جیا لا فلاسفی
آج کے روزنامہ ایکسپریس میں چھپنے والا ایک بیا ن تو جہ چا ہتا ہے ۔ ویسے تو ا یسے بیا ن گا ہے گا ہے سننے اور پڑھنے کو ملتے رہتے ہیں، لیکن ضروری ہے کہ کہیں تو رکا جا ئے، کہیں تو سوال اٹھا یا جا ئے، کہیں تو پوچھا جا ئے کہ یہ کیا ہو رہا ہے، یہ کیا کہا جا رہا ہے، اس کا کیا مطلب ہے، اس کے کیا مضمرات ہیں، اس کی کیا منشا ہے ؟
یہ بیا ن اس لیے بھی اہم ہے کہ یہ انسانی حقوق کے وفا قی وزیر کے نا م سے جا ری ہوا ہے ۔ یہ وزیرصاحب ہیں ممتا ز گیلا نی ۔ آپ فرما تے ہیں کہ پیپلز پا ر ٹی کی حکومت آ ئند ہ تین سا لو ں میں پا ر ٹی کا رکنو ں اور عوا م کو ریلیف دے گی ۔ انھو ں نے کہا کہ صد ر زردا ری کی قیا د ت میں حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ آنے والے تین سا لو ں میں جیا لو ں کے کام ہو ں گے ۔
اس بیا ن کے بارے میں کیا کہا جا ئے سوا ئے اس کے کہ آدمی یا اپنا سر پھوڑ لے یا ۔ ۔ ۔
بہر حا ل اتنا تو پوچھا جا سکتا ہے کہ یہ کون سی منطق ہے، کون سی ضا بطہ بند ی ہے، کون سی جمہوریت ہے، کو ن سا قا نو ن ہے، کو ن سا آئین ہے، یہ کہا ں کا انصا ف ہے ۔
کیا یہ فا شزم کی ہی کو ئی صورت تو نہیں !
اس سے پہلےکی پوسٹنگ (سرکاری افسر، وزیراعظم اورسپریم کورٹ) میں جوبا ت کہی گئی ہےکہ پا کستا نی سیا ست اور ریا ست نے پا کستا نی سو سا ئیٹی کو تبا ہ کر د یا ہے، یہ بیا ن اور یہ ا ند از نظر اسی چیزکا ایک نمونہ ہے ۔
This entry was posted
on Thursday, April 29th, 2010 at 9:46 pm and is filed under جیا لا فلاسفی.
You can follow any responses to this entry through the RSS 2.0 feed.
You can leave a response, or trackback from your own site.