Thursday, April 29th, 2010
آج کے روزنامہ ایکسپریس میں چھپنے والا ایک بیا ن تو جہ چا ہتا ہے ۔ ویسے تو ا یسے بیا ن گا ہے گا ہے سننے اور پڑھنے کو ملتے رہتے ہیں، لیکن ضروری ہے کہ کہیں تو رکا جا ئے، کہیں تو سوال اٹھا یا جا ئے، کہیں تو پوچھا جا ئے کہ یہ کیا ہو رہا ہے، یہ کیا کہا جا رہا ہے، اس کا کیا مطلب ہے، اس کے کیا مضمرات ہیں، اس کی کیا منشا ہے ؟
یہ بیا ن اس لیے بھی اہم ہے کہ یہ انسانی حقوق کے وفا قی وزیر کے نا م سے جا ری ہوا ہے ۔ یہ وزیرصاحب ہیں ممتا ز گیلا نی ۔ آپ فرما تے ہیں کہ پیپلز پا ر ٹی کی حکومت آ ئند ہ تین سا لو ں میں پا ر ٹی کا رکنو ں اور عوا م کو ریلیف دے گی ۔ انھو ں نے کہا کہ صد ر زردا ری کی قیا د ت میں حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ آنے والے تین سا لو ں میں جیا لو ں کے کام ہو ں گے ۔
اس بیا ن کے بارے میں کیا کہا جا ئے سوا ئے اس کے کہ آدمی یا اپنا سر پھوڑ لے یا ۔ ۔ ۔
بہر حا ل اتنا تو پوچھا جا سکتا ہے کہ یہ کون سی منطق ہے، کون سی ضا بطہ بند ی ہے، کون سی جمہوریت ہے، کو ن سا قا نو ن ہے، کو ن سا آئین ہے، یہ کہا ں کا انصا ف ہے ۔
کیا یہ فا شزم کی ہی کو ئی صورت تو نہیں !
اس سے پہلےکی پوسٹنگ (سرکاری افسر، وزیراعظم اورسپریم کورٹ) میں جوبا ت کہی گئی ہےکہ پا کستا نی سیا ست اور ریا ست نے پا کستا نی سو سا ئیٹی کو تبا ہ کر د یا ہے، یہ بیا ن اور یہ ا ند از نظر اسی چیزکا ایک نمونہ ہے ۔
Posted in جیا لا فلاسفی | No Comments »
Thursday, April 29th, 2010
سپریم کورٹ نے وزیر اعظم کا 54 سرکاری افسروں کی ترقی کا حکم کا لعد م قرار دے د یا ہے ۔ اہم بات یہ ہے کہ ان میں منظور نظر افراد کے علاوہ وزیر اعظم اور ان کی کا بینہ کے عزیز و احبا ب بھی شامل تھے ۔ یہ ترقیا ں گذ شتہ سا ل ستمبر میں کی گئی تھیں ۔ سپریم کورٹ کے مطا بق یہ تما م کی تما م ترقیا ں میرٹ اور ضوابط کے خلاف تھیں ۔
اس اقدام پر وزیراعظم کا رد ِ عمل قا بل ِ غور ہے ۔ انھو ں نے د و با تیں کی ہیں : ایک تو یہ کہ حکومت سپریم کورٹ کے حکم پر عمل د رآ مد کر ے گی اوراس کے خلاف د رخوا ست دائر نہیں کی جائے گی، اور دوسرے انھوں نے متا ثرہ افسرا ن کو تسلی د ی ہے کہ وہ کا م جا ری رکھیں اور د ل برداشتہ نہ ہوں، حکومت قا نون کے ا ندر رہتے ہو ئے ان کے مفا دات کا خیا ل رکھے گی اور ان سے انصا ف کیا جا ئے گا ۔
کیا سپریم کو رٹ کے فیصلے پر وزیر اعظم کا رد عمل یہی ہو نا چا ہیے تھا ؟ کیا انھیں کو ئی ند مت اور شرمند گی نہیں ہو ئی کہ سپریم کورٹ نے ان کے ایک اقدام کو کلیتاً غیر قا نو نی قرار دے د یا ہے ؟ کیا ان میں اس بات کا ذ را سا بھی شعورمو جود نہیں کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعدان کی اخلا قی پو زیشن کوکوئی دھچکا لگا ہے ؟
حقیقت یہ ہے کہ وہ یا ان کا کو ئی معتمد کبھی اس کے با رے میں سو چے گا بھی نہیں ۔ کیوں؟ صورت حا ل یہ ہے کہ جہا ں تما م اخلا قیا ت تہس نہس ہو چکی ہو، جھو ٹ اور دروغ گوئی کا بازار گرم ہو، بد د یا نتی اور خیا نت کا چلن عا م ہو، اقربا پروری ہراصول پر مقد م ہو، وہا ں اس طر ح کی با تیں عجیب وغریب معلوم ہوتی ہیں ۔ جہا ں سوچنے کے پیما نے کچھ یوں بد ل چکے ہو ں کہ آ پ ایک محدود دائرے سے با ہرنکل کرسوچنے اور جا نچنے کی اہلیت سے ہی عا ری ہو چکے ہوں، یا پھر یہ کہ سوچنا اورجا نچنا چا ہتے ہی نہ ہو ں، وہا ں یہ سب با تیں غیر منا سب بن جا تی ہیں ۔ اس سے بھی بڑا المیہ یہ ہے کہ میڈ یا اور اوپ۔ایڈ رائیٹر بھی اس طرف توجہ نہیں دلاتے اور اسی دائرے کے ا ند ر بحث و منا ظرہ جاری رکھتے ہیں ۔
مگرہم اس صورت حا ل تک کیسے پہنچے ؟ سا د ہ سا جوا ب تو یہ ہے کہ پا کستا ن کی سیا ست ا ور ریا ست د ونو ں نے پا کستا نی سو سا ئیٹی کو تبا ہ کر د یا ہے ۔ تبا ہی سے مراد یہ ہے اس کی اخلا قیا ت اور اس کے نظا م ِ ا قد ار کو تبا ہ کر د یا ہے ۔
Posted in سر کا ری افسر، وزیر اعظم اور سپریم کو رٹ | No Comments »