ججوں کی تقرری ۔ چیف جسٹس، وزیر اعظم ملا قا ت
سیا ق و سبا ق کی اپنی اہمیت ہو تی ہے مگر اسے اصو لو ں پر فو قیت نہیں د ی جا سکتی ۔
بحرا ن کیسا ہی کیو ں نہ ہو چیف جسٹس کو وزیر ا عظم سے ملا قا ت کے لیے نہیں جا نا چا ہیے تھا ۔ ٹھیک ہے ادارے افراد بنا تے ہیں مگر افراد کو اصول بنا تے ہیں مصلحتیں نہیں ۔ ایک غلط ملا قا ت چیف جسٹس نے اعتزاز کے کہنے پر آ صف علی زرداری سے کی تھی، ا ور ایک غلط ملا قا ت اب کی ہے ۔
دوسرے عملیت پسند ی اداروں کو کمزور کر تی ہے مضبو ط نہیں ۔ ہمیں پاکستان میں آئین اور قا نو ن کی حکمرا نی قا ئم کر نے ک لیے اصول پسند ی درکا ر ہے ، عملیت پسند ی نہیں ۔ مرا د یہ ہے کہ ملا قا ت کا فوری نتیجہ گو بحرا ن کے حل کی صورت میں نکلا ہے ، مگر دیکھنا یہ ہے کہ حل کے اس طر یق ِ کار سے کس چیز کو تقویت ملی ہے ۔
کو ئی نیک مقصد ، اس کے حصول کے لیے بر و ئے کار لا ئے جا نے وا لے غلط اور برے ذرا ئع کو نیک نہیں بنا سکتا ۔
This entry was posted
on Wednesday, February 17th, 2010 at 7:32 pm and is filed under اصول اور عملیت پسند ی.
You can follow any responses to this entry through the RSS 2.0 feed.
You can leave a response, or trackback from your own site.