شخصی حکومت یا آئین اور قا نو ن کی حکومت

خوش آمدید!

جب سے پاکستان بنا ہے تب سے ہی ایک کشمکش مسلسل موجود ہے۔ یہا ں میں یہ کہنے سے گریز کروں گا کہ یہ کشمکش کن طبقات یا گروہوں کے درمیان ہے، گرچہ یہ بات بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی یہ کہ یہ کشمکش کیا ہے۔ یہ کشمکش ایک انتہا ئی بنیا دی سوال کے گرد گھوم رہی ہے: یعنی یہ کہ پاکستا ن کوکسی آئین اور قانون کے تحت چلا یا جائے یا کسی بھی طبقے یا گروہ کی مرضی کے مطا بق۔

موجودہ ’بحران‘ (ہفتہ،13 فروری) جو ججو ں کی تقرری سے متعلق ہے اسی بڑے سوا ل کا حصہ ہے کہ یہ کا م کسی آئینی قانونی ضابطے کے مطابق ہو نا چاہیے یا محض کسی فرد کی خوشی سے۔

ان تما م باریکیوں میں جائے بغیر جو ججوں کی تقرری سے متعلق پید ا کی جا رہی ہیں ، اس بات پر تما م

ما ہرین آئین و قا نو ن کا اتفا ق ہے کہ خواہ ججوں کا تقرر سینیارٹی کی بنیاد پر ہی ہونا چاہیے ، لیکن جو طریقِ کار اس وقت موجود ہے اس وقت اس پر عمل ضروری ہے، بعد میں پارلیمان اسے تبدیل کر نا چاہے تو کر لے۔ مراد یہ کہ اس وقت ججوں کا تقرر اصلاً، چیف جسٹس کا استحقا ق ہے۔

ججوں کی تقرری سے متعلق جو کچھ پیپلز پارٹی ک حکومت کر رہی ہے بظا ہر اس کے دو مقصد نظر آتے ہیں۔ اول تو یہ کہ عد لیہ میں اپنے وفا دار لوگ لائے جائیں، اور دوم یہ کہ موجودہ عد لیہ کو کسی نہ کسی طرح کمزور کیا جا ئے۔ دونو ں چیزوں کا مقصود پا رٹی کی اعلیٰ قیا د ت کے طویل مد تی مفا دات کا تحفظ ہے۔

جیسا کہ عیا ں ہے ، پہلے کی عد لیہ اصل میں اس ’’اتحاد‘‘ کا حصہ تھی جو پا کستا ن کے مختلف طبقات اور گروہوں نے اپنی حکمرانی کو جاری رکھنے اور اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے بنا یا ہوا ہے، مگر موجودہ عد لیہ اس کے برعکدس آئین اور قا نو ن پر عمل کر نے والی عد لیہ ہے۔ یہا ں اس با ت کا ازالہ ضروری ہے کہ وہ لو گ جو آئین اور قا نو ن کی حکمرانی کے حق میں ہیں وہ بھی اسے ایک عوامی عد لیہ کا نا م دے رہے ہیں یہ سرا سر غلط ہے۔ سیدھی سی با ت یہ کہ پاکستان کے لوگو ں کو آئین اور قا نو ن کی حکمرانی چا ہیے ہے یہی ان کا اصل مفا د ہے۔

سو اس عد لیہ کو کمزور کر نا پیپلز پا رٹی کی حکومت کی اولین تر جیح ہے۔ نتجہ یہی ہے کہ یہ حکومت آئین اور قا نو ن کی حکمرا نی کے حق میں نہیں اور اس عد لیہ کو بہر صورت تبا ہ کر نا چا ہتی ہے جو آئین اور قا نو ن کی حکمرانی کے لیے عملاً کوشا ں ہے۔

کسی بھی سیا سی رہنما یا جما عت کو جا نچنے کا یہ سید ھا سا اصو ل ہے کہ آ یا یہ عملاً آئین اور قا نو ن کی حکمرا نی کو قائم کر تی ہے ، اسے تقویت د تیی ہے ، اسے یقینی بنا تی ہے ، یا ا ن سب با تو ں کے بر عکس کر تی ہے۔ ہم اس کسوٹی کی مد د سے کھر ے کھوٹے کی پہچا ن کر سکتے ہیں۔

آ پ خو د چانچ کر لیجیے کیا ہو رہا ہے۔

Leave a Reply