Saturday, February 27th, 2010
ہم نا رمل قو م نہیں ۔
وجو ہا ت بہت سی ہو سکتی ہیں ۔ یہا ں صر ف چند کی طر ف اشا رہ کر نا کا فی ہے۔
سیلف ریلا ئینس کا بھو ت ہما رے اند ر سے نکل نہیں پا تا ۔
ایک سا ل ہم گند م میں خو د کفیل ہو تے ہیں ۔ د و سرے سا ل د د آ مد کر رہے ہو تے ہیں ۔
شا ہین عتیق الر حمٰن ، شا ید سو شل ویلفیئر کی صو با ئی و ز یر تھیں، ان کا ایک بیا ن با ر با ر ہا نٹ کرتا ہے :
’چند سا لو ں میں ہم ایڈ لینے والے نہیں، ایڈ د ینے والے ملکو ں میں شا مل ہو جا ئیں گے ۔‘
ہما را ایک اور اوبسیشن کو ئی پر انی کھو ئی ہو ئی سیا سی عظمت د و با رہ حا صل کر نا ہے ۔ اس کے بغیر ہم خو د کو اد ھورا محسو س کر تے ہیں، پو را نہیں ۔
11/9 کے اگلے دن ایک مسجد میں نما ز کے بعد دعا ما نگی گئی: ’اے خدا ! جو کچھ امر یکہ کے پا س ہے وہ ہمیں دے دے ۔‘
کچھ سا ل پہلے شا ہد رہ کے با زاروں میں ایک پوسٹر آ و یزاں تھا ، کسی مو لا نا صا حب کے خطبے کے سلسلے میں، ان کے القا با ت میں ’’فا تح ِ یو رپ‘‘ بھی شا مل تھا ۔
ہما ری ہر حکو مت ’’کشکول‘‘ تو ڑ نے ، پھیکنے کے چکر سے نکل نہیں پا تی ۔
یو ں محسو س ہو تا ہے کہ
We are not comfortable with the world existing outside of us!
با ت پھر ہما ر ے ما ئینڈ سیٹ پرآ جا تی ہے:
ہما رے با ہر کی دنیا یا ہما ری د شمن ہے یا د وست ۔ جو د شمن ہیں انھیں ’’فتح‘‘ کرنا تو لا زم ہے، جو
د وست ہیں ، با لآ خر ہم انھیں بھی اپنے د ائر ہ ء اثر میں لا ئے بغیر با ز نہیں آ ئیں گے ۔ (ہما ری انتہا ’’طا لبا ن‘‘ ہیں، اگر کو ئی ایسی انتہا ہو ئی تو ۔)
ا س با ت کو یو ں بھی کہا جا سکتا ہے کہ مفتوح ہو کر ہم نچلے نہیں بیٹھتے (سر سید کو چھوڑ کر) اور فا تح بنے بغیر ہمیں کو ئی چیز ہضم نہیں ہو تی (بشمول علا مہ اقبا ل) ۔
یہی وجہ ہے کہ ہمیں ہر اچھی بری با ت میں کو ئی سا زش نظر آ تی ہے ۔
اس کا بڑ ا سبب یہ بھی ہے کہ ہم خو د کو ا ند ر سے کمز و ر اور غیر محفو ظ محسو س کر تے ہیں ۔
ہر نئے Gadget سے لے کر Kerry-Lugar Act تک اور ا س کے تحت د ی جا نے والی امداد تک، ہمیں کو ئی ’’سا زشی منصو بہ‘‘ کا ر فر ما نظر آ تا ہے ۔
اس ذ ہن ا و ر ایسے نفسیا تی آ زا رو ں کے سا تھ ہم نہ تو اس د نیا کو سمجھ سکتے ہیں، اور نہ اس کے سا تھ ’بقا ئے با ہمی‘ اور ’تقو یت ِ با ہمی‘ کا کوئی رشتہ استوا ر کر سکتے ہیں ۔
اس Mindset کی Stock-taking بہت ضر و ری ہے ۔
مِز گلمینہ نے ا پنے ڈ یلی ٹا ئمز (February 19) کے مضمو ن میں ا س کا کچھ ذ کر کیا ہے:
“After almost 63 years, we should be footing our own social services bills. The fact that we cannot is our failing. If allegedly we have been “exploited under the guise of foreign assistance,” we are the only ones responsible for it. Why should another country look after our interests if we cannot look after our own?”
[Gulmina Bilal Ahmad, Rethinking foreign assistance, Daily Times, February 19, 2010]
لیکن آ د ھی، اور شا ید زیا د ہ اہم سچا ئی کچھ ا ور ہے ۔
ا ور یہ بھی ا س Stock-taking کا حصہ ہو نی چا ہیے ۔
پا کستا ن ایک نہیں، دو ہیں ۔ ا یک وہ جو عا م لو گو ں کے لیے ہے، ا ور د و سرا وہ جو خواص کے لیے ہے ۔
و اضح ر ہے کہ پا کستا ن کی Elitist state کے تصو ر کے پیچھے کو ئی سا ز شی نظر یہ موجود نہیں، یہ ایک تحقیق شد ہ ا مر ہے ۔
مثلاً ، ڈ ا کٹر عشر ت حسین سے لے کر ڈ ا کڑ ند یم ا لحق تک، ما ہر ین ِ معا شیا ت نے اس حقیقت کو
خا صا کھو ل کر بیا ن کیا ہے ۔
مز ید یہ کہ Elite classes لو گو ں کی Tax-money کے بل پر کس طر ح پُر تعیش ز ند گی گزارتی ہیں، یہ چیز یں ہر بڑے شہر میں دیکھی ا و ر محسو س کی جا سکتی ہیں ۔
تقر یبا ً ہر شہرمیں د و شہر موجود ہیں، لا ہو ر میں ا س کے بڑے نمو نے جی – او- آ ر اور جمخا نہ ہیں ۔ اور ا سی طر ح کیLocalities جہا ں Social services کا معیا ر بہت بہتر ہے ۔
مز گلمینہ نے د رست لکھا ہے کہ ہم Social services مہیا نہیں کر سکے ہیں، لیکن کِسے مہیا نہیں کر سکے ہیں؟ بہت بڑا سچ یہ ہے کہ ’’عا م لو گو ں ‘‘ کو ۔
خوا ص کے لیے تو ہم نے شہر ہی جد ا بنا ئے ہیں ۔
کسی با ہر کے تر قی یا فتہ ملک میں د یکھیں تو عا م طو ر پر ایک ہی شہر نظر آ تا ہے، مر اد یہ کہ شہر کے تما م با شند و ں کو یکسا ں Social services مہیا کی جا تی ہیں ۔
Public sector میں Social services کے حو الے سے غیر ملکی پر ا جیکٹس کی کہا نیا ں چھپی ہو ئی نہیں ۔ ا ن کی Leakages اور ا ن کے Operations سے فا ئد ہ کو ن ا ٹھا تا ہے، سب جا نتے ہیں ۔
2005 میں زلزلے کے بعد آ نے وا لی ا مد ا د کیسے استعما ل ہو ئی، سب کو پتہ ہے ۔
Kerry-Lugar Act کے تحت جو ا مد ا د آ ئے گی، ا سے امریکی خو د کیو ں ما نیٹر کر نا چا ہتے ہیں، ہم اس با ت پر بہت مشتعل ہو تے ہیں۔ چو ری اور سینہ ز و ری ۔
ا یک مر تبہ پھر اصل با ت کی طر ف آ تے ہیں:
ا گر ہم نتا ئج پر نظر ڈ ا لیں تو یو ں معلو م ہو تا ہے کہ ا گر چہ مذ کورہ با لا ما ئنڈ سیٹ کی جڑ یں
گذ شتہ تا ریخ میں بھی پیو ست ہیں، مگر چو نکہ ا س نے Elite classes کو بہت فا ئد ہ پہنچا یا ، لہٰذ ا، انھو ں نے اسے خو ب Promote کیا ، با لخصو ص تعلیم اور میڈ یا کے ذ ریعے سے ۔
ا و ر د وسر ی طر ف عا م ا فرا د تھے، جنھیں ا س ما ئنڈ سیٹ نے ا پنی حکو متو ں اور Elite classes کے حوا لے سے مجمو عی طو ر پر بہت Submissive ا و ر Docile بنا د یا ۔
یو ں ا نھیں Social services کے کسی Minimum معیا ر سے بھی محر و م کر د یا گیا ۔
بہت سی آ نکھیں کھو ل د ینے وا لی مثا لیں مو جو د ہیں:
پا نی ، صفا ئی، سیو ر یج، گلیا ں، سڑ کیں، ٹرا نسپو ر ٹ، سٹریٹ لا ئٹ، پا ر کس، پلے گرا و نڈ ز،
لا ئیبر یر یا ں، ۔ ۔ ۔
ا و ر تعلیم ا و ر صحت کی تو با ت ر ہنے دیں ۔
جیسا کہ مز گلمینہ ا پنے مضمو ن میں بتا تی ہیں کہ 2007 میں پا کستا ن Official development assistance حا صل کر نے وا لا چھٹا بڑ ا ملک بن گیا تھا ۔ ا سے 2.2 بلین ڈ ا لر امد ا د مل چکی تھی ۔
ا وپر دی گئی Social services کی مثا لو ں میں سے یہ ODA کہا ں استعما ل ہو ئی؟ اس کے ثمر ا ت کہا ں ہیں ؟
یہ بہت ا ہم سو ا ل ہے ۔ ا س کا جوا ب حا صل کر نا ضر و ری ہے ۔
اس کا Audit ا و ر Social Audit د و نو ں ہو نے چا ہیئیں ۔
صر ف ا یک شعبے پر نظر ڈ ا ل لیں:
د ر ست اعد ا د و شما ر تو میر ے پا س مو جو د نہیں، لیکن یقیناً تعلیم کے شعبے میں خا صی غیر ملکی امد ا د آ ئی ہے (ا سی سیمینا ر کے ا یک ا و ر پینلسٹ مختا ر ا حمد علی، ایگز یکٹو ڈ ا ئر یکٹر سینٹر فا ر پیس ا ینڈ ڈ یویلپمینٹ ا ینیشی ا یٹو، ا سلام آ با د، نے ا پنی ٹا ک میں بتا یا کہ 2007 ا و ر 2008 میں تقریبا ً 753 ملین ڈ ا لر تعلیم کی مد میں آ ئے تھے) ۔ وہ ا مد اد کہا ں گئی؟ ا س کے ثمرا ت نظر کیو ں نہیں آ تے؟
ا بنِ رشد نے یو نا نی فلسفے سے متعلق شکو ک و شبہا ت کا ر د کر تے ہو ئے کہا تھا کہ ا گر کو ئی
آ د می کسی کنو ئیں سے پا نی پیتے ہو ئے سا نس گھٹ جا نے کی و جہ سے مر جا ئے تو کنو ئیں کے
پا نی کا تو کو ئی قصو ر نہیں ۔
ا سی طر ح، غیر ملکی ا مد ا د کوئی بر ی چیز نہیں ۔
خرا بی کہیں ا و ر ہے، ا و ر و ہ ہے ہما ر ے ا ند ر۔
ا ہم طو ر پر، ہما ر ے ذ ہنو ں میں ۔ ہما ر ے World-view میں ۔ خرا بی ہے ہما ر ی ا قد ار میں ۔
ہما رے ا عما ل میں ۔ ہما رے د نیا کو دیکھنے کے ا ند ا ز ا ور زا و یے میں ۔ ہما ر ے معیا را ت میں ۔ ہما ر ے د و ستی ا و ر د شمنی کے پیما نو ں میں ۔
غیر ملکی ا مد ا د سے صحیح طو ر پر فا ئد ہ ا ٹھا نے کے لیے ہمیں خو د پر نظر ڈ ا لنی ہو گی ۔
مجھے پبلک ٹر ا نسپو ر ٹ میں بھیک ما نگنے والا ایک ’’خو ش پو ش‘‘ پیشہ و ر بھکا ری نہیں بھو لتا ۔ وہ بھیک کو حق سے بھی ز یا دہ بڑ ی کو ئی چیز سمجھتا تھا ۔ جا ر حا نہ ا ند ا ز میں بھیک ما نگتا تھا ۔ مسا فر و ں کو ڈ ا نٹتا تھا و ہ ا سے بھیک کیو ں نہیں د یتے ۔ ا چھے و قتو ں میں ا یک ر و پے سے کم بھیک نہیں لیتا تھا ۔ ا پنے سٹا پ پر ا تر نے سے پہلے با آ و ا ز ِ بلند تنبیہ کر تا تھا : ’’ا وئے فٹو فٹ
ر و پیہ د یو ، میں ا گلے سٹا پ تے لہنا ا ے ۔‘‘
مطلب یہ کہ غیر ملکی ا مد ا د کو ئی ’’حق‘‘ نہیں ۔ یہ ا یک ’’عنا یت‘‘ ہے ۔
ا و ر یہ با ت بھی وا ضح ہے کہ ہر امد ا د کے پیچھے، چا ہے وہ ا نفرا د ی ہو یا قو می یا ملکی، کو ئی نہ کو ئی مقا صد ضر و ر ہو تے ہیں ۔
ہم ضر و ر ت مند کی مد د کر تے ہیں، ا س کے پیچھے عا قبت کے تصو ر سے لے کر Compassion تک کا جذ بہ کا ر فر ما ہو سکتا ہے ۔
ا سی طر ح، ہر غیر ملکی ا مد ا د کے پیچے، مثا ل کو طو ر پر، Kerry-Lugar Act کے تحت آ نے
ا مد ا د کے پیچے بھی وا ضح ا و ر غیر و ا ضح، د و نو ں قسم کے مقا صد کا ر فر ما ہو سکتے ہیں ۔ جیسے کہ پا کستا نیو ں میں ا مر یکہ کی Image-building سے لے کر Militancy، Extremism، اور Terrorism کی ر وک تھا م اور تد ا ر ک بھی ۔
د یکھنا یہ ہے، ا و ر ا ہم با ت بھی یہ ہے کہ ہم غیر ملکی ا مد ا د کو ا ستعما ل کیسے کر تے ہیں؟ کس کے لیے کر تے ہیں؟ ا س سے Maximum فا ئد ہ کیسے ا ٹھا تے ہیں؟
جہا ں تک Strings ا و ر شر ا ئط کی با ت ہے، سوا ئے بھیک کے قر یب قر یب ہر امد ا د کے سا تھ
ا یسی چیز یں منسلک ہو تی ہیں ۔
دیکھنا یہ ہے، ا و ر ا ہم با ت بھی یہ ہے کہ ہم اس امد ا د کو استعما ل کیسے کر نے میں کتنے Creative ا و ر Innovative ہیں ۔
یہا ں د و مثا لیں بہت ا ہم ہو سکتی ہیں:
پہلی تو یہ کہ: 1993 میں و ر لڈ بینک، بلو چستا ن پر ا ئمر ی ا یجو کیشن ڈ ا ئر یکٹو ر یٹ (BPED) کے سا تھ مل کر طا لبا ت کے لیے Education Voucher Scheme شر و ع کر نا چا ہتا تھا ۔ لیکن یہ
منصو بہ ز یر ِ عمل نہ آ سکا ۔ و ر لڈ بینک حکا م کے مطا بق ا س کی ذ مے د ا ر ی حکو متی ا ہل
کا ر و ں ا و ر ڈ ا ئر یکٹو ر یٹ پر آ تی تھی ۔ ا نھو ں نے ا س سکیم کو نا قا بل ِ عمل قر ا ر د یا ۔
2002 میں ا س و قت کی و فا قی و ز یر ِ تعلیم، ز بید ہ جلا ل نے بھی تعلیمی وا ئو چر سکیم کا تجر بہ
کر نے کی خو ا ہش کا اظہا ر کیا تھا ۔ لیکن عملاً کچھ نہ ہو ا ۔
یو ں، 13 بر س گز ر گئے ا و ر ایک ایسی سکیم شر و ع نہ ہو سکی جو کم آ مد نی وا لے گھرا نو ں کے بچو ں کے لیے تعلیم کے حصو ل کو ممکن بنا سکتی تھی ۔
بہر حا ل، ایک د ہا ئی سے بھی ز یا د ہ کے بعد بنجا ب ا یجو کیشن فا ئو نڈ یشن میں مو جو د ا یک شخص، ڈ ا کٹر اللہ بخش ملک نے ا پنی Creativity، Innovation، ا و ر کو شش سے 2006 میں لا ہو ر میں EVS کو ممکن کر د کھا یا ۔
ا ب تقر یباً چا ر سا ل بعد ا س سکیم کو چند ا یک د و سر ے ضلعو ں تک پھیلا یا جا ر ہا ہے ۔
ا س سکیم کے Pilot project کے لیے امد ا د امر یکہ کے Open Society Institute نے مہیا کی تھی ۔
د و سر ی با ت یہ کہ: 2007 میں بر طا نو ی Department for International Development (DFID) نے حکو مت ِ پا کستا ن کو 480 ملین پا ئو نڈ ز کی امد ا د مہیا کی ۔ ا س کا مقصد Illiteracy، High mortality rate، Polio ا ور د وسر ی “Social ills” کا تد ا رک تھا ۔ تا ہم، DFID کے سر برا ہ
نے ا س امد اد کا اعلا ن کر تے ہو ئے “Substantial risks of corruption” سے متعلق ا پنے خد شا ت کا اظہا ر بھی کیا ۔
مر ا د یہ کہ غیر ملکی امد ا د کے حوا لے سے ہمیں غیر ملکو ں ا و ر غیر ملکیو ں پر انگلی اٹھا نے سے پہلے ا پنے گر یبا ن میں جھا نکنا چا ہیے کہ ہم نے غیر ملکی امد ا د کو نہ صر ف ’’ما لِ مفت، د لِ بے
ر حم‘‘ سمجھا بلکہ امد ا د مہیا کر نے وا لو ں کو بھی مطعو ن کر نے سے با ز نہ رہے ۔
ہم یہ سمجھنے سے قا صر ہیں کہ یہ ہما را ’’حق‘‘ نہیں، ا و ر یہ کہ ہمیں ہر حا لت میں ا س سے ز یا د ہ سے ز یا د ہ فا ئد ہ ا ٹھا نا ہے ۔
آ خر میں، حا صلِ بحث کے طو ر پر میں یہ کہنا چا ہو ں گا کہ انسا ن سما جی ر شتو ں کا مجمو عہ ہے ۔ ہم ایک د و سر ے کے ’’محتا ج‘‘ ہیں ۔ ہم ایک د و سرے کے سا تھ نا قا بلِ علٰیٰحد ہ طو ر پر جڑے ہو ئے ہیں ۔ ہم ا پنی با ہمی ضر و ر تو ں کو ایک د و سر ے کے سا تھ مل کر پو ر ا کر نے کے ایک انسا نی رشتے میں بند ھے ہو ئے ہیں ۔
ما ر کیٹ ان ا نسا نی ر شتو ں کا ایک مظہر ہے ۔ ان رشتو ں کا ایک ا و ر مظہر با ہمی تعا و ن، با ہمی امد ا د، اعا نت ا و ر اسی طر ح کے د و سر ے نیٹ و ر ک ہیں ۔
غیر ملکی امد ا د بھی بنیا د ی طو ر پر ایک ایسا ہی نیٹ و ر ک ہے ۔ مما لک ا و ر معا شر و ں کی سطح پر یہ ایک ایسا ہے گلو بل نیٹ و ر ک ہے، و رنہ امیر یکن بز نس کا ئو نسل (ABC) کو بو لٹن ما ر کیٹ کے متا ثر ہ کا رو با ریو ں کو امد ا د مہیا کر نے کی کیا ضر و ر ت ہے ۔
ہمیں سمجھنا چا ہیے کہ ما ر کیٹ کے سا تھ سا تھ امد ا د بھی انسا نی محر کا ت پر مبنی ایک گلو بل Connector کا کرد ار ا د ا کر تی ہے ۔
ہمیں سمجھنا چا ہیے کہ ہم Global village کے کسی جنگل میں بیٹھے ہو ئے سا د ھو نہیں جس نے د نیا کو تیا گ د یا ہے ا و ر جس کے چیلو ں پر لا زم ہے کہ وہ ا س کی ضر و رتیں پو ری کر یں ۔
ہم ایک تیز تر، مسا بقت سے بھر پو ر، ا و ر ہر لمحہ تر قی کر تی او ر بد لتی ہو ئی د نیا کے شہر ی ہیں ۔
ہمیں ا پنے انسا نی، فکر ی، سما جی، جغر ا فیا ئی، ا و ر سب سے بڑھ کر یہ کہ معا شی و ژ ن کو و سیع کر نے کی ضر و ر ت ہے ۔ ہمیں خو د کو تبد یل کر نے کی ضر و ر ت ہے تا کہ ا و ر بہت سی د وسر ی چیز و ں کی منا سب ا ند از میں تکمیل کے سا تھ سا تھ غیر ملکی امد ا د سے بھی صحیح طو پر فا ئد ہ اٹھا سکیں ۔
شکر یہ!
Posted in غیر ملکی ترقیا تی امداد | No Comments »