بہت سے قدامت پسند افراد فرینک کی اس بات سے بھی اتفاق کرتے ہیں کہ حکومت اکٹھے کام کرنے کا ایک ذریعہ ہے ۔ ایسے کچھ کام ہیں جو حکومت اکیلے نہیں کر سکتی اور جنہیں ہمیں مل کر کرنا چاہئے۔

لیکن ٹریڈ آف بھی ہوتے ہیں جنہیں اختیار پسند افراداکثرتسلیم کرنا پسند نہیں کرتے۔حکومت کی توسیع اکثر کمیونٹی کے ایسے متبادل اظہاروںیا متبادل گروہوں کی بدولت ہو تی ہے جو مشترکہ بھلائی کی کوشش کرتے ہیں۔بہت سی فرقہ وارانہ تنظیموں کے برعکس حکومت کے پاس جابرانہ طاقت ہوتی ہے جس کے تحت وہ ریگولیشن، مینڈیٹ اور ٹیکس کو کنٹرول کرتی ہے۔ان فوقیتوں کے باعث بہت سے لوگ حکومت کے رقیب بن جاتے ہیں۔ہم جتنے زیادہ کام حکومت کے ساتھ مل کر کرتے ہیں،دوسرے حلقوں میں اکٹھے کام کرنے کی گنجائش اتنی ہی کم ہوتی جاتی ہے۔

بعض اوقات حکومت کے رقیب بننے کا یہ عمل آہستہ، خفیہ اور بالواسطہ ہوتا ہے۔ٹیکس کا ہر ایک ڈالر جو حکومت وصول کرتی ہے وہ کسی خیراتی ادارے یا گرجا گھر تک نہیں پہنچتا۔تعلیم سے لے کر حفظانِ صحت اور فلاح و بہبود تک کے تمام حکومتی پروگرام ٹیکس دہندگان کے سہارے چلنے والی اجارہ داری بن سکتے ہیں۔

لیکن بعض اوقات حکومت اس سے آگے نکل جاتی ہے۔ جب مشترکہ کوششوں کی متبادل اقسام کے رونما ہونے کے بعد بھی حکومت کا جی نہیں بھرتاتو وہ اپنے رقیبوں کو ایک ناممکن پیشکش کرتی ہے: ’’ہمارے اصولو ں کے تحت چلو۔حتی کہ اگر اُن اخلاقی آئیڈیلوں کی خلاف ورزی کرنی پڑے جن سے متاثر ہو کہ تم نے اپنی کوششیں شروع کیں تھی تب بھی ! اگر یہ قبول نہیں تو تمہیں کمیونٹی کی تعمیر کے کاروبار سے مکمل طور پر بے دخل ہونا پڑے گا‘‘۔

بالکل ایسے ہی وائٹ ہاؤس نے اوبامہ کئیر کے زمانے میں مذہبی اداروں یعنی ہسپتالوں، سکولوں اور خیراتی اداروں کیلئے ایک منتظم کی پیشکش کرنے کا فیصلہ کیا۔حفظانِ صحت کے نئے قانون کے مطابق آجروں کی جانب سے ملنے والی انشورنس کے تمام منصوبوں کیلئے مانع حمل، نس بندی اور روزانہ( یا ہفتہ وار) لی جانے والی گولی ’ایلا‘ جو اسقاطِ حمل کا باعث بن سکتی ہے، ضروری ہیں۔ ا مریکی کیتھولک بشپوں کی رہنمائی میں چلنے والے بہت سے مذہبی گروہوں نے اپنے اُن منصوبوں کیلئے چھوٹ کی درخواست کی جنہیں ان کے اداروں نے خریدا۔اسکی بجائے وائٹ ہاؤس نے صرف ان مذہبی اداروں کو چھوٹ دی جو ترجیحی طور پر اپنے عقیدے کے لوگوں کو ہی خدمات مہیا کرتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں ایک پادری حلقہ اس مینڈیٹ کا پابند نہیں ہو گا لیکن ایک کیتھولک ہسپتال ہوگا۔

لمحہ بھر کیلئے اس پر غور کریں۔ڈیپارٹمنٹ آف ہیلتھ اینڈ ہیومن سروسز کا مذہبی گروہوں سے کہنا ہے کہ اگر وہ ایسی پریکٹسیز کیلئے پیسے نہیں دینا چاہتے جنہیں وہ غیر اخلاقی سمجھتے ہیں تو انہیں وسیع عوام کی بجائے اپنے مذہب سے تعلق رکھنے والوں کیلئے ہی کام کرنا چاہئے۔ فرقہ وارانہ علیحدگی تو ٹھیک ہے لیکن سمریٹنزم(Samaritansim) نہیں۔ اس اصول سے ایک بے معنی منظر کشی ہوتی ہے جس میں کیتھولک ہسپتال منکرینِ خدا اور مسلمانوں کیلئے اپنے دروازے بند کرکے اور ’’پروٹیسٹینٹس قابلِ اطلاق نہیں‘‘ کا سائن لگا کر، نس بندی اور روزانہ لی جانے والی گولی کیلئے پیسے دینے سے گریز کرتا ہے۔

وہ تمام قواعد و ضوابط بھی کیتھولک ڈیموکریٹس کا ایک ظالمانہ دھوکہ ہیں جن میں سے بہت سے حفظانِ صحت کے قانون کا دفاع کرتے ہیں کیونکہ ان کے مطابق یہقانون کیتھولسزم میں سماجی انصاف کی اہمیت کو بخوبی پورا کرتا ہے۔اب انہیں یہ احساس ہوتا ہے کہ حکومتی اشتراک کے باعث وہ اپنی چرچ کی سطح پر اشتراک نہیں کر پاتے بلکہ حکومت اسے بالکل ہی ختم کردینے کے در پہ ہے۔

منتظمینی پالیسی کے ناقدین اسے مذہبی آزادی کا مسئلہ قرار دیتے ہیں جو کہ ٹھیک بھی ہے لیکن جس چیز کو یہاں خطرہ لاحق ہے وہ مذہبی آزادی سے بھی بڑا مسئلہ ہے۔ اوبامہ وائٹ ہاؤس کا فیصلہ کسی بھی ایسی رضاکارانہ کمیونٹی کیلئے ایک خطرہ ہے جس کے اخلاقی احساسات ہیلتھ کیئر کنٹرولنگ بیوروکریسی سے مختلف ہیں۔

یہ عام خیال ہے کہ مانع حمل کو ضروری قرار دینے پر کیتھولک چرچ کا ردِ عمل اتنا شدید نہیں تھا جتنا ہونا چاہئے تھا اور بہت سے اختیار پسند افراد کے مطابق اس سے ترقیاتی مقصد کو ٹھیس پہنچی ہے۔انہیں دوبارہ سوچنا چاہئے۔ جب ایک بار دعوی کر دیا جائے تو ایسی قوتیں اس طرح استعمال کی جاتی ہیں جیسے کبھی کسی نے سوچا بھی نہ ہواور ان قواعد و ضوابط کے پیچھے جو منطق ہے اسے انتظامیہ بالکل ایسے ہی تعزیری طریقوں سے استعمال کر سکتی ہے لیکن اسکے پیچھے نیت اور مقصد اس منطق سے بہت مختلف ہو سکتا ہے۔

جتنا ایک وفاقی حکومت ثقافتی جنگ کا ایک ذریعہ بنتی جاتی ہے ، قدامت پسند اور اختیار پسند افراد کیلئے اختیارات بڑھانے اور انہیں نظریاتی موڑ دینے کے محرک اتنے ہی بڑھتے جاتے ہیں۔آج کیتھولک ہسپتال اسکا نشانہ بنے ہیں، کل کچھ اور اسکی زد میں ہو گا۔

ضمیر پر وائٹ ہاؤس کا یہ حملہ حفظانِ صحت کی اصلاحات کے اُن ناقدین کی توثیق کرتا ہے جنہوں نے ایسے ہی دھوکے کی توقع کی تھی۔لیکن یہ امریکہ کے اُس تاریک مستقبل کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے جس میں ہمارے رضاکارانہ طبقات پژمردہ ہو جائینگے اور بس حکومت ہی واحد پلیٹ فارم بچ جائیگاجہاں ہم مل کر کام کر سکیںگے۔