<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>اردو بلاگ - سب کا پاکستان</title>
	<atom:link href="http://www.hum-azad.org/blog/?feed=rss2" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://www.hum-azad.org/blog</link>
	<description>شخصی آ زادی اور قانون کی حکمرانی سب کی لیے</description>
	<lastBuildDate>Wed, 19 May 2010 18:52:50 +0000</lastBuildDate>
	<generator>http://wordpress.org/?v=2.9.1</generator>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
			<item>
		<title>دو طرح کے پاکستان</title>
		<link>http://www.hum-azad.org/blog/?p=88</link>
		<comments>http://www.hum-azad.org/blog/?p=88#comments</comments>
		<pubDate>Sun, 16 May 2010 17:07:07 +0000</pubDate>
		<dc:creator>Khalil</dc:creator>
				<category><![CDATA[دو طرح کے پاکستان]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.hum-azad.org/blog/?p=88</guid>
		<description><![CDATA[اول تو یہ کہ دو پاکستانوں کی بات کو سمجھنے کے لیے ہماری انگریزی ویب سائٹ پر میرا مضمون (http://asinstitute.org/node/314) Two Pakistans دیکھیے۔
مختصراً یہ کہ ایک پاکستان وہ ہے جہاں لوگ ایمانداری کے ساتھ محنت و مشقت کر کے اپنی زندگی گزارتے ہیں، اسے بہتر بناتے ہیں، دوسرا پاکستان وہ ہے جہاں کے لوگ ان [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<h4 style="text-align: right;">اول تو یہ کہ دو پاکستانوں کی بات کو سمجھنے کے لیے ہماری انگریزی ویب سائٹ پر میرا مضمون (<a href="http://asinstitute.org/node/314">http://asinstitute.org/node/314</a>) Two Pakistans دیکھیے۔</h4>
<p dir="rtl"><strong>مختصراً یہ کہ ایک پاکستان وہ ہے جہاں لوگ ایمانداری کے ساتھ محنت و مشقت کر کے اپنی زندگی گزارتے ہیں، اسے بہتر بناتے ہیں، دوسرا پاکستان وہ ہے جہاں کے لوگ ان لوگوں کی کمائی  پر جیتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو حکومت، سیاست، عوامی فلاح و بہبود، اور ایسے ہی بہت سے پرکشش نعروں کے پردے میں طفیلیوں کی زندگی گزارتے ہیں۔</strong></p>
<h4 style="text-align: right;">یہاں میں اسی بات کو آگے بڑھانا چاہتا ہوں۔ ان دونوں پاکستانوں کی لاتعداد مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ حکومت، بیوروکریسی، فوج، اور کار ِسرکار سے وابستہ افراد کیا کر رہے ہیں۔</h4>
<h4 style="text-align: right;">کس طرح وہ مال مفت دلِ بے رحم کے مصداق (اپنی جائز کمائی سے ہٹ کر) کھلی بدعنوانی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ یہ دوسروں کا ہی پیسہ ہے جس پر وہ ہاتھ صاف کر رہے ہیں۔</h4>
<h4 style="text-align: right;">پہلی مثال تو بالکل میرے سامنے کی مثال ہے۔ یہ ایک عام سے خاندان کی کہانی ہے۔ عابدنہایت ایماندار اور خاموش طبع انسان ہے۔ اس نے تقریباً چوبیس پچیس برس شوز کی ایک فیکٹری میں کام کیا۔ پچھلے ماہ کی بات ہے کہ اس کی یہ نوکری ختم ہو گئی۔ ہم اس بحث میں نہیں پڑتے کہ کیوں اور کیسے ختم ہوئی۔ اس کے چھوٹے سے خاندان کے لیے یہ چیزایک قیامت ِ صغریٰ سے کم نہیں تھی۔</h4>
<h4 style="text-align: right;">اس خاندان کا بڑا بیٹا نویں جماعت میں پڑھ رہا ہے، دوسرے دو بچے، ایک لڑکی اور ایک لڑکا، دونوں پانچویں جماعت میں ہیں۔ یہ اب کیا کریں گے یہ ایک بہت بڑا سوال تھا جس نے مجھے بھی شش و پنج میں ڈالا ہوا تھا۔ میں خود بھی سوچ رہا تھا کہ عابد کے لیے کوئی کام وغیرہ تلاش کیا جائے۔ اپنے کسی بھی جاننے والے سے اس کے بارے میں کہنے اور اس کی ضمانت دینے میں مجھے کوئی عار نہیں تھا کیونکہ وہ دیانتدار اور محنتی تھا۔</h4>
<h4 style="text-align: right;">اسی اثنا میں مجھے لاہور سے باہر جانا پڑا۔ جب میں چند دن بعد واپس پہنچا تو حیران رہ گیا۔ مجھے اس خاندان کی طبع رسا پر بے حد خوشی ہوئی۔ انھوں نے اپنے گھر کی بیٹھک میں ایک دکان کھول لی تھی۔ گھر کے گروسری سٹور جیسی۔ اوربچوں سمیت میاں بیوی کا جذبہ دیدنی تھا۔ سب اس کام میں اس طرح جٹ گئےتھےجیسے وہ اسے ہر صورت کامیاب بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔ وہ خاندان جو رات نو بجے سو جاتا تھا ،</h4>
<h4 style="text-align: right;">اب رات گیارہ بجے تک جاگتا ہے۔ دکان صبح چھ بجے کھل جاتی ہے۔ سارا دن کھلی رہتی ہے۔ وہ ایک طرح سے دوسرے جمے جمائے دکانداروں سے مقابلہ بھی کر رہے ہیں۔ منافع بہت سوچ سمجھ کر لے رہے ہیں۔ ان کی سوچ طویل مدتی ہے ایک دن مجھے پتہ چلا عابد کی بیوی اسے سمجھا رہی تھی: جو بھی دکان کے سامنے سے گزرتا ہے اسے سلام کیا کریں۔ جو دکان پر آتا ہے اسے بھی۔ جب کسی گاہک کو کوئی چیز نہیں ملتی تو وہ چیز دکان پر لانے کے بعد یہ اسے باقاعدہ مطلع کرتے ہیں کہ یہ چیز اب ہماری دکان پر دستیاب ہے۔</h4>
<h4 style="text-align: right;">دوسری جانب دوسرا پاکستان ہے۔ اس کی مثال بھی دیکھ لیجیے: 29 جون 2006 کے ڈان میں راجہ ایم۔ افضل خان (گوجر خان) کا ایک خط شایع ہوا تھا، یہاں اس کا ترجمہ پیش کیا جاتا ہے: ’’ 19 جون کوایک پریس رپورٹ میں پنجاب کے سابق چیف سکریٹریوں اور انسپیکٹر جنرلوں کی ایک فہرست چھپی ہے۔ فہرست میں وہ افراد شامل ہیں جنھوں نے پنجاب کے وزیر ِ اعلیٰ کو تاحیات مالی مدد کے لیے درخواست کی ہے کیونکہ وہ اپنی قلیل پینشن میں اپنے مختلف اخراجات پورے کرنے سے قاصر ہیں۔</h4>
<h4 style="text-align: right;">وزیرِ اعلیٰ نے بعض کوارٹرز کی مخالفت کے باوجود ان افسران کے لیے تاحیات مالی مدد کی منظوری دے دی ہے۔</h4>
<h4 style="text-align: right;">مختلف قومی روزناموں کے قارئین اتنا تو جانتے ہی ہیں کہ یہ بڑے بڑے افسران جب ریٹائر ہوتے ہیں تو وہ بہت سے جائز اور ناجائز دونوں ذرائع سے خاصی دولت کما چکے ہوتے ہیں، اور ان کی کافی تعداد تو ریٹائرمینٹ کی زندگی گزارنے کے لیے امریکہ، کینیڈااور برطانیہ میں جا بستی ہے جہاں انھیں صحت، تعلیم اور زندگی کی دوسری سہولتیں کہیں بہترمعیار کے ساتھ دستیاب ہوتی ہیں۔</h4>
<h4 style="text-align: right;">مگر سابقہ چیف سیکریٹریوں اور انسپیکٹرجنرلوں کی مالی بدحالی ایک کلیتاً مختلف تصویر سامنے لاتی ہے۔ دراصل، وفاقی حکومت کو مرکزی اور صوبائی سروسز کے افسران کا خیال کرنے کے حوالے سے اپنی ناکامی کو تسلیم کرنا چاہیے، جو اس حالت کو پہنچ گئے ہیں کہ وہ پنجاب کی صوبائی حکومت کے سامنے صوبائی فنڈز میں سے مالی اعانت کے لیے دست ِ سوال دراز کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں جو پہلے ہی پنجاب کے غریب سے غریب تر افراد کے لیے بھی ناکافی ہیں۔</h4>
<h4 style="text-align: right;">میں وزیر ِ اعظم سے اپیل کروں گا کہ اس سے پہلے کہ یہ افسران دوسری صوبائی حکومتوں کو بھی ایسی ہی درخواست کرنے لگیں جہاں یہ چیف سیکریٹری اور انسپیکٹر جنرل کے حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں، وہ اپنی معائنہ ٹیم کو وفاقی سروس کے ان بے یار و مددگار افسران کے اثاثوں کا جائزہ لینے کی ہدایت کریں، بشمول ان اثاثوں کے جو ان کی بیویوں اور بچوں کے نام بھی ہیں، تاکہ مالی طور پر دیوالیہ ان اعلیٰ  بیوروکریٹوں کے لیے تاحیات مالی اعانت کے حجم کا تعین کیا جاسکے۔‘‘</h4>
<h4 style="text-align: right;">اس کے بعد، 6 جولائی کو ڈان میں ہی اس کے جواب میں کراچی سے منصورالحق سولنگی کا خط شایع ہوا۔ اس کا ترجمہ بھی ملاحظہ کیجیے: ’’راجہ ایم۔ افضل خان کا ’’ضرورت مند بیوروکریٹس‘‘(29 جون) ایک ایسا انکشاف ہے جو مجھے ایک واقعے کی یاد دلاتا ہے جہاں دوسری جنگ ِ عظیم کے پیکار دیدہ ایک برطانوی سپاہی نے جو بہت مصیبت میں تھا معاشی اعانت کے لیے انگلینڈ کے وزیر ِ اعظم کو درخواست کی، لیکن اسے صاف جواب دے دیا گیا۔ یہ شخص برٹش فیلڈ مارشل برنارڈ لا، فسٹ وسکائونٹ مانٹگمری آف الامین تھا۔ دوسری جنگ ِ عظیم میں اس کی بہادری کے کارناموں نے اسے برطانوی پبلک میں ایک ہیرو کا درجہ دے دیا تھا اوربہ ایں سبب آخر ِکار اسے نائٹ کا خطاب بھی ملا۔ جنگ کے بعد اسے مغربی یورپی یونین کی تنظیم ِ دفاع ِ دائمی کے چیئر مین کا عہدہ عطا کیا گیا، اور پھر اسے نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (نیٹو)، سپریم ہیڈ کوارٹرز، اور یورپ میں اتحادی طاقتوں کا ڈپٹی کمانڈر بنا دیا گیا۔</h4>
<h4 style="text-align: right;">یہ سرگرم ملازمت سے ریٹائرمینٹ کے بعد کی بات ہے کہ وہ ایک مرتبہ وزیر ِ اعظم سے ملا، جس نے ایسے ممتاز شخص کے ساتھ اپنے دفتر میں ملاقات کو اپنے لیے ایک بڑا اعزاز قرار دیا بلکہ اس کی گذشتہ خدمات کے جواب میں اپنی کرسی اسے پیش کی اور خود اس کے سامنے جا کھٹرا ہوا۔ باہمی دلچسپی کی کچھ باتوں کے بعد، فیلڈ مارشل نے اپنی جیب سے ایک درخواست نکالی اور اپنی شدید مالی مشکلات کو وضاحت کے ساتھ بیان کیا اور یہ بھی بتایا کہ وہ اپنے مالک مکان کا کرایہ تک دینے سے قاصر ہے۔</h4>
<h4 style="text-align: right;">یوں ملک کے لیے اپنی خدمات کے پیش ِ نظر اس نے وزیر ِ اعظم سے ایک رہائشی مکان الاٹ کرنے کی استدعا کی۔ وزیر ِ اعظم نے فوراً اس سے استفسار کیا کہ آیا ملازمت کے دوران اسے تنخواہ اور مراعات، اور ریٹائرمینٹ کے بعد، باقاعدگی کے ساتھ پینشن کی ادائیگی نہیں ہوئی۔ یقیناً اس کا جواب برملا ’ہاں‘ میں تھا۔ اس کے بعد وزیر ِ اعظم نے اسے صاف صاف لفظوں میں یہ بتایا کہ اول تو جنرل کو ہمیشہ قانون اور وقت کے مطابق اس کا جو حق بنتا تھا اسے ملا، اور دوم یہ کہ وزیر ِ اعظم کی حیثیت اس کے پاس سے سرکاری اثاثوں کو کسی بھی صورت میں تصرف میں لانے کا کوئی اختیار نہیں۔</h4>
<h4 style="text-align: right;">میری رائے میں ’ضرورت مند بیوروکریٹوں‘ نے جنھیں پنجاب میں سرکاری جائیدادیں دان کی جا تی ہیں برطانیہ کے فیلڈ مارشل مانٹی کے مقابلے میں کسی بھی طرح اپنے ملک کی کوئی زیادہ خدمت سرانجام نہیں دی ہے، اوربرطانوی وزیر ِ اعظم کی نسبت وزیر ِ اعلیٰ بھی کم اختیار کا حامل ہے۔‘‘</h4>
<h4 style="text-align: right;">یہ ہیں دو طرح کے پاکستان۔</h4>
<h4 style="text-align: right;">میں ابھی اس پر تبصرہ کرنے سے گریز کروں گا۔ بعد میں پھر کسی موقعے پر تفصیل سے بات ہو گی۔ تب تک آپ خود سوچیے اور نتائج نکالنے کی کوشش کیجیے۔</h4>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.hum-azad.org/blog/?feed=rss2&amp;p=88</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>کیا پیپلز پارٹی بینظیر بھٹو کے قاتلوں کو پکٹرے گی ؟</title>
		<link>http://www.hum-azad.org/blog/?p=82</link>
		<comments>http://www.hum-azad.org/blog/?p=82#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 03 May 2010 16:58:58 +0000</pubDate>
		<dc:creator>Khalil</dc:creator>
				<category><![CDATA[کیا پیپلز پارٹی بینظیر بھٹو کے قاتلوں کو پکٹرے گی ؟]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.hum-azad.org/blog/?p=82</guid>
		<description><![CDATA[غالب امکان یہی ہے کہ پیپلز پارٹی کبھی ایسا نہیں کرے گی ۔
کیوں؟ چند ممکنہ اسباب ذیل میں درج کیے جاتے ہیں
1 &#8211; تیسری دنیا میں جہا ں قانون کی حکمرانی کا فقدان ہوتا ہے وہاں سیاسی نوع کے قتل سیاسی جماعتوں کا ’’استحقاق‘‘ بن جاتے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ ایسے قتل کی [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<h4 style="text-align: right;">غالب امکان یہی ہے کہ پیپلز پارٹی کبھی ایسا نہیں کرے گی ۔</h4>
<h4 style="text-align: right;">کیوں؟ چند ممکنہ اسباب ذیل میں درج کیے جاتے ہیں</h4>
<h4 style="text-align: right;">1 &#8211; تیسری دنیا میں جہا ں قانون کی حکمرانی کا فقدان ہوتا ہے وہاں سیاسی نوع کے قتل سیاسی جماعتوں کا ’’استحقاق‘‘ بن جاتے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ ایسے قتل کی صورت میں ریاست کی جانب سے تحقیقات کا عمل خود بہ خود شروع ہو جائے اور اپنے انجام تک پہنچے، مگر سیاسی جماعتیں ایسا نہیں ہونے دیتیں، وہ خود اپنے رہنمائوں کے قتل کی تحقیقات کی راہ میں رکاوٹ بن جاتی ہیں۔ یہ ان کا ایک سیاسی حربہ ہوتا ہے۔ وہ اپنے رہنما کے قتل کو ’’سیاسی اثاثہ‘‘ سمجھتی ہیں۔ جیسے کوئی ’’سیاسی سرمایہ‘‘ ہو جسے وہ اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے سنبھال کر رکھنا چاہتی ہیں۔ اسے ’’سیاسی وائوچر‘‘کا نام بھی دیا جا سکتا ہے جسے وہ مستقلاً کیش کرانے کی پوزیشن میں رہنے کے لیے کبھی اس قتل کو اپنے انجام تک نہیں پہنچنے دیتیں۔</h4>
<h4 style="text-align: right;">یہ میرے کالج کے زمانے کی بات ہے، ایک سیاسی جماعت کی طلبہ تنظیم بھی سٹوڈینٹس یونین کا انتخاب لڑ رہی تھی۔ یہ بات حیران کن تھی کہ اس کے بڑے امیدوار جب بھی کسی انتخابی اجتماع سے خطاب کرنے کے لیے آتے تو زخموں سے چور چور نہیں، بلکہ لدے پھندے ہوتے، یعنی ’’پٹیو پٹی‘‘ ہوتے۔ ان کا خیال تھا کہ اس طرح ووٹرز کی ہمدردیاں آسانی سے حا صل ہو جاتی ہیں۔ سو، پیپلز پارٹی کی حکمت ِ عملی بھی یہی معلوم ہوتی ہے۔</h4>
<h4 style="text-align: right;">اعجازالحق کے تو اختیار میں نہیں تھا کہ وہ ضیا ء الحق کے قتل کی تحقیقات کرواتے، مگر وہ بھی جہاں تک ہو سکا اس قتل کو کیش کرانے کی کوشش کرتے رہے۔ وہ تو ضیا ء الحق کی لاش میں اتنا دم خم نہیں تھا کہ کچھ اور عرصے تک زندہ رہتئ، سو جلد ہی کام نپٹ گیا۔</h4>
<h4 style="text-align: right;">2- دوسری بڑی وجہ جو پہلی وجہ سے جڑی ہوئی ہے، یہ ہے کہ فرض کریں عدالتی کمیشن بنتا ہے، یا کوئی اور کمیشن، تحقیقات ہوتی ہے اور قاتل جو بھی ہیں پکڑے جاتے ہیں، اورانھیں قرار ِ واقعی سزا مل جاتی ہے، تو کیا ہوا، بات تو ختم ہو گئی، کھیل انجام کو پہنچ گیا۔ پھر کیا رہ گیا جس پر سیاست چمکائی جائے!</h4>
<h4 style="text-align: right;">-3 تیسری وجہ اصل میں وجہ نہیں۔ یہ کچھ سازشی نظریے سے ملتی جلتی چیز ہے۔ لیکن ایسا بھی ہوتا ہے، جیسا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ سازشیں بھی ہوتی ہیں جو کامیاب بھی ہوتی ہیں اور ناکام بھی۔ لیاقت علی خان کے قتل سے لے کر مرتضٰی بھٹو کے قتل تک، جہا ں تک قاتلوں کی بات ہے تو بہت سے قیاسات مل جاتے ہیں جواس فرد پر یا اس گروہ پر انگلی اٹھا تے ہیں۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ ایسے بٹرے سیاسی قتلوں کے معاملے میں سیاسی وارثوں کے علاوہ خود ’’قاتل‘‘ بھی کبھی اس عمل کو شروع نہیں ہونے دیتے جو اگر قانون کی عملداری موجود ہو تو خود بہ خود شروع ہو جائے، یعنی تحقیقات اور ٹرائل کا عمل۔ اور یوں قصہ اپنے اختتام کو پہنچے۔</h4>
<h4 style="text-align: right;">لہٰذا، امید یا خوف یہی ہے کہ بینظیر بھٹو کے قاتل کم از کم پیپلز پارٹی کے دور ِ حکومت میں پکٹرے جانے کا کوئی امکان نہیں۔ آگے دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے!</h4>
<h4 style="text-align: right;">اس سے یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ اگر ملک میں قانون کی عملداری موجود ہو تو سیاست اور ریاست دونوں کی سمت درست ہو سکتی ہے!</h4>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.hum-azad.org/blog/?feed=rss2&amp;p=82</wfw:commentRss>
		<slash:comments>2</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>جیا لا فلاسفی</title>
		<link>http://www.hum-azad.org/blog/?p=76</link>
		<comments>http://www.hum-azad.org/blog/?p=76#comments</comments>
		<pubDate>Thu, 29 Apr 2010 15:46:19 +0000</pubDate>
		<dc:creator>Khalil</dc:creator>
				<category><![CDATA[جیا لا فلاسفی]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.hum-azad.org/blog/?p=76</guid>
		<description><![CDATA[آج کے روزنامہ ایکسپریس میں چھپنے والا ایک بیا ن تو جہ چا ہتا ہے ۔ ویسے تو ا یسے بیا ن گا ہے گا ہے سننے اور پڑھنے کو ملتے رہتے ہیں، لیکن ضروری ہے کہ کہیں تو رکا جا ئے، کہیں تو سوال اٹھا یا جا ئے، کہیں تو پوچھا جا ئے کہ [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<h4 style="text-align: right;">آج کے روزنامہ ایکسپریس میں چھپنے والا ایک بیا ن تو جہ چا ہتا ہے ۔ ویسے تو ا یسے بیا ن گا ہے گا ہے سننے اور پڑھنے کو ملتے رہتے ہیں، لیکن ضروری ہے کہ کہیں تو رکا جا ئے، کہیں تو سوال اٹھا یا جا ئے، کہیں تو پوچھا جا ئے کہ یہ کیا ہو رہا ہے، یہ کیا کہا جا رہا ہے، اس کا کیا مطلب ہے، اس کے کیا مضمرات ہیں، اس کی کیا منشا ہے ؟</h4>
<h4 style="text-align: right;">یہ بیا ن اس لیے بھی اہم ہے کہ یہ انسانی حقوق کے وفا قی وزیر کے نا م سے جا ری ہوا ہے ۔ یہ وزیرصاحب ہیں ممتا ز گیلا نی ۔ آپ فرما تے ہیں کہ پیپلز پا ر ٹی کی حکومت آ ئند ہ تین سا لو ں میں پا ر ٹی کا رکنو ں اور عوا م کو ریلیف دے گی ۔ انھو ں نے کہا کہ صد ر زردا ری کی قیا د ت میں حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ آنے والے تین سا لو ں میں جیا لو ں کے کام ہو ں گے ۔</h4>
<h4 style="text-align: right;">اس بیا ن کے بارے میں کیا کہا جا ئے سوا ئے اس کے کہ آدمی یا اپنا سر پھوڑ لے یا ۔ ۔ ۔</h4>
<h4 style="text-align: right;">بہر حا ل اتنا تو پوچھا جا سکتا ہے کہ یہ کون سی منطق ہے، کون سی ضا بطہ بند ی ہے، کون سی جمہوریت ہے، کو ن سا قا نو ن ہے، کو ن سا آئین ہے، یہ کہا ں کا انصا ف ہے ۔</h4>
<h4 style="text-align: right;">کیا یہ فا شزم کی ہی کو ئی صورت تو نہیں !</h4>
<h4 style="text-align: right;">اس سے پہلےکی پوسٹنگ (سرکاری افسر، وزیراعظم اورسپریم کورٹ) میں جوبا ت کہی گئی ہےکہ پا کستا نی  سیا ست اور ریا ست نے پا کستا نی سو سا ئیٹی کو تبا ہ کر د یا ہے، یہ بیا ن اور یہ ا ند از نظر اسی چیزکا ایک نمونہ ہے ۔</h4>
<h4 style="text-align: right;"></h4>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.hum-azad.org/blog/?feed=rss2&amp;p=76</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>سر کا ری افسر، وزیر اعظم اور سپریم کو رٹ</title>
		<link>http://www.hum-azad.org/blog/?p=60</link>
		<comments>http://www.hum-azad.org/blog/?p=60#comments</comments>
		<pubDate>Thu, 29 Apr 2010 15:31:54 +0000</pubDate>
		<dc:creator>Khalil</dc:creator>
				<category><![CDATA[سر کا ری افسر، وزیر اعظم اور سپریم کو رٹ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.hum-azad.org/blog/?p=60</guid>
		<description><![CDATA[سپریم کورٹ نے وزیر اعظم کا 54 سرکاری افسروں کی ترقی کا حکم کا لعد م قرار دے د یا ہے ۔ اہم بات یہ ہے کہ ان میں منظور نظر افراد کے علاوہ وزیر اعظم اور ان کی کا بینہ  کے عزیز و احبا ب بھی شامل تھے ۔  یہ ترقیا ں گذ شتہ [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<h4 style="text-align: right;">سپریم کورٹ نے وزیر اعظم کا 54 سرکاری افسروں کی ترقی کا حکم کا لعد م قرار دے د یا ہے ۔ اہم بات یہ ہے کہ ان میں منظور نظر افراد کے علاوہ وزیر اعظم اور ان کی کا بینہ  کے عزیز و احبا ب بھی شامل تھے ۔  یہ ترقیا ں گذ شتہ سا ل ستمبر میں کی گئی تھیں ۔ سپریم کورٹ کے مطا بق یہ تما م  کی تما م ترقیا ں میرٹ اور ضوابط کے خلاف تھیں ۔</h4>
<h4 style="text-align: right;">اس اقدام پر وزیراعظم کا رد ِ عمل قا بل ِ غور ہے ۔ انھو ں نے د و با تیں کی ہیں : ایک تو یہ کہ حکومت سپریم کورٹ کے حکم پر عمل د رآ مد کر ے گی اوراس کے خلاف د رخوا ست دائر نہیں کی جائے گی، اور دوسرے انھوں نے متا ثرہ افسرا ن کو تسلی د ی ہے کہ وہ کا م جا ری رکھیں اور د ل برداشتہ نہ ہوں، حکومت قا نون کے ا ندر رہتے ہو ئے ان کے مفا دات کا خیا ل رکھے گی اور ان سے انصا ف کیا جا ئے گا ۔</h4>
<h4 style="text-align: right;">کیا سپریم کو رٹ کے فیصلے پر وزیر اعظم کا رد عمل یہی ہو نا چا ہیے تھا ؟ کیا انھیں کو ئی ند مت اور شرمند گی نہیں ہو ئی کہ سپریم کورٹ نے ان کے ایک اقدام کو کلیتاً غیر قا نو نی قرار دے د یا ہے ؟ کیا ان میں اس بات کا ذ را سا بھی شعورمو جود نہیں کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعدان کی اخلا قی پو زیشن کوکوئی  دھچکا لگا ہے ؟</h4>
<h4 style="text-align: right;">حقیقت یہ ہے کہ وہ یا ان کا کو ئی معتمد کبھی اس کے با رے میں سو چے گا بھی نہیں ۔ کیوں؟ صورت حا ل یہ ہے کہ جہا ں تما م اخلا قیا ت تہس نہس ہو چکی ہو، جھو ٹ اور دروغ گوئی کا بازار گرم ہو، بد د یا نتی اور خیا نت کا چلن عا م ہو، اقربا پروری ہراصول پر مقد م ہو، وہا ں اس طر ح کی با تیں عجیب وغریب معلوم ہوتی ہیں ۔ جہا ں سوچنے کے پیما نے کچھ یوں بد ل چکے ہو ں کہ آ پ ایک محدود دائرے سے با ہرنکل کرسوچنے  اور جا نچنے کی اہلیت سے ہی عا ری ہو چکے ہوں، یا پھر یہ کہ سوچنا اورجا نچنا چا ہتے ہی نہ ہو ں، وہا ں یہ سب با تیں غیر منا سب بن جا تی ہیں ۔ اس سے بھی بڑا المیہ یہ ہے کہ میڈ یا اور اوپ۔ایڈ رائیٹر بھی اس طرف توجہ نہیں دلاتے اور اسی دائرے کے ا ند ر بحث و منا ظرہ جاری رکھتے ہیں ۔</h4>
<h4 style="text-align: right;">مگرہم اس صورت حا ل تک کیسے پہنچے ؟ سا د ہ سا جوا ب تو یہ ہے کہ پا کستا ن کی سیا ست ا ور ریا ست د ونو ں نے پا کستا نی سو سا ئیٹی کو تبا ہ کر د یا ہے ۔ تبا ہی سے مراد یہ ہے اس کی اخلا قیا ت اور اس کے  نظا م ِ ا قد ار کو تبا ہ کر د یا ہے ۔</h4>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.hum-azad.org/blog/?feed=rss2&amp;p=60</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>غیر ملکی ترقیا تی امداد : کچھ معر و ضا ت</title>
		<link>http://www.hum-azad.org/blog/?p=49</link>
		<comments>http://www.hum-azad.org/blog/?p=49#comments</comments>
		<pubDate>Sat, 27 Feb 2010 11:25:21 +0000</pubDate>
		<dc:creator>Khalil</dc:creator>
				<category><![CDATA[غیر ملکی ترقیا تی امداد]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.hum-azad.org/blog/?p=49</guid>
		<description><![CDATA[ہم نا رمل قو م نہیں ۔
وجو ہا ت بہت سی ہو سکتی ہیں ۔ یہا ں صر ف چند کی طر ف اشا رہ کر نا کا فی ہے۔
سیلف ریلا ئینس کا بھو ت ہما رے اند ر سے نکل نہیں پا تا ۔
ایک سا ل ہم گند م میں خو د کفیل ہو [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<h4 style="text-align: right;">ہم نا رمل قو م نہیں ۔</h4>
<h4 style="text-align: right;">وجو ہا ت بہت سی ہو سکتی ہیں ۔ یہا ں صر ف چند کی طر ف اشا رہ کر نا کا فی ہے۔</h4>
<h4 style="text-align: right;">سیلف ریلا ئینس کا بھو ت ہما رے اند ر سے نکل نہیں پا تا ۔</h4>
<h4 style="text-align: right;">ایک سا ل ہم گند م میں خو د کفیل ہو تے ہیں ۔ د و سرے سا ل د د آ مد کر رہے ہو تے ہیں ۔</h4>
<h4 style="text-align: right;">شا ہین عتیق الر حمٰن ، شا ید سو شل ویلفیئر کی صو با ئی و ز یر تھیں، ان کا ایک بیا ن با ر با ر ہا نٹ کرتا ہے :</h4>
<h4 style="text-align: right;">’چند سا لو ں میں ہم ایڈ لینے والے نہیں، ایڈ د ینے والے ملکو ں میں شا مل ہو جا ئیں گے ۔‘</h4>
<h4 style="text-align: right;">ہما را ایک اور اوبسیشن کو ئی پر انی کھو ئی ہو ئی سیا سی عظمت د و با رہ   حا صل کر نا ہے ۔ اس کے بغیر ہم خو د کو اد ھورا محسو س کر تے ہیں، پو را نہیں ۔</h4>
<h4 style="text-align: right;">11/9 کے اگلے دن ایک مسجد میں نما ز کے بعد دعا ما نگی گئی: ’اے خدا ! جو کچھ امر یکہ کے پا س ہے وہ ہمیں دے دے ۔‘</h4>
<h4 style="text-align: right;">کچھ سا ل پہلے شا ہد رہ کے با زاروں میں ایک پوسٹر آ و یزاں تھا ، کسی مو لا نا   صا حب کے خطبے کے سلسلے میں، ان کے القا با ت میں ’’فا تح ِ یو رپ‘‘ بھی شا مل تھا ۔</h4>
<h4 style="text-align: right;">ہما ری ہر حکو مت ’’کشکول‘‘ تو ڑ نے ، پھیکنے کے چکر سے نکل نہیں پا تی ۔</h4>
<h4 style="text-align: right;">یو ں محسو س ہو تا ہے کہ</h4>
<h4 style="text-align: right;">We are not comfortable with the world existing outside of us!</h4>
<h4 style="text-align: right;">با ت پھر ہما ر ے ما ئینڈ سیٹ پرآ جا تی ہے:</h4>
<h4 style="text-align: right;">ہما رے با ہر کی دنیا یا ہما ری د شمن ہے یا د وست ۔ جو د شمن ہیں انھیں ’’فتح‘‘ کرنا تو لا زم ہے، جو</h4>
<h4 style="text-align: right;">د وست ہیں ، با لآ خر ہم انھیں بھی اپنے د ائر ہ ء اثر میں لا ئے بغیر با ز نہیں آ ئیں گے ۔ (ہما ری انتہا ’’طا لبا ن‘‘ ہیں، اگر کو ئی ایسی انتہا ہو ئی تو ۔)</h4>
<h4 style="text-align: right;">ا س با ت کو یو ں بھی کہا جا سکتا ہے کہ مفتوح ہو کر ہم نچلے نہیں بیٹھتے  (سر سید کو چھوڑ کر) اور فا تح بنے بغیر ہمیں کو ئی چیز ہضم نہیں ہو تی (بشمول  علا مہ اقبا ل) ۔</h4>
<h4 style="text-align: right;">یہی وجہ ہے کہ ہمیں ہر اچھی بری با ت میں کو ئی سا زش نظر آ تی ہے ۔</h4>
<h4 style="text-align: right;">اس کا بڑ ا سبب یہ بھی ہے کہ ہم خو د کو ا ند ر سے کمز و ر اور غیر محفو ظ  محسو س کر تے ہیں ۔</h4>
<h4 style="text-align: right;">ہر نئے Gadget سے لے کر Kerry-Lugar Act تک اور ا س کے تحت د ی جا نے والی امداد تک، ہمیں کو ئی ’’سا زشی منصو بہ‘‘ کا ر فر ما نظر آ تا ہے ۔</h4>
<h4 style="text-align: right;">اس ذ ہن ا و ر ایسے نفسیا تی آ زا رو ں کے سا تھ ہم نہ تو اس د نیا کو سمجھ سکتے ہیں، اور نہ اس کے سا تھ ’بقا ئے با ہمی‘ اور ’تقو یت ِ با ہمی‘ کا کوئی رشتہ استوا ر کر سکتے ہیں ۔</h4>
<h4 style="text-align: right;">اس Mindset کی Stock-taking  بہت ضر و ری ہے ۔</h4>
<h4 style="text-align: right;">مِز گلمینہ نے ا پنے ڈ یلی ٹا ئمز (February 19) کے مضمو ن میں ا س کا کچھ ذ کر کیا ہے:</h4>
<h4 style="text-align: left;">“After almost 63 years, we should be footing our own social services bills. The fact that we cannot is our failing. If allegedly we have been “exploited under the guise of foreign assistance,” we are the only ones responsible for it. Why should another country look after our interests if we cannot look after our own?”</h4>
<h4 style="text-align: left;">[Gulmina Bilal Ahmad, Rethinking foreign assistance, Daily Times, February 19, 2010]</h4>
<h4 style="text-align: right;">لیکن آ د ھی، اور شا ید زیا د ہ اہم سچا ئی کچھ ا ور ہے ۔</h4>
<h4 style="text-align: right;">ا ور یہ بھی ا س Stock-taking کا حصہ ہو نی چا ہیے ۔</h4>
<h4 style="text-align: right;">پا کستا ن ایک نہیں، دو ہیں ۔ ا یک وہ جو عا م لو گو ں کے لیے ہے، ا ور د و سرا وہ جو خواص کے لیے ہے ۔</h4>
<h4 style="text-align: right;">و اضح ر ہے کہ پا کستا ن کی Elitist state کے تصو ر کے پیچھے کو ئی سا ز شی نظر یہ موجود نہیں، یہ ایک تحقیق شد ہ ا مر ہے ۔</h4>
<h4 style="text-align: right;">مثلاً ، ڈ ا کٹر عشر ت حسین سے لے کر ڈ ا کڑ ند یم ا لحق تک، ما ہر ین ِ معا شیا ت نے اس حقیقت کو</h4>
<h4 style="text-align: right;">خا صا کھو ل کر بیا ن کیا ہے ۔</h4>
<h4 style="text-align: right;">مز ید یہ کہ Elite classes لو گو ں کی Tax-money کے بل پر کس طر ح پُر تعیش  ز ند گی گزارتی ہیں، یہ چیز یں ہر بڑے شہر میں دیکھی ا و ر محسو س کی جا سکتی ہیں ۔</h4>
<h4 style="text-align: right;">تقر یبا ً ہر شہرمیں د و شہر موجود ہیں، لا ہو ر میں ا س کے بڑے نمو نے جی &#8211; او-  آ ر اور جمخا نہ ہیں ۔ اور ا سی طر ح کیLocalities   جہا ں Social services کا معیا ر بہت بہتر ہے ۔</h4>
<h4 style="text-align: right;">مز گلمینہ نے د رست لکھا ہے کہ ہم Social services مہیا نہیں کر سکے ہیں، لیکن کِسے مہیا نہیں کر سکے ہیں؟ بہت بڑا سچ یہ ہے کہ ’’عا م لو گو ں ‘‘ کو ۔</h4>
<h4 style="text-align: right;">خوا ص کے لیے تو ہم نے شہر ہی جد ا بنا ئے ہیں ۔</h4>
<h4 style="text-align: right;">کسی با ہر کے تر قی یا فتہ ملک میں د یکھیں تو عا م طو ر پر ایک ہی شہر نظر آ تا ہے، مر اد یہ کہ شہر کے تما م با شند و ں کو یکسا ں Social services مہیا کی  جا تی ہیں ۔</h4>
<h4 style="text-align: right;">Public sector میں Social services کے حو الے سے غیر ملکی پر ا جیکٹس کی  کہا نیا ں چھپی ہو ئی نہیں ۔ ا ن کی Leakages اور ا ن کے Operations سے فا ئد ہ کو ن ا ٹھا تا ہے، سب جا نتے ہیں ۔</h4>
<h4 style="text-align: right;">2005 میں زلزلے کے بعد آ نے وا لی ا مد ا د کیسے استعما ل ہو ئی، سب کو پتہ ہے ۔</h4>
<h4 style="text-align: right;">Kerry-Lugar Act کے تحت جو ا مد ا د آ ئے گی، ا سے امریکی خو د کیو ں ما نیٹر  کر نا چا ہتے ہیں، ہم اس با ت پر بہت مشتعل ہو تے ہیں۔ چو ری اور سینہ ز و ری ۔</h4>
<h4 style="text-align: right;">ا یک مر تبہ پھر اصل با ت کی طر ف آ تے ہیں:</h4>
<h4 style="text-align: right;">ا گر ہم نتا ئج پر نظر ڈ ا لیں تو یو ں معلو م ہو تا ہے کہ ا گر چہ مذ کورہ با لا ما ئنڈ سیٹ کی جڑ یں</h4>
<h4 style="text-align: right;">گذ شتہ تا ریخ میں بھی پیو ست ہیں، مگر چو نکہ ا س نے Elite classes کو بہت  فا ئد ہ پہنچا یا ، لہٰذ ا، انھو ں نے اسے خو ب Promote کیا ، با لخصو ص تعلیم اور میڈ یا کے ذ ریعے سے ۔</h4>
<h4 style="text-align: right;">ا و ر د وسر ی طر ف عا م ا فرا د تھے، جنھیں ا س ما ئنڈ سیٹ نے ا پنی حکو متو ں اور Elite classes کے حوا لے سے مجمو عی طو ر پر بہت Submissive ا و ر Docile بنا د یا ۔</h4>
<h4 style="text-align: right;">یو ں ا نھیں Social services کے کسی Minimum معیا ر سے بھی محر و م کر د یا گیا ۔</h4>
<h4 style="text-align: right;">بہت سی آ نکھیں کھو ل د ینے وا لی مثا لیں مو جو د ہیں:</h4>
<h4 style="text-align: right;">پا نی ، صفا ئی، سیو ر یج، گلیا ں، سڑ کیں، ٹرا نسپو ر ٹ، سٹریٹ لا ئٹ، پا ر کس، پلے گرا و نڈ ز،</h4>
<h4 style="text-align: right;">لا ئیبر یر یا ں، ۔ ۔ ۔</h4>
<h4 style="text-align: right;">ا و ر تعلیم ا و ر صحت کی تو با ت ر ہنے دیں ۔</h4>
<h4 style="text-align: right;">جیسا کہ مز گلمینہ ا پنے مضمو ن میں بتا تی ہیں کہ 2007 میں پا کستا ن Official development assistance حا صل کر نے وا لا چھٹا بڑ ا ملک بن گیا تھا ۔ ا سے 2.2 بلین ڈ ا لر امد ا د مل چکی تھی ۔</h4>
<h4 style="text-align: right;">ا وپر دی گئی Social services کی مثا لو ں میں سے یہ ODA کہا ں استعما ل ہو ئی؟ اس کے ثمر ا ت کہا ں ہیں ؟</h4>
<h4 style="text-align: right;">یہ بہت ا ہم سو ا ل ہے ۔ ا س کا جوا ب حا صل کر نا ضر و ری ہے ۔</h4>
<h4 style="text-align: right;">اس کا Audit ا و ر Social Audit د و نو ں ہو نے چا ہیئیں ۔</h4>
<h4 style="text-align: right;">صر ف ا یک شعبے پر نظر ڈ ا ل لیں:</h4>
<h4 style="text-align: right;">د ر ست اعد ا د و شما ر تو میر ے پا س مو جو د نہیں، لیکن یقیناً تعلیم کے شعبے میں خا صی غیر ملکی امد ا د آ ئی ہے (ا سی سیمینا ر کے ا یک ا و ر پینلسٹ مختا ر ا حمد علی، ایگز یکٹو ڈ ا ئر یکٹر سینٹر فا ر پیس ا ینڈ ڈ یویلپمینٹ ا ینیشی ا یٹو،  ا سلام آ با د، نے ا پنی ٹا ک میں بتا یا کہ 2007 ا و ر 2008 میں تقریبا ً 753 ملین ڈ ا لر تعلیم کی مد میں آ ئے تھے) ۔ وہ ا مد اد کہا ں گئی؟ ا س کے ثمرا ت نظر کیو ں نہیں آ تے؟</h4>
<h4 style="text-align: right;">ا بنِ رشد نے یو نا نی فلسفے سے متعلق شکو ک و شبہا ت کا ر د کر تے ہو ئے کہا تھا کہ ا گر کو ئی</h4>
<h4 style="text-align: right;">آ د می کسی کنو ئیں سے پا نی پیتے ہو ئے سا نس گھٹ جا نے کی و جہ سے مر  جا ئے تو کنو ئیں کے</h4>
<h4 style="text-align: right;">پا نی کا تو کو ئی قصو ر نہیں ۔</h4>
<h4 style="text-align: right;">ا سی طر ح، غیر ملکی ا مد ا د کوئی بر ی چیز نہیں ۔</h4>
<h4 style="text-align: right;">خرا بی کہیں ا و ر ہے، ا و ر و ہ ہے ہما ر ے ا ند ر۔</h4>
<h4 style="text-align: right;">ا ہم طو ر پر، ہما ر ے ذ ہنو ں میں ۔ ہما ر ے World-view میں ۔ خرا بی ہے ہما ر ی  ا قد ار میں ۔</h4>
<h4 style="text-align: right;">ہما رے ا عما ل میں ۔ ہما رے د نیا کو دیکھنے  کے ا ند ا ز ا ور زا و یے میں ۔ ہما ر ے معیا را ت میں ۔ ہما ر ے د و ستی ا و ر د شمنی کے پیما نو ں میں ۔</h4>
<h4 style="text-align: right;">غیر ملکی ا مد ا د سے صحیح طو ر پر فا ئد ہ ا ٹھا نے کے لیے ہمیں خو د پر نظر  ڈ ا لنی ہو گی ۔</h4>
<h4 style="text-align: right;">مجھے پبلک ٹر ا نسپو ر ٹ میں بھیک ما نگنے والا ایک ’’خو ش پو ش‘‘ پیشہ و ر  بھکا ری نہیں بھو لتا ۔ وہ بھیک کو حق سے بھی ز یا دہ بڑ ی کو ئی چیز سمجھتا تھا ۔ جا ر حا نہ ا ند ا ز میں بھیک ما نگتا تھا ۔ مسا فر و ں کو ڈ ا نٹتا تھا و ہ ا سے بھیک کیو ں نہیں د یتے ۔ ا چھے و قتو ں میں ا یک ر و پے سے کم بھیک نہیں لیتا تھا ۔ ا پنے سٹا پ پر ا تر نے سے پہلے با آ و ا ز ِ بلند تنبیہ کر تا تھا : ’’ا وئے فٹو فٹ</h4>
<h4 style="text-align: right;">ر و پیہ د یو ، میں ا گلے سٹا پ تے لہنا ا ے ۔‘‘</h4>
<h4 style="text-align: right;">مطلب یہ کہ غیر ملکی ا مد ا د کو ئی ’’حق‘‘ نہیں ۔ یہ ا یک ’’عنا یت‘‘ ہے ۔</h4>
<h4 style="text-align: right;">ا و ر یہ با ت بھی وا ضح ہے کہ ہر امد ا د کے پیچھے، چا ہے وہ ا نفرا د ی ہو یا قو می یا ملکی، کو ئی نہ کو ئی مقا صد ضر و ر ہو تے ہیں ۔</h4>
<h4 style="text-align: right;">ہم ضر و ر ت مند کی مد د کر تے ہیں، ا س کے پیچھے عا قبت کے تصو ر سے لے کر Compassion تک کا جذ بہ کا ر فر ما ہو سکتا ہے ۔</h4>
<h4 style="text-align: right;">ا سی طر ح، ہر غیر ملکی ا مد ا د کے پیچے، مثا ل کو طو ر پر، Kerry-Lugar Act کے تحت آ نے</h4>
<h4 style="text-align: right;">ا مد ا د کے پیچے بھی وا ضح ا و ر غیر و ا ضح، د و نو ں قسم کے مقا صد کا ر فر ما ہو سکتے ہیں ۔ جیسے کہ پا کستا نیو ں میں ا مر یکہ کی Image-building سے لے کر Militancy، Extremism، اور Terrorism کی ر وک تھا م اور تد ا ر ک بھی ۔</h4>
<h4 style="text-align: right;">د یکھنا یہ ہے، ا و ر ا ہم با ت بھی یہ ہے کہ ہم غیر ملکی ا مد ا د کو ا ستعما ل کیسے کر تے ہیں؟ کس کے لیے کر تے ہیں؟ ا س سے Maximum فا ئد ہ کیسے ا ٹھا تے ہیں؟</h4>
<h4 style="text-align: right;">جہا ں تک Strings ا و ر شر ا ئط کی با ت ہے، سوا ئے بھیک کے قر یب قر یب ہر امد ا د کے سا تھ</h4>
<h4 style="text-align: right;">ا یسی چیز یں منسلک ہو تی ہیں ۔</h4>
<h4 style="text-align: right;">دیکھنا یہ ہے، ا و ر ا ہم با ت بھی یہ ہے کہ ہم اس امد ا د کو استعما ل کیسے کر نے میں کتنے Creative ا و ر Innovative ہیں ۔</h4>
<h4 style="text-align: right;">یہا ں د و مثا لیں بہت ا ہم ہو سکتی ہیں:</h4>
<h4 style="text-align: right;">پہلی تو یہ کہ: 1993 میں و ر لڈ بینک، بلو چستا ن پر ا ئمر ی ا یجو کیشن ڈ ا ئر یکٹو ر یٹ (BPED) کے سا تھ مل کر طا لبا ت کے لیے Education Voucher Scheme شر و ع کر نا چا ہتا تھا ۔ لیکن یہ</h4>
<h4 style="text-align: right;">منصو بہ ز یر ِ عمل نہ آ سکا ۔ و ر لڈ بینک حکا م کے مطا بق ا س کی ذ مے د ا ر ی حکو متی ا ہل</h4>
<h4 style="text-align: right;">کا ر و ں ا و ر ڈ ا ئر یکٹو ر یٹ پر آ تی تھی ۔ ا نھو ں نے ا س سکیم کو نا قا بل ِ عمل قر ا ر د یا ۔</h4>
<h4 style="text-align: right;">2002 میں ا س و قت کی و فا قی و ز یر ِ تعلیم، ز بید ہ جلا ل نے بھی تعلیمی وا ئو چر سکیم کا تجر بہ</h4>
<h4 style="text-align: right;">کر نے کی خو ا ہش کا اظہا ر کیا تھا ۔ لیکن عملاً کچھ نہ ہو ا ۔</h4>
<h4 style="text-align: right;">یو ں، 13 بر س گز ر گئے ا و ر ایک ایسی سکیم شر و ع نہ ہو سکی جو کم آ مد نی وا لے گھرا نو ں کے بچو ں کے لیے تعلیم کے حصو ل کو ممکن بنا سکتی تھی ۔</h4>
<h4 style="text-align: right;">بہر حا ل، ایک د ہا ئی سے بھی ز یا د ہ کے بعد بنجا ب ا یجو کیشن فا ئو نڈ یشن میں مو جو د ا یک شخص، ڈ ا کٹر اللہ بخش ملک نے ا پنی Creativity، Innovation، ا و ر کو شش سے 2006 میں لا ہو ر میں EVS کو ممکن کر د کھا یا ۔</h4>
<h4 style="text-align: right;">ا ب تقر یباً چا ر سا ل بعد ا س سکیم کو چند ا یک د و سر ے ضلعو ں تک پھیلا یا جا ر ہا ہے ۔</h4>
<h4 style="text-align: right;">ا س سکیم کے Pilot project کے لیے امد ا د امر یکہ کے Open Society Institute نے مہیا کی تھی ۔</h4>
<h4 style="text-align: right;">د و سر ی با ت یہ کہ: 2007 میں بر طا نو ی Department for International Development (DFID) نے حکو مت ِ پا کستا ن کو 480 ملین پا ئو نڈ ز کی امد ا د مہیا کی ۔ ا س کا مقصد Illiteracy، High mortality rate، Polio ا ور د وسر ی “Social ills” کا تد ا رک تھا ۔ تا ہم، DFID کے سر برا ہ</h4>
<h4 style="text-align: right;">نے ا س امد اد کا اعلا ن کر تے ہو ئے “Substantial risks of corruption” سے متعلق ا پنے خد شا ت کا اظہا ر بھی کیا ۔</h4>
<h4 style="text-align: right;">مر ا د یہ کہ غیر ملکی امد ا د کے حوا لے سے ہمیں غیر ملکو ں ا و ر غیر ملکیو ں پر انگلی اٹھا نے سے پہلے ا پنے گر یبا ن میں جھا نکنا چا ہیے کہ ہم نے غیر ملکی امد ا د کو نہ صر ف ’’ما لِ مفت، د لِ بے</h4>
<h4 style="text-align: right;">ر حم‘‘ سمجھا بلکہ امد ا د مہیا کر نے وا لو ں کو بھی مطعو ن کر نے سے با ز نہ رہے ۔</h4>
<h4 style="text-align: right;">ہم یہ سمجھنے سے قا صر ہیں کہ یہ ہما را ’’حق‘‘ نہیں، ا و ر یہ کہ ہمیں ہر حا لت میں ا س سے ز یا د ہ سے ز یا د ہ فا ئد ہ ا ٹھا نا ہے ۔</h4>
<h4 style="text-align: right;">آ خر میں، حا صلِ بحث کے طو ر پر میں یہ کہنا چا ہو ں گا کہ انسا ن سما جی ر شتو ں کا مجمو عہ ہے ۔ ہم ایک د و سر ے کے ’’محتا ج‘‘ ہیں ۔ ہم ایک د و سرے کے سا تھ نا قا بلِ علٰیٰحد ہ طو ر پر جڑے ہو ئے ہیں ۔ ہم ا پنی با ہمی ضر و ر تو ں کو ایک د و سر ے کے سا تھ مل کر پو ر ا کر نے کے ایک انسا نی رشتے میں بند ھے ہو ئے ہیں ۔</h4>
<h4 style="text-align: right;">ما ر کیٹ ان ا نسا نی ر شتو ں کا ایک مظہر ہے ۔ ان رشتو ں کا ایک ا و ر مظہر با ہمی تعا و ن، با ہمی امد ا د، اعا نت ا و ر اسی طر ح کے د و سر ے نیٹ و ر ک ہیں ۔</h4>
<h4 style="text-align: right;">غیر ملکی امد ا د بھی بنیا د ی طو ر پر ایک ایسا ہی نیٹ و ر ک ہے ۔ مما لک ا و ر معا شر و ں کی سطح پر یہ ایک ایسا ہے گلو بل نیٹ و ر ک ہے، و رنہ امیر یکن بز نس کا ئو نسل (ABC) کو بو لٹن ما ر کیٹ کے متا ثر ہ کا رو با ریو ں کو امد ا د مہیا کر نے کی کیا ضر و ر ت ہے ۔</h4>
<h4 style="text-align: right;">ہمیں سمجھنا چا ہیے کہ ما ر کیٹ کے سا تھ سا تھ امد ا د بھی انسا نی محر کا ت پر مبنی ایک گلو بل Connector کا کرد ار ا د ا کر تی ہے ۔</h4>
<h4 style="text-align: right;">ہمیں سمجھنا چا ہیے کہ ہم Global village کے کسی جنگل میں بیٹھے ہو ئے سا د ھو نہیں جس نے د نیا کو تیا گ د یا ہے ا و ر جس کے چیلو ں پر لا زم ہے کہ وہ ا س کی ضر و رتیں پو ری کر یں ۔</h4>
<h4 style="text-align: right;">ہم ایک تیز تر، مسا بقت سے بھر پو ر، ا و ر ہر لمحہ تر قی کر تی او ر بد لتی ہو ئی د نیا کے شہر ی ہیں ۔</h4>
<h4 style="text-align: right;">ہمیں ا پنے انسا نی، فکر ی، سما جی، جغر ا فیا ئی، ا و ر سب سے بڑھ کر یہ کہ معا شی و ژ ن کو و سیع کر نے کی ضر و ر ت ہے ۔ ہمیں خو د کو تبد یل کر نے کی ضر و ر ت ہے تا کہ ا و ر بہت سی د وسر ی چیز و ں کی منا سب ا ند از میں تکمیل کے سا تھ سا تھ غیر ملکی امد ا د سے بھی صحیح طو پر فا ئد ہ اٹھا سکیں ۔</h4>
<h4 style="text-align: right;">شکر یہ!</h4>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.hum-azad.org/blog/?feed=rss2&amp;p=49</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>ججوں کی تقرری ۔  چیف جسٹس، وزیر اعظم ملا قا ت</title>
		<link>http://www.hum-azad.org/blog/?p=30</link>
		<comments>http://www.hum-azad.org/blog/?p=30#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 17 Feb 2010 19:32:27 +0000</pubDate>
		<dc:creator>Khalil</dc:creator>
				<category><![CDATA[اصول اور عملیت پسند ی]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.hum-azad.org/blog/?p=30</guid>
		<description><![CDATA[سیا ق و سبا ق کی اپنی اہمیت ہو تی ہے مگر اسے اصو لو ں پر فو قیت نہیں د ی جا سکتی ۔
بحرا ن کیسا ہی کیو ں نہ ہو چیف جسٹس کو وزیر ا عظم سے ملا قا ت کے لیے نہیں   جا نا چا ہیے تھا ۔ ٹھیک ہے ادارے [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<h4 style="text-align: right;">سیا ق و سبا ق کی اپنی اہمیت ہو تی ہے مگر اسے اصو لو ں پر فو قیت نہیں د ی جا سکتی ۔</h4>
<h4 style="text-align: right;">بحرا ن کیسا ہی کیو ں نہ ہو چیف جسٹس کو وزیر ا عظم سے ملا قا ت کے لیے نہیں   جا نا چا ہیے تھا ۔ ٹھیک ہے ادارے افراد بنا تے ہیں مگر افراد کو اصول بنا تے ہیں مصلحتیں نہیں ۔ ایک غلط ملا قا ت چیف جسٹس نے اعتزاز کے کہنے پر آ صف علی زرداری سے کی تھی، ا ور ایک غلط ملا قا ت اب کی ہے ۔</h4>
<h4 style="text-align: right;">دوسرے عملیت پسند ی اداروں کو کمزور کر تی ہے مضبو ط نہیں ۔ ہمیں پاکستان میں آئین اور قا نو ن کی حکمرا نی قا ئم کر نے ک لیے اصول پسند ی درکا ر ہے ، عملیت پسند ی نہیں ۔ مرا د یہ ہے کہ ملا قا ت کا فوری نتیجہ گو بحرا ن کے حل کی صورت میں نکلا ہے ، مگر دیکھنا یہ ہے کہ حل کے اس طر یق ِ کار سے کس چیز کو تقویت ملی ہے ۔</h4>
<h4 style="text-align: right;">کو ئی نیک مقصد ، اس کے حصول کے لیے بر و ئے کار لا ئے جا نے وا لے غلط اور برے ذرا ئع کو نیک نہیں بنا سکتا ۔</h4>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.hum-azad.org/blog/?feed=rss2&amp;p=30</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>شخصی حکومت یا  آئین اور قا نو ن کی حکومت</title>
		<link>http://www.hum-azad.org/blog/?p=19</link>
		<comments>http://www.hum-azad.org/blog/?p=19#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 15 Feb 2010 16:25:10 +0000</pubDate>
		<dc:creator>Khalil</dc:creator>
				<category><![CDATA[آئین و قا نون]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.hum-azad.org/blog/?p=19</guid>
		<description><![CDATA[خوش آمدید!
جب سے پاکستان بنا ہے تب سے ہی ایک کشمکش مسلسل موجود ہے۔ یہا ں میں یہ کہنے سے گریز کروں گا کہ یہ کشمکش کن طبقات یا گروہوں کے درمیان ہے، گرچہ یہ بات بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی یہ کہ یہ کشمکش کیا ہے۔ یہ کشمکش ایک انتہا ئی  بنیا [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<h4 style="text-align: right;">خوش آمدید!</h4>
<h4 style="text-align: justify;">جب سے پاکستان بنا ہے تب سے ہی ایک کشمکش مسلسل موجود ہے۔ یہا ں میں یہ کہنے سے گریز کروں گا کہ یہ کشمکش کن طبقات یا گروہوں کے درمیان ہے، گرچہ یہ بات بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی یہ کہ یہ کشمکش کیا ہے۔ یہ کشمکش ایک انتہا ئی  بنیا دی سوال کے گرد گھوم رہی ہے: یعنی یہ کہ پاکستا ن کوکسی آئین اور قانون کے تحت چلا یا جائے یا کسی بھی طبقے یا گروہ کی مرضی کے مطا بق۔</h4>
<h4 style="text-align: justify;">موجودہ ’بحران‘ (ہفتہ،13 فروری) جو ججو ں کی تقرری سے متعلق ہے اسی بڑے سوا ل کا حصہ ہے کہ یہ کا م کسی آئینی قانونی ضابطے کے مطابق ہو نا چاہیے یا محض کسی فرد کی خوشی سے۔</h4>
<h4 style="text-align: justify;">ان تما م باریکیوں میں جائے بغیر جو ججوں کی تقرری سے متعلق پید ا کی جا رہی ہیں ، اس بات پر تما م</h4>
<h4 style="text-align: justify;">ما ہرین آئین و قا نو ن کا اتفا ق ہے کہ خواہ ججوں کا تقرر سینیارٹی کی بنیاد پر ہی ہونا چاہیے ، لیکن جو طریقِ کار اس وقت موجود ہے اس وقت اس پر عمل ضروری ہے، بعد میں پارلیمان اسے تبدیل کر نا چاہے تو کر لے۔ مراد یہ کہ اس وقت ججوں کا تقرر اصلاً، چیف جسٹس کا استحقا ق ہے۔</h4>
<h4 style="text-align: justify;">ججوں کی تقرری سے متعلق جو کچھ پیپلز پارٹی ک حکومت کر رہی ہے بظا ہر اس کے دو مقصد نظر آتے ہیں۔ اول تو یہ کہ عد لیہ میں اپنے وفا دار لوگ لائے جائیں، اور دوم یہ کہ موجودہ عد لیہ کو کسی نہ کسی طرح کمزور کیا جا ئے۔ دونو ں چیزوں کا مقصود پا رٹی کی اعلیٰ قیا د ت کے طویل مد تی مفا دات کا تحفظ ہے۔</h4>
<h4 style="text-align: justify;">جیسا کہ عیا ں ہے ، پہلے کی عد لیہ اصل میں اس ’’اتحاد‘‘ کا حصہ تھی جو پا کستا ن کے مختلف طبقات اور گروہوں نے اپنی حکمرانی کو جاری رکھنے اور  اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے بنا یا ہوا ہے، مگر موجودہ عد لیہ اس کے برعکدس آئین اور قا نو ن پر عمل کر نے والی عد لیہ ہے۔ یہا ں اس با ت کا ازالہ ضروری ہے کہ وہ لو گ جو آئین اور قا نو ن کی حکمرانی کے حق میں ہیں وہ بھی اسے ایک عوامی عد لیہ کا نا م دے رہے ہیں یہ سرا سر غلط ہے۔ سیدھی سی با ت یہ کہ پاکستان کے لوگو ں کو آئین اور قا نو ن کی حکمرانی چا ہیے ہے یہی ان کا اصل مفا د ہے۔</h4>
<h4 style="text-align: justify;">سو اس عد لیہ کو کمزور کر نا پیپلز پا رٹی کی حکومت کی اولین تر جیح ہے۔ نتجہ یہی ہے کہ یہ حکومت آئین اور قا نو ن کی حکمرا نی کے حق میں نہیں اور اس عد لیہ کو بہر صورت تبا ہ کر نا چا ہتی ہے جو آئین اور قا نو ن کی حکمرانی کے لیے عملاً کوشا ں ہے۔</h4>
<h4 style="text-align: justify;">کسی بھی سیا سی رہنما یا جما عت کو جا نچنے کا یہ سید ھا سا اصو ل ہے کہ آ یا یہ عملاً آئین اور قا نو ن کی حکمرا نی کو قائم کر تی ہے ، اسے تقویت د تیی ہے ، اسے یقینی بنا تی ہے ، یا ا ن سب با تو ں کے بر عکس کر تی ہے۔ ہم اس کسوٹی کی مد د سے کھر ے کھوٹے کی پہچا ن کر سکتے ہیں۔</h4>
<h4 style="text-align: justify;">آ پ خو د چانچ کر لیجیے کیا ہو رہا ہے۔</h4>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.hum-azad.org/blog/?feed=rss2&amp;p=19</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
	</channel>
</rss>
