سر کا ری افسر، وزیر اعظم اور سپریم کو رٹ

سپریم کورٹ نے وزیر اعظم کا 54 سرکاری افسروں کی ترقی کا حکم کا لعد م قرار دے د یا ہے ۔ اہم بات یہ ہے کہ ان میں منظور نظر افراد کے علاوہ وزیر اعظم اور ان کی کا بینہ  کے عزیز و احبا ب بھی شامل تھے ۔  یہ ترقیا ں گذ شتہ سا ل ستمبر میں کی گئی تھیں ۔ سپریم کورٹ کے مطا بق یہ تما م  کی تما م ترقیا ں میرٹ اور ضوابط کے خلاف تھیں ۔

اس اقدام پر وزیراعظم کا رد ِ عمل قا بل ِ غور ہے ۔ انھو ں نے د و با تیں کی ہیں : ایک تو یہ کہ حکومت سپریم کورٹ کے حکم پر عمل د رآ مد کر ے گی اوراس کے خلاف د رخوا ست دائر نہیں کی جائے گی، اور دوسرے انھوں نے متا ثرہ افسرا ن کو تسلی د ی ہے کہ وہ کا م جا ری رکھیں اور د ل برداشتہ نہ ہوں، حکومت قا نون کے ا ندر رہتے ہو ئے ان کے مفا دات کا خیا ل رکھے گی اور ان سے انصا ف کیا جا ئے گا ۔

کیا سپریم کو رٹ کے فیصلے پر وزیر اعظم کا رد عمل یہی ہو نا چا ہیے تھا ؟ کیا انھیں کو ئی ند مت اور شرمند گی نہیں ہو ئی کہ سپریم کورٹ نے ان کے ایک اقدام کو کلیتاً غیر قا نو نی قرار دے د یا ہے ؟ کیا ان میں اس بات کا ذ را سا بھی شعورمو جود نہیں کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعدان کی اخلا قی پو زیشن کوکوئی  دھچکا لگا ہے ؟

حقیقت یہ ہے کہ وہ یا ان کا کو ئی معتمد کبھی اس کے با رے میں سو چے گا بھی نہیں ۔ کیوں؟ صورت حا ل یہ ہے کہ جہا ں تما م اخلا قیا ت تہس نہس ہو چکی ہو، جھو ٹ اور دروغ گوئی کا بازار گرم ہو، بد د یا نتی اور خیا نت کا چلن عا م ہو، اقربا پروری ہراصول پر مقد م ہو، وہا ں اس طر ح کی با تیں عجیب وغریب معلوم ہوتی ہیں ۔ جہا ں سوچنے کے پیما نے کچھ یوں بد ل چکے ہو ں کہ آ پ ایک محدود دائرے سے با ہرنکل کرسوچنے  اور جا نچنے کی اہلیت سے ہی عا ری ہو چکے ہوں، یا پھر یہ کہ سوچنا اورجا نچنا چا ہتے ہی نہ ہو ں، وہا ں یہ سب با تیں غیر منا سب بن جا تی ہیں ۔ اس سے بھی بڑا المیہ یہ ہے کہ میڈ یا اور اوپ۔ایڈ رائیٹر بھی اس طرف توجہ نہیں دلاتے اور اسی دائرے کے ا ند ر بحث و منا ظرہ جاری رکھتے ہیں ۔

مگرہم اس صورت حا ل تک کیسے پہنچے ؟ سا د ہ سا جوا ب تو یہ ہے کہ پا کستا ن کی سیا ست ا ور ریا ست د ونو ں نے پا کستا نی سو سا ئیٹی کو تبا ہ کر د یا ہے ۔ تبا ہی سے مراد یہ ہے اس کی اخلا قیا ت اور اس کے  نظا م ِ ا قد ار کو تبا ہ کر د یا ہے ۔

Leave a Reply