Archive for May, 2010

دو طرح کے پاکستان

Sunday, May 16th, 2010

اول تو یہ کہ دو پاکستانوں کی بات کو سمجھنے کے لیے ہماری انگریزی ویب سائٹ پر میرا مضمون (http://asinstitute.org/node/314) Two Pakistans دیکھیے۔

مختصراً یہ کہ ایک پاکستان وہ ہے جہاں لوگ ایمانداری کے ساتھ محنت و مشقت کر کے اپنی زندگی گزارتے ہیں، اسے بہتر بناتے ہیں، دوسرا پاکستان وہ ہے جہاں کے لوگ ان لوگوں کی کمائی  پر جیتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو حکومت، سیاست، عوامی فلاح و بہبود، اور ایسے ہی بہت سے پرکشش نعروں کے پردے میں طفیلیوں کی زندگی گزارتے ہیں۔

یہاں میں اسی بات کو آگے بڑھانا چاہتا ہوں۔ ان دونوں پاکستانوں کی لاتعداد مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ حکومت، بیوروکریسی، فوج، اور کار ِسرکار سے وابستہ افراد کیا کر رہے ہیں۔

کس طرح وہ مال مفت دلِ بے رحم کے مصداق (اپنی جائز کمائی سے ہٹ کر) کھلی بدعنوانی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ یہ دوسروں کا ہی پیسہ ہے جس پر وہ ہاتھ صاف کر رہے ہیں۔

پہلی مثال تو بالکل میرے سامنے کی مثال ہے۔ یہ ایک عام سے خاندان کی کہانی ہے۔ عابدنہایت ایماندار اور خاموش طبع انسان ہے۔ اس نے تقریباً چوبیس پچیس برس شوز کی ایک فیکٹری میں کام کیا۔ پچھلے ماہ کی بات ہے کہ اس کی یہ نوکری ختم ہو گئی۔ ہم اس بحث میں نہیں پڑتے کہ کیوں اور کیسے ختم ہوئی۔ اس کے چھوٹے سے خاندان کے لیے یہ چیزایک قیامت ِ صغریٰ سے کم نہیں تھی۔

اس خاندان کا بڑا بیٹا نویں جماعت میں پڑھ رہا ہے، دوسرے دو بچے، ایک لڑکی اور ایک لڑکا، دونوں پانچویں جماعت میں ہیں۔ یہ اب کیا کریں گے یہ ایک بہت بڑا سوال تھا جس نے مجھے بھی شش و پنج میں ڈالا ہوا تھا۔ میں خود بھی سوچ رہا تھا کہ عابد کے لیے کوئی کام وغیرہ تلاش کیا جائے۔ اپنے کسی بھی جاننے والے سے اس کے بارے میں کہنے اور اس کی ضمانت دینے میں مجھے کوئی عار نہیں تھا کیونکہ وہ دیانتدار اور محنتی تھا۔

اسی اثنا میں مجھے لاہور سے باہر جانا پڑا۔ جب میں چند دن بعد واپس پہنچا تو حیران رہ گیا۔ مجھے اس خاندان کی طبع رسا پر بے حد خوشی ہوئی۔ انھوں نے اپنے گھر کی بیٹھک میں ایک دکان کھول لی تھی۔ گھر کے گروسری سٹور جیسی۔ اوربچوں سمیت میاں بیوی کا جذبہ دیدنی تھا۔ سب اس کام میں اس طرح جٹ گئےتھےجیسے وہ اسے ہر صورت کامیاب بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔ وہ خاندان جو رات نو بجے سو جاتا تھا ،

اب رات گیارہ بجے تک جاگتا ہے۔ دکان صبح چھ بجے کھل جاتی ہے۔ سارا دن کھلی رہتی ہے۔ وہ ایک طرح سے دوسرے جمے جمائے دکانداروں سے مقابلہ بھی کر رہے ہیں۔ منافع بہت سوچ سمجھ کر لے رہے ہیں۔ ان کی سوچ طویل مدتی ہے ایک دن مجھے پتہ چلا عابد کی بیوی اسے سمجھا رہی تھی: جو بھی دکان کے سامنے سے گزرتا ہے اسے سلام کیا کریں۔ جو دکان پر آتا ہے اسے بھی۔ جب کسی گاہک کو کوئی چیز نہیں ملتی تو وہ چیز دکان پر لانے کے بعد یہ اسے باقاعدہ مطلع کرتے ہیں کہ یہ چیز اب ہماری دکان پر دستیاب ہے۔

دوسری جانب دوسرا پاکستان ہے۔ اس کی مثال بھی دیکھ لیجیے: 29 جون 2006 کے ڈان میں راجہ ایم۔ افضل خان (گوجر خان) کا ایک خط شایع ہوا تھا، یہاں اس کا ترجمہ پیش کیا جاتا ہے: ’’ 19 جون کوایک پریس رپورٹ میں پنجاب کے سابق چیف سکریٹریوں اور انسپیکٹر جنرلوں کی ایک فہرست چھپی ہے۔ فہرست میں وہ افراد شامل ہیں جنھوں نے پنجاب کے وزیر ِ اعلیٰ کو تاحیات مالی مدد کے لیے درخواست کی ہے کیونکہ وہ اپنی قلیل پینشن میں اپنے مختلف اخراجات پورے کرنے سے قاصر ہیں۔

وزیرِ اعلیٰ نے بعض کوارٹرز کی مخالفت کے باوجود ان افسران کے لیے تاحیات مالی مدد کی منظوری دے دی ہے۔

مختلف قومی روزناموں کے قارئین اتنا تو جانتے ہی ہیں کہ یہ بڑے بڑے افسران جب ریٹائر ہوتے ہیں تو وہ بہت سے جائز اور ناجائز دونوں ذرائع سے خاصی دولت کما چکے ہوتے ہیں، اور ان کی کافی تعداد تو ریٹائرمینٹ کی زندگی گزارنے کے لیے امریکہ، کینیڈااور برطانیہ میں جا بستی ہے جہاں انھیں صحت، تعلیم اور زندگی کی دوسری سہولتیں کہیں بہترمعیار کے ساتھ دستیاب ہوتی ہیں۔

مگر سابقہ چیف سیکریٹریوں اور انسپیکٹرجنرلوں کی مالی بدحالی ایک کلیتاً مختلف تصویر سامنے لاتی ہے۔ دراصل، وفاقی حکومت کو مرکزی اور صوبائی سروسز کے افسران کا خیال کرنے کے حوالے سے اپنی ناکامی کو تسلیم کرنا چاہیے، جو اس حالت کو پہنچ گئے ہیں کہ وہ پنجاب کی صوبائی حکومت کے سامنے صوبائی فنڈز میں سے مالی اعانت کے لیے دست ِ سوال دراز کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں جو پہلے ہی پنجاب کے غریب سے غریب تر افراد کے لیے بھی ناکافی ہیں۔

میں وزیر ِ اعظم سے اپیل کروں گا کہ اس سے پہلے کہ یہ افسران دوسری صوبائی حکومتوں کو بھی ایسی ہی درخواست کرنے لگیں جہاں یہ چیف سیکریٹری اور انسپیکٹر جنرل کے حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں، وہ اپنی معائنہ ٹیم کو وفاقی سروس کے ان بے یار و مددگار افسران کے اثاثوں کا جائزہ لینے کی ہدایت کریں، بشمول ان اثاثوں کے جو ان کی بیویوں اور بچوں کے نام بھی ہیں، تاکہ مالی طور پر دیوالیہ ان اعلیٰ  بیوروکریٹوں کے لیے تاحیات مالی اعانت کے حجم کا تعین کیا جاسکے۔‘‘

اس کے بعد، 6 جولائی کو ڈان میں ہی اس کے جواب میں کراچی سے منصورالحق سولنگی کا خط شایع ہوا۔ اس کا ترجمہ بھی ملاحظہ کیجیے: ’’راجہ ایم۔ افضل خان کا ’’ضرورت مند بیوروکریٹس‘‘(29 جون) ایک ایسا انکشاف ہے جو مجھے ایک واقعے کی یاد دلاتا ہے جہاں دوسری جنگ ِ عظیم کے پیکار دیدہ ایک برطانوی سپاہی نے جو بہت مصیبت میں تھا معاشی اعانت کے لیے انگلینڈ کے وزیر ِ اعظم کو درخواست کی، لیکن اسے صاف جواب دے دیا گیا۔ یہ شخص برٹش فیلڈ مارشل برنارڈ لا، فسٹ وسکائونٹ مانٹگمری آف الامین تھا۔ دوسری جنگ ِ عظیم میں اس کی بہادری کے کارناموں نے اسے برطانوی پبلک میں ایک ہیرو کا درجہ دے دیا تھا اوربہ ایں سبب آخر ِکار اسے نائٹ کا خطاب بھی ملا۔ جنگ کے بعد اسے مغربی یورپی یونین کی تنظیم ِ دفاع ِ دائمی کے چیئر مین کا عہدہ عطا کیا گیا، اور پھر اسے نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (نیٹو)، سپریم ہیڈ کوارٹرز، اور یورپ میں اتحادی طاقتوں کا ڈپٹی کمانڈر بنا دیا گیا۔

یہ سرگرم ملازمت سے ریٹائرمینٹ کے بعد کی بات ہے کہ وہ ایک مرتبہ وزیر ِ اعظم سے ملا، جس نے ایسے ممتاز شخص کے ساتھ اپنے دفتر میں ملاقات کو اپنے لیے ایک بڑا اعزاز قرار دیا بلکہ اس کی گذشتہ خدمات کے جواب میں اپنی کرسی اسے پیش کی اور خود اس کے سامنے جا کھٹرا ہوا۔ باہمی دلچسپی کی کچھ باتوں کے بعد، فیلڈ مارشل نے اپنی جیب سے ایک درخواست نکالی اور اپنی شدید مالی مشکلات کو وضاحت کے ساتھ بیان کیا اور یہ بھی بتایا کہ وہ اپنے مالک مکان کا کرایہ تک دینے سے قاصر ہے۔

یوں ملک کے لیے اپنی خدمات کے پیش ِ نظر اس نے وزیر ِ اعظم سے ایک رہائشی مکان الاٹ کرنے کی استدعا کی۔ وزیر ِ اعظم نے فوراً اس سے استفسار کیا کہ آیا ملازمت کے دوران اسے تنخواہ اور مراعات، اور ریٹائرمینٹ کے بعد، باقاعدگی کے ساتھ پینشن کی ادائیگی نہیں ہوئی۔ یقیناً اس کا جواب برملا ’ہاں‘ میں تھا۔ اس کے بعد وزیر ِ اعظم نے اسے صاف صاف لفظوں میں یہ بتایا کہ اول تو جنرل کو ہمیشہ قانون اور وقت کے مطابق اس کا جو حق بنتا تھا اسے ملا، اور دوم یہ کہ وزیر ِ اعظم کی حیثیت اس کے پاس سے سرکاری اثاثوں کو کسی بھی صورت میں تصرف میں لانے کا کوئی اختیار نہیں۔

میری رائے میں ’ضرورت مند بیوروکریٹوں‘ نے جنھیں پنجاب میں سرکاری جائیدادیں دان کی جا تی ہیں برطانیہ کے فیلڈ مارشل مانٹی کے مقابلے میں کسی بھی طرح اپنے ملک کی کوئی زیادہ خدمت سرانجام نہیں دی ہے، اوربرطانوی وزیر ِ اعظم کی نسبت وزیر ِ اعلیٰ بھی کم اختیار کا حامل ہے۔‘‘

یہ ہیں دو طرح کے پاکستان۔

میں ابھی اس پر تبصرہ کرنے سے گریز کروں گا۔ بعد میں پھر کسی موقعے پر تفصیل سے بات ہو گی۔ تب تک آپ خود سوچیے اور نتائج نکالنے کی کوشش کیجیے۔

کیا پیپلز پارٹی بینظیر بھٹو کے قاتلوں کو پکٹرے گی ؟

Monday, May 3rd, 2010

غالب امکان یہی ہے کہ پیپلز پارٹی کبھی ایسا نہیں کرے گی ۔

کیوں؟ چند ممکنہ اسباب ذیل میں درج کیے جاتے ہیں

1 – تیسری دنیا میں جہا ں قانون کی حکمرانی کا فقدان ہوتا ہے وہاں سیاسی نوع کے قتل سیاسی جماعتوں کا ’’استحقاق‘‘ بن جاتے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ ایسے قتل کی صورت میں ریاست کی جانب سے تحقیقات کا عمل خود بہ خود شروع ہو جائے اور اپنے انجام تک پہنچے، مگر سیاسی جماعتیں ایسا نہیں ہونے دیتیں، وہ خود اپنے رہنمائوں کے قتل کی تحقیقات کی راہ میں رکاوٹ بن جاتی ہیں۔ یہ ان کا ایک سیاسی حربہ ہوتا ہے۔ وہ اپنے رہنما کے قتل کو ’’سیاسی اثاثہ‘‘ سمجھتی ہیں۔ جیسے کوئی ’’سیاسی سرمایہ‘‘ ہو جسے وہ اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے سنبھال کر رکھنا چاہتی ہیں۔ اسے ’’سیاسی وائوچر‘‘کا نام بھی دیا جا سکتا ہے جسے وہ مستقلاً کیش کرانے کی پوزیشن میں رہنے کے لیے کبھی اس قتل کو اپنے انجام تک نہیں پہنچنے دیتیں۔

یہ میرے کالج کے زمانے کی بات ہے، ایک سیاسی جماعت کی طلبہ تنظیم بھی سٹوڈینٹس یونین کا انتخاب لڑ رہی تھی۔ یہ بات حیران کن تھی کہ اس کے بڑے امیدوار جب بھی کسی انتخابی اجتماع سے خطاب کرنے کے لیے آتے تو زخموں سے چور چور نہیں، بلکہ لدے پھندے ہوتے، یعنی ’’پٹیو پٹی‘‘ ہوتے۔ ان کا خیال تھا کہ اس طرح ووٹرز کی ہمدردیاں آسانی سے حا صل ہو جاتی ہیں۔ سو، پیپلز پارٹی کی حکمت ِ عملی بھی یہی معلوم ہوتی ہے۔

اعجازالحق کے تو اختیار میں نہیں تھا کہ وہ ضیا ء الحق کے قتل کی تحقیقات کرواتے، مگر وہ بھی جہاں تک ہو سکا اس قتل کو کیش کرانے کی کوشش کرتے رہے۔ وہ تو ضیا ء الحق کی لاش میں اتنا دم خم نہیں تھا کہ کچھ اور عرصے تک زندہ رہتئ، سو جلد ہی کام نپٹ گیا۔

2- دوسری بڑی وجہ جو پہلی وجہ سے جڑی ہوئی ہے، یہ ہے کہ فرض کریں عدالتی کمیشن بنتا ہے، یا کوئی اور کمیشن، تحقیقات ہوتی ہے اور قاتل جو بھی ہیں پکڑے جاتے ہیں، اورانھیں قرار ِ واقعی سزا مل جاتی ہے، تو کیا ہوا، بات تو ختم ہو گئی، کھیل انجام کو پہنچ گیا۔ پھر کیا رہ گیا جس پر سیاست چمکائی جائے!

-3 تیسری وجہ اصل میں وجہ نہیں۔ یہ کچھ سازشی نظریے سے ملتی جلتی چیز ہے۔ لیکن ایسا بھی ہوتا ہے، جیسا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ سازشیں بھی ہوتی ہیں جو کامیاب بھی ہوتی ہیں اور ناکام بھی۔ لیاقت علی خان کے قتل سے لے کر مرتضٰی بھٹو کے قتل تک، جہا ں تک قاتلوں کی بات ہے تو بہت سے قیاسات مل جاتے ہیں جواس فرد پر یا اس گروہ پر انگلی اٹھا تے ہیں۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ ایسے بٹرے سیاسی قتلوں کے معاملے میں سیاسی وارثوں کے علاوہ خود ’’قاتل‘‘ بھی کبھی اس عمل کو شروع نہیں ہونے دیتے جو اگر قانون کی عملداری موجود ہو تو خود بہ خود شروع ہو جائے، یعنی تحقیقات اور ٹرائل کا عمل۔ اور یوں قصہ اپنے اختتام کو پہنچے۔

لہٰذا، امید یا خوف یہی ہے کہ بینظیر بھٹو کے قاتل کم از کم پیپلز پارٹی کے دور ِ حکومت میں پکٹرے جانے کا کوئی امکان نہیں۔ آگے دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے!

اس سے یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ اگر ملک میں قانون کی عملداری موجود ہو تو سیاست اور ریاست دونوں کی سمت درست ہو سکتی ہے!