تخیّل کی موت

May 3rd, 2012

میں دیو جانس کلبی تو نہیں ۔ یہ اسی کا ہیا ؤ تھا کہ دن دہاڑے، جلتا دیا ہاتھ میں لیے انسان کی تلاش کرتا تھا ۔ اسے انسان کا حسب نسب معلوم تھا ۔ وہ انسان کو اس کے چہرے مہرے سے پہچان سکتا تھا ۔ اور اس نے خود ایک انسان سوچا تھا کہ انسان کیا ہوتا ہے ۔ وہ کہتا تھا کہ انسان، پیدا ہوا ہوایا، انسان نہیں ۔ اسے انسان بننا پڑتا ہے ۔ اور اسے وہ انسان کہیں نہ ملا، جس نے پیدائش کے بعد، خود کو، خود پیدا کیا ہو، بنایا ہو، گھڑا ہو، تراشا ہو، اور نقش نگاری سے مزین کیا ہو ۔ خود کو انسان میں ڈھالا ہو ۔ اور ایک نئے انسان کی تعریف وضع کی ہو اور خود کو اس انسان کی تعریف پر پورا اتروایا ہو۔

دیو جانس نے انسان کا جو تصور وضع کیا، اس پر پورا اترنے کی پوری سعی بھی کی ۔ اس کی اس کوشش کے سبب ہی اسے کلبی کہا جاتا ہے، ایک منفی تلازم کے ساتھ ۔ جبکہ دیکھا جائے تو یہ اس کا اپنا اندازتھا ۔ کسی اور کا انداز کچھ اور ہو گا ۔ سب کا انداز مختلف ہو گا ۔

ہاں، یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس کا انداز نرالا تھا ۔ بے حد سادہ زندگی ۔ ایک چادر اوڑھنے لپیٹنے کے لیے، اور ایک مٹی کا پیالا پانی کے لیے ۔ جب کہیں اس نے دیکھا کہ اوک سے پانی پیا جا سکتا ہے، تو اس نے اس پیالے کو توڑ، خود کو اور ہلکا کر لیا ۔ اس نے ایک گھڑے نما برتن میں زندگی گزاری، جسے قدیم زمانے میں تکفین کے لیے استعمال کیا جاتا تھا ۔

یونہی ایک مرتبہ جب وہ لیٹا دھوپ سینک رہا تھا، تو وہاں سے ”سکندر ِ اعظم “ کا گزر ہوا ۔ اسے بتایا گیا یہی دیو جانس ہے ۔ سکندر اس کے پاس چلا آیا ۔ اور شاہانہ انداز میں اس کی کوئی بھی خواہش پوری کرنے کا عندیہ دیا ۔ دیوجانس کا جواب تھا: یہاں سے ہٹو اور دھوپ آنے دو ۔

دیو جانس کے بارے میں ڈاکٹر خالد الماس نے ایک مضمون، ”آشفتہ سر فلسفی، جو ’انسان‘ کی تلاش میں سرگرداں رہا،“ (اردو ڈائجسٹ، نومبر 2007) لکھا ہے، جس میں بیان کی گئی کچھ باتوں سے میں نے بھی استفادہ کیا ہے، اس میں مولاناروم کے ایک شعر کا ذکر بھی ہے، اور اس کا مفہوم دیوجانس کی انسان کی تلاش سے مشابہ ہے ۔ اس کا ترجمہ کچھ یوں ہے کہ کل شیخ چراغ ہاتھ میں لیے سارے شہر میں گھومتا رہا، اور کہتا رہا کہ میں چوپایوں سے دلبرداشتہ ہو گیا ہوں، اور کسی انسان کی تمنا رکھتا ہوں ۔

یہ وہی بات ہے کہ وہ اعلٰی سے اعلٰی تر درجہ اور معیار کیا ہو سکتا ہے، جو انسان کو حیوان سے بلند کر دیتا ہے ۔ چوپائے سے اٹھ کر دوپایہ ہو جانا، کوئی بڑی بات نہیں ۔ دوپائے سے انسان ہونا، اصل بات ہے ۔

ڈاکٹر خالد نے یہ تذکرہ بھی کیا ہے کہ دیوجانس ایک کتے کی مانند زندگی بسر کرنے کو ترجیح دیتا تھا ۔ اسی پر بس نہیں، وہ کتا کہلوانا بھی پسند کرتا تھا ۔ اور اسے یہی لقب دیا گیا ۔ اس کا کہنا تھا، جتنا میں کسی انسان سے ملتا ہوں، اتنا ہی کتے کے لیے میر ی پسندیدگی بڑھتی جاتی ہے ۔ کورِنتھ میں اس کے مزار پر بھی کتے کا مجسمہ نصب ہے ۔

آخراً، یہ بھی کہ جب بالآخر ایک دن، دیوجانس کی طبیعت میں یہ احساس آخری سطح تک رچ گیا کہ دنیا انتہائی لغو، بے ہودہ، لایعنی، اوٹ پٹانگ اور بیکار شے سے زیادہ کچھ نہیں، تو اس نے سانس نہ لینے کا ارادہ کر لیا ۔ اس نے خود سانس لینا روک لیا ۔ اور مرگیا ۔ لیکن یہ موت نہیں تھی، جس نے اسے موت سے ہمکنار کیا ۔ وہ اپنی زندگی بھی خود تھا، ا ور موت بھی خود ۔

تو دیو جانس کی اس ترجیح میں کیا چیز مضمر ہے ۔ وہ اس سے کیا مطلب پیدا کر نا چاہتا تھا ۔ میری سمجھ یہ ہے کہ وہ اس وقت کے انسانوں کی زندگی پر کتے کی زندگی کو ترجیح دیتا تھا، اور ساتھ ہی ساتھ یہ بھی کہنا چاہتا تھا، جیسے کہ سقراط کا قول بھی ہے، جسے وہ اپنے استاد کا درجہ دیتا تھا، کہ وہ زندگی، جسے جانچا پرکھا نہیں گیا، جینے لائق نہیں ۔ یعنی ایسی زندگی سے کتے کی زندگی بہتر ہے، جس میں جانچ پرکھ کا کوئی ذرہ ملوث نہیں ۔ کے، ایل، سہگل کی گائی غزل بھی یہی کچھ کہتی ہے: بازار سے گزرا ہوں خریدار نہیں ہوں / دنیا میں ہوں دنیا کا طلبگار نہیں ہوں ۔

اور یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ زندگی جس شکل میں موجود ہے، یا جس صور ت میں اس نے وجود پایا، دیو جانس اس سے نا مطمئن تھا ۔ وہ زندگی کو کسی اور انداز میں متشکل دیکھنا چاہتا ہو گا ۔

مزید، اس میں یہ مفہوم بھی پوشیدہ ہے کہ انسان وہ ہوتا ہے جو وہ خود سوچ سمجھ کر بنے ۔ یعنی وہ اپنے انتخاب سے کچھ بھی بنے ۔ تشریح اس کی یہ ہے کہ چونکہ پیدا ہوا انسان، بنا بنایا انسان نہیں، پیدا تو جانور بھی ہوتا ہے، تو کیا وہ بھی انسان کہلائے گا ۔ سو ایسے میں جوچیز انسان کو انسان بناتی ہے، یا بنا سکتی ہے، وہ اس کی انتخاب کی آزادی ہے ۔ اور اس انتخاب کی آزادی کا مطلب یہ ہے کہ چاہے انسان، اپنے انتخاب سے کتا بن جائے، یوں وہ انسان ضرور بن جائے گا ۔

جبکہ صاف بات ہے کہ کتے کو یہ آزادی میسر نہیں کہ وہ اپنی پسند، اپنے انتخاب سے کتے کے علاوہ کچھ اور بنے، یا بن سکے ۔

خود دیوجانس کی موت اس کااپنا انتخاب تھی، آئی ہوئی موت نہیں ۔

تاہم، یہ دیوجانس کی نخوت بھی ہو سکتی ہے کہ وہ انسان کی تلاش کرتا تھا ۔ مراد یہ کہ وہ خود انسانیت کے بلند ترین درجے پر فائز تھا، اور انسان شناس بھی تھا، تبھی تو وہ انسان کی تلاش کا بیڑا اٹھا پایا ۔ اور کیا استہزائیہ انداز تھا کہ سورج جلے، دیا جلائے، بازار میں انسان ڈھونڈتا پھر تا تھا ۔ کہنا یہ چاہتا تھا کہ انسان نا پید ہے ۔

اس کے انداز میں کہیں یہ چیز بھی ڈھکی تھی کہ انسان کی جو تعریف اس نے گھڑی ہے، وہی حرف ِ آخر ہے ۔ یوں، کیا وہ دوسروں کی نہ جانچی، نہ پرکھی گئی، اورنہ جینے لائق زندگی کے انتخاب کی آزادی کو رگید تو نہیں رہا تھا! وہ اس زمانے کے انسانوں پر مجسم ”طنز“ تھا!

جس طرح کے انسان، دیوجانس انسانوں کوبنتا دیکھنا چاہتا تھا، اس کے پاس ان کا ایک خاکہ موجود تھا ۔ ایسا خاکہ کہ غالبا ً اس خاکے سا کوئی انسان کہیں نہ ہو، کہیںنہ ملے ۔ یہ اس کی بڑائی بھی تھی، عظمت بھی ۔ تکبر بھی! اوروہ خود اس خاکے کی عملی تصویر بھی بنا ۔

خیر اگر آج زندہ ہوتا تو سادہ زندگی کے تصور میں ایک لیپ ٹاپ اور انٹرنیٹ کے کنیکشن کو ضرور شامل کرتا!

دیوجانس کے وقت سے اب تک، انسان نے بس اتنی ہی ترقی کی ہے ۔

میںتو دیوجانس کی خاک بھی نہیں ۔ لیکن اس سے اختلا ف ضرور کرتا ہو ں کہ انسانوں کو ویسا انسان بننے دیا جائے، جیسا وہ بننا پسند کریں ۔ یعنی انھیں آزادی ہو کہ جیسا انسان وہ بننا چاہیں، بن جائیں ۔ جیسے دیو جانس کو آزادی تھی ۔ تب ہی تو وہ دیوجانس کلبی بنا ۔

ہاں، دیو جانس کی طرح، ہر کسی کو ان پر حکم لگانے کی آزادی بھی ہو کہ وہ کیسے انسان ہیں ۔ جیسے اس نے اس وقت کے انسانو ں کو جانچا اور پرکھا تھا، اور پھر مستردکر دیا تھا ۔ پھراس کے ساتھ یہ بھی کہ علم و معلومات پر کوئی روک ٹوک نہ ہو ۔ اور انسا ن پر بھی ۔ یہ چیزیں انسا ن کی آزادی کی شرائط میں سے ہیں ۔

ہزار رنگ پھول کھلنے میں ہی چمن کی بہار ہے ۔ ہر زمین میں ایک ہی پودا نہیں لگتا ۔ اور انسان ایسا کوئی پودا نہیں کہ تیار کیے گئے گملوں میں سما جائے، اور پھلے پھولے ۔

شعر: ایسا ویسا نہ سمجھنا سب کو / اپنے جیسا نہ سمجھنا سب کو ۔ (خ۔ا)

اس تمہید کا حاصل یہ ہے کہ میری نظر میں ایک چیز جو انسا ن کی تعریف میں ایک لازمے کی طرح گندھی ہوئی ہے، وہ ہے تخیّل ۔ سو، مجھے انسان، یا پورے انسان کی تلاش نہیں، جیسے دیو جانس کو تھی ۔ مجھے صرف اس تخیّل کی تلاش ہے، دوسری بہت سی چیزوں کے ساتھ، انسان جس سے عبارت ہے ۔ اور میں ایک ایسی سرزمین پر زندہ ہوں، جہاں سے تخیّل، کافور ہو گیا ہے ۔

شاید ڈر کر کہیں بھا گ گیا ہے!

ابھی کچھ ماہ کی بات ہے، ادیب اور مفکر انتظار حسین نے ”دلیل “کی موت کی خبر سنائی تھی ۔ یکم جنوری، 2011 کو روزنامہ ”ایکسپریس“میں ان کا کالم بعنوان ”دلیل کی موت، نعرے کابول بالا“ شائع ہوا ۔ اسے خبر نہیں، خبر کی باز تصدیق کہنا بہتر ہو گا ۔

اس میں انھوںنے بتایا کہ ’کہاں سے چل کر ہم کہاں پہنچے ۔‘ ایک زمانہ تھا جب مختلف مذاہب کے ماننے والوں میں دلیل کا بول بالا تھا ۔ ”افسوس کہ اس زمانے سے ہمارے زمانے تک آتے آتے ایک بڑا واقعہ گزر گیا ۔ دلیل کی شہادت ہوگئی ۔ اس کے ساتھ ہی مکالمہ کی روایت کی موت واقع ہو گئی ۔ انسانی عقل سے اعتبار اٹھ گیا – - – “

آخرمیں وہ لکھتے ہیں: ”تو اب ہمارے بیچ سے دلیل غائب ہو چکی ہے ۔“

یقینا پاکستان میں بہتوں نے دلیل کی موت کو ”ذلیل“ کی موت کہہ کر بھی یاد کیا ہو گا!

انتظار حسین کی خبر اور سند کافی و وافی ہے، نقل اور تصدیق دونوں کے لیے ۔ دلیل اور عقل دونوں کا ارتحال ہو چکا ۔ یہ تو بہت بڑی چیزیں ہیں ۔ انسان کی تشکیل اور انسان کی تعریف ان دونوں کے بغیر نامکمل بھی ہے اور ناکافی بھی ۔ میں دلیل اور عقل کی بات نہیں کررہا ۔ میں تو بہت خام اور بہت کچی بات کر رہا ہوں ۔ وہ چیز جو قدیمی انسان نما انسان میں بھی موجود تھی، میں تو اس کی بات کر رہا ہوں ۔ تخیّل کی بات ۔ عقل اور دلیل کے معاملات تو بہت بعد میں آتے ہیں ۔ بلکہ کیا خبر تخیّل نے ہی ان کے لیے زمین ہموار کی ہو!

تو ذلیل دلیل کی موت کے بعد، اگلی خبر یا اگلی بڑی خبر یہ ہے کہ تخیّل بھی ہمارے بیچ سے غائب ہو چکا ہے ۔ مر چکا ہے ۔ کہیں دفنا دیا گیا ہے ۔

اخبارات، رسائل، ٹی، وی چینلز، فلمیں، ہر میڈیم، جس میں انسانی زندگی اظہار پاتی ہے، تخیّل سے عاری ہو چکا ہے ۔ ادب، شاعری، وغیرہ، میں، کہیں اس کے کھنڈرات مل جائیں تو مل جائیں، ورنہ وہاں بھی اس نے جگالی کی صورت اختیار کرلی ہے ۔ جوکچھ پہلے لوگ سوچ اورخیال کر گئے، اسے باربار بنا بگاڑ کر سامنے لایا جارہا ہے ۔ بیچا جا رہا ہے ۔ نام بنایا اور چمکایا جا رہا ہے ۔

یہ بھی تو اس بات کا ثبوت ہے کہ تخیّل نایاب شے ہو گیا ۔ آج کے لوگ تخیّل سے تہی دامن ہو گئے ۔ وحشت ہوتی ہے، تخیّل کے بغیر انسانی زندگی کیسے ہو سکتی ہے، کیسی ہو سکتی ہے ۔ تخیّل سے محروم لوگ کیسے ہو سکتے ہیں ۔ سب کچھ سامنے ہے: تخیّل کے بغیر زندگی بھی، اور تخیّل سے محروم لو گ بھی ۔

اسی بات کو سازشی اندازمیں یوں بھی بیان کیا جا سکتا ہے ۔ اور بہت سے دانشور اور مفکر فوراً سے پیشتر کہنا بھی چاہیں گے کہ لوگوں کو تخیّل سے محرو م کردیا گیا ہے! بہت بڑی سازش ہوئی ہے ۔ ان لوگوں کی سوچ یہ ہے کہ جیسے تخیّل کا غائب ہو جانا، کسی سازش کا نتیجہ ہے، اسی طرح اس کی واپسی بھی ایک سوچی سمجھی سازش (یعنی منصوبہ بندی) کے ذریعے ہی ممکن ہو سکتی ہے ۔ سب کچھ سازش ہے، منصوبہ بندی ہے ۔

یا یوں کہہ لیں کہ تخیّل کا ہونا اور نہ ہونا برابر ہے ۔ یعنی تخیّل ایک ایسی چیز ہے، جسے انسانوں کے اندر سے بیدخل کیا جا سکتا ہے، اور ان میں دوبارہ داخل بھی کیا جا سکتا ہے ۔ یہ نظریہ بہت سی شکلوں میں پایا جاتا ہے ۔ لیکن اس کا خا صہ یہ ہے کہ یہ انسانوں کوایک ایسی مخلوق گردانتا ہے، جسے جیسا چاہیں، اس انداز سے بنایا، یا بگاڑا جا سکتا ہے ۔ اس مخلوق کو جس شکل میں چاہیں ڈھال سکتے ہیں ۔ صرف سانچے بنانے کی ضرورت ہے ۔ اورپھر انسانوں کو ان سانچوں میں ڈالنے اور نکالنے کی ضرورت ہے، تاکہ وہ اس طرح کے انسان بن جائیں، جس طرح اینٹیں ہوتی ہیں، جن کو جوڑ بٹھا کر دیواریں اور محل تعمیر کیے جا سکتے ہیں ۔

اور یہ سمجھ دار، دانا، دانشور، عقل مند لوگ ہیں، یا حکمران لوگ ہیں، یا اشراف ہیں، جن کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ طے کریں، انسانوں کو کیسا انسان بنا نا ہے ۔ مثلا ً، تخیّل کا حامل، یا تخیّل سے عاری ۔ تو سازش پسندوں کے مطابق انسانوں کو تخیّل سے عاری کر دیا گیا ہے ۔

یہاں سے آگے بڑھیں تو ان سازش پسندوں میں اختلاف پیدا ہو جاتا ہے ۔ ایک طرح کے سازش پسند، انسانوں کو اپنی پسند کا انسان بنانا چاہتے ہیں، اِنھیں دایاں بازو کہہ لیجیے ۔ دوسری طرح کے سازش پسند، انسانوں کو دوسری طرح کا انسان بنانے پر تلے ہیں ۔ اِنھیں بایا ں بازو کہہ لیجیے ۔

یہاں ان بازؤوں کی لمبائی، چوڑائی، یعنی ان کی تفصیل میں جانا مناسب نہیں، بس اتنا جان لینا کافی ہے کہ دونوں بازو، انسانوں کو آزادی نہیں دینا نہیں چاہتے کہ وہ کیسے انسان بننا چاہتے ہیں ۔ جیسا انسان دائیں بازو والے انھیں بنانا چاہتے ہیں ۔ یا جیسا انسان بائیں بازو والے انھیں بنانا چاہتے ہیں ۔ یا جیسا دیوجانس چاہتا تھا ۔ یا اس سے بڑھ کر یہ کہ جیسے انسان، وہ خودبننا چاہتے ہیں ۔ یا جیسے دیو جانس، دیو جانس جیسا انسان بنا ۔

میں اسے کوئی سازش نہیں کہتا، لیکن میری رائے یہ ہے کہ اسی بازوئی تسلط، اور اسی طرح کے متعدد نظریات کے حاملوں کے دباؤ نے تخیّل کے بیج کو پنپنے نہیں دیا ۔ جہاں جہاں اور جب جب تخیّل کی کونپل نے سر اٹھایا، اسے کاٹ ڈالا گیا، اورپامال ہونا پڑا ۔

اگرچہ تخیّل خود آزادی ہوتا ہے، اور تخیّل کی ضمانت بھی؛ تاہم، بازوئی تسلط کے خوف نے تخیّل کو ماند کر دیا ہے ۔ اسے موت کی، یا موت جیسی نیند سلا دیا ہے ۔ کافی سال پہلے ایک دوست نے بتایا تھا کہ ”پاپیلوں“ نامی فلم میں ایک جملہ ہے، جس کا مفہو م کچھ یوں ہے: ’قید ِتنہائی میں، جو کچھ آپ سوچتے ہیں، وہ حقیقت بن جاتا ہے ۔‘

لیکن، آزادی کی یہ زندگی گزارنے کے لیے قید ِ تنہائی کی سزا پانا ضروری ہے ۔ اوریہاں پاکستان میں چونکہ تخیّل کو کھلا چھوڑنا بھی موت کو دعوت دینے جیسا ہو گیا ہے (جبکہ تخیّل تو ایک بگٹٹ گھوڑا ہے!) ۔ جیسے دلیل دینا قتل کا بلاوا بن گیا ہے ۔ اور یقینا سب کے سب لوگ، خود کو قید تنہائی کی سزا دینے سے رہے ۔ انھوں نے اس سودے کو غنیمت جانا ہے کہ قید ِ تنہائی کے بجائے بڑے جیل میں سب کے ساتھ مل کر رہیں، اور اس کے بدلے میں، تخیّل کا سامان باندھ کر جیل کے حکام کے حوالے کردیں ۔

سو، غالبا ً سب نے یہ ٹھان لی ہے کہ تخیّل سے کام لینے کی کوئی ضرورت نہیں؛ تخیّل کی کوئی ضرورت نہیں ۔ بنے بنائے، ڈھلے ڈھلائے تخیّل کے نمونے موجود ہیں، ان کی جگا لی کریں، اور دنیا اور عاقبت، دونوں میں فلاح پائیں ۔ ہر کہیں، ہر شعبے میں یہی کچھ ہو رہا ہے ۔ بات اسی طرح بنی ہوئی لگ رہی ہے ۔

اوراس سے بھی بڑی بات یہ کہ سب کے سب یہ بھی سمجھنے لگے ہیں کہ سودا برا نہیں ۔ سوائے ان تھوڑے سے سرپھروں کے جو زندگی کو حسن اور خوبصورتی کی نظر سے دیکھتے ہیں ۔ اور زندگی کو ایک لطیف احساس کی طرح جانتے ہیں، اور اسے اس احساس سے معمور بھی پاتے ہیں ۔ اور تخیّل کی تراشی کسی دنیا میں دیوجانس کی طرح کی زندگی گزارنے کی جرأت بھی رکھتے ہیں ۔ اور اس موجود دنیا پر تخیّل کی دنیا کو متقدم سمجھتے ہیں، اور اس ”لایعنی“ دنیا کو تخیّل کے مطابق بنتا دیکھنا چاہتے ہیں ۔

یا یہ کہ زندگی کو تخیّل سمجھتے ہیں ۔ یا زندگی کو تخیّل سے بھرپور حقیقت مانتے ہیں ۔ ایسا تخیّل جو کتنی ہی صورتوں میں اظہار پاتا ہے ۔ شاعری، افسانہ، مصوری، موسیقی، گائیکی، وغیرہ، وغیرہ ۔

جیسا کہ کسی کا کہنا تھا کہ اگر گالی نہ ہوتی تو میں گھٹ کے مرجاتا ۔ اسی طرح، یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ اگر تخیّل نہ ہو تو انسان گھٹ کے رہ جائے ۔ اور تخیّل کے بغیر، لاش بن جائے ۔ زندہ لاش؛ فلموں والی زندہ لاش ۔

تخیّل کے بغیر انسان، ایک ایسا انسان بن جاتا ہے، بالکل اس جانور کی طرح کا، جوجو کھاتا ہے، وہی ہگ دیتا ہے ۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں کر سکتا ۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں نکال سکتا ۔ جو بھی کھاتا ہے، اسے گو بنا کر خارج کر دیتا ہے ۔ انسان بھی، بالخصوص پاکستان کا انسان بھی ایسا ہی جانور بن گیا ہے ۔ گاربیج اِن، گاربیج آؤٹ ۔ جو اندر ڈالیں، وہی باہر نکلے گا ۔ بلکہ اچھا بھی اندر ڈالیں، تو وہ بھی غلیظ بن کر باہر آئے گا ۔

پاکستان کا انسان عجیب انسان بن گیا ہے ۔ یہ بد صورتی دیکھتاہے؛ بد صورتی کھاتا ہے؛ بد صورتی پیتا ہے؛ اور اگر کہیں کوئی لقمہ خوبصورتی کا، دیکھنے، کھانے اور پینے کو مل جائے، تو اسے بھی بدصورتی بنا کر باہر نکالتا ہے ۔ پاکستا ن کا انسان بھی ایک عجیب سانچہ بن گیاہے، ایک فرما، اس میں کچھ بھی ڈلے، باہر وہی بد صورتی نکلے گی ۔ یوں لگتا ہے اس کے اندر تخیّل کا کارخانہ جیسے صدیوں سے بند پڑا ہے ۔

اس کی جو کچھ وجوہ اوپر بیان ہوئیں، ان کے علاوہ بھی کچھ اور اسباب ہیں ۔ جیسے کے پاکستان میں رائج ثقافت کا نظریہ؛ اور علم کا نظریہ ۔ ان نظریات نے بھی تخیّل کا سد ِ باب کرنے، اور اس کی بیخ کنی میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی ۔

ثقافت کو پاکستان میں نچلے طبقوں کے رہن سہن کا نمونہ سمجھا جاتا ہے ۔ اور اسے ”ڈیکوریشن پیس“ کی صورت میں اشرافیہ کے گھروں میںپوجا جاتا ہے ۔ یا ثقافتی ورثے کے عجائب گھروں کی زینت بنا کر محفوظ رکھا جاتا ہے ۔ اسے بیچنے کے لیے نمائشوں کا انعقاد بھی ہوتا ہے، اور ان میں ثقافت کے مختلف مظاہر کا مظاہر ہ کرنے والے زندہ نمونے پرفارمینس دیتے دکھائے جاتے ہیں ۔ اس ثقافت کو محفوظ کرنا بہت بڑے شعبے اور فن کی حیثیت رکھتا ہے ۔ یہ نچلے طبقات پر بڑا احسان کرنے کے برابر کام گردانا جاتا ہے ۔ اور شاید کہیں یہ خواہش بھی کارفرما رہتی ہے کہ یہ طبقات اسی انداز پر جیتے رہیں؛ ان کا یہ انداز تبدیل نہ ہو ۔

جیسا کہ علم کی بنیاد دلیل پر ہے، اور پاکستان میں دلیل کی موت تو کب کی ہوچکی ۔ انتظارحسین نے تو اس کی موت در موت کا نوحہ لکھا تھا ۔ اور جب دلیل مرچکی، تو علم کہاں سے آئے گا ۔ بہ ایں سبب، پاکستان کی زمین، علم کے لیے شور زمین بنی ہوئی ہے ۔

اسی طرح، پاکستان میں ثقافت بھی پروان نہیں چڑھ سکی ۔ ہوا کہ کہ یہاں پاکستان میں ثقافت کا یہ دوسرا نظریہ جڑ نہیں پکڑ سکا کہ ثقافت کی بنیاد تخیّل پرہے، آزاد تخیّل پر ۔ ماضی، یا ریاست، یا حکومت، یا اشرافیہ پر نہیں ۔ اور یہ کہ تخیّل انتہائی انفرادی اور شخصی چیز ہے ۔ اوریہ بھی کہ تخیّل کی بنیاد فرد ہے ۔ آزاد فرد ۔ اندر سے آزاد فرد ۔

میں اندر سے آزاد فرد کی بات اس لیے کر رہاہوں کہ باہر کی آزادی کو تو قوانین،اور قواعد وضوابط کی مدد سے یقینی بنایا جا سکتا ہے؛ لیکن اندر کی آزادی کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی ۔ ہاں، باہر کی آزادی، وہ کم سے کم ضمانت ہے اندر کی آزادی کی، جسے ممکن کردکھا نا ممکن ہے ۔ اندر کی آزادی، پھر وہی انفرادی اور شخصی معاملہ ہے ۔ یعنی انفرادی انتخاب اور انفرادی طرز ِ حیات کا معاملہ ہے ۔

جیسے کنوئیں کا مینڈک بننے کے لیے کنوئیں کی موجودگی ضروری نہیں؛ اسی طرح، کنوئیں سے باہر آ جانے کا مطلب، آزاد ہوجانا نہیں ۔ کنوئیں میں رہ کر بھی آزاد رہا جا سکتا ہے ۔ کہنا میں یہ چاہ رہا ہوں کہ جبر کے تحت بھی تخیّل سرگرم رہ سکتا ہے، اور آزادی میں بھی ۔ اور شہادت تو یہ بھی ہے کہ آزادی کے تحت ، تخیّل سست پڑجاتا ہے ۔

لیکن پاکستان کے ضمن میں یہ ساری باتیں بیکار معلوم ہوتی ہیں ۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے روشندان کو پنبہ، ڈکّا، لگا کر بند کر دیا گیا ہے ۔ غلط ہو گیا ۔ بند نہیں کیا گیا ۔ خود بند کر لیا گیا ہے اس روشندان کو ۔ اور یہ روشندان باہر سے بھی بند نہیں ہوا ۔ بلکہ اسے اندر سے بند کیا گیا ہے ۔ اوراندر سے کسی دوسرے نے بند نہیں کیا ۔ بلکہ خود اندر والے نے اس روشندان کو اندر سے بند کر لیا ہے ۔ جیسے کنوئیں کا مینڈک خودکو کنوئیں کے اندر بند کرنے کے ساتھ ساتھ کنوئیں کوبھی اندر سے بند کر لے ۔

اور یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ہوا، تازہ ہوا، اور دھوپ، اورچاندنی ،اور بارش، اورایسی ہی لاتعداد نعمتیں جو ہمیں باہر کی دنیا سے ملتی ہیں، یا کارل پاپر کے مطابق، جنھیں ہم باہر کی دنیا سے کشید کرتے ہیں، یہ سب چیزیں، اور جو کچھ ان کے علاوہ بھی موجود ہے باہر کی دنیا میں، سب کچھ ہمارے اندر پہلے ہی موجود ہے ۔ وافر موجود ہے ۔ اور ہمیں کسی چیز کی کچھ ضرورت نہیں ۔ ہم کامل اور اکمل اندازمیں خود کفیل ہیں ۔

سو، ہم ایک گنبد ِ بے در میں قید ہیں ۔ اورالمیہ یہ ہے کہ یہ گنبد ِ بے در کوئی طبعی ، ٹھوس عمارت نہیں ۔ خود ہمارے تصورات نے اسے تعمیر کیا ہے ۔ اس کی اینٹ گارا خود ہمارے تصورات ہیں ۔ تو اب خواہ قید ِ تنہائی ہو، یا یہ گنبد ِ بے در، جب ہم نے تصورات کا ایک قید خانہ بنا کر خود کواس میں قید کرلیا ہے، تو پھر ہم تخیّل میں بھی آزاد نہیں، اور ہمارا تخیّل بھی آزاد نہیں ۔ ہمارا تخیّل منجمد ہو گیا ہے ۔ جم گیا ہے ۔ برف بن گیا ہے ۔ ہم نے یہ تصور کر لیا ہے، ہمیں تخیّل کی کوئی ضرورت نہیں ۔

اور یہ سب کچھ ہم نے خود کیا ہے، کسی اور نے نہیں ۔ بلکہ کوئی اور تو یہ کام کر ہی نہیں سکتا ۔ کوئی اور جسم و جاں کو توقید کر سکتا ہے، لیکن تخیّل کو نہیں ۔ یا ہمارے تصورات یہ کام کر سکتے ہیں ۔ اور انھوں نے یہ کام کر دکھایا ہے ۔

نظم : شہروں شہروں لوگوں کی بہتی ہوئی بھیڑ / سب کے سروں پر تاریکی کے گٹھڑ اور / ہاتھوں میں بارود کے پتھر / ایسے میں جگنو کی موت یقینی ہے! (خ ۔ا)

تو تخیّل کی موت کا ذمے دار کوئی اور نہیں، ہم خود ہیں ۔ اور سونے پر سہاگہ یہ کہ ہم اس جمے ہوئے، جامد، برف تخیّل کو پگھلانا بھی نہیں چاہتے ۔ گو کہ، جیسا کہ اوپر ذکر ہوا، تخیّل کی تجدید، یا اس کے احیا کے لیے اولین شرط فرد کی آزادی ہے، لیکن جب فرد ہی آزاد نہ ہونا چاہے تو کوئی حکیم، ڈاکٹر کچھ نہیں کر سکتا ۔

ہاں، لیکن کم ازکم یہ تو ہو کہ جو تخیّل کو ترک نہیں کرنا چاہتے، انھیں تو آزادی ملے کہ وہ تخیّل سے معمور زندگی جی سکیں ۔ یعنی خارجی شرط تو پوری کی جائے، تا کہ پھر جو چاہے، وہ تخیّل کو ترک کرے، جو چاہے، نہ کرے ۔ اور یہ بھی ضروری ہے کہ تخیّل کو ترک کرنے کی بندش، جو پاکستان میںزندگی کا چلن، زندگی کا قانون بنا دی گئی ہے، وہ ختم ہو ۔

سو اصل میں تخیّل کو کسی نے قتل نہیں کیا ۔ اسے کسی نے موت کی نیند نہیں سلایا ۔ خود فرد نے تخیّل کو ترک کر دیا ہے، اور یہی تخیّل کی اصل موت ہے!

مگرکیا ہم اپنے تخیّل کو اپنے تصورات کی قید سے آزاد کرنے کے لیے تیار ہیں! اس سوال کا مثبت جواب ہی تخیّل کو دوبارہ زندگی دے سکتا ہے ۔

سیمینار: پاکستان میں آزاد مارکیٹ کے فلسفے کی قبولیت

March 26th, 2012

تاریخ: 28 مارچ، 2012 بروز بدھ
وقت: 3بجے سہ پہر
مقام: جناح آڈیٹوریم، لاہورایوانِ تجارت و صنعت شاہراہِ ایوانِ تجارت، (نزد چائینہ چوک) لاہور

پروگرام:
صدارت، تعارف و ماڈیریشن: ڈاکٹر ساجد علی – سابق چیئر مین، ڈیپارٹمینٹ آف فلاسفی، یونیورسیٹی آف دا پنجاب، لاہور

پہلا قدم: ڈاکٹر خلیل احمد

پاکستان میں آزاد مارکیٹ کے فلسفے کی قبولیت: حماد صدیقی – ڈپٹی کنٹری ڈائریکٹر سینٹر فار انٹر نیشنل پرائیویٹ اینٹر پرائز (CIPE)

آزاد مارکیٹ کا فلسفہ اور پاکستانی کاروبار: نجف یاور خان – ڈائریکٹر /چیئر مین ، مینیجمینٹ سٹڈیز ڈیپارٹمینٹ ، جی، سی ، یونیورسیٹی ، لاہور

آزاد مارکیٹ کا فلسفہ اور دہشت گردی: ڈاکٹر رضا اللہ – سٹی یونیورسیٹی ، پشاور

پنجاب میں ایجوکیشن واؤچر سکیم کی کامیابی اوراے ، ایس، انسٹیٹیوٹ کا کردار: علی سلمان – مینیجنگ پارٹنر، ڈیویلپمینٹ پول

اوپن سیشن: سوالات ، فیڈبیک، آرا ء

آپ کی بروقت شرکت ہمارے لیے باعثِ وقار ہو گی۔

چشم براہ: خلیل احمد
0300-4000161, 0300-441481 :فون
Email: info@ASInstitute.org

اے ، ایس ، انسٹیٹیوٹ،لاہور

کتاب:”پاکستا ن میں ریاستی اشرافیہ کا عروج“ شائع ہو گئی

February 21st, 2012

میڈیا ریلیز:

کتاب:”پاکستا ن میں ریاستی اشرافیہ کا عروج“ شائع ہو گئی

مصنف کے مطابق کتاب ”اشرافیہ کا نہیں، سب کا پاکستان“ کا نعرہ وضع کرتی اور اس نعرے کو فلسفیانہ بنیاد بھی مہیا کرتی ہے

’یہ کتاب پاکستا ن کے شہریوں کی زندگی بدل سکتی ہے،‘ مصنف ڈاکٹر خلیل احمد

لاہور، 21فروری 2012: اے، ایس، انسٹیٹیوٹ، لاہور، نے آج ڈاکٹر خلیل احمد کی تازہ ترین کتاب، ”پاکستان میں ریاستی اشرا فیہ کا عروج“ ریلیز کر دی ہے ۔ یہ کتاب پاکستانی اشرافیہ کو آئین اور قانون کی حکمرانی اور بالا دستی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیتی ہے ۔ اس کے مطابق پاکستانی اشرافیہ، ریاست، ریاستی اداروں اور ریاست کے وسائل پر پھلتی پھولتی ہے ۔ یہ نہ صرف پاکستانی ریاست پر قابض ہے، بلکہ ریاستی اداروں پر قبضے کے ذریعے اس نے مارکیٹ کو بھی اغوا کیا ہو ا ہے ۔ اشرافیہ کے قلب، یعنی سیاست دانوں، ایسٹیبلِشمینٹ، یعنی قائمیہ اور بیوروکریسی نے پاکستانی آئین کو اپنے گھر کی باندی بنایا ہوا ہے ؛ جبکہ عام شہریوں کو بنیادی حقوق کی دستیابی محال ہی نہیں، نا ممکنات میں سے ہے ۔

مصنف کا کہنا ہے کہ اس مظہر کو ”ریاستی اشرافیہ“ کی اصطلاح سے سمجھنا ضروری ہے ۔ قبل جدیدی اشرافیہ، اپنی طاقت اور اختیار، کسی امتیاز، جیسے کہ نسلی برتری، سے اخذ کرتی تھی، جبکہ پاکستانی اشرافیہ اپنی طاقت اور اختیار، ریاست سے اخذ کرتی ہے ۔ دولت ہو یا اثر و رسوخ، مراعات ہوں یا اعانات، اشرافیہ ہر چیز کو ریاست کے ذریعے اپنے لیے مختص کرلیتی ہے ۔ اور عام شہریوں کے لیے سرکاری دفتروں، انتخابی سٹیشنوں، اور عدالتوں کے دھکوں کے سوا کچھ نہیں بچتا ۔

یہ کتاب اشرافی پاکستان کو سب کے پاکستان میں تبدیل کرنے کا راستہ دکھاتی ہے ۔ اور پاکستان کے تمام طبقات اور گروہوں کو آئین اور قانون کی حکمرانی کی طرف بلاتی ہے، اور انھیں انسانی تہذیب کی اہم ترین قدر، قانون، پر ٹِک جانے کی صلاح دیتی ہے ۔ مزیدبرآں، یہ کتاب جن موضوعات سے بحث کرتی ہے، ان میں اشرافیہ – تاریخی تناظر ؛ پاکستانی ریاست اور اشرافیہ ؛ پاکستانی اشرافیہ کی تشکیل ؛ ریاستی اشرافیہ کا عروج ؛ اشرافیہ کا فلسفہء انسان ؛ پاکستانی اشرافیہ کی نوعیت اور ماہیت ؛ اشرافی شکنجے سے آزادی ؛ پاکستان کے اشرافی طبقات ؛ پاکستان کی ریاستی اشرافیہ کا قلب، شامل ہیں ۔

کتاب کا مصنف، فلسفے کی تدریس سے وابستہ رہا ہے، اور سیاسی فلسفے سے دلچسپی رکھتا ہے ۔ وہ آلٹر نیٹ سالوشنز انسٹیٹیوٹ کے بانیوں میں سے ہے، جو پاکستان میں بنیادی حقوق اور قانون کی حکمرانی کے استحکام کے لیے کام کر رہا ہے ۔ مصنف کی اہم تصنیف، ”چارٹر آف لبرٹی“ (میثاق ِ آزادی) ہے، جو پاکستانی آئین میں بیان کیے گئے بنیادی حقوق کو آئین کی اساسی اور اعلیٰ ترین قدر بنانے پر زور دیتی ہے ۔

یہ کتاب 156 صفحات پر مشتمل ہے، اور اس کی قیمت 220 روپے ہے ۔ کتاب سے متعلق معلومات اور خرید کے لیے درج ِ ذیل پر رابطہ کیا جا سکتا ہے:

فون نمبر: 161 4000 – 0303
ایمیل : info@asinstitute.org
آفس ایڈریس: کمرہ نمبر 32، تیسری منزل ، لینڈ مارک پلازا، 5/6 جیل روڈ، لاہور

اگر آج مارشل لا ہوتا!

December 30th, 2011

2 مئی کو ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے امریکی ارتحال کے بعد پاکستان میں حالات کچھ اچھے نہ تھے۔ یوں محسوس ہو رہا تھا کہ کچھ ہونے والا ہے ۔ ایسی کوئی انہونی ہونے والی ہے، جو اول روز سے پاکستان کا مقدر بنی ہوئی ہے۔ یہ خوف، ملکی معاملات سے متعلق تشویش رکھنے والے ہر فرد کے دل میں کلبلا رہا تھا ۔ اور جب منصور اعجاز نے مبینہ میمو رینڈم کے بارے میں مضمون لکھا اور اس میمو کا متن طشت از بام ہوا تو اس خوف کی تصدیق ہو گئی ۔ اور منصور اعجاز کی طرف سے انکشافات کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ۔ نئے سے نئے راز کھولے جا رہے ہیں ۔ اور یوں انہونی کا خوف ایک حقیقت بنتا جا رہا ہے ۔

جیسا کہ اب کوئی معاملہ آزاد میڈیا اور آزاد شہریوں کی جانچ اور پرسش سے بچ نہیں سکتا، تو یہ میمو والا معاملہ بھی طرح طرح کی چھریوں کے نیچے آیا ہوا ہے ۔ جراحی کے ساتھ ساتھ اس کی چیر پھاڑ بھی ہو رہی ہے ۔ ہونی بھی چاہیے ۔ یہی ایک آزاد اور زندہ معاشرے کی پہچان ہے ۔ اب یہ معاملہ محض میمو کا معاملہ نہیں، بلکہ میموگیٹ بن گیا ہے، اور ملک کی اعلیٰ ترین عدالت تک جا پہنچا ہے ۔ اور جیسا کہ ایک سیاست زدہ سوسائیٹی کا معمول ہوتا ہے، ہر فریق،خواہ وہ متاثرہ فریق ہے، یانہیں؛ متعصب فریق ہے یا نہیں، اپنا اپنا مطلب نکالنے پر تلا ہوا ہے ۔ (پنجابی میں اس کے لیے بہت اچھا ایکسپریشن موجود ہے: ہر کوئی اپنی لُچ تلنے کی کوشش میں ہے) ۔ اس طرح یقیناً بہت کیچڑ اچھلتا، اور حقیقت کا کوئی’بھورا‘ تک سامنے نہ آ پاتا؛ سو، اچھا ہوا کہ یہ معاملہ منصفوں کے ہاتھوں میں چلا گیا ۔ پھر اس امکان کو بھی رد نہیں کیا جاسکتا کہ اگر یہ معاملہ عدالت میں نہ جاتا تو اغلبا ً مذکورہ بالا خوف اب تک مارشل لا کا روپ دھار چکا ہوتا ۔

دیکھنا چاہیے کہ اب عدالت ِ عظمیٰ اسے کس طرح ٹھکانے لگا تی ہے ۔ لیکن چونکہ کوئی ایسی پابندی نہیں لگائی گئی کہ خاموش، پہلے ہمیں دیکھنے دو کیا ہوا ہے؛ اور چونکہ اس سارے معاملے میں دو چیزیں نہایت اہم ہوتی جا رہی ہیں، لہٰذا، ان کی نشاندہی اور ان پر کچھ بات کرنا ضروری ہے ۔ اول تو یہ کہ کچھ چیزوں کو بہت اہمیت دی جارہی ہے، اور دوم یہ کہ کچھ چیزوں کو جیسے کہ ارادتا ً نظر انداز کیا جارہا ہے ۔ یہ انداز بذات ِ خود مشکوک ہے ۔ عدالت کو اس پر توجہ دینا ہو گی ۔ صاف بات ہے کہ جو لوگ کچھ چیزوں کو بے جا اہمیت دے رہے ہیں، وہ اپنی کسی غرض کے ہاتھوں مجبور ہیں، اور جو لوگ کچھ چیزوں کو نظرا نداز کرنے پراتارو ہیں، ان کا دامن بھی صاف نہیں ۔ ایسے میں یہ عدالت کا کام ہے کہ وہ کھرے کھوٹے کو پرکھے اور بتائے کہ کیا سچ ہے اور کیا جھوٹ ۔ اچھا ہوا کہ یہ معاملہ عدالت پہنچ گیا، کیونکہ اسی میں سب کی بھلائی ہے ۔ حکومت کے لیے تو شاید سب سے زیادہ بھلائی کی بات ہے ۔ مگر جانے کیوں یہی سب سے زیادہ گھبرائی ہوئی بھی ہے ۔

میموگیٹ کے معاملے میں جن چیزوں پر سب سے زیادہ زور دیا جا رہا ہے، اس میں ملکی سلامتی اور اقتدار ِ اعلٰی کے ساتھ ایٹمی اثاثے سر ِ فہرست ہیں ۔ پاکستان میں یہ چیزیں روزمرہ سیاست کا موضوع رہی ہیں، اور آج بھی ان کی یہی حیثیت ہے ۔ جیسے کہ یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ یہ چیزیں مسلمہ ہیں، اور ان پر کوئی لین دین نہیں ہو سکتا ۔ ان چیزوں کو حرف ِ آخر سمجھ لیاگیا ہے ۔ کونسا سیاست دان ہے جس پر ملک کے لیے سیکیوریٹی رِسک ہونے کا الزام نہیں لگایا گیا ۔ کونسی سیاسی جماعت ہے جسے کسی دوسرے ملک کے ہاتھوں بکی ہوئی جماعت نہیں کہا گیا ۔ پھر بھی یہی سیاست دان اور یہی سیاسی جماعتیں ہیں جو اقتدار میں آتی رہی ہیں، اور ملکی سلامتی، اقتدار ِ اعلٰی اور ایٹمی اثاثوں کی محافظ رہی ہیں ۔

جہاں تک ایٹمی اثاثوں کی حفاظت کی بات ہے تو پچھلے کچھ ماہ میں پاکستا ن میں، جی، ایچ، کیو سے لے کر پی، این، ایس مہران تک، جو کچھ ہواہے، اس کے بعد ان کی سلامتی کے حوالے سے ہر ذی ہوش کی تشویش بڑھ جانی چاہیے ۔

اس ضمن میں یہ کبھی نہیں سوچا گیا کہ ملکی سلامتی اور اقتدار ِ اعلٰی کوئی مطلق چیزیں نہیں ۔ ملکی سیاسی حالات اور بین الاقوامی سیاست کے پیش ِ نظر ان کی تعیین و تدوین میں تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں ۔ جب کسی دوسرے ملک سے کوئی معاہدہ کیا جاتا ہے تواپنا کچھ اقتدار ِ اعلٰی، کچھ دوسرے زیادہ وسیع تر اصولوں کے ساتھ جوڑدیا جاتا ہے ۔ مثلا ً جب پاکستان نے یو، این، او کے انسانی حقوق کے چارٹر پر دستخط کیے تو ایسا ہی ہوا ۔ اب یہ دستخط کرنے کے بعد پاکستان یہ نہیں کہہ سکتا کہ کوئی دوسرا ملک ہمارے معاملات میں مداخلت نہ کرے، ہم مقتدر ہیں، ہم انسانی حقوق کا خیال رکھیں یا نہ رکھیں ۔ اسی طرح دوسرے معاملات ہیں ۔ اور پھر یہ بھی کہ ان معاملات میں اختلافات بھی پیدا ہوتے رہتے ہیں، اور مذاکرات چلتے رہتے ہیں، اور تصفیے ہوتے رہتے ہیں ۔ یہ سب کچھ ہر لمحہ حرکت اور سیالیت میں رہتا ہے ۔

پاکستان میں ایک اور پریشاں خیالی شروع سے پید ا کی گئی ۔ مراد یہ کہ سلامتی اور اقتدار ِ اعلٰی کو صرف اور صرف دوسرے ممالک کے حوالے سے سمجھا اور سمجھایا گیا ۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ جس بات پر بالکل توجہ نہیں دی گئی وہ ہے ملک کے اقتدار ِ اعلٰی کو لاحق داخلی خطرات کا معاملہ ۔ داخلی سلامتی اور داخلی اقتدار ِ اعلٰی کو کبھی قابل ِ اعتنا نہیں گردانا گیا ۔ اس سے مراد ہے آئینی اداروں کی سلامتی اور ان کو دیا گیا اقتدار ِ اعلٰی ۔ ایک ادارہ کس طرح دوسرے ادارے کے اختیارات پر حاوی ہوا، کیوں ہوا، کیاایسا ہونا چاہیے تھا ۔ ان سوالوں کو کبھی سلامتی اور اقتدار ِ اعلٰی کے معاملات کے ساتھ جوڑ کر نہیں دیکھا گیا ۔ یا سیاسی تجزیہ نگاروں اور دانشوروں نے انھیں قابل ِ توجہ نہیں سمجھا، اور ایک مخصوص راگ الاپتے رہے،اور خارجی سلامتی اور اقتدار ِ اعلٰی کو ایک آسیب کی طرح خود پر سوار کیے رہے، اور لوگوں کو بھی اسی کا شکار بنائے رہے ۔ یہی کچھ آج ہورہا ہے، اور یہی کچھ ہے جو میموگیٹ میں سے نکالنے کاجتن ہو رہا ہے ۔

بہت کم افراد ایسے ہیں جو ان چیزوں پر توجہ دے رہے ہیں، پاکستان کو حقیقتا ً جن پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ بہت کم سیاسی تجزیہ نگار ایسے ہیں جویہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ اصل چیز داخلی سلامتی، اور آئینی اقتدار ِ اعلٰی، اور اس کا استحکام ہے ۔ بہت کم ہیں جو یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ میمو جس خوف سے مملو ہے وہ خوف پیدا ہی کیوں ہوا۔ اوریہ کہ میموگیٹ کا معاملہ، سلامتی اور اقتدار ِ اعلٰی کا معاملہ نہیں، بلکہ داخلی سلامتی اور داخلی اقتدار ِ اعلٰی کا معاملہ ہے ۔ بہت کم ہیں جو یہ کہہ رہے ہیں کہ سچ کو سچ نما جھوٹ سے متمیز کرنے کی ضرورت ہے ۔ بہت کم ہیں جو یہ کہہ رہے ہیں کہ اگر آج مارشل لا ہوتا توکیا میمو کامعاملہ میمو گیٹ بنا ہوتا!

اور خال خال ہیں جو یہ کہہ رہے ہیں کہ پاکستان کو ہمیشہ سے جس چیز کی ضرور ت رہی ہے وہ داخلی سلامتی ہے، اور اس کے لیے اداراتی اقتدار اعلٰی کی سلامتی ناگزیر ہے!

چلتی پھرتی باتیں – ایک اور عظیم دھوکہ

December 26th, 2011

پاکستان کے شہریوں کے ساتھ ایک اور عظیم دھوکہ ہونے جا رہا ہے!

پہلا عظیم دھوکہ پاکستان پیپلز پارٹی کی صورت میں شروع ہوا تھا، اور ابھی تک جاری و ساری ہے۔ اور پاکستان کے شہریوں کی ایک معتدبہ تعداد ابھی تک اس دھوکے سے باہر نکلنے پر راضی نہیں ہے۔

پیپلز پارٹی کی بنیاد 1967میں رکھی گئی تھی۔ جو خواب اس وقت پاکستان کے شہریوں کو دکھائے گئے تھے، وہ آج تقریباً پینتالیس سال بعد بھی پورے نہیں ہوئے ہیں ۔ پورے ہونے کی بات تو چھوڑیں، ان کا عشر ِ عشیر بھی شرمندہ ءتعبیر نہیں ہوا۔ ہاں، اس عرصے میں کیا ہوا، بہت سے مہم جو لیڈر بن گئے ۔ نہ صرف لیڈر بن گئے بلکہ پیسے والے اور صاحب ِ حیثیت بھی بن گئے ۔ ان کے گھر بھرے گئے ۔ کاروبار جم گئے ۔ مگر پاکستان کے شہری وہیں کے وہیں ہیں ۔ انھیں پارٹی اور اس کی حکومتوں نے کیا دینا تھا، انھیں با عزت طریقے سے زندہ رہنے کا حق بھی نہیں مل سکا ۔ ان کے ساتھ جو کچھ 1967 میں، اور اس سے پہلے ہو رہا تھا، وہی کچھ آج بھی ہو رہا ہے ۔

اب دوسرا دھوکہ پاکستان تحریک ِ انصاف کی شکل میں سامنے آرہا ہے ۔ وہی خواب دکھائے جا رہے ہیں ۔ یہ ہو جائے گا ۔ وہ ہو جائے گا ۔ بس یہ کہا، وہ ہو گیا ۔ سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا ۔ پل کے پل میں ٹھیک ہو جائے گا ۔ کیسے ہو گا ۔ کیونکر ہوگا ۔ کچھ پتہ نہیں ۔ دھوکہ دینے والوں کو بھی پتہ نہیں ۔ دھوکہ کھانے والوں کو بھی پتہ نہیں ۔ دھوکہ کھانے والوں کی تو جیسے نظر باندھ د ی گئی ہے ۔ دکھانے والے جو دکھا رہے ہیں، وہ وہی دیکھ رہے ہیں ۔ کوئی یہ نہیں پوچھ رہا ۔ کیا ہو گا ۔ کیسے ہو گا ۔ کون کرے گا ۔ کیسے کرے گا ۔ کیونکر کرے گا ۔

لوگ پھر سے وہی پرانا دھوکہ کھانے کے لیے تیار نظر آرہے ہیں ۔ جوق در جوق تحریک ِ انصاف کے جلسوں کی زینت بن رہے ہیں ۔ کسی کی دکان سجا رہے ہیں ۔ کسی کے خواب پورے کررہے ہیں ۔ بہت بھولے ہیں یہ لوگ ۔ مجھے ان پر ترس نہیں آرہا، بلکہ اس دن اور اس وقت سے ڈر لگ رہا ہے، جب یہ سب خواب چکنا چور ہو ں گے ۔ پھر کیا ہوگا؟ جب اس ملک میں لاکھوں کروڑوں شیشے یکدم ٹوٹیں گے تو کتنی کرچیاں اور کہاں کہاں بکھریں گی ۔ اور کون کون زخمی ہوگا ۔ کب تک زخمی ہوتا رہے گا ۔ یہ زخم کبھی بھریں گے بھی یا نہیں ۔ لاکھوں کروڑوں شیشے ٹوٹنے کی صدائیں کہاں کہاں تک بازگشت پیدا کریں گی ۔ کتنے کانوں کے پردوں کو پھاڑیں گی ۔ کتنے کلیجے چیریں گی ۔ بہت خوفناک منظر ہو گا ۔ موت کے منظر سے بھی خوفناک منظر ۔  لیکن کوئی بھی تیا ر نہیں، یہ منظر سوچنے کے لیے ۔ یہ منظر تخئیل میں دیکھنے کے لیے ۔

میری یہ باتیں، یا اور دوسرے لوگ جو ایسی ہی باتیں کہہ رہے ہیں، ان کی باتیں کون سنے گا، بلکہ مجھ سمیت ان سب کو کوسا جائے گا ۔ ہدف بنایا جائے گا ۔ بس ایک دھن سوار ہے ۔ جیسے ایک نوجوان کہیں محبت کر بیٹھتا ہے اور شادی کرنے پر اتارو ہے ۔ اسے لاکھ سمجھائیں، وہ سمجھ پا کر نہیں دے گا ۔ وہ اپنی ضد پوری کر کے رہے گا ۔ یا اپنی ضد ویاہ کر رہے گا ۔ کرلینے دیں، اسے اپنی ضد پوری۔ ویاہ لینے دیں، اسے اپنی ضد ۔ دیکھیں ہنی مون کتنے دن کا ہوتا ہے ۔ پر ابھی تو تاریخ بھی نہیں ملی ہے ۔ دیکھیں کیا گزرے ہے قطرے پہ گہر ہونے تک!

آخری الفاظ یہ کہنا چاہوں گا کہ پہلا عظیم دھوکہ ایک ”عوامیتی فاشزم “(پاپولِسٹ فاشزم) کی صورت میں آج تک بھگتا جا رہا ہے ۔ یہ دوسرا عظیم دھوکہ جس کا منہ متھا ’’لبرل فاشزم‘‘ سے ملتا جلتا لگ رہا ہے، دیکھیں کب تک بھگتنا پڑے!

ایماندار لیڈر اور ایماندار پارٹی ـ ایک سیاسی مغالطہ

October 30th, 2011

ہر استحصال کی بنیاد کسی تصور یا/مغالطے پر ہوتی ہے ۔ تعصبات، نفرتیں، محبتیں، سب اسی زمرے میں آتی ہیں ۔

پھر یہ کہ یہ تصورات یا مغالطے بہر طور کسی نہ کسی کلیشے سے جُڑے ہوتے ہیں یا اس کی شکل اختیار کر لیتے ہیں ۔

اسی طرح کا ایک تصور یا مغالطہ یا کلیشے، پاکستان میں معلوم نہیں کب سے عام ہوا اور ابھی تک جان نہیں چھوڑ رہا ۔ کسی بیٹھک میں ہونے والی حالات ِ حاضرہ کی گفتگو سن لیں، یا کسی سیمینار میں جا پہنچیں، یا کسی ٹی وی ٹاک شو پر جاری بحث دیکھ لیں، ایک عام آدمی سے لے کر فہم و فراست کے دعویدار، بلا امیتاز، ایک ہی بات دہرائے چلے جا رہے ہیں کہ پاکستان کو اس کے ہمہ گیر بحران سے نکالنے کے لیے ایک ’’ایماندار لیڈر‘‘ درکار ہے ۔ زور ’’ایماندار‘‘ پر ہے ۔ اگرچہ اس کے ساتھ ساتھ ایک اور کلیشے آج کل بہت عام ہے کہ ’’پاکستان کو لیڈر کی ضرورت ہے ۔‘‘

دراصل، یہ بڑا پرانا تنازعہ ہے کہ انسان، فطرتاً نیک ہے یا بد ۔ مگر آج تک طے نہیں ہو پایا ۔ اور میرا حقیر خیال ہے کہ کبھی طے ہو گا بھی نہیں ۔ کیونکہ کچھ سوال ہی غلط ہوتے ہیں ۔ جیسے ہم کہیں کہ درخت، نیک یا بد ہیں ۔ پھر اس تنازعے کے ساتھ ایک اور تنازعہ بھی جڑا ہوا ہے ۔ یعنی یہ کہ انسان کو اس کی فطرت، نیک یا بد بناتی ہے یا ماحول ۔ یہ ایک معقول تنازعہ ہے ۔ اس پر بحث جاری ہے، جاری رہے گی ۔ کیونکہ یقیناً ایک حد کے بعد ماحول اہم ہو جاتا ہے ۔ جیسے اس بات کا قوی امکان ہے کہ مسلسل بھوک کسی شخص کو اخلاقیات بھلا سکتی ہے ۔ لیکن کیا ایسے میں اخلاقیات کو فراموش کر دینا جائز ہو گا، اس سوال کا تعلق اخلاقیات اور قانون سے ہے ۔

حیاتیاتی اور نفسیاتی علوم اپنی کاوش میں لگے ہوئے ہیں کہ انسان فطرتاً نیک ہے یا بد ۔ ان کی تحقیقات اور نظریات کا اثر سماجی، سیاسی اور معاشی زندگی پر بھی پڑتا ہے ۔ یہ چیز بہت خطرناک ہے ۔ بلکہ ایسا ہی ہوا کہ سیاسیات یا سیاسی فلسفیوں نے بھی اپنے سیاسی نظریات کو حیاتیاتی اور نفسیاتی علوم کی ’’غیر قطعی‘‘ تحقیقات پر استوار کرنا شروع کر دیا ۔ جسیے ٹامس ہابس کا سیاسی فلسفہ جو انسان کو فطرتاً نیک نہیں سمجھتا ۔

عملاً ہوا یہ کہ انسانی فطرت سے متعلق نظریات کو سیاسی مہم جوؤں نے خوب استعمال کیا ۔ اس کا نقصان اس وقت انتہائی مہلک ثابت ہوا جب یہ نظریات کسی نہ کسی طور آئین اور قانون میں جگہ پانے لگے ۔

جیسا کہ یہ سوال ہی غلط تھا تو جواب بھی سارے غلط ٹھرے ۔ ذرا سا غور کریں تو سیاسی فلسفے میں اس سوال کا عکس کچھ اس طور پڑا کہ ہاں بھئی اگر انسان فطرتاً نیک ہے تو سیاسی حکومتی نظام کچھ اور طرح کا ہو گا، بلکہ یہاں یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ کسی نظام کی ضرورت ہی نہیں ۔ جیسا کہ عمران خان کی سوچ ہے: وہ نظام کی بات نہیں کرتے اور یہ کہتے ہیں کہ سب پارٹیاں کرپٹ ہیں اور وہ ایماندار ہیں ۔

اور اگر انسان بد ہے تو اور طرح کا نظام درکار ہو گا ۔ مثلاً ہابس نے قرار دیا کہ افراد کو ایک مقتدر ِ اعلٰی کا باجگزار ہونا چاہیے ۔ انھیں کوئی آزادی نہیں ہونی چاہیے ۔

اس عکس کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ اگر کچھ انسان بد ہیں اور کچھ نیک، تو بہتر ہے کہ جو نیک ہے وہ حکمران ہو ۔ بات بہت معقول لگتی ہے ۔ لیکن کیا اتنی معقول ہے بھی، جتنی معقول نظر آتی ہے ۔

ان سب باتوں کے ضمن میں ایک بات تو صاف ہے کہ جب تک یہ سوال طے نہیں ہو جاتا کہ انسان فطرتاً نیک ہے یا بد، اس وقت تک ان تمام سیاسی فلسفوں کو طاق میں رکھ دینا چاہیے جو انسانی فطرت کے تصور پر استوار ہیں ۔

تو پھر کیا انتظار میں بیٹھے رہیں کہ کب بابا مریں اور کب بیل بٹیں ۔

ایک اور زیادہ معقول بات یہ ہے، اور جیسا کہ اوپر ذکر بھی ہوا، کہ بنیادی طور پر یہ سوال ہی غلط ہے ۔ اگر ہم حتمی طور پر یہ نہیں جانتے کہ انسان بد ہے نیک، تو اس قضیے پر کوئی فلسفہ تعمیر کرنا غلطی ہو گی ۔ میرا اشارہ دونوں باتوں کی طرف ہے، خواہ ہم حتمی طور پر یہ جانتے ہوں کہ انسان بد، یا یہ کہ انسان نیک ہے، ان دونوں چیزوں پر کسی سیاسی فلسفے کی عمارت بنانا بہت بڑی بھول ہو گی ۔

میں نے اوپر ذکر کیا کہ یہ سوال ہی غلط ہے اور اس کی مثال درخت کے نیک یا بد ہونے سے دی ۔ آپ کہ سکتے ہیں کہ یہ مثال ہی غلط ہے ۔ درخت بے جان اور بے شعور ہوتے ہیں ۔ درست ہے ۔ درختوں کے بارے میں یہ سوال اٹھانا اس لیے غلط ہو گا کہ درخت بے شعور ہیں اور انسانوں کے بارے میں یہ سوال اٹھانا اس لیے غلط ہے کہ وہ بہت زیادہ با شعور ہے ۔

حقیقت یہ ہے کہ نیک اور بد کا تصور اور یہ اقدار انسان کی ایجاد ہیں ۔ تو جس نے نیک یا بد کو ایجاد کیا اسے یہ معلوم نہیں ہو گا کہ نیک ہونا کیا ہے اور بد ہونا کیا ہے ۔ اسے تو سب سے زیادہ پتہ ہے ۔ اور اس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ ہمیں، ہر ایک کو، ہر لمحہ پتہ ہوتا ہے کہ ہم نیک ہیں یا بد ہیں ۔ ہم جو کام کر رہے ہیں وہ نیکی کے زمرے میں آتا ہے یا بدی کے ۔ اور ہمیں ہر لمحہ یہ فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ ہم نیک رہیں یا بد رہیں ۔ یا بعض اوقات ہم اگر ہم بیشتر نیک کاموں کی وجہ سے خود کو نیک سمجھتے ہیں تو اہم کوئی بد کام کرتے ہوئے اپنا کوئی جواز بھی تراش لیتے ہیں ۔ کہنے سے مراد یہ ہے کہ عام انسان کوئی سالم یا کامل نیک نہیں یا سالم یا کامل بد نہیں ۔ ہمیں ہر گھڑی یہ دیکھنا اور بہت بڑا فیصلہ کرنا پڑتا ہے کہ ہم نیک ہونا یا رہنا چاہتے ہیں ۔ یا بد ہونا یا بد رہنا چاہتے ہیں ۔ تو یہ بات تو واضح ہے کہ ہر انسان مسلسل یا یوں کہ لیں کہ مستقلاً نیک یا بد بننے کے عمل میں رہتا ہے ۔ جیسا کہ نیکی یا بدی کا تعلق بنیادی طور پر ہمارے اعمال و افعال سے ہے اور یہ ہمارے اعمال اور افعال ہی ہیں جو ہمیں نیک یا بد بناتے ہیں ۔ اور جیسا کہ اوپر بھی اشارہ کیا گیا کہ اس میں اعمال و افعال کے نتائج بھی شامل ہوتے ہیں، تاہم اس بیچ بہت سی پیچیدگیاں آ الجھتی ہیں اور اسی لیے بہت دور رس نتائج کو اس میں شامل کرنے سے گریز کرنا چاہیے ۔

مجھے یاد ہے کہ وجودی فلسفی ژاں پال سارترے نے کچھ اس طرح کی بات کی تھی کہ اگر دنیا میں کہیں کوئی شخص قتل ہوتا ہے تو اس کی ذمے تمام انسانوں پر آتی ہے ۔ مثلاً اگر معمر قذافی کے ہاتھوں بہت سے اشخاص اپنی زندگیاں کھو بیٹھے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی ذمےداری مجھ اور آپ سمیت ہم سب پر عائد ہوتی ہے ۔ یا اس کی ایک مثال یہ ہو سکتی ہے کہ دوسرے جنگِ عظیم میں کسی جگہ اتحادیوں یا ناتسیوں کی فوج تعینات تھی وہاں دوسرے فریق نے کوئی بم پھینکا اور وہ بم کہیں جھاڑ جھنکاڑ میں یا زمین تلے دبا رہ گیا ۔ اور کافی عرصے بعد وہ اس وقت پھٹ گیا جب وہاں کچھ عام لوگ کھیتی باڑی سے متعلق کوئی کام کر رہے تھے، تو اتحادی یا ناتسی افواج پر ان ہلاکتوں کی کتنی ذمےداری عائد ہوتی ہے ۔

اگرچہ اس طرح کے حادثات رپورٹ ہوتے رہتے ہیں، لیکن کبھی ذمےداری کے تعین کا مسئلہ سامنے نہیں آیا ۔ جبکہ ایک اور طرح کے واقعات کے ضمن میں ذمےداری کا تعین کیا گیا ہے، اور ہرجانے کی ادائیگی بھی سامنے آئی ہے ۔ جیسا کہ جاپان پر قبضے کے دوارن جن عورتوں کو جنسی تسکین کے لیے استعمال کیا گیا، حالیہ طور پر ان کو انصاف مہیا کیا گیا ۔

تو یہ بات عیاں ہے کہ ہمارے اعمال اور افعال کے نتائج کا معاملہ ہر انفرادی معاملے کے حوالے سے ہی زیر ِ بحث آ سکتا ہے ۔ ہم ان اپنے نیک یا بد کاموں کے نتائج سے بہت زیادہ واقف نہیں ہوتے یا نہیں ہو سکتے ۔ اور یہ کہنے سے میری مراد یہ ہے کہ ہم اپنے نیک یا بد کاموں کے تمام نتائج کے علم کے حامل نہیں ۔ اور یہی وجہ ہے کہ قانون بھی بہت دور رس نتائج کی بنیاد پر جرم کا تعین نہیں کرتا ۔

اپنی بات کی طرف آتے ہیں ۔ کم از کم سیاسی فسلفے کے میدان میں ہمیں اس سوال کے دامن چھڑا لینا چاہیے ۔ یہ سوال ہی غلط ہے کیونکہ انسان، سوچ سمجھ کر نیک یا بد دونوں کام کر سکتا ہے ۔ اصل میں ہم جانتے ہیں کہ ہر آدمی ہر کام کر سکتا ہے، جسمانی معذوری ایک رکاوٹ ہو سکتی ہے، لیکن اسے بھی عبور کیا جا سکتا ہے ۔ مراد یہ کہ ہر آدمی میں نیک یا بد کام کرنے کی فکر، اور قدرت و استطاعت موجود ہوتی ہے ۔ اور وہ اپنے لیے کیا طے کرتا ہے اور معمولاً وہ کیا کرتا ہے یہی چیز اسے نیک یا بد بناتی ہے ۔ اور پھر جیسا کہ کہا جاتا ہے یہی معمول اس کی  عادت بن جاتے ہیں ۔ لیکن میرا اصرار یہ ہے کہ فطرت نہیں ۔ کیونکہ ہر انسان کے سامنے نیک یا بد بننے کا انتخاب ہر وقت موجود ہوتا ہے اور قدرت و استطاعت بھی ۔

اس بات سے جڑے ہوئے ایک اور معاملے پر کچھ کہنا ضروری ہے ۔ فرد کو کبھی باہر سے ایماندار نہیں بنایا جا سکتا ۔ ہاں، اسے انسیپیریشن دی جا سکتی ہے ۔ اس کی تعلیم کی جا سکتی ہے، وہ بھی اس کی مرضی سے ۔ اور مثال کے ذریعے اسے متاثر کیا جا سکتا ہے ۔ لیکن زور زبردستی کے ذریعے کبھی اسے نیک یا بد نہیں بنایا جا سکتا ۔ جینرل ضیا کے دور میں ایسا کرنے کی کوشش کی گئی اور ہم جانتے ہیں کہ اس کے بہت بھیانک نتائج سامنے آئے جو ہم آج بھی بھگت رہے ہیں ۔

بہر حال، انسان نیک ہے بد، اس سوال کے غلط ہونے کی طرف ایک بہت اہم جدید فلسفی (جدید ہونے کے ساتھ ساتھ وہ فلسفے کہ کلاسیکی روایت سے بھی وابستہ تھے) کارل پاپر نے توجہ دلائی ہے ۔

کارل پاپر نے قرار دیا کہ یہ سوال ہی غلط ہے کہ کسے حکمران ہونا چاہیے، یا یوں کہہ لیں کہ حکمرانی کا حق کس کے پاس ہونا چاہیے ۔ جیسا کہ افلا طون کا کہنا تھا کہ فلسفیوں کو حکمرانی کرنی چاہیے کیونکہ وہ سب سے زیادہ دانا اور عقلمند ہیں ۔ ظاہر ہے کہ اس بات کوبڑی آسانی سے مسترد کیا جا سکتا ہے کہ ضروری نہیں کہ صرف فلسفی ہی دانا اور عقلمند ہوں، معاشرے کے دوسرے افراد بھی دانا اور عقلمند ہو سکتے ہیں ۔

تھوڑا سا آگے چلتے ہیں ۔ کیونکہ ایک سوال ہی غلط اٹھا لیا گیا تھا، لہٰذا، اب اسی سوال پر بحث جاری رہی اور اسی کا جواب دینے کی کوشش ہوتی رہی ۔ کارل مارکس تک آتے آتے حکمرانی کا حق مزدوروں یا پرولتاریہ کے پاس آ چکا تھا ۔ اور بیسویں صدی کے اوائل میں روس میں برپا ہونے والے بالشویک انقلاب نے اس پر عمل بھی کر کے دکھا دیا ۔

قطع نظر اس بات سے کہ پرولتاریہ کی حکمرانی کے نتائج کیا نکلے، یا یہ تنقید بھی کی گئی کہ یہ اصلاً پرولتاریہ کی حکومت تھی ہی نہیں، بلکہ یہ تو کمیونسٹ پارٹی کی یا کمیونسٹ پارٹی کی بیورکریسی کی حکومت تھی، بہر حال اتنا ضرور ہوا کہ یہ مغالطہ کہ مزدوروں کو حکمرانی کا حق ہے رو بہ عمل آ کر اپنی اہمیت اور افادیت کھو بیٹھا ۔ اگرچہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ دلائل غلط قرار پا کر بھی کبھی فنا نہیں ہوتے، کیونکہ سوشلسٹ اور کمیونسٹ پارٹیاں آج بھی موجود ہیں اور پرولتاریہ کی حکمرانی کا پرچار کر رہی ہیں ۔

اس سے متعلق ایک اور مغالط بر صغیر میں بھی پیدا ہوا ۔ علامہ مشرقی نے حکمرانی کا یہ متنازعہ حق سائنسدانوں کو تفویض کیا ۔

خیر یہ بحث تو چلتی رہے گی، اوپر اس کی طرف اشارہ کرنے سے یہ واضح کرنا مقصود تھا کہ کسی فرد، یا کسی گروپ، یا کسی طبقے، یا کسی سیکشن، یا کسی اخلاقی قدر یا خوبی یا خصوصیت کے حامل فرد، یا گروہ، کو حکمرانی کا حق دینا ایک سیاسی مغالطے سے زیادہ کچھ نہیں ۔ مراد یہ کہ بظاہر یہ بات بہت درست معلوم ہوتی ہے لیکن حقیقتاً جب گہری نظر سے جانچا جائے تو غلط قرار پا جاتی ہے ۔

یہاں تھوڑا سا رجوع لارڈ ایکٹن سے لانا ضروری ہے ۔ ان کا ایک قول اکثر استعمال کیا جاتا ہے ۔ اس کے لفظ ملاحظہ کیجیے:

“All power tends to corrupt; absolute power corrupts absolutely.”

یہ تاریخ اور انسانیت کا سبق ہے ۔ سو آپ اِس کو یا اُس کو، کسی کو بھی حکمران بنا کر دیکھ لیں، نتیجہ اختیار کے ملتے ہی کرپشن کی صورت میں نکلے گا ۔ ہاں، مجھے اس بات سے انکار نہیں کہ مثتثنیات موجود ہوتی ہیں ۔ یقیناً ایماندار بلکہ بہت ایماندار فرد موجود ہوتے ہیں ۔ موجود ہیں ۔ حتٰی کہ پاکستانی معاشرے میں بھی موجود ہیں ۔

مگر یہ بہت پیچیدہ معاملہ ہے ۔ مثلاً اس بات کا تعین کیسے کیا جائے گا کہ کون ایماندار ہے اور کون نہیں ۔ پھر یہ کہ جو ایماندار ہے اس کی تلاش کیسے کی جائے گی ۔ اور پھر اس چیز کی ضمانت کیسے دی جائے گی کہ ایک ایماندار شخص جب اسے اختیار مل جائے گا وہ تب بھی ایماندار رہے گا ۔ جیسے کہ ایمانداری کے دعوے دار عمران خان کی مثال ہی لے لیں ۔ وہ خود بھی اکثر یہ کہتے پائے جاتے ہیں کہ دونوں بڑی پارٹیاں بدعنوان ہیں اور ان کی پارٹی ایماندار پارٹی ہے ۔ فرض کر لیتے ہیں جیسا کہ کہا جا رہا ہے وہ اور ان کی پارٹی ایماندار ہیں ۔ درست! لیکن جب انھیں سیاسی اقتدار مل جائے گا کیا وہ تب بھی ایماندار رہیں گے، اس بات کی ضمانت کیسے دی جا سکتی ہے یا کون دے گا ۔ (خالی خولی ضمانت دینے والے تو بہت آ جائیں گے ۔ اور اگر کوئی زر ِ ضمانت بھی ہوا تو وہ ضبط بھی کروا لیں گے، کیونکہ اس طرح کی ضمانت دینے کا کام ایک کاروبار بن جانے کا بہت امکان ہے ۔)

دلیل کی خاطر ایک بات کا اور جائزہ لیتے ہیں ۔ آئین میں ارکان ِ پارلیمینٹ کی اہلیت کی دفعات میں اسی طرح کی کچھ اخلاقی چیزیں داخل کر دی گئیں تھیں ۔ اب مسئلہ یہ درپیش ہوا کہ یہ کیسے طے کیا جائے کہ کون جھوٹا ہے کون سچا، کون ایماندار ہے کون ایماندار نہیں ۔ بالآخر سپریم کورٹ نے یہ قرار دیا کہ اگر جھوٹ اور بے ایمانی کے حوالے سے کسی کو عدالت کے ہاتھوں مجرم قرار دیا گیا ہے تو اسے جھوٹا اور بےایمان گرادانا جائے گا ۔

سو اب تو یہ ایک معیار بن گیا کہ کسے حکمران ہونا چاہیے ۔

لیکن اوپر جو ہم نے اتنی طویل بحث کی ہے انسان کے نیک یا بد ہونے کے بارے میں، کیا اس کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں ۔ صاف بات ہے کہ یہ ایک قانونی بات ہے کہ جسے عدالت نے جھوٹا اور بے ایمان قرار نہیں دیا وہ جھوٹا اور بے ایمان نہیں ۔ مگر یہ واضح رہے کہ یہ قانونی اور آئینی معاملات کے ضمن میں ہے ۔ اخلاق اور اخلاقیاتی میدان میں یہ سند کام نہیں دے گی، اور پاکستان میں تو بالکل نہیں جہاں اخلاقیات اپنی موت آپ مر چکی ہے، بلکہ قانون اور آئین اشرافیہ کے گھر کی لونڈیاں بنے ہوئے ہیں ۔

کارل پاپر کے مطابق جو سوال اہم ہے اور اٹھایا جانا چاہیے تھا وہ یہ ہے کہ حکمرانی کیسے کی جائے، یا یہ کہ ایک ایسا نظام کیسے وضع کیا جائے کہ اگر بد یا برا بھی حکمران بن جائے تو وہ بہت زیادہ نقصان نہ پہنچا سکے ۔ تو بات اصل میں ہے ایک ایسے آئینی اور قانونی نظام کی جو بد اور برے حکمرانوں کو نقصان پہنچانے کے زیادہ مواقع فراہم نہ کرے ۔ جیسا کہ اس وقت یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر حمید ڈوگر والا سپریم کورٹ موجود ہوتا تو کیا خبر کیا قیامت برپا ہوتی ۔

مزید یہ کہ ایک بہتر آئینی اور قانونی نظام بذات ِ خود کافی نہیں ۔ اس کے کارگر اور قابل ِ عمل ہونے کے لیے با شعور شہریوں کے ساتھ ساتھ آزاد میڈیا اور بیدار سول سوسائیٹی بھی درکار ہے ۔

بحث کو سمیٹتے ہوئے کہ کہا جا سکتا ہے کہ حکمرانی کسی کا سیاسی، معاشی، اخلاقی، اور روحانی حق نہیں ۔ سیاسی سے مراد ہے کہ کسی سیاسی جماعت کا، جیسا کہ پاکستان میں کچھ سیاسی جماعتیں یہ سمجھتی ہیں کہ حکمرانی ان کا حق ہے؛ معاشی سے مراد یہ ہے کہ معاشی طور پر پسے ہوئے کسی طبقے کا، جیسا کہ سوشلسٹ اور کمیونسٹ یہ سمجھتے ہیں کہ حکمرانی مزدورں یا پرولتاریہ یا ان کی نمائندہ کمیونسٹ پارٹی کا حق ہے؛ اخلاقی سے مراد یہ ہے کہ اخلاقی طور پر ایمانداری کے کسی دعوےدار فرد یا گروہ کا، جیسا کہ اس وقت عمران خان اور ان کی تحریک ِ انصاف کا دعویٰ ہے؛ اور، روحانی سے مراد یہ ہے کہ کسی روحانی حثیت کی بنا پر حکمرانی کا دعویٰ کرنا، جیسا کہ کچھ مذہبی و روحانی گروہ ایسا سمجھتے ہیں ۔ مزید یہ کہ حکمرانی کسی بھی اعتبار سے کسی کا حق نہیں ۔

یہ ایک آئینی اور قانونی حق ہے جو ایک آئین اور قانون سے اخذ ہوتا ہے ۔ اور اس حق کو جیتنے یا حاصل کرنے کے لیے اس آئینی اور قانونی کسوٹی پر پورا اترنا پڑتا ہے ۔ اس بات کو یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ حکمرانی کا حق اصل میں افراد سے مینڈیٹ سے اخذ ہوتا ہے ۔ کسی ملک کے شہری واضح طور پر آئین میں درج شرائط کے تحت کسی پارٹی کو یہ حق یا اختیار محدود عرصے کے لیے دیتے ہیں ۔ اور اس حق اور اختیار کو شہریوں کے اعتماد سے ہی جیتا اور حاصل کیا جا سکتا ہے ۔

عمران خان اور ان کی تحریک ِ انصاف کو حکمرانی کا پانچ برس کے لیے حکمرانی کا حق اور اختیار حاصل کرنے لیے ایمانداری کا ڈھنڈورا پیٹ کر شہریوں کو گمراہ کرنے کے بجائے پاکستان کے شہریوں کا اعتماد جیتنے اور حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔

Follow the Blogger on Twitter: http://twitter.com/khalilkf
Join the Blogger on Facebook: Khalilkf@gmail.com
Send comments, feedback: urdublog@asinstitute.org

اردو مونو بلاگ ـ کچھ نئی پوسٹس

October 19th, 2011

یو ٹیوب چینل، اردو مونو بلاگ ـ سب کا پاکستان، پر اب تک چار نئے مونولاگ پوسٹ ہو چکے ہیں ۔

ان کی تفصیل کچھ اس طرح ہے :

پہلا مونولاگ پاکستان میں جاری خانہ جنگی جیسے حالات کے بارے میں ہے اور اس کا ذمے دار سیاست دانوں کو قرار دیتا ہے، اور انھیں بالخصوص آنے والے انتخابات کے تناظر میں جانچنے کی کوشش کرتا ہے ۔ اور اس بات پر توجہ دلاتا ہے کہ انتخابات سیاست دانوں کو کٹہرے میں لا کھڑے کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں، اور یہ کہ ہمیں اس موقعے سے پورا فائدہ اٹھانے کے لیے تیار ہونا اور تیار رہنا چاہیے ۔ اور سیاست دانوں کی جوابدہی کرنی چاہیے ۔

http://www.youtube.com/watch?v=t7t_mnEzNKM

دوسرا مونو لاگ اصل میں جنوری 2010 میں چینل فائیو پر ہونے والی ایک گفتگو پر مشتمل ہے ۔ اس کا موضوع دہشت گردی کے خلاف جنگ اور اس سے متعلق پاکستان، افغانستان اور امریکہ کے معاملات ہیں، جیسے کہ افغانستان سے امریکہ کی واپسی، اس کے نتائج و مضمرات، اور ایسے ہی معاملات ۔

http://www.youtube.com/watch?v=yiXLUHLiu_I

تیسرا مونولاگ اس مسئلے پر توجہ دیتا ہے کہ ہماری وابستگی ’’اصولوں‘‘ سے ہونی چاہیے، یا کسی شخصیت یا پارٹی سے ۔ مراد یہ کہ اگر ہماری وابستگی کسی سیاسی شخصیت سے ہے یا کسی سیاسی جماعت سے ہے، تو ہم اس کی ہر بات، غلط یا صحیح، کا جواز گھٹرنے کی کوشش کرتے ہیں، یا ان کی ہر ’غلط صحیح‘ بات کا دفاع کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اور فی الوقت پورے پاکستان میں یہی صورت ِ حال ہے ۔ جبکہ اگر ہماری وابستگی کسی اصول سے ہو تو ہم ہر سیاسی شخصیت یا پارٹی کی پالیسی یا اقدام کو اس اصول کی کسوٹی پر جانچیں گے، اور گمراہ نہیں ہوں گے ۔ بلکہ اسے بھی بڑھ کر یہ مونولاگ اس بات کی وکالت کرتا ہے کہ ہماری وابستگی سچائی کے ساتھ ہونی چاہیے، اور ہمیں کسی بھی حالت میں سچائی کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے ۔ اسی میں ہمارے ملک اور قوم کی نجات ہے ۔ جھوٹ پر کبھی کوئی قوم اور ملک استوار نہیں ہوئی ۔

http://www.youtube.com/watch?v=Oj0g91dAV2k

چوتھا مونولاگ ایک ایسے مسئلے کو موضوع ِ بحث بناتا ہے جس پر میڈیا اور سرکاری حلقوں میں کوئی سنجیدہ توجہ نہیں دی جاتی ۔ چھوٹے چھوٹے ٹریفک حادثات، جو ہماری نظروں کے سامنے اکثر واقع ہوتے رہتے ہیں، بہت اہمیت رکھتے ہیں، کیونکہ ان حادثات کا نشانہ بننے والے افراد کس اذیت اور نتائج کا شکار بنتے ہیں ہمیں اس کا اندازہ صرف اس وقت ہوتا ہے جب ہم خود کسی ایسے حادثے کا شکار ہوتے ہیں ۔ وجہ کیا ہے؟ ٹریفک کے قوانین تو موجود ہیں لیکن ان پر عمل نہیں کروایا جاتا ۔ یہ ایک عجیب معمہ ہے سمجنھے کا نہ سمجھانے کا کہ قوانین موجود ہیں، ٹریفک پولیس موجود ہے، لیکن ان پر عمل نہیں کروایا جا رہا ۔ پھر یہ ڈرائیونگ لائیسینس جتنی آسانی سے بن جاتا ہے اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ہمارے یہاں انسانی جان کو کسی قدروقیمت کا حامل نہیں سمجھا جاتا ۔

یہ مونولاگ تجویز کرتا ہے کہ ڈرائیونگ لائیسینس کی عمر 18 کے بجائے 21 سال کی جائے ۔ ٹریفک قوانین پر سختی سے عمل کروایا جائے ۔ بلکہ یہ مونولاگ اس مسئلے کو آنے والے انتخابات میں ایک انتخابی ایشو بنانے کی تجویز بھی دیتا ہے، تا کہ منتخب نمائندوں کو اس مسئلے کی سنگینی اور سنجیدگی کا احساس دلوایا جائے ۔ اور انھیں اس حوالے سے جوابدہ بنایا جائے ۔

http://www.youtube.com/watch?v=l4QKr6qtpOQ

Follow the Blogger on Twitter: http://twitter.com/khalilkf
Join the Blogger on Facebook: Khalilkf@gmail.com
Send comments, feedback: urdublog@asinstitute.org

پاکستان، اخلاقیات کا قبرستان کیسے بنا؟

October 9th, 2011

تاریخ میں جانا ضروری نہیں ۔ یہاں بس کچھ اہم چیزوں کی طرف اشارہ کرنا کافی ہو گا ۔

اول تو یہ کہ کسی کو شوق نہیں ہوتا کہ وہ اخلاقی اصولوں اور اقدار کو پامال کرے ۔ لیکن اسی طرح کسی میں یہ حوصلہ اور جرأت بھی نہیں ہوتی کہ وہ عام چلن کے برخلاف ان کی پابندی اور پاسداری کرے ۔

اس بات کو یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ اگر ایک معاشرے، ماحول میں پہلے سے اخلاقی اصولوں اور اقدار کو پامال کیا جا رہا ہے تو اکثریت بھی ایسا ہی کرنے لگے گی ۔ یعنی انھیں اس کا کوئی شوق نہیں تھا کہ وہ ایسا کریں، لیکن چونکہ اس معاشرے کے افراد کی ایک ’’معتد بہ تعداد‘‘ ایسا ہی کر رہی تھی، لہٰذا، اکثریت نے بھی ایسا ہی کرنا شروع کر دیا ۔

دوسری بات یہ کہ اس اکثریت میں اتنا حوصلہ اور جرأت نہیں تھی یا نہیں ہوتی کہ وہ تندی ِ بادِ مخالف کا مقابلہ کرے، اور اخلاقی اصولوں اور اقدار کی پابندی اور پاسداری کرے ۔ ہاں، چند ایک سرپھرے ہوتے ہیں، ہو سکتے ہیں، جو یہ روگ پالے رہتے ہیں ۔

مگر یہ بات بھی واضح ہے کہ اکثریت ایسی نہیں ہوتی ۔ اور غالباً اس سے ایسی توقع بجا بھی نہیں ۔

مگر یہ اکثریت ایسی کیوں نہیں ہوتی، اور اس سے ایسی توقع بجا کیوں نہیں؟

بات یہ ہے کہ بالعموم یہ اکثریت ’’پیروکار‘‘ نوعیت کی ہوتی ہے ۔

انھیں ’’پیروکار‘‘ نوعیت کا نہیں ہونا چاہیے، یہ میری قوی رائے ہے ۔

لیکن حقیقت یہی ہے کہ اکثریت کو ’’مثالیں،‘‘ ’’نمونے،‘‘ اور ’’رول ماڈیل‘‘ درکار ہوتے ہیں ۔ کیوں؟ اس لیے کہ یہ خود ’’مثال،‘‘ ’’نمونہ،‘‘ اور ’’رول ماڈیل‘‘ نہیں بننا چاہتے، ڈرتے ہیں ۔

’’مثال،‘‘ ’’نمونہ،‘‘ اور ’’رول ماڈیل‘‘ بننے کے لیے جو قربانی دینی پڑتی ہے، جو قیمت ادا کرنی پڑتی ہے، یہ وہ قربانی نہیں دینا چاہتے، وہ قیمت ادا نہیں کرنا چاہتے ۔

یہ بات نہیں کہ یہ ایس نہیں کر سکتے ۔ یہ ایسا کر سکتے ہیں ۔ لیکن ڈرتے ہیں ۔ جیسا کہ ظاہر ہے کہ اس میں محنت زیادہ لگتی ہے ۔

اور غالباً اسی وجہ سے، اور اپنی اسی کمزوری کو چھپانے کے لیے، یہ خود کو یہ باور کروا لیتے ہیں کہ ہم معمولی لوگ ہیں، ہم مثال، نمونہ، اور رول ماڈیل نہیں بن سکتے ۔ غیرمعمولی نہیں بن سکتے ۔

سو، یہ لوگ، یہ اکثریت، خود سے باہر مثالیں، نمونے، اور رول ماڈیل تلاش کرتی ہے ۔ اور ان کی پیروکار بن جاتی ہے ۔ ان کے تصور اور ایمیج کے اندر پناہ ڈھونڈ لیتی ہے ۔ ڈرے ہوئے لوگ!

اب اس بات کی طرف آتے ہیں کہ وہ معاشرہ، ماحول کیسے بنتا ہے جس میں یہ اکثریت اسی سمت بہتی رہتی ہے جدھر یہ معاشرہ، ماحول بہ رہا ہو ۔

یہاں مجھے کچھ اسی طرح کی ایک بات یاد آتی ہے جو کافی عرصہ پہلے اسی تناظر میں لکھی تھی: معاشرہ بنانے والے لوگ اب کہاں؛ ہاں، وہ لوگ ہیں جنھیں معاشرے نے بنایا ہے ۔

اصل میں یہ مثالیں، نمونے اور رول ماڈیل ہی ہوتے ہیں جو معاشرہ، ماحول بناتے ہیں ۔اور اکثریت انھیں مثالوں، نمونوں اور رول ماڈیلوں کی پیروی کرتی رہتی ہے ۔

تو، پاکستان کے معاشرے، ماحول میں کیسی مثالیں، نمونے اور رول ماڈیل پائے جاتے ہیں، آئیے اس پر ایک نظر ڈالتے ہیں ۔

سیاست، حکومت، عدل، مذہب، فوج، پولیس، کاروبار، علم، تعلیم، درس گاہیں، اخبار، میڈیا، فلم، زندگی کے ہر شعبے، ہر ادارے میں لیڈر، رہنما، ممتاز شخصیات، سرکردہ افراد موجود ہیں ۔ یہ پاکستان کے معاشرے، ماحول کے لیے مثالیں، نمونے، اور رول ماڈیل ہیں ۔

یہ مثالیں، نمونے، اور رول ماڈیل، کیا ہیں، اور کیسے ہیں، آپ بھی، میں بھی، ہم سب اچھی طرح جانتے ہیں ۔

پاکستان میں اخلاقیات کی جڑیں، انھیں مثالوں، نمونوں اور رول ماڈیلوں نے کاٹی ہیں ۔ انھوں نے اخلاقی اصولوں اور اقدار کو بڑی بے دردی سے پامال کیا ہے ۔

تو، باقی اکثریت نے انھیں مثالوں، نمونوں، اور رول ماڈیلوں کی پیروی کی، اور کر رہی ہے ۔

یوں سمجھ لیں کہ پاکستان میں مثالوں، نمونوں، اور رول ماڈیلوں کی اقلیت نے اخلاقیات کا جنازہ نکال دیا، اور جب اکثریت ان کے نقش ِ قدم پر چلنے لگی، تو پاکستان، اخلاقیات کا قبرستان بن گیا ۔

ایک بات اور ۔ اور یہ بھی مذکورہ بالا نظریے کو تقویت پہنچاتی ہے ۔ یہ لائینیں، مجھے تو یہی یاد پڑتا ہے کہ فاطمہ جناح سے منسوب بہت عرصہ پہلے میں نے کہیں پڑھی تھیں:

Corruption is just like snow
It falls on the cliffs of the hills
And melts down below

مطلب یہ کہ کرپشن، بد عنوانی برف کی طرح ہے ۔ یہ پہاڑوں کی چوٹیوں پر گرتی ہے، اور وہاں سے نیچے کی طرف بہ آتی ہے ۔

اخلاقی اصولوں اور اقدار سے انحراف اور ان کی پامالی کا عمل بھی اسی طرح ہے ۔ یہ اوپر سے شروع ہوتا ہے، اور نیچے اور اطراف کی طرف بہ آتا ہے ۔ یہ سرطان، سر سے شروع ہو کر سارے جسم میں پھیلتا ہے ۔

دوسری اہم بات ۔ یہ ’’اوپر‘‘ یا ’’پہاڑ کی چوٹی‘‘ کیا ہے، جہاں برف گرتی ہے اور پھر نیچے اور اطراف کو بہ نکلتی ہے ۔

یہ ’’اوپر‘‘ اور ’’پہاڑ کی چوٹی‘‘ وہی مثالیں، نمونے، اور رول ماڈیل ہیں، اکثریت جن کی پیروی کرتی ہے ۔

درست، مگر ان مثالوں، نمونوں، اور رول ماڈیلوں میں ’’سر‘‘ کون ہے ۔ یعنی اس ’’اوپر‘‘ اور ’’پہاڑ کی چوٹی‘‘ میں سے ’’اوپر‘‘ اور ’’پہاڑ کی چوٹی‘‘ کون ہے ۔

مراد یہ کہ جو مثالیں، نمونے، اور رول ماڈیل جو اوپر گنوائے گئے ہیں، یعنی سیاست، حکومت، عدل، مذہب، فوج، پولیس، کاروبار، علم، تعلیم، درس گاہیں، اخبار، میڈیا، فلم ـ یعنی پاکستان میں زندگی کے ہر شعبے، ہر ادارے میں سے ’’پہاڑ کی چوٹی‘‘ کون ہے، وہ ’’سر‘‘ کون ہے جہاں سے سرطان نیچے کی طرف پھیلا ہے، اور پھیلے چلا جا رہا ہے ۔

یہ سوال کوئی بہت زیادہ پیچیدہ نہیں، لیکن اہم بہت ہے ۔ ہمیں اس پر متوجہ ہونا، اور متوجہ رہنا چاہیے ۔

اس سوال کا جواب کسی معاشرے، ماحول کی نوعیت پر منحصر ہے ۔ یعنی کسی معاشرے، ماحول میں زندگی کے مختلف شعبوں اور اداروں کا ترکیبی بندوبست کس طرح کا ہے ۔ کونسا شعبہ یا/اور ادارہ باقی شعبوں یا/اور اداروں پر حاوی ہے ۔ یا ہر شعبہ یا/اور ادارہ اپنے اپنے دائرے میں آزاد اور خود مختار ہے ۔

اگر کسی معاشرے، ماحول میں شعبے اور ادارے اپنے اپنے دائرے میں آزاد اور خود مختار ہیں تو اس کی ترکیبی نوعیت، آئین پسندانہ، جمہوری، اور قوانین و ضوابط کی عملداری پر مبنی ہو گی ۔ یہ پاکستان کی مثال قطعاً نہیں ۔

اور اگر کسی معاشرے، ماحول میں کوئی ایک شعبہ یا/اور ادارہ، دوسرے شعبوں یا/اور اداروں پر حاوی ہے، تو اس کی ترکیبی نوعیت، آئین دشمن، غیر جمہوری یعنی اتھاریٹیرین (حاکمانہ، شاہانہ، اور آمرانہ) ہو گی ۔ اس صورت میں یہاں اس اضافے کی ضرورت نہیں کہ اس کی نوعیت، قوانین و ضوابط کی تضحیک پر مبنی ہو گی، کیونکہ حاکمانہ، شاہانہ، اور آمرانہ کا مطلب یہی ہے ۔ یہ پاکستان کی مثال نہیں ۔ بلکہ پاکستان اس کی مثال ہے ۔

یہاں لمبی بحث میں جائے بغیر میں یہ واضح کرنا چاہوں گا کہ پاکستانی معاشرے، ماحول کی ترکیبی نوعیت میں ’’سیاست‘‘ باقی تمام شعبوں اور اداروں پر حاوی ہے ۔

چونکہ پاکستان کے قریب قریب سو فیصد دانشور، تجزیہ کار، کالم نگار، وغیرہ، اور اسی طرح خود سارے سیاستدان یہ سمجھتے ہیں، اور بہت عرصے سے یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ پاکستان میں ’’فوج‘‘ تمام شعبوں اور اداروں پر حاوی و غالب ہے، لہٰذا، یہاں اس بات کا دفعیہ کرنا ضروری ہے ۔

اول تو یہ کہ سیاستدان اگر یہ کہتے ہیں کہ فوج تمام شعبوں اور اداروں پر حاوی ہے تو ان کی بات سمجھ میں آتی ہے، کیونکہ یہ اپنے تئیں یہ سمجھتے ہیں کہ فوج ان پر حاوی ہے ۔ مگر پاکستان کے باقی تمام دانشور، تجزیہ کار، کالم نگار، خواہ وہ دائیں بازو سے تعلق رکھتے ہیں یا اس سے منسلک ہیں، یا بائیں بازو سے، اگر یہ بہ اصرار ایسا سمجھے جا رہے ہیں تو یہ بات غور طلب بن جاتی ہے ۔

غور طلب اس لیے کہ وہ اصل مجرم کی نشاندہی سے قاصر کیوں ہیں ۔ یا یہ کہ سیاستدانوں نے ایک ’’لائن‘‘ دے دی، اور وہ اس لائن کی لکیر کے فقیر بن کر رہ گئے ہیں ۔

لیکن اس معاملے کو اس طرح بیان نہیں کرنا چاہیے ۔ یقیناً سیاستدانوں نے ’’لائن‘‘ دی ہو گی ۔ انھوں نے انھیں اور اپنے ووٹروں کو گمراہ کرنے کے لیے ایک نظریہ، ایک شوشہ چھوڑا ہو گا ۔ یہ ان کا کام ہے ۔ جناب صدر زرداری نے شروع سے اب تک کتنے شوشے چھوڑے ہیں اور بے چارے دانشوروں، تجزیہ کاروں، کالم نگاروں کو کتنا مصروف رکھا ہے ۔

خیر، چلیں چند دانشوروں نے سیاستدانوں کی دی گئی لائن کو دل سے لگا لیا ہو گا ۔ لیکن ہمیں باقی دانشوروں کو اسی ایک باسکٹ میں نہیں ڈال دینا چاہیے ۔ یہ ناانصافی ہو گی ۔

چلیں یہ مان لیتے ہیں، یہ دانشور، یہ سارے دانشور، بزعم ِ خود یہ سمجھتے ہیں کہ فوج وہ ادارہ ہے جو باقی تمام شعبوں اور اداروں پر حاوی ہے ۔

یہ دانشور اپنے اس نظریے کے حق میں یہ دلائل و شواہد پیش کرتے ہیں:

فوج نے مارشل لا لگائے ۔ فوج نے سیاست میں مداخلت کی ۔ فوج نے سیاستدان پیدا کیے اور مارے ۔ فوج نے ریاستی اور حکومتی معاملات میں مسلسل اور مستقلاً ’’گھس بیٹھیا پن‘‘ کیا ۔ فوج نے خارجہ پالیسی پر قبضہ کیا ۔ فوج نے دفاعی پالیسی پر قبضہ کیا ۔

درست، یہ ساری باتیں حقائق پر مبنی ہیں ۔ دانشوروں کو سلام!

لیکن کیا یہ کہنا بھی درست نہیں ہو گا کہ حقائق خود کوئی سمت، کوئی معنی نہیں رکھتے ۔ انھیں سمت ہم دیتے ہیں، انھیں معنی ہم دیتے ہیں ۔ مگر اپنی مرضی اور پسند سے نہیں، بلکہ قوانین اور ضوابط کے ایک نظام کے تحت ۔

یہاں میں بہت زور دے کر یہ بات کہنا چاہوں گا کہ ہم حقائق کو کسی ’’نظام ِ فکر‘‘ کے تحت سمت اور معنی نہیں دیتے ۔ ایسا کرنا بد نیتی اور بد دیانتی ہے ۔ اس پر بات پھر کبھی ہو گی ۔

تو، پاکستان کا قوانین اور ضوابط کا نظام کیا ہے؟ یہ اس کا آئین ہے ۔ ہمیں اسے سامنے رکھ کر حقائق کو سمت اور معنی دینے ہیں ۔

آپ کہیں گے کہ پاکستان بننے کے بعد پچیس چھبیس برس تک تو کوئی آئین تھا ہی نہیں ۔ بلکہ اس دوران آئین بنانے اور توڑنے کا ایک تماشا لگا ہوا تھا ۔ تو جب کوئی آئین تھا ہی نہیں، تو پھر حقائق کو سمت اور معنی کیسے دئیے جائیں گے ۔

تسلیم، یہ آئین بنانا کس کا کام تھا ۔ کیا یہ آئین بنانا فوج کا کام تھا ۔ آئین بنانا بھی تو سیاستدانوں کی ذمے داری تھی ۔ پاکستان انھوں نے بنایا تھا ۔ پاکستان، فوج نے تو نہیں بنایا تھا ۔ سو، آئین بھی انھی سیاستدانوں کو بنانا چاہیے تھا ۔

چلیں، 73 کے بعد سے تو جیسا تیسا آئین موجود ہے ۔ حقائق کو اس کی مدد سے سمت اور معنی دیجیے ۔

کیا 73 کے آئین کے مطابق:

ـ فوج کا کام مارشل لا لگانا ہے
ـ فوج کا کام سیاست میں مداخلت کرنا ہے
ـ فوج کا کام سیاستدان پیدا کرنا اور مارنا ہے
ـ فوج کا کام ریاستی اور حکومتی معاملات میں مسلسل اور مستقلاً ’’گھس بیٹھیا پن‘‘ کرنا ہے
ـ کیا خارجہ پالیسی بنانا فوج کا کام ہے
ـ کیا دفاعی پالیسی بنانا فوج کا کام ہے

آئین کی تھوڑی سے شد بد رکھنے والا بھی ان تمام باتوں سے انکار کرے گا ۔

تو، یہ سارے دانشور یہ اصرار کیوں کرتے ہیں کہ یہ سارے کام فوج کی ’’ذمے داری‘‘ تھے ۔ مراد یہ کہ یہ سارے کام فوج نے کیے ۔

ان دانشوروں کو اس سوال کا جواب دینا چاہیے، اور یہ ضروری ہے، کہ فوج کو ان تمام کاموں سے روکنا کس کی ذمے داری تھی ۔

میں پورے ہوش و حواس کے ساتھ یہ سمجھتا ہوں کہ 73 کے آئین کی رو سے فوج کو ان تمام کاموں سے روکنا سیاستدانوں کی ذمے داری تھی، اور ہے ۔

ایک اور ’’مجرم‘‘ کا نام لیا جاتا ہے ۔ اور یہ آئینی اور قانونی اعتبار سے مجرم ہے بھی ۔ یہ ہے عدلیہ ۔ ہاں، اس نے فوج کو جواز مہیا کیے ۔ اس کا آئینی اور قانونی احتساب ہونا چاہیے، اور ہونا چاہیے تھا ۔ لیکن یہ احتساب کس نے کرنا تھا، عدلیہ کو قانون کے شکنجے میں کس نے لانا تھا ۔ سیدھا سا جواب ہے کہ سیاستدانوں نے ۔

تو کیا سیاستدانوں نے ایسا کیا ۔ آپ کے سامنے ہے ۔ ایسا کرنا تو درکنار، انھیں تو خود ’’جیبی عدلیہ‘‘ درکار تھی جو ان کے غیرآئینی اور غیرقانونی کاموں میں رکاوٹ نہ بنے ۔ ڈوگر کورٹ کس کی پسند تھا ۔

اور اگر عدلیہ نے کچھ غیرت اور جرأت دکھا دی تو سیاستدانوں نے اس کے ساتھ کیا کیا ۔ مارچ 2007 کے بعد سے معذول ججوں کی بحالی تک سیاسی جماعتوں کا کیا کردار رہا ۔ سوائے مسلم لیگ (ن) کے، جس نے عدلیہ کی بحالی کی تحریک کا ساتھ دیا ۔

آپ کوئی دلیل تراش لیں، کوئی شہادت کھڑی کر لیں، اصل اور حقیقی مجرم، سیاستدان ہیں ۔ اس کی مزید تفصیل کے لیے دیکھیے:

پاکستان کے مجرم: http://www.hum-azad.org/blog/?p=169

ذمے داری کا تانا بانا: http://www.hum-azad.org/blog/?p=190

تو اب پھر واپس آتے ہیں اپنی اس بات کی طرف کہ پاکستان کے تمام ’’سروں‘‘ اور ’’چوٹیوں‘‘ میں سے حاوی اور غالب، شعبہ یا ادارہ کونسا ہے ۔ جیسا کہ اوپر واضح ہوا، یہ سیاست ہے ۔ یعنی وہ مثال، نمونہ، اور رول ماڈیل سیاستدان ہیں، پاکستان کی اکثریت نے جن کی پیروی کی ۔

سیاستدان وہ ’’سر‘‘ ہیں جہاں سے اخلاقیات کی پامالی اور قتل کا سرطان نیچے اور اطراف تک پھیلا اور پھیل رہا ہے ۔ نیچے سے مراد اکثریت ہے جس نے سیاستدانوں کو ایک مثال، نمونہ، اور رول ماڈیل سمجھا اور ان کی پیروی کی ۔

اور اطراف سے مراد دوسرے شعبے اور ادارے ہیں جہاں تک اس سرطان کی جڑیں پھیلیں اور پھیل رہی ہیں ۔

یہاں ایک بات واضح کر لیجیے ۔ سیاستدانوں کو یا کسی کو بھی، ایک مثال، نمونہ، اور رول ماڈیل بنا کر، یا سمجھ کر اس کی پیروی کرنا اور اس جیسا ہونے کی کوشش کرنا، مکمل طور پر کوئی دانستہ اور سوچا سمجھا عمل نہیں ۔ یہ زیادہ تر غیر شعوری طور پر وقوع پذیر ہوتا ہے ۔ اور مجبوراً بھی ۔ اکثریت کے لیے یہی بات درست ہے ۔

اگر آپ کو خود کو اکثریت میں شمار نہیں کرتے تو سوچیے کہ آپ نے کیا کیا ۔

یہ تو ہوا ایک پہلو اس بات کا کہ زندگی کے ہرشعبے اور ہر ادارے پر سیاست، حاوی ہے ۔ اور یہیں سے برف نیچے کی طرف بہی ۔

اس بات کا ایک پہلو اور بھی ہے: یہ کہ سیاست، زندگی کے عوامی (پبلک) اور نجی (پرائیویٹ) شعبوں پر نہ صرف حاوی ہے، بلکہ اتنی دخیل ہے کہ اس نے ہر شعبے اور ہر ادارے کا تانا بانا بکھیر کر رکھ دیا ہے ۔ اس کی آزاد اور خود مختارانہ حیثیت کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا ہے ۔ یہی نہیں، بلکہ سیاست نے ہر شعبہ ہائے زندگی اور ہر ادارے کو سیاست کا اکھاڑہ بنا کر اس کی مٹی پلید کر دی ہے ۔

اور یہ چیز جناب صدر صاحب میں ’’روح ِ عصر‘‘ کی صورت میں تجسیم پا گئی ہے ۔

سیاست کے ہاتھوں ہر چیز کی تباہی کی مثالیں اور مظاہرے ہمارے سامنے بکھرے پڑے ہیں ۔ کیا کچھ دہرایا جائے ۔ ہاں، ایک بات بہت ’’فصیح و بلیغ‘‘ یاد آ رہی ہے ۔

ایک واقعہ بہت پریشان کرتا ہے ۔ اس میں مضحکہ خیزی بھی ہے ۔ یہ المناک بھی ہے ۔ عبرتناک بھی ہے ۔ خوفناک بھی ہے ۔ قاتل بھی ۔ اور اس پر ہنسی بھی آتی ہے ۔

جب میں کلر سیداں (تحصیل کہوٹہ، ضلع راولپنڈی) میں ایک کالج سے وابستہ تھا تو وہاں نیشنل سیونگ سینڑ کے انچارج لیاقت صاحب تھے ۔ ان سے بھی ملنا جلنا تھا ۔ ایک دن انھوں نے انتہائی استہزائیہ انداز میں بتایا کہ آج بڑی عجیب و غریب بات ہوئی ۔

ایک آدمی سینڑ میں آیا ۔ وہ اکاؤنٹ کھلوانا چاہتا تھا ۔ اس نے بتایا کہ وہ ایک پرائمری سکول میں ٹیچر ہے ۔ میں نے اپنے ایک کولیگ سے کہا اس کا فارم تیار کر دو ۔ اس نے فارم بھر کر مجھے دے دیا ۔ میں نے دستخط کے لیے فارم اس آدمی کے سامنے رکھا ۔ وہ کہنے لگا: میں دستخط نہیں کر سکتا، انگوٹھا لگوا لیں ۔

لیاقت صاحب نے اس سے پوچھا کہ وہ تو ٹیچر ہے ۔ وہ چپ کر گیا ۔ مزید پوچھنے پر اس نے بتایا کہ وہ پڑھا لکھا بالکل نہیں ۔ اس کا کہنا تھا کہ اسے ایک ایم پی اے نے بھرتی کروا دیا تھا ۔ اسے نوکری چاہیے تھی ۔

یہ بالکل ہو سکتا تھا کہ اسے کسی ایم پی اے کے بجائے، جیسے کہ کسی بیوروکریٹ نے بھرتی کروایا ہوتا ۔ لیکن، بہر صورت، اس انحطاط اور اس انحطاط کے تدارک کی ذمے داری سیاستدانوں کے علاوہ کسی اور کے کاندھوں پر نہیں ڈالی جا سکتی ۔

اب، اتنی گفتگو کے بعد اگر یہ کہا جائے کہ یہ سارا کیا دھرا سیاستدانوں کا ہے تو اس میں اتنی اچنبھے کی بات نہیں ہونی چاہیے ۔ پاکستان کو اخلاقیات کا قبرستان ان سیاستدانوں نے بنایا ہے ۔ یہی وہ مثال، نمونے، اور رول ماڈیل ہیں جنھوں نے اکثریت سے اخلاقی اصولوں اور اقدار کی پامالی کروائی ۔

ان سے پوچھنا ہو گا ۔ انھیں جوابدہ بنانا ہو گا۔ ان سے حساب لینا ہو گا ۔ ان کا حساب لینا ہو گا ۔

انتخابات آنے والے ہیں ۔ ان کے لیے کٹہرے تیار کیجیے ۔ ان کے اعمال کا کچا چٹھا کھولیے ۔ ان پر جرح کیجیے ۔ انھیں ان کے جرائم گنوائیے ۔ ان کی جیبیں کھنگالیے ۔ ان کے ذہن اور دماغ جھنجھوڑئیے ۔ وہاں بھرا ہوا جھوٹ باہر نکالیے ۔

ان سیاستدانوں کی جوابدہی کیجیے ۔ ایسی جوابدہی جسے یہ کبھی بھول نہ پائیں ۔ اور جب یہ آپ کے ووٹ لے کر اسیمبلیوں میں جائیں، اور حکومت میں جائیں، تو یہ آپ کو بھول نہ پائیں ۔ آئین، قانون اور اخلاقیات کو بھول نہ پائیں ۔

ان کی ایسی جوابدہی کیجیے جو ایک مثال اور نمونہ بن جائے ۔ اور یہ آئین، قانون اور اخلاقیات سے ذرہ بھر انحراف نہ کر پائیں ۔

انتخابات آ رہے ہیں ۔ سیاستدانوں کے لیے کٹہرے تیار کیجیے!

Follow the Blogger on Twitter: http://twitter.com/khalilkf
Join the Blogger on Facebook: Khalilkf@gmail.com
Send comments, feedback: urdublog@asinstitute.org

پاکستان نے مجھے کیا دیا؟

October 8th, 2011

آپ کو یہ سوال کچھ عجیب سا لگے گا ۔ یہ سوال اٹھانے والا کچھ ’’خود پسند‘‘ محسوس ہو گا ۔ لیکن یقین کیجیے، یہ سوال بہت اہم ہے ۔ اس سوال کو اٹھانا بہت اہم، اور اس سوال کا جواب لینا، بنانا، ڈھونڈنا بہت اہم ہے ۔

اصل میں ابتداً تو ریڈیو پاکستان، پی ٹی وی، اور اردو اخبارات، بالخصوص نوائے وقت مائنڈ سیٹ، نے ایک ایسا جال بُنے رکھا، کہ کسی عام پاکستانی شہری کو یہ سوال اٹھانے کی سوجھی ہی نہیں ۔ وہ بے چارے اسی بوجھ تلے دبے رہے کہ وہ پاکستان کو کیا دے رہے ہیں ۔ وہ بے چارے حُب الوطن بھی ہیں یا نہیں ۔ حُب الوطنی کے تقاضے پورے کرنے کے قابل بھی ہیں یا نہیں ۔

یہ سوال اٹھانا انھیں یاد ہی نہیں رہا ۔ وہ بے چارے انڈیا مخالف گھڑی گئی ’’حب الوطنی‘‘ کے معیار تک بلند ہونے میں ختم ہو گئے ۔ پھر امریکہ دشمنی بھی حب الوطنی کا عنصر بن گئی ۔ دو قومی نظریہ، اور نظریہء پاکستان تو پہلے ہی اس کے لازمی عناصر قرار پا چکے تھے ۔ آہستہ آہستہ فوج کی غیر مشروط حمایت بھی حب الوطنی کا ایک اہم عنصر ٹھہری ۔ یہ ایسے بوجھ تھے جو دماغ کو ماؤف کر گئے ۔

یہ تو کچھ فکری اور سیاست سے متعلق بات رہی ۔ مگر یہ بے چارے عام شہری حب الوطنی کے گٹھڑ سر پر اٹھائے، ہر طرح کے ٹیکس بھی ادا کرتے رہے ۔ یہ حکمران طبقوں، اشرافیہ، اور خواص کے حصے کے ٹیکس بھی ادا کرتے رہے ۔

پر یہ خود کبھی کسی ٹیکس چھوٹ سکیم سے فائدہ نہ اٹھا سکے ۔ ان کے لیے کوئی سکیم بنی ہی نہیں ۔ اور ان پر ٹیکسوں کا بوجھ ہمیشہ بڑھتا ہی رہا ۔ یہ پاکستان کو بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ پاکستان کے حکمران طبقات، اشرافیہ اور خواص کو دینے میں ہی لگے رہے ۔ یہ پاکستان انھیں کیا دے سکتا تھا ۔ جان و مال اور عزت و وقار کا تحفظ بھی نہ دے سکا ۔

میں بھی انھیں عام پاکستانی شہریوں میں شامل ہوں ۔ اور ہم سب ساٹھ چونسٹھ سال سے اس طرح کے بہت سے بوجھوں کے لادو جانور بنے رہے ہیں ۔ اب بھی بنے ہوئے ہیں ۔

پاکستان نے مجھے کیا دیا، پہلی دفعہ مجھے اس سوال نے تب بہت پریشان کیا جب میں نے کالج جانا شروع کیا ۔ سکول کے وقت اس لیے نہیں کہ ہم سکول بہت خوشی سے پیدل جایا کرتے تھے ۔ میں اب بھی پیدل چلنا پسند کرتا ہوں ۔ (ہمیں اس پیدل چلنے کے کلچر کا احیا کرنا چاہیے!)

ہوا یہ کہ سکول گھر سے بہت قریب تو نہیں، پھر بھی قریب تھا (ہمیں اپنے بچوں کو قریبی سکولوں میں بھیجنا چاہیے، تا کہ انھیں سفر کی مشقت سے نجات ملے اور وہ پیدل چلنے کا لطف اٹھائیں اور تروتازہ بھی رہیں!) ۔ جبکہ کالج خاصا دور تھا (پھر بھی میں کبھی بہ امر ِ مجبوری اور کبھی اپنی مرضی سے پیدل بھی آ جایا کرتا تھا) ۔ اور پبلک ٹرانسپورٹ کا اس وقت بھی وہی حال تھا جو نئی فلم کے پہلے شو پر سینیما ہال کا ہوتا تھا ۔ تب فلمیں اور سینیما ہال سماجی زندگی کا بھر پور حصہ تھے ۔

کالج جانا اور پھر گھر واپس آنا ایک ایسا بوجھ محسوس ہوتا تھا جو اٹھائے نہ اٹھتا تھا ۔ میں سوچتا تھا کسی ایک جگہ قائم ہو جاؤں ـ کالج یا گھر ـ مگر یہ ممکن نہ تھا ۔

خیال آتا تھا کہ کیا عام شہریوں کو پبلک ٹرانسپورٹ مہیا کرنا حکومت کے لیے کسی بہت بڑے کار ہائے نمایاں کے برابر ہے ۔

جو حکومت، جو ملک اپنے شہریوں کے لیے اتنا سا کام نہیں کر سکتا، اسے کیا کہا جائے، اسے کیا نام دیا جائے ۔

آپ کہیں گے یہ حکومت اور ملک، برابر کیسے ہو گئے ۔ بھئی آپ اور میں تو مُلک نہیں ۔ یہ حکومت ہے جو ملک بناتی اور بگاڑتی ہے ۔ ہم تو اس بنے بگڑے ملک میں اپنی سی زندگی گزارنے پر مجبور ہوتے ہیں ۔

پاکستان نے مجھے کیا دیا، دوسری مرتبہ اس سوال نے مجھے تب ستایا جب پہلی مرتبہ مجھے پاکستان سے باہر جانے کا موقع ملا ۔ یہ بات نہیں کہ یہاں پاکستان میں ایسی چیزیں نہیں تھیں یا ختم ہو گئی تھیں، کہ یہ سوال تنگ نہیں کرتا تھا ۔ اصل میں پاکستان میں رہتے رہتے آدمی، ایسی ایسی چیزوں کا عادی ہو جاتا ہے کہ اسے خود پر حیرانی بھی ہوتی ہے اور پریشانی بھی ۔ تو میرے ساتھ بھی یہی ہوا تھا ۔

جیسے جیسے پاکستان سے باہر جانے کے مزید مواقع ملے، یہ سوال بڑا اور اہم ہوتا گیا: پاکستان نے مجھے کیا دیا ۔

کہیں پاکستانیوں کی علیٰحدہ قطار بنوا دی جاتی تھی ۔ کہیں انھیں مشکوک نظروں سے دیکھا اور مشکوک ہاتھوں سے ٹٹولا جاتا تھا ۔ کہیں ایسا سلوک روا رکھا جاتا تھا کہ اگر ممکن ہو تو ان کے ذہنوں اور دماغوں کو کھول کر ان کی تلاشی بھی لے لی جائے ۔ سارے جسم کو اور جسم میں پھرتے سارے خون کو اندر سے بھی کھنگال لیا جائے ۔

باہر جا کر ہاتھ میں تھما ہوا پاکستانی پاسپورٹ کسی چھٹے ہوئے مجرم کا ’’نامہء اعمال‘‘ محسوس ہوتا ہے ۔

پاکستان نے مجھے یہی دیا ۔ باہر کی دنیا مجھ نامعلوم حقیر فقیر بلکہ ہر عام پاکستانی شہری کو کیا جانے ۔ وہ تو اسے ’’پاکستانی‘‘ کے شناخت دیتے ہیں ۔ اور پاکستانی کی شناخت، ایک پاکستانی کو کیا دیتی ہے، جتنے پاکستانی بھی باہر گئے ہوں گے، وہ اس سے بخوبی واقف ہوں گے ۔

چلتے چلتے اس تحریک کا حال بھی سن لیجیے جو اس پوسٹ کا موجب بنی ۔

ابھی ستمبر کے آخر میں ترکی جانے کا اتقاق ہوا ۔ ترکی ان مسلمان ممالک میں سے ہے جو پاکستانی شہریوں کے حوالے سے بہت ’’دوستانہ‘‘ سمجھے جاتے ہیں ۔ ترکی کی وزارت ِ خارجہ کے مطابق ان پاکستانیوں کو پاکستان میں ترک ایمبیسی سے ویزا لینے کی ضرورت نہیں، جن کے پاسپورٹ پر امریکی یا برطانوی ویزا درج ہے ۔ انھیں ترک ایئر پورٹ پر ایک ماہ کا ویزٹ ویزا دے دیا جاتا ہے ۔

دو باتیں ۔ پہلی تو یہ کہ امریکہ اور برطانیہ نے اپنے شہریوں کو کیا دیا، واضح ہے ۔ دوسری بات یہ کہ امریکہ اور برطانیہ نے پاکستانی شہریوں کو بھی یہ عزت دلوائی کہ اگر ان کے پاس امریکی یا برطانوی ویزا موجود ہے تو انھیں ایئر پورٹ پر ایک اور ملک کا ویزا مل سکتا ہے ۔ اس بات کو یوں کہ سکتے ہیں کہ امریکی اور برطانوی ویزا ایک معیار قرار پا گیا ۔

خیر، جب میں اس زعم کے ساتھ کہ مجھے ایئر پورٹ پر ویزا مل جائے گا، اتا ترک انٹر نیشنل ایئر پورٹ پر اترا تو اچھی خاصی تسلی ہو گئ ۔ امریکی اور برطانوی پاسپورٹ اور ویزا ایک معیار ہو گا، لیکن پاکستانی پاسپورٹ بھی ایک ’’معیار‘‘ ہے ۔ ایمیگریشن کے لونڈوں نے سب پاکستانیوں کو، کچھ اور قومیتوں سمیت، جدا کر کے دور کھڑا کر دیا ۔ اس بات کی کوئی تمیز نہیں تھی کہ کس نے یہاں ایئر پورٹ سے ویزا لینا ہے اور کون پیچھے سے ترکی کا ویزا لے کر آیا ہے ۔

پاکستانی ’’معیار‘‘ نے امریکی اور برطانوں معیار کو نفی کر دیا ۔ (ہم ہیں ہی نفی کرنے والے، ورلڈ ٹریڈ سینٹر جیسی عمارت بنا تو نہیں سکتے، ہاں اسے انسانوں سے بھرے جہاز ٹکرا کر مسمار تو کر سکتے ہیں!) ۔ اس نفی کے عمل میں تین گھنٹے سے زیادہ کی مشقت شامل تھی ۔ بے توقیری اور بے یار و مددگار ہونے کا احساس تو صدیوں پر محیط معلوم ہو رہا تھا ۔

ایک وزیٹر نے قانون کی زبان بولنے کی کوشش کی ۔ کہا: میرے پاس تو ویزا ہے، مجھے کیوں جانے نہیں دیتے ۔ ایمیگریشن لونڈے لال پیلے ہو گئے ۔ انچارج لونڈا بولا: میرا ملک ہے، تمہارے پاس ویزا ہے یا نہیں، یہ میری مرضی ہے کہ میں تمہیں اپنے ملک میں داخل ہونے دوں یا نہیں ۔

اس ایمیگریشن لونڈے نے درست کہا تھا ۔ جو ملک قانون کے تحت چلتے ہیں، افراد کی پسند اور ناپسند، یا ان کی مرضی، کے تحت نہیں، وہ معیار بنتے ہیں اور اپنے ہی نہیں دوسرے ملکوں کے شہریوں کو بھی کچھ دیتے ہیں ۔ جو ملک قانون کے تحت نہیں چلتے، بلکہ قانون کے تمسخر اور مضحکے پر چلتے ہیں، بلکہ حکمران اشرافیہ اور خواص کی خواہشات کے تحت چلتے ہیں وہ اپنے شہریوں کو نہ تو عزت و وقار دے سکتے ہیں، نہ خود کوئی معیار بن سکتے ہیں ۔ معیاروں کی نفی کا معیار ضرور بن جاتے ہیں ۔

ایسے ملک تو اپنے شہریوں کو ایک  بہتر اور کارگر پبلک ٹرانسپورٹ بھی نہیں دے سکتے!

تاہم، یہاں ایک پر غور کرنا اور اسے سمجھنا ضروری ہے ۔ ان ملکی، سیاسی، سرحدی شناختوں سے اوپر بھی کچھ شناختیں ہیں، جو آپ کو کچھ نہ کچھ ضرور دیتی ہیں ۔ اور یہ شناختیں کیا دیتی ہیں، اس کا انحصار اس عالمی قدر پر ہے جو آپ کو یہ شناخت دیتی ہے ۔

نیویارک ایئر پورٹ پر سیکیوریٹی نے پوچھا: آپ کیا کرتے ہو ۔ میں نے کہا: رائیٹر ہوں ۔ نہ انھوں نے مجھے ہاتھ لگایا نہ میرے سامان کو ۔

پاکستان کے کسی بھی ایئر پورٹ پر وارد ہوتے ہی یہ ساری، اور باقی اور طرح کی بھی تمام قدریں ختم ہو جاتی ہیں ۔

پاکستانی سرزمین پر قدم رکھتے ہی یوں محسوس ہوتا ہے کہ آپ ایک ایسے جزیرے پر اتر آئے ہیں جہاں ہر اصول اور ہر قدر، ہر قانون اور ہر ضابطہ، انتہائی تکلیف دہ انداز میں سولی پر لٹکا ہوا ہے ۔

اس مرتبہ لاہور ایئر پورٹ پہلے سے بھی زیادہ ابتر نظر آیا ۔ ’’ترقی‘‘ عیاں تھی ۔

دنیا کے ہر ایئر پورٹ پر آپ نے لوگوں کو تختیاں اٹھائے دیکھا ہو گا ۔ یہ سب کسی نہ کسی اجنبی مہمان کو لینے کے لیے آئے ہوتے ہیں ۔ پاکستانی ایئر پورٹوں پر بھی ایسا ہوتا ہے، لیکن یہاں ایک اور طرح کے لوگوں کی تعداد کافی زیادہ ہوتی ہے ۔ یہ لوگ اجنبی مہمانوں کو لینے نہیں آئے ہوتے، بلکہ یہ ایئر پورٹ پر ملازم افراد یا ایئر پورٹ پر ملازم افراد کے شناساؤں کے واقف کاروں کو اس تکلیف سے بچنے کے لیے وہاں، بلکہ ایئر پورٹ کے اندر، موجود ہوتے ہیں جس کا تعلق ایمیگریشن کی قطار میں کھڑے ہونے اور پھر اپنا سامان چیک کروانے سے ہوتا ہے ۔

لاہور ایئر پورٹ پر اس طرح کے افراد کی تعداد بہت بڑھی نظر آئی ۔ ان میں ایک قسم کا اضافہ بھی ہو چکا ہے ۔ پہلے بھی ایسا ہوتا ہو گا، مگر میں نے ایسا پہلے دفعہ ہوتے دیکھا ۔ چند ملازم مسافروں کو ورغلا رہے تھے کہ وہ انھیں تمام مشکلات سے صاف نکال لے جانے کا حوصلہ رکھتے ہیں ۔ کچھ اور ملازم شکار تلاش کر رہے تھے اور جا جا کر سیکیوریٹی کو ان کے بارے میں بتا رہے تھے ۔ یعنی کون ایسا ہے جسے تنگ ونگ کر کے کچھ دال دلیے کا بندوبست ہو سکتا ہے ۔

سوال یہ ہے کہ کیا کیا جائے ۔ پاکستان سے باہر جاؤ تو یہ احساس ہوتا ہے کہ پاکستان نے ہمیں عام شہریوں کو کیا دیا ۔ اور جب پاکستان واپس آؤ تو یہ احساس اور زیادہ شدید ہو جاتا ہے کہ پاکستان نے ہمیں عام شہریوں کو پاکستان کے اندر کیا دیا!

اپنے تجربات اور اپنی زندگی پر نظر ڈالیے اور سوچیے آپ کو پاکستان نے کیا دیا!

Follow the Blogger on Twitter: http://twitter.com/khalilkf
Join the Blogger on Facebook: Khalilkf@gmail.com
Send comments, feedback: urdublog@asinstitute.org

مونوبلاگ: پاکستان ـ موجودہ خانہ جنگی اور آئندہ انتخابات

September 22nd, 2011

جیسا کہ مونو لاگ، خود کلامی ہوتی ہے، یعنی ’کلام جو متکلم آپ ہی آپ کرے‘ ۔ مگر کسی کو کسی شخص کی خود کلامی سے کیا دلچسپی ہو سکتی ہے ۔ کیوں ہونی چاہیے ۔

ہاں، لیکن اگر اس کی خود کلامی ان معاملات کے بارے میں ہو جو ہر فرد سے براہ ِ راست یا بالراست تعلق رکتھے ہوں تو یہ خود کلامی اہم ہو سکتی ہے ۔ یہ نہ صرف دوسروں کے ساتھ اپنی تشویش کا تبادلہ کر سکتی ہے بلکہ اس سے نئے در بھی وا ہو سکتے ہیں ۔

دیکھا جائے تو ٹیکنالوجی نے ہمیں نئے سے نئے انداز مہیا کر دیے ہیں ۔ اب ہر فرد اگر وہ چند گیجیٹس کا حامل ہے اور ان کے استعمال پر عبور رکھتا ہے (اور ایسا کرنا کوئی مشکل نہیں!) تو وہ اپنی تشویش اور تصورات کو دوسروں تک بآسانی پہنچا سکتا ہے ۔

جیسے کہ بلاگ شروع ہوا، اور پھر بلاگنگ نے کتنی مقبولیت حاصل کی ۔ اگرچہ ابھی پاکستان میں ایسا نہیں، یا بڑے اور اہم پیمانے پر ایسا نہیں ۔ اصلاً ان سب چیزوں نے فرد کو زیادہ سے زیادہ آزادی مہیا کی ہے ۔ اب وہ حکومتی یا نجی میڈیا کے محتاج نہیں، بلکہ اب خود اپنے ذاتی میڈیا کے حامل ہو گئے ہیں ۔ میں منتظر ہوں کہ ذاتی / شخصی ریڈیو یا ٹی وی چینلز کا آغاز کب ہوتا ہے ۔

اور آج جس چیز کو ’مِڈل ایسٹ سپرنگ‘ یعنی مشرق ِ وسطائی بہار کا نام دیا جا رہا ہے اس میں اس نئے ’میڈیا‘ کا کتنا کردار ہے، شاید ابھی اس کا درست اندازہ لگانا ممکن نہیں ۔ لیکن اتنا ضرور واضح ہے کہ یہ نیا میڈیا، حاکمانہ یا اجارہ دارانہ میڈیا کے مقابلے میں فرد کو آزادی مہیا کرنے کا سب سے بڑا آلہء کار ثابت ہو رہا ہے ۔

اردو بلاگ، سب کا پاکستان، بھی اسی نوع کی چیز ہے ۔ معاملات و مسائل وہی ہیں، جو تحریری بلاگ کا موضوع تھے ۔ بس اب یہاں تحریر کے علاوہ بلاگر اپنے خیالات، خود کلامی کے اندز میں صوتی طور پر بھی آپ کے سامنے رکھے گا ۔ آپ اس بلاگ کو پڑھنے کے بجائے سُن بھی سکیں گے ۔ چونکہ یہ خود سوال اٹھانا اور ان کا جواب خود ہی دینا ہے، اس لیے میں نے اسے ’مونوبلاگ‘ کا نام دیا ہے: ایسا بلاگ جو خود کلامی پر مشتمل ہے ۔

[جی، چلتے چلتے ایک بات اور ۔ تحریر اور آواز یقیناً بہت مختلف چیزیں ہیں ۔ آواز کسی شخص کو کھول کر رکھ دیتی ہے ۔ تحریر بھی ایسا کرتی ہے، لیکن اتنا نہیں جتنا آواز ۔]

یہ پہلا مونو بلاگ، ’پاکستان میں جاری خانہ جنگی اور آئندہ انتخابات‘ کے موضوع پر بلاگر کی خود کلامی پر مشتمل ہے ۔ ُسنیے!
http://www.youtube.com/watch?v=t7t_mnEzNKM

Follow the Blogger on Twitter: http://twitter.com/khalilkf
Join the Blogger on Facebook: Khalilkf@gmail.com
Send comments, feedback: urdublog@asinstitute.org