مصنف: اسد زمان

مترجم: کنول نذیر

 تاریخ گواہ ہے کہ لوگوں کو انکی عقل ، ہمت، ایمانداری ، فیاضی اور شرافت کی وجہ سے عزت ملی ہے نہ کہ صرف پیسے کی وجہ سے ۔بیسویں صدی کے ابتدائی دور میں کچھ لوگوں نے ان روایتی اقدار کو بدل کر ایک نیا جہاں بنانے کی کوشش کی۔

ایک گروہ کا ماننا تھا کہ جنگ، تضاد اور نا انصافی کی زیادتی کی وجہ جذباتی رویہ ہے۔جذبات میں آکرانسان اپنے ذاتی مفاد کے برخلاف ایسے دلیرانہ کام کر بیٹھتے ہیں جن سے انہیں اور معاشرے کو نقصان پہنچتاہے۔خود غرضی اور حرص جیسی با عمل اور با عقل قوتوں کو مضبوط کرنے سے ان شدیدجذبات میں توازن پیدا ہو گااور ایک پرُ امن معاشرہ تشکیل پائے گا۔ یورپین ایکونومی کمیونیٹی کے بانیوں نے یہ محسوس کیا کہ گزشتہ صدیوں میں تاریخی جنگی کاروائیوں کی جوبھرمار رہی اُسے روکنے کا ایک طریقہ بر طانوی ممالک کے مابین تجارتی تعلقات کو مضبوط کرنا ہے۔ایک اور گروہ کا بھی یہی خیال تھا کہ حرص ایک طاقتور قوت ہے۔اگر پیسوں کے حصول پر لگائی گئی سماجی پابندیوں کو ہٹا دیا جائے تو معاشرے دولت مند ہو جائیں گے۔یہ دولت انسانوں اور معاشروں کی فطرت بدل کر رکھ دے گی اور زمین پر جنت کا سا سماں ہو گا۔

جن لوگوں نے یہ سماجی تجربہ پیش کیا وہ یہ بخوبی جانتے تھے کہ حرص ایک برُی چیز ہے پر انہیں اُمید تھی کہ وہ اسکے طاقتور پہلو کو تجارت کے محدود میدان میں بروئے کار لا سکیں گے۔ ان کے مطابق اس کا اثر دوسرے سماجی اداروں جیسا کہ عدلیہ ، انتظامیہ، تعلیم اور خاندانی نظام پر نہیں ہونا چاہئے تھا لیکن اس نظریے کی پیروی کرنے والوں نے ان باریکیوں کو یکسر فراموش کر دیا۔ یہ کہاوت کہ ’حرص اچھی ہے‘ وال سٹریٹ(امریکی تجارتی مارکیٹ) کا عقیدہ بن گیا۔ جونہی حرص کو سماجی طور پر قبول کیا گیا یہ تمام اداروں میں رچ بس گئی۔

ہیپو کریٹیک اُوتھ( طبی فرائض سے متعلق حلف) کے مطابق ڈاکٹر حضرات کو خدمات کے پیکر قرار دیا گیا ہے۔لیکن بیسویں صدی میں بیماروں کی تکلیف سے فائدہ اُٹھا کر محض پیسے کمانے کے ارادے سے یہ پیشہ اختیار کرنے کا نظریہ سماجی طور پر قابلِ قبول ہو گیا ۔ میرے زیادہ تر ہم جماعت اس نیت سے پی۔ ایچ ۔ڈی پرواگرام کے سالِ اول میں داخل ہوئے تھے کہ انسانوں کے ایسے معاشی مسائل کو حل کرنے میں مدد کریں گے جنہیں فوری توجہ کی ضرورت ہے۔لیکن سٹین فورڈ میں لی گئی پیشہ ورانہ تربیت نے ان جذبات کو ہمارے دلوں سے یکسر مٹا کررکھ دیا۔ان جذبات کی جگہ غیر جانبدرانہ لاتعلقی نے لے لی جو کہ صرف معاشی قوانین کی دریافت سے متعلق تھی۔

دنیا بھر کے معروف کاروباری سکولوں نے مستقبل کے مینیجرز کو سکھایا کہ وہ بس کمپنیوں کی کل آمدن پر توجہ مرکوز رکھیں۔ نوبل لاری ایٹ ملٹن فریڈ مین کا مشہور مقولہ ہے کہ کاروبار کا واحد مقصد صرف حصولِ مفادات ہے۔ ہارورڈ یونیورسٹی میں گیم تھیورسٹس (نظریہ دانوں) نے جب معاہدات کو اپنی مرضی کے مطابق نافذ کر نے کا نظریہ پڑھانا شروع کیا تو اس عمل کو بہت ہی کم تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ اس نظریے کے مطابق لوگ اور کمپنیاں اپنے منافع کی خاطر کسی بھی وقت اخلاقیات اور معاہدات کی خلاف ورزی کر سکتی ہیں۔

ایسی تعلیمات کے زیرِاثر کثیرالاقوامی کارپوریشنز کے مینیجرز نے لوگوں اور ملازمین کو دھوکہ دیا،جنگیں چھیڑ کر فائدہ اُٹھایا اور جنگلوں ، دریاؤں، جھیلوں اور حیوانات و نباتات کی کئی انواع کے ساتھ ساتھ اس پورے کرہً حیات کو نقصان پہنچایا۔ انتہائی غیر اخلا قی کاروائیوں سے با خبر ہونے کی وجہ سے کاروبار کے میدان میں بے اعتباری کی فضاء چھا گئی ۔اِس وقت کاروبار میں سما جی ذمہ داری کو رائج کرنے کیلئے ایک تحریک زیرِعمل ہے جو کہ موجو دہ تباہ کن صورتحال کو واپس اچھی حالت میں بحال کرنے کی ایک کوشش ہے۔ بد قسمتی سے حقیقی سماجی ذمہ داری پر زور دینے کی بجائے اس بگڑی ہوئی تصویر کو زیادہ اُجاگر کیا جا رہا ہے۔

صحافت نے کاروباری منافع کی اس اند ھا د ھند دُوڑکی شریفانہ تصویر پیش کرنے میں اہم کردار ادا کیا تاکہ اس نظریے کو حمایت حاصل ہو سکے۔ مرڈوک سکینڈل اسکی ایک اچھی مثال ہے۔ میڈیا ایمپائر مغل مرڈوک روپرٹ نے سرخیوں کی تلاش میں کی گئی صحافیوں کی مجرمانہ سر گرمیوں کو چھپانے کیلئے ایک ملین ڈالر ادا کیے۔اسکی وجہ سے مشہورا و رکامیاب سنسنی خیز رسالہ ’نیوز آف دی ورلڈ‘ ختم ہو گیا اور اربوں ڈالر کا نیوز پیپرکمپنیوں  کے ملاپ کے منصوبے پر بھی پانی پھر گیا جوکہ تب زیرِعمل تھا ۔ فوجی صنعتی کمپلیکس اور صحافیوں کے مابین مضبوط تعلقات اس سے بھی زیادہ پریشان کن ہیں۔ ڈیویڈ بار سٹو نے ’دی نیو یارک ٹائمز ‘ میں بش انتظامیہ کی اعراق پر جنگ مسلط کر نے کی خفیہ مہم کو شاندار طریقے سے بے نقاب کر دیا جبکہ ایک وقت تھا جب اعراق کو آزا د کروانے اور دنیا کو وسیع پیمانے پر تباہی کرنے والے ہتھیاروں سے نجات دلانے کی امریکی کاروائیوں کی متوقع منظر کشی پر بہت زیادہ اعتبار کیا جاتا تھا۔ دریں اثنا اعراق میں وسیع کاروباری منافع حاصل کرنے کیلئے کی جانے وا لی کوششوں اور لاکھوں شہریوں کی اموات (جن کی تعداد ’روانڈا‘ میں کیے گئے مشہورقتلِ عام سے بھی زیادہ ہیں) کی حقیقی کہانی کو منظرِعام پر نہیں لایا گیا۔

ذراایسے پاکستان کا تصور کیجئے جہاں فیاضی قابلِ تعریف ہو اورلالچ و بد عنوانی سماجی طور پر نا قابلِ قبول ۔ ایسا معاشرہ موجودہ روائج کو بدل کر اور خاندانوں اور سکولوں میں اخلاقی تعلیم پر توجہ مرکوز کر کے ہی تشکیل دیا جا سکتا ہے۔ اس سمت میں اقدامات ضروری ہیں مگر اِس کیلئے آزاد سوچ چاہئے ۔ درآمدشدہ ( امپورٹڈ) ماڈلز میں اس بارے میں کوئی رہنمائی موجود نہیں۔

 

 

 

 

 

 

 

 

کیا آزاد مارکیٹ اخلاقی کردار کو مسخ کر دیتی ہے؟

 

مصنف: جگدیش بھگوتی

                     مترجم: کنول نذیر  

میں اپنے ذاتی تجربے کے مطابق وثوق سے یہ کہہ سکتا ہوں کہ اگرآپ آج کل کی یونیورسٹیوں میں آزاد مارکیٹ کے بارے میں بات کرنے کی کوشش کریں تو آپ پر تنقید کا پہاڑ ٹوٹ پڑے گا۔ بین الاقوامی مارکیٹس کی توسیع کے خلاف فیکلٹی اور طلبہ کے رویے کی بنیادی وجہ ان کا جذبہِ ایثار ہے۔ یہ لوگ سماجی اور اخلاقی معاملات کے بارے میں فکر مند ہیں۔ان کا ماننا ہے کہ گلوبلائیزیشن انسانی اقدار کو فراموش کر دیتی ہے۔ مگر میرا نظریہ اس کے بر عکس ہے۔میرے مطابق گلوبلائیزیشن دولت میں اضافے اور اسکی منصفانہ تقسیم کا باعث بنتی ہے۔ لہذا اس میں شامل افراد کے اخلاقیات اور کردار بہتر ہوتے ہیں۔

بہت سے تنقید نگاروں کا یہ ماننا ہے کہ گلوبلائیزیشن سے مختلف سماجی اور اخلاقی ایجنڈے نظر انداز ہوتے ہیں جیسا کہ غریب ممالک میں بچوں سے مزدوری کروانے کے رحجان اور غربت میں کمی اور ہر جگہ صنفی برابری اور ماحولیاتی تخفظ کا فروغ۔ پر جب میں نے اپنی کتاب اِن ڈیفنس آف گلوبلائیزیشن‘ میں ان معالات کا جائزہ لیا تو پتہ چلا کہ حقیقی نتائج ان مفروضات کے برعکس ہیں۔

مثال کے طور پر بہت سے تنقید نگار یہ مانتے ہیں کہ جب غریب کسانوں کو کمائی کے زیادہ مواقع فراہم ہوں گے تو وہ اپنے بچوں کو سکولوں سے اُٹھا کر کام پر لگا دیں گے۔اسطرح آ زاد مارکیٹ کی توسیع ایک بری قوت ثابت ہوگی۔ لیکن سچ اس کے منافی ہے۔بہت سی مثالوں سے یہ سامنے آیا کہ گلوبلائیزیشن کے نتیجے میں آمدنیوں میں اضافہ ہوا اور والدین کو اپنے بچوں کو سکول بھیجنے کی ترغیب ملی۔ویتنام میں چاول اُگانے والوں کی کمائی میں اضافہ اسکی ایک مثال ہیں۔ منافع میں اضافہ ہوتے ہوتے بالآخر ان لوگوں کو اُس قلیل آمدنی کی ضرورت نہ رہی جو ایک بچے کی مزدوری سے حاصل ہوتی تھی۔

صنفی برابری کو ہی لے لیں۔تجارتی مال و اشیاء پیدا کرنے والی صنعتوں کو گلوبلا ئیزیشن کی وجہ سے شدید بین الاقوانی مقابلے کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ بہت سے ترقی پذیر ممالک میں مردوخواتین کی تنخواہوں میں بہت فرق ہوتاہے حالانکہ تعلیمی قابلیت کے لحاظ سے یہ ایک جیسے ہیں۔ پرعالمی سطح پر مقابلے میں شامل کاروبای اداروں کو جلد ہی یہ احساس ہوجاتا ہے کہ وہ مردوں کو ترجیح دینے جیسے تعصبات میں مبتلا نہیں رہ سکتے۔ان پر قیمتوں کو کم کرنے اور بہترسے بہتر کام کرنے کا دباؤ اتنا زیادہ ہوجا تا ہے کہ وہ زیادہ تنخواہیں لینے والے مردوں کی بجائے کم تنخواہیں لینے والی خواتین کو رجوع کرتے ہیں۔نتیجتاً عورتوں کی اُجرت میں اضافہ اور مردوں کی اُجرت میں کمی ہوتی ہے۔گلوبلائزیشن ابھی تک تنخواہیں پوری طرح برابر تو نہیں کر سکی پر ان میں موجود وسیع خلاء میں کمی ضرور ہوئی ہے۔

بھارت اورچین غربت کے بہت زیادہ مسائل سے دوچار تھے۔ان ممالک نے تجارت اور غیر ملکی سرمایہ کاری سے مستفید ہوتے ہوئے بہت تیزی سے ترقی کی جس سے غربت میں حیران کن طور پر کمی واقع ہوئی۔گلوبلائیزیشن کی بدولت یہ ممالک اپنے لاکھوں لوگوں کے مادی حالات کو بہتر کرپائے ہیں۔کچھ تنقید نگاروں نے غربت کو معاشی ترقی کے ذریعے کم کرنے کے نظریے کو قدامت پسند ٹرِکل ڈاؤنحکمتِ عملی(امیر سے غریب تک دولت کی منتقلی)قرار دیتے ہوئے اسکی علانیہ مذمت کی ہے۔اِن کے مطابق دولت مند لوگ عیش پرستی میں مبتلا ہیں۔جبکہ غریب لوگ فاقوں مر رہے ہیں۔مگر حقیقت یہ ہے کہ معاشی ترقی کو  پُل اَپ  حکمت عملی کے طور پر بیان کرنا چاہئے جس کے مطابق معاشی ترقی سے غریب کو سود مند روزگار ملے گا اور غربت کم ہوگی۔

اگر تنقید نگار یہ بھی مان لیں کہ گلوبلائیزیشن سے کچھ سماجی مقاصد پورے ہوئے ہیں پھر بھی ان میں سے کچھ یہ دلیل دیتے ہیں کہ اس سے اخلاقی کردار مسخ ہوتاہے۔آزاد مارکیٹ کی توسیع سے منافع حاصل کرنے کے مواقع میں اضافہ ہوتا ہے ۔اپنے اپنے فائدے کی لالچ میں لوگ خود غرض اور بد اخلاق ہوجاتے ہیں۔لیکن یہ بات ذرا بھی قابل یقین نہیں۔

سائمن سکیما نے نیدر لینڈ کی تاریخ بیان کرتے ہوئے وہاں کے کاو نِسٹ شہریوں کے بارے میں لکھا کہ ان لوگوں نے بین الاقوامی تجارت میں قسمت آزمائی کی پر ذاتی مفاد کی بجائے جذبہ ایثار کو ترجیح دی۔اسے سکیمانے طنزاً امارات کی ضرورت سے زیادہ بہتات‘ قرار دیا۔مہاتما گاندھی کی ریاست بھارت کے شہر گجرات کےجینوں(امن و سکون پھیلانے والے لوگ)نے بھی ایسی ہی خود تلفی کا مظاہرہ کیا۔انہوں نے تجارتی سرگرمیوں سے جو دولت کمائی اسے اخلاقی اقدار کی نظر کر دیا۔

جہاں تک گلوبلائیزیشن کے اخلاقی کردار پر اثر کا تعلق ہے تو میں یہاںجان سٹوارٹ مِل‘ کے خوبصورت جذبات پیش کرنا چاہوں گا۔ مِلپرنسیپلز آف پولیٹیکل ایکونومی(1848ء) میں لکھتے ہیں کہ

تجارت کے فوائد اسکے ذ ہنی اور اخلاقی اثرات سے کہیں زیادہ اہم ہیں۔انسانی ترقی کی موجودہ کمتر حالت کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتاہے کہ انسانوں کا سامنا دوسرے مختلف انسانوں اور مختلف طریقہً عمل سے کروانا بہت اہمیت کا حامل ہے۔ کوئی ایسی قوم نہیں جسے دوسری قوموں کے اُن فنون ومہارت کی ضرورت نہ پڑے جن میں وہ خود پسماندہ ہو۔یہ کہنا بالکل بھی مبالغہ آمیز نہ ہوگاکہ بین الاقوامی تجارت کی توسیع سے نہ صرف عالمی امن یقینی بنے گا بلکہ نظریات،اداروں اور انسانی نسل کے کرادار کی بلا روکاٹ ترقی کو دائمی تحفظ بھی حاصل ہوگا۔

مِل کے بیان کردہ مظاہر کی نشانیاں آج کل کی عالمی معیشت میں مسلسل نظر آتی ہیں۔1980ء کی دہائی میں جاپانی کثیرالاقوامی کمپنیاں وجود میں آئیں تو مرد افسران اپنی بیویوں کو بھی اپنے ہمراہ نیویارک، لندن اور پیرس لے گئے۔جب اِن روایتی جاپانی خواتین نے دیکھا کہ مغرب میں عورتوں کے ساتھ کیسے برتا جاتا ہے تو انہوں نے خواتین کے حقوق اور برابری کے نظریات اپنا لیے۔جاپان واپسی پر انہوں نے سماجی اصلاحات کا بیڑہ اٹھایا۔آج کل تو ٹیلیویثرن اور انٹرنیٹ نے معاشرتی اور قومی حدود کو عبور کر کے سماجی اور اخلاقی آگاہی کی توسیع میں اہم کردار ادا کیاہے۔

آدم سمتِھ کی مشہور تحریر کے مطابق یورپ کا ایک انسانی ہمدردی کا جذبہ رکھنے والا انسان رات بھر سو نہ سکے گااگر اسے اندیشہ ہو کہ کل وہ اپنی چھوٹی انگلی کھودے گا لیکن اگر اسکی بجائے اسکے لاکھوں چینی بھائی اچانک زلزلے کا شکار ہوجائیں تو وہ چین سے سوتا رہے گا کیونکہ وہ اِن لوگوں سے انجان ہے۔ لیکن آج ہم اپنے چینی بھائیوں سے انجان نہیں۔ڈیویڈہیوم لکھتے ہیں کہ’’انہیں اب ہماری ہمدردی حاصل ہے۔‘‘ گذشتہ گرمیوں میں چین میں آنے والے زلزلے کے المناک نتائج سے ہمیں فوراً الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے آگاہ کیا گیا۔باقی د نیا نے زلزلے کے متاثرین کو نظر انداز کر نے کی بجائے ان کی مدد کرنا اپنا اخلاقی فریضہ سمجھا۔ یہ ردعمل گلوبلائیزیشن کا بہترین مظاہرہ تھا۔