اگر آج مارشل لا ہوتا!

December 30th, 2011

2 مئی کو ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے امریکی ارتحال کے بعد پاکستان میں حالات کچھ اچھے نہ تھے۔ یوں محسوس ہو رہا تھا کہ کچھ ہونے والا ہے ۔ ایسی کوئی انہونی ہونے والی ہے، جو اول روز سے پاکستان کا مقدر بنی ہوئی ہے۔ یہ خوف، ملکی معاملات سے متعلق تشویش رکھنے والے ہر فرد کے دل میں کلبلا رہا تھا ۔ اور جب منصور اعجاز نے مبینہ میمو رینڈم کے بارے میں مضمون لکھا اور اس میمو کا متن طشت از بام ہوا تو اس خوف کی تصدیق ہو گئی ۔ اور منصور اعجاز کی طرف سے انکشافات کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ۔ نئے سے نئے راز کھولے جا رہے ہیں ۔ اور یوں انہونی کا خوف ایک حقیقت بنتا جا رہا ہے ۔

جیسا کہ اب کوئی معاملہ آزاد میڈیا اور آزاد شہریوں کی جانچ اور پرسش سے بچ نہیں سکتا، تو یہ میمو والا معاملہ بھی طرح طرح کی چھریوں کے نیچے آیا ہوا ہے ۔ جراحی کے ساتھ ساتھ اس کی چیر پھاڑ بھی ہو رہی ہے ۔ ہونی بھی چاہیے ۔ یہی ایک آزاد اور زندہ معاشرے کی پہچان ہے ۔ اب یہ معاملہ محض میمو کا معاملہ نہیں، بلکہ میموگیٹ بن گیا ہے، اور ملک کی اعلیٰ ترین عدالت تک جا پہنچا ہے ۔ اور جیسا کہ ایک سیاست زدہ سوسائیٹی کا معمول ہوتا ہے، ہر فریق،خواہ وہ متاثرہ فریق ہے، یانہیں؛ متعصب فریق ہے یا نہیں، اپنا اپنا مطلب نکالنے پر تلا ہوا ہے ۔ (پنجابی میں اس کے لیے بہت اچھا ایکسپریشن موجود ہے: ہر کوئی اپنی لُچ تلنے کی کوشش میں ہے) ۔ اس طرح یقیناً بہت کیچڑ اچھلتا، اور حقیقت کا کوئی’بھورا‘ تک سامنے نہ آ پاتا؛ سو، اچھا ہوا کہ یہ معاملہ منصفوں کے ہاتھوں میں چلا گیا ۔ پھر اس امکان کو بھی رد نہیں کیا جاسکتا کہ اگر یہ معاملہ عدالت میں نہ جاتا تو اغلبا ً مذکورہ بالا خوف اب تک مارشل لا کا روپ دھار چکا ہوتا ۔

دیکھنا چاہیے کہ اب عدالت ِ عظمیٰ اسے کس طرح ٹھکانے لگا تی ہے ۔ لیکن چونکہ کوئی ایسی پابندی نہیں لگائی گئی کہ خاموش، پہلے ہمیں دیکھنے دو کیا ہوا ہے؛ اور چونکہ اس سارے معاملے میں دو چیزیں نہایت اہم ہوتی جا رہی ہیں، لہٰذا، ان کی نشاندہی اور ان پر کچھ بات کرنا ضروری ہے ۔ اول تو یہ کہ کچھ چیزوں کو بہت اہمیت دی جارہی ہے، اور دوم یہ کہ کچھ چیزوں کو جیسے کہ ارادتا ً نظر انداز کیا جارہا ہے ۔ یہ انداز بذات ِ خود مشکوک ہے ۔ عدالت کو اس پر توجہ دینا ہو گی ۔ صاف بات ہے کہ جو لوگ کچھ چیزوں کو بے جا اہمیت دے رہے ہیں، وہ اپنی کسی غرض کے ہاتھوں مجبور ہیں، اور جو لوگ کچھ چیزوں کو نظرا نداز کرنے پراتارو ہیں، ان کا دامن بھی صاف نہیں ۔ ایسے میں یہ عدالت کا کام ہے کہ وہ کھرے کھوٹے کو پرکھے اور بتائے کہ کیا سچ ہے اور کیا جھوٹ ۔ اچھا ہوا کہ یہ معاملہ عدالت پہنچ گیا، کیونکہ اسی میں سب کی بھلائی ہے ۔ حکومت کے لیے تو شاید سب سے زیادہ بھلائی کی بات ہے ۔ مگر جانے کیوں یہی سب سے زیادہ گھبرائی ہوئی بھی ہے ۔

میموگیٹ کے معاملے میں جن چیزوں پر سب سے زیادہ زور دیا جا رہا ہے، اس میں ملکی سلامتی اور اقتدار ِ اعلٰی کے ساتھ ایٹمی اثاثے سر ِ فہرست ہیں ۔ پاکستان میں یہ چیزیں روزمرہ سیاست کا موضوع رہی ہیں، اور آج بھی ان کی یہی حیثیت ہے ۔ جیسے کہ یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ یہ چیزیں مسلمہ ہیں، اور ان پر کوئی لین دین نہیں ہو سکتا ۔ ان چیزوں کو حرف ِ آخر سمجھ لیاگیا ہے ۔ کونسا سیاست دان ہے جس پر ملک کے لیے سیکیوریٹی رِسک ہونے کا الزام نہیں لگایا گیا ۔ کونسی سیاسی جماعت ہے جسے کسی دوسرے ملک کے ہاتھوں بکی ہوئی جماعت نہیں کہا گیا ۔ پھر بھی یہی سیاست دان اور یہی سیاسی جماعتیں ہیں جو اقتدار میں آتی رہی ہیں، اور ملکی سلامتی، اقتدار ِ اعلٰی اور ایٹمی اثاثوں کی محافظ رہی ہیں ۔

جہاں تک ایٹمی اثاثوں کی حفاظت کی بات ہے تو پچھلے کچھ ماہ میں پاکستا ن میں، جی، ایچ، کیو سے لے کر پی، این، ایس مہران تک، جو کچھ ہواہے، اس کے بعد ان کی سلامتی کے حوالے سے ہر ذی ہوش کی تشویش بڑھ جانی چاہیے ۔

اس ضمن میں یہ کبھی نہیں سوچا گیا کہ ملکی سلامتی اور اقتدار ِ اعلٰی کوئی مطلق چیزیں نہیں ۔ ملکی سیاسی حالات اور بین الاقوامی سیاست کے پیش ِ نظر ان کی تعیین و تدوین میں تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں ۔ جب کسی دوسرے ملک سے کوئی معاہدہ کیا جاتا ہے تواپنا کچھ اقتدار ِ اعلٰی، کچھ دوسرے زیادہ وسیع تر اصولوں کے ساتھ جوڑدیا جاتا ہے ۔ مثلا ً جب پاکستان نے یو، این، او کے انسانی حقوق کے چارٹر پر دستخط کیے تو ایسا ہی ہوا ۔ اب یہ دستخط کرنے کے بعد پاکستان یہ نہیں کہہ سکتا کہ کوئی دوسرا ملک ہمارے معاملات میں مداخلت نہ کرے، ہم مقتدر ہیں، ہم انسانی حقوق کا خیال رکھیں یا نہ رکھیں ۔ اسی طرح دوسرے معاملات ہیں ۔ اور پھر یہ بھی کہ ان معاملات میں اختلافات بھی پیدا ہوتے رہتے ہیں، اور مذاکرات چلتے رہتے ہیں، اور تصفیے ہوتے رہتے ہیں ۔ یہ سب کچھ ہر لمحہ حرکت اور سیالیت میں رہتا ہے ۔

پاکستان میں ایک اور پریشاں خیالی شروع سے پید ا کی گئی ۔ مراد یہ کہ سلامتی اور اقتدار ِ اعلٰی کو صرف اور صرف دوسرے ممالک کے حوالے سے سمجھا اور سمجھایا گیا ۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ جس بات پر بالکل توجہ نہیں دی گئی وہ ہے ملک کے اقتدار ِ اعلٰی کو لاحق داخلی خطرات کا معاملہ ۔ داخلی سلامتی اور داخلی اقتدار ِ اعلٰی کو کبھی قابل ِ اعتنا نہیں گردانا گیا ۔ اس سے مراد ہے آئینی اداروں کی سلامتی اور ان کو دیا گیا اقتدار ِ اعلٰی ۔ ایک ادارہ کس طرح دوسرے ادارے کے اختیارات پر حاوی ہوا، کیوں ہوا، کیاایسا ہونا چاہیے تھا ۔ ان سوالوں کو کبھی سلامتی اور اقتدار ِ اعلٰی کے معاملات کے ساتھ جوڑ کر نہیں دیکھا گیا ۔ یا سیاسی تجزیہ نگاروں اور دانشوروں نے انھیں قابل ِ توجہ نہیں سمجھا، اور ایک مخصوص راگ الاپتے رہے،اور خارجی سلامتی اور اقتدار ِ اعلٰی کو ایک آسیب کی طرح خود پر سوار کیے رہے، اور لوگوں کو بھی اسی کا شکار بنائے رہے ۔ یہی کچھ آج ہورہا ہے، اور یہی کچھ ہے جو میموگیٹ میں سے نکالنے کاجتن ہو رہا ہے ۔

بہت کم افراد ایسے ہیں جو ان چیزوں پر توجہ دے رہے ہیں، پاکستان کو حقیقتا ً جن پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ بہت کم سیاسی تجزیہ نگار ایسے ہیں جویہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ اصل چیز داخلی سلامتی، اور آئینی اقتدار ِ اعلٰی، اور اس کا استحکام ہے ۔ بہت کم ہیں جو یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ میمو جس خوف سے مملو ہے وہ خوف پیدا ہی کیوں ہوا۔ اوریہ کہ میموگیٹ کا معاملہ، سلامتی اور اقتدار ِ اعلٰی کا معاملہ نہیں، بلکہ داخلی سلامتی اور داخلی اقتدار ِ اعلٰی کا معاملہ ہے ۔ بہت کم ہیں جو یہ کہہ رہے ہیں کہ سچ کو سچ نما جھوٹ سے متمیز کرنے کی ضرورت ہے ۔ بہت کم ہیں جو یہ کہہ رہے ہیں کہ اگر آج مارشل لا ہوتا توکیا میمو کامعاملہ میمو گیٹ بنا ہوتا!

اور خال خال ہیں جو یہ کہہ رہے ہیں کہ پاکستان کو ہمیشہ سے جس چیز کی ضرور ت رہی ہے وہ داخلی سلامتی ہے، اور اس کے لیے اداراتی اقتدار اعلٰی کی سلامتی ناگزیر ہے!

چلتی پھرتی باتیں – ایک اور عظیم دھوکہ

December 26th, 2011

پاکستان کے شہریوں کے ساتھ ایک اور عظیم دھوکہ ہونے جا رہا ہے!

پہلا عظیم دھوکہ پاکستان پیپلز پارٹی کی صورت میں شروع ہوا تھا، اور ابھی تک جاری و ساری ہے۔ اور پاکستان کے شہریوں کی ایک معتدبہ تعداد ابھی تک اس دھوکے سے باہر نکلنے پر راضی نہیں ہے۔

پیپلز پارٹی کی بنیاد 1967میں رکھی گئی تھی۔ جو خواب اس وقت پاکستان کے شہریوں کو دکھائے گئے تھے، وہ آج تقریباً پینتالیس سال بعد بھی پورے نہیں ہوئے ہیں ۔ پورے ہونے کی بات تو چھوڑیں، ان کا عشر ِ عشیر بھی شرمندہ ءتعبیر نہیں ہوا۔ ہاں، اس عرصے میں کیا ہوا، بہت سے مہم جو لیڈر بن گئے ۔ نہ صرف لیڈر بن گئے بلکہ پیسے والے اور صاحب ِ حیثیت بھی بن گئے ۔ ان کے گھر بھرے گئے ۔ کاروبار جم گئے ۔ مگر پاکستان کے شہری وہیں کے وہیں ہیں ۔ انھیں پارٹی اور اس کی حکومتوں نے کیا دینا تھا، انھیں با عزت طریقے سے زندہ رہنے کا حق بھی نہیں مل سکا ۔ ان کے ساتھ جو کچھ 1967 میں، اور اس سے پہلے ہو رہا تھا، وہی کچھ آج بھی ہو رہا ہے ۔

اب دوسرا دھوکہ پاکستان تحریک ِ انصاف کی شکل میں سامنے آرہا ہے ۔ وہی خواب دکھائے جا رہے ہیں ۔ یہ ہو جائے گا ۔ وہ ہو جائے گا ۔ بس یہ کہا، وہ ہو گیا ۔ سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا ۔ پل کے پل میں ٹھیک ہو جائے گا ۔ کیسے ہو گا ۔ کیونکر ہوگا ۔ کچھ پتہ نہیں ۔ دھوکہ دینے والوں کو بھی پتہ نہیں ۔ دھوکہ کھانے والوں کو بھی پتہ نہیں ۔ دھوکہ کھانے والوں کی تو جیسے نظر باندھ د ی گئی ہے ۔ دکھانے والے جو دکھا رہے ہیں، وہ وہی دیکھ رہے ہیں ۔ کوئی یہ نہیں پوچھ رہا ۔ کیا ہو گا ۔ کیسے ہو گا ۔ کون کرے گا ۔ کیسے کرے گا ۔ کیونکر کرے گا ۔

لوگ پھر سے وہی پرانا دھوکہ کھانے کے لیے تیار نظر آرہے ہیں ۔ جوق در جوق تحریک ِ انصاف کے جلسوں کی زینت بن رہے ہیں ۔ کسی کی دکان سجا رہے ہیں ۔ کسی کے خواب پورے کررہے ہیں ۔ بہت بھولے ہیں یہ لوگ ۔ مجھے ان پر ترس نہیں آرہا، بلکہ اس دن اور اس وقت سے ڈر لگ رہا ہے، جب یہ سب خواب چکنا چور ہو ں گے ۔ پھر کیا ہوگا؟ جب اس ملک میں لاکھوں کروڑوں شیشے یکدم ٹوٹیں گے تو کتنی کرچیاں اور کہاں کہاں بکھریں گی ۔ اور کون کون زخمی ہوگا ۔ کب تک زخمی ہوتا رہے گا ۔ یہ زخم کبھی بھریں گے بھی یا نہیں ۔ لاکھوں کروڑوں شیشے ٹوٹنے کی صدائیں کہاں کہاں تک بازگشت پیدا کریں گی ۔ کتنے کانوں کے پردوں کو پھاڑیں گی ۔ کتنے کلیجے چیریں گی ۔ بہت خوفناک منظر ہو گا ۔ موت کے منظر سے بھی خوفناک منظر ۔  لیکن کوئی بھی تیا ر نہیں، یہ منظر سوچنے کے لیے ۔ یہ منظر تخئیل میں دیکھنے کے لیے ۔

میری یہ باتیں، یا اور دوسرے لوگ جو ایسی ہی باتیں کہہ رہے ہیں، ان کی باتیں کون سنے گا، بلکہ مجھ سمیت ان سب کو کوسا جائے گا ۔ ہدف بنایا جائے گا ۔ بس ایک دھن سوار ہے ۔ جیسے ایک نوجوان کہیں محبت کر بیٹھتا ہے اور شادی کرنے پر اتارو ہے ۔ اسے لاکھ سمجھائیں، وہ سمجھ پا کر نہیں دے گا ۔ وہ اپنی ضد پوری کر کے رہے گا ۔ یا اپنی ضد ویاہ کر رہے گا ۔ کرلینے دیں، اسے اپنی ضد پوری۔ ویاہ لینے دیں، اسے اپنی ضد ۔ دیکھیں ہنی مون کتنے دن کا ہوتا ہے ۔ پر ابھی تو تاریخ بھی نہیں ملی ہے ۔ دیکھیں کیا گزرے ہے قطرے پہ گہر ہونے تک!

آخری الفاظ یہ کہنا چاہوں گا کہ پہلا عظیم دھوکہ ایک ”عوامیتی فاشزم “(پاپولِسٹ فاشزم) کی صورت میں آج تک بھگتا جا رہا ہے ۔ یہ دوسرا عظیم دھوکہ جس کا منہ متھا ’’لبرل فاشزم‘‘ سے ملتا جلتا لگ رہا ہے، دیکھیں کب تک بھگتنا پڑے!

ایماندار لیڈر اور ایماندار پارٹی ـ ایک سیاسی مغالطہ

October 30th, 2011

ہر استحصال کی بنیاد کسی تصور یا/مغالطے پر ہوتی ہے ۔ تعصبات، نفرتیں، محبتیں، سب اسی زمرے میں آتی ہیں ۔

پھر یہ کہ یہ تصورات یا مغالطے بہر طور کسی نہ کسی کلیشے سے جُڑے ہوتے ہیں یا اس کی شکل اختیار کر لیتے ہیں ۔

اسی طرح کا ایک تصور یا مغالطہ یا کلیشے، پاکستان میں معلوم نہیں کب سے عام ہوا اور ابھی تک جان نہیں چھوڑ رہا ۔ کسی بیٹھک میں ہونے والی حالات ِ حاضرہ کی گفتگو سن لیں، یا کسی سیمینار میں جا پہنچیں، یا کسی ٹی وی ٹاک شو پر جاری بحث دیکھ لیں، ایک عام آدمی سے لے کر فہم و فراست کے دعویدار، بلا امیتاز، ایک ہی بات دہرائے چلے جا رہے ہیں کہ پاکستان کو اس کے ہمہ گیر بحران سے نکالنے کے لیے ایک ’’ایماندار لیڈر‘‘ درکار ہے ۔ زور ’’ایماندار‘‘ پر ہے ۔ اگرچہ اس کے ساتھ ساتھ ایک اور کلیشے آج کل بہت عام ہے کہ ’’پاکستان کو لیڈر کی ضرورت ہے ۔‘‘

دراصل، یہ بڑا پرانا تنازعہ ہے کہ انسان، فطرتاً نیک ہے یا بد ۔ مگر آج تک طے نہیں ہو پایا ۔ اور میرا حقیر خیال ہے کہ کبھی طے ہو گا بھی نہیں ۔ کیونکہ کچھ سوال ہی غلط ہوتے ہیں ۔ جیسے ہم کہیں کہ درخت، نیک یا بد ہیں ۔ پھر اس تنازعے کے ساتھ ایک اور تنازعہ بھی جڑا ہوا ہے ۔ یعنی یہ کہ انسان کو اس کی فطرت، نیک یا بد بناتی ہے یا ماحول ۔ یہ ایک معقول تنازعہ ہے ۔ اس پر بحث جاری ہے، جاری رہے گی ۔ کیونکہ یقیناً ایک حد کے بعد ماحول اہم ہو جاتا ہے ۔ جیسے اس بات کا قوی امکان ہے کہ مسلسل بھوک کسی شخص کو اخلاقیات بھلا سکتی ہے ۔ لیکن کیا ایسے میں اخلاقیات کو فراموش کر دینا جائز ہو گا، اس سوال کا تعلق اخلاقیات اور قانون سے ہے ۔

حیاتیاتی اور نفسیاتی علوم اپنی کاوش میں لگے ہوئے ہیں کہ انسان فطرتاً نیک ہے یا بد ۔ ان کی تحقیقات اور نظریات کا اثر سماجی، سیاسی اور معاشی زندگی پر بھی پڑتا ہے ۔ یہ چیز بہت خطرناک ہے ۔ بلکہ ایسا ہی ہوا کہ سیاسیات یا سیاسی فلسفیوں نے بھی اپنے سیاسی نظریات کو حیاتیاتی اور نفسیاتی علوم کی ’’غیر قطعی‘‘ تحقیقات پر استوار کرنا شروع کر دیا ۔ جسیے ٹامس ہابس کا سیاسی فلسفہ جو انسان کو فطرتاً نیک نہیں سمجھتا ۔

عملاً ہوا یہ کہ انسانی فطرت سے متعلق نظریات کو سیاسی مہم جوؤں نے خوب استعمال کیا ۔ اس کا نقصان اس وقت انتہائی مہلک ثابت ہوا جب یہ نظریات کسی نہ کسی طور آئین اور قانون میں جگہ پانے لگے ۔

جیسا کہ یہ سوال ہی غلط تھا تو جواب بھی سارے غلط ٹھرے ۔ ذرا سا غور کریں تو سیاسی فلسفے میں اس سوال کا عکس کچھ اس طور پڑا کہ ہاں بھئی اگر انسان فطرتاً نیک ہے تو سیاسی حکومتی نظام کچھ اور طرح کا ہو گا، بلکہ یہاں یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ کسی نظام کی ضرورت ہی نہیں ۔ جیسا کہ عمران خان کی سوچ ہے: وہ نظام کی بات نہیں کرتے اور یہ کہتے ہیں کہ سب پارٹیاں کرپٹ ہیں اور وہ ایماندار ہیں ۔

اور اگر انسان بد ہے تو اور طرح کا نظام درکار ہو گا ۔ مثلاً ہابس نے قرار دیا کہ افراد کو ایک مقتدر ِ اعلٰی کا باجگزار ہونا چاہیے ۔ انھیں کوئی آزادی نہیں ہونی چاہیے ۔

اس عکس کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ اگر کچھ انسان بد ہیں اور کچھ نیک، تو بہتر ہے کہ جو نیک ہے وہ حکمران ہو ۔ بات بہت معقول لگتی ہے ۔ لیکن کیا اتنی معقول ہے بھی، جتنی معقول نظر آتی ہے ۔

ان سب باتوں کے ضمن میں ایک بات تو صاف ہے کہ جب تک یہ سوال طے نہیں ہو جاتا کہ انسان فطرتاً نیک ہے یا بد، اس وقت تک ان تمام سیاسی فلسفوں کو طاق میں رکھ دینا چاہیے جو انسانی فطرت کے تصور پر استوار ہیں ۔

تو پھر کیا انتظار میں بیٹھے رہیں کہ کب بابا مریں اور کب بیل بٹیں ۔

ایک اور زیادہ معقول بات یہ ہے، اور جیسا کہ اوپر ذکر بھی ہوا، کہ بنیادی طور پر یہ سوال ہی غلط ہے ۔ اگر ہم حتمی طور پر یہ نہیں جانتے کہ انسان بد ہے نیک، تو اس قضیے پر کوئی فلسفہ تعمیر کرنا غلطی ہو گی ۔ میرا اشارہ دونوں باتوں کی طرف ہے، خواہ ہم حتمی طور پر یہ جانتے ہوں کہ انسان بد، یا یہ کہ انسان نیک ہے، ان دونوں چیزوں پر کسی سیاسی فلسفے کی عمارت بنانا بہت بڑی بھول ہو گی ۔

میں نے اوپر ذکر کیا کہ یہ سوال ہی غلط ہے اور اس کی مثال درخت کے نیک یا بد ہونے سے دی ۔ آپ کہ سکتے ہیں کہ یہ مثال ہی غلط ہے ۔ درخت بے جان اور بے شعور ہوتے ہیں ۔ درست ہے ۔ درختوں کے بارے میں یہ سوال اٹھانا اس لیے غلط ہو گا کہ درخت بے شعور ہیں اور انسانوں کے بارے میں یہ سوال اٹھانا اس لیے غلط ہے کہ وہ بہت زیادہ با شعور ہے ۔

حقیقت یہ ہے کہ نیک اور بد کا تصور اور یہ اقدار انسان کی ایجاد ہیں ۔ تو جس نے نیک یا بد کو ایجاد کیا اسے یہ معلوم نہیں ہو گا کہ نیک ہونا کیا ہے اور بد ہونا کیا ہے ۔ اسے تو سب سے زیادہ پتہ ہے ۔ اور اس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ ہمیں، ہر ایک کو، ہر لمحہ پتہ ہوتا ہے کہ ہم نیک ہیں یا بد ہیں ۔ ہم جو کام کر رہے ہیں وہ نیکی کے زمرے میں آتا ہے یا بدی کے ۔ اور ہمیں ہر لمحہ یہ فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ ہم نیک رہیں یا بد رہیں ۔ یا بعض اوقات ہم اگر ہم بیشتر نیک کاموں کی وجہ سے خود کو نیک سمجھتے ہیں تو اہم کوئی بد کام کرتے ہوئے اپنا کوئی جواز بھی تراش لیتے ہیں ۔ کہنے سے مراد یہ ہے کہ عام انسان کوئی سالم یا کامل نیک نہیں یا سالم یا کامل بد نہیں ۔ ہمیں ہر گھڑی یہ دیکھنا اور بہت بڑا فیصلہ کرنا پڑتا ہے کہ ہم نیک ہونا یا رہنا چاہتے ہیں ۔ یا بد ہونا یا بد رہنا چاہتے ہیں ۔ تو یہ بات تو واضح ہے کہ ہر انسان مسلسل یا یوں کہ لیں کہ مستقلاً نیک یا بد بننے کے عمل میں رہتا ہے ۔ جیسا کہ نیکی یا بدی کا تعلق بنیادی طور پر ہمارے اعمال و افعال سے ہے اور یہ ہمارے اعمال اور افعال ہی ہیں جو ہمیں نیک یا بد بناتے ہیں ۔ اور جیسا کہ اوپر بھی اشارہ کیا گیا کہ اس میں اعمال و افعال کے نتائج بھی شامل ہوتے ہیں، تاہم اس بیچ بہت سی پیچیدگیاں آ الجھتی ہیں اور اسی لیے بہت دور رس نتائج کو اس میں شامل کرنے سے گریز کرنا چاہیے ۔

مجھے یاد ہے کہ وجودی فلسفی ژاں پال سارترے نے کچھ اس طرح کی بات کی تھی کہ اگر دنیا میں کہیں کوئی شخص قتل ہوتا ہے تو اس کی ذمے تمام انسانوں پر آتی ہے ۔ مثلاً اگر معمر قذافی کے ہاتھوں بہت سے اشخاص اپنی زندگیاں کھو بیٹھے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی ذمےداری مجھ اور آپ سمیت ہم سب پر عائد ہوتی ہے ۔ یا اس کی ایک مثال یہ ہو سکتی ہے کہ دوسرے جنگِ عظیم میں کسی جگہ اتحادیوں یا ناتسیوں کی فوج تعینات تھی وہاں دوسرے فریق نے کوئی بم پھینکا اور وہ بم کہیں جھاڑ جھنکاڑ میں یا زمین تلے دبا رہ گیا ۔ اور کافی عرصے بعد وہ اس وقت پھٹ گیا جب وہاں کچھ عام لوگ کھیتی باڑی سے متعلق کوئی کام کر رہے تھے، تو اتحادی یا ناتسی افواج پر ان ہلاکتوں کی کتنی ذمےداری عائد ہوتی ہے ۔

اگرچہ اس طرح کے حادثات رپورٹ ہوتے رہتے ہیں، لیکن کبھی ذمےداری کے تعین کا مسئلہ سامنے نہیں آیا ۔ جبکہ ایک اور طرح کے واقعات کے ضمن میں ذمےداری کا تعین کیا گیا ہے، اور ہرجانے کی ادائیگی بھی سامنے آئی ہے ۔ جیسا کہ جاپان پر قبضے کے دوارن جن عورتوں کو جنسی تسکین کے لیے استعمال کیا گیا، حالیہ طور پر ان کو انصاف مہیا کیا گیا ۔

تو یہ بات عیاں ہے کہ ہمارے اعمال اور افعال کے نتائج کا معاملہ ہر انفرادی معاملے کے حوالے سے ہی زیر ِ بحث آ سکتا ہے ۔ ہم ان اپنے نیک یا بد کاموں کے نتائج سے بہت زیادہ واقف نہیں ہوتے یا نہیں ہو سکتے ۔ اور یہ کہنے سے میری مراد یہ ہے کہ ہم اپنے نیک یا بد کاموں کے تمام نتائج کے علم کے حامل نہیں ۔ اور یہی وجہ ہے کہ قانون بھی بہت دور رس نتائج کی بنیاد پر جرم کا تعین نہیں کرتا ۔

اپنی بات کی طرف آتے ہیں ۔ کم از کم سیاسی فسلفے کے میدان میں ہمیں اس سوال کے دامن چھڑا لینا چاہیے ۔ یہ سوال ہی غلط ہے کیونکہ انسان، سوچ سمجھ کر نیک یا بد دونوں کام کر سکتا ہے ۔ اصل میں ہم جانتے ہیں کہ ہر آدمی ہر کام کر سکتا ہے، جسمانی معذوری ایک رکاوٹ ہو سکتی ہے، لیکن اسے بھی عبور کیا جا سکتا ہے ۔ مراد یہ کہ ہر آدمی میں نیک یا بد کام کرنے کی فکر، اور قدرت و استطاعت موجود ہوتی ہے ۔ اور وہ اپنے لیے کیا طے کرتا ہے اور معمولاً وہ کیا کرتا ہے یہی چیز اسے نیک یا بد بناتی ہے ۔ اور پھر جیسا کہ کہا جاتا ہے یہی معمول اس کی  عادت بن جاتے ہیں ۔ لیکن میرا اصرار یہ ہے کہ فطرت نہیں ۔ کیونکہ ہر انسان کے سامنے نیک یا بد بننے کا انتخاب ہر وقت موجود ہوتا ہے اور قدرت و استطاعت بھی ۔

اس بات سے جڑے ہوئے ایک اور معاملے پر کچھ کہنا ضروری ہے ۔ فرد کو کبھی باہر سے ایماندار نہیں بنایا جا سکتا ۔ ہاں، اسے انسیپیریشن دی جا سکتی ہے ۔ اس کی تعلیم کی جا سکتی ہے، وہ بھی اس کی مرضی سے ۔ اور مثال کے ذریعے اسے متاثر کیا جا سکتا ہے ۔ لیکن زور زبردستی کے ذریعے کبھی اسے نیک یا بد نہیں بنایا جا سکتا ۔ جینرل ضیا کے دور میں ایسا کرنے کی کوشش کی گئی اور ہم جانتے ہیں کہ اس کے بہت بھیانک نتائج سامنے آئے جو ہم آج بھی بھگت رہے ہیں ۔

بہر حال، انسان نیک ہے بد، اس سوال کے غلط ہونے کی طرف ایک بہت اہم جدید فلسفی (جدید ہونے کے ساتھ ساتھ وہ فلسفے کہ کلاسیکی روایت سے بھی وابستہ تھے) کارل پاپر نے توجہ دلائی ہے ۔

کارل پاپر نے قرار دیا کہ یہ سوال ہی غلط ہے کہ کسے حکمران ہونا چاہیے، یا یوں کہہ لیں کہ حکمرانی کا حق کس کے پاس ہونا چاہیے ۔ جیسا کہ افلا طون کا کہنا تھا کہ فلسفیوں کو حکمرانی کرنی چاہیے کیونکہ وہ سب سے زیادہ دانا اور عقلمند ہیں ۔ ظاہر ہے کہ اس بات کوبڑی آسانی سے مسترد کیا جا سکتا ہے کہ ضروری نہیں کہ صرف فلسفی ہی دانا اور عقلمند ہوں، معاشرے کے دوسرے افراد بھی دانا اور عقلمند ہو سکتے ہیں ۔

تھوڑا سا آگے چلتے ہیں ۔ کیونکہ ایک سوال ہی غلط اٹھا لیا گیا تھا، لہٰذا، اب اسی سوال پر بحث جاری رہی اور اسی کا جواب دینے کی کوشش ہوتی رہی ۔ کارل مارکس تک آتے آتے حکمرانی کا حق مزدوروں یا پرولتاریہ کے پاس آ چکا تھا ۔ اور بیسویں صدی کے اوائل میں روس میں برپا ہونے والے بالشویک انقلاب نے اس پر عمل بھی کر کے دکھا دیا ۔

قطع نظر اس بات سے کہ پرولتاریہ کی حکمرانی کے نتائج کیا نکلے، یا یہ تنقید بھی کی گئی کہ یہ اصلاً پرولتاریہ کی حکومت تھی ہی نہیں، بلکہ یہ تو کمیونسٹ پارٹی کی یا کمیونسٹ پارٹی کی بیورکریسی کی حکومت تھی، بہر حال اتنا ضرور ہوا کہ یہ مغالطہ کہ مزدوروں کو حکمرانی کا حق ہے رو بہ عمل آ کر اپنی اہمیت اور افادیت کھو بیٹھا ۔ اگرچہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ دلائل غلط قرار پا کر بھی کبھی فنا نہیں ہوتے، کیونکہ سوشلسٹ اور کمیونسٹ پارٹیاں آج بھی موجود ہیں اور پرولتاریہ کی حکمرانی کا پرچار کر رہی ہیں ۔

اس سے متعلق ایک اور مغالط بر صغیر میں بھی پیدا ہوا ۔ علامہ مشرقی نے حکمرانی کا یہ متنازعہ حق سائنسدانوں کو تفویض کیا ۔

خیر یہ بحث تو چلتی رہے گی، اوپر اس کی طرف اشارہ کرنے سے یہ واضح کرنا مقصود تھا کہ کسی فرد، یا کسی گروپ، یا کسی طبقے، یا کسی سیکشن، یا کسی اخلاقی قدر یا خوبی یا خصوصیت کے حامل فرد، یا گروہ، کو حکمرانی کا حق دینا ایک سیاسی مغالطے سے زیادہ کچھ نہیں ۔ مراد یہ کہ بظاہر یہ بات بہت درست معلوم ہوتی ہے لیکن حقیقتاً جب گہری نظر سے جانچا جائے تو غلط قرار پا جاتی ہے ۔

یہاں تھوڑا سا رجوع لارڈ ایکٹن سے لانا ضروری ہے ۔ ان کا ایک قول اکثر استعمال کیا جاتا ہے ۔ اس کے لفظ ملاحظہ کیجیے:

“All power tends to corrupt; absolute power corrupts absolutely.”

یہ تاریخ اور انسانیت کا سبق ہے ۔ سو آپ اِس کو یا اُس کو، کسی کو بھی حکمران بنا کر دیکھ لیں، نتیجہ اختیار کے ملتے ہی کرپشن کی صورت میں نکلے گا ۔ ہاں، مجھے اس بات سے انکار نہیں کہ مثتثنیات موجود ہوتی ہیں ۔ یقیناً ایماندار بلکہ بہت ایماندار فرد موجود ہوتے ہیں ۔ موجود ہیں ۔ حتٰی کہ پاکستانی معاشرے میں بھی موجود ہیں ۔

مگر یہ بہت پیچیدہ معاملہ ہے ۔ مثلاً اس بات کا تعین کیسے کیا جائے گا کہ کون ایماندار ہے اور کون نہیں ۔ پھر یہ کہ جو ایماندار ہے اس کی تلاش کیسے کی جائے گی ۔ اور پھر اس چیز کی ضمانت کیسے دی جائے گی کہ ایک ایماندار شخص جب اسے اختیار مل جائے گا وہ تب بھی ایماندار رہے گا ۔ جیسے کہ ایمانداری کے دعوے دار عمران خان کی مثال ہی لے لیں ۔ وہ خود بھی اکثر یہ کہتے پائے جاتے ہیں کہ دونوں بڑی پارٹیاں بدعنوان ہیں اور ان کی پارٹی ایماندار پارٹی ہے ۔ فرض کر لیتے ہیں جیسا کہ کہا جا رہا ہے وہ اور ان کی پارٹی ایماندار ہیں ۔ درست! لیکن جب انھیں سیاسی اقتدار مل جائے گا کیا وہ تب بھی ایماندار رہیں گے، اس بات کی ضمانت کیسے دی جا سکتی ہے یا کون دے گا ۔ (خالی خولی ضمانت دینے والے تو بہت آ جائیں گے ۔ اور اگر کوئی زر ِ ضمانت بھی ہوا تو وہ ضبط بھی کروا لیں گے، کیونکہ اس طرح کی ضمانت دینے کا کام ایک کاروبار بن جانے کا بہت امکان ہے ۔)

دلیل کی خاطر ایک بات کا اور جائزہ لیتے ہیں ۔ آئین میں ارکان ِ پارلیمینٹ کی اہلیت کی دفعات میں اسی طرح کی کچھ اخلاقی چیزیں داخل کر دی گئیں تھیں ۔ اب مسئلہ یہ درپیش ہوا کہ یہ کیسے طے کیا جائے کہ کون جھوٹا ہے کون سچا، کون ایماندار ہے کون ایماندار نہیں ۔ بالآخر سپریم کورٹ نے یہ قرار دیا کہ اگر جھوٹ اور بے ایمانی کے حوالے سے کسی کو عدالت کے ہاتھوں مجرم قرار دیا گیا ہے تو اسے جھوٹا اور بےایمان گرادانا جائے گا ۔

سو اب تو یہ ایک معیار بن گیا کہ کسے حکمران ہونا چاہیے ۔

لیکن اوپر جو ہم نے اتنی طویل بحث کی ہے انسان کے نیک یا بد ہونے کے بارے میں، کیا اس کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں ۔ صاف بات ہے کہ یہ ایک قانونی بات ہے کہ جسے عدالت نے جھوٹا اور بے ایمان قرار نہیں دیا وہ جھوٹا اور بے ایمان نہیں ۔ مگر یہ واضح رہے کہ یہ قانونی اور آئینی معاملات کے ضمن میں ہے ۔ اخلاق اور اخلاقیاتی میدان میں یہ سند کام نہیں دے گی، اور پاکستان میں تو بالکل نہیں جہاں اخلاقیات اپنی موت آپ مر چکی ہے، بلکہ قانون اور آئین اشرافیہ کے گھر کی لونڈیاں بنے ہوئے ہیں ۔

کارل پاپر کے مطابق جو سوال اہم ہے اور اٹھایا جانا چاہیے تھا وہ یہ ہے کہ حکمرانی کیسے کی جائے، یا یہ کہ ایک ایسا نظام کیسے وضع کیا جائے کہ اگر بد یا برا بھی حکمران بن جائے تو وہ بہت زیادہ نقصان نہ پہنچا سکے ۔ تو بات اصل میں ہے ایک ایسے آئینی اور قانونی نظام کی جو بد اور برے حکمرانوں کو نقصان پہنچانے کے زیادہ مواقع فراہم نہ کرے ۔ جیسا کہ اس وقت یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر حمید ڈوگر والا سپریم کورٹ موجود ہوتا تو کیا خبر کیا قیامت برپا ہوتی ۔

مزید یہ کہ ایک بہتر آئینی اور قانونی نظام بذات ِ خود کافی نہیں ۔ اس کے کارگر اور قابل ِ عمل ہونے کے لیے با شعور شہریوں کے ساتھ ساتھ آزاد میڈیا اور بیدار سول سوسائیٹی بھی درکار ہے ۔

بحث کو سمیٹتے ہوئے کہ کہا جا سکتا ہے کہ حکمرانی کسی کا سیاسی، معاشی، اخلاقی، اور روحانی حق نہیں ۔ سیاسی سے مراد ہے کہ کسی سیاسی جماعت کا، جیسا کہ پاکستان میں کچھ سیاسی جماعتیں یہ سمجھتی ہیں کہ حکمرانی ان کا حق ہے؛ معاشی سے مراد یہ ہے کہ معاشی طور پر پسے ہوئے کسی طبقے کا، جیسا کہ سوشلسٹ اور کمیونسٹ یہ سمجھتے ہیں کہ حکمرانی مزدورں یا پرولتاریہ یا ان کی نمائندہ کمیونسٹ پارٹی کا حق ہے؛ اخلاقی سے مراد یہ ہے کہ اخلاقی طور پر ایمانداری کے کسی دعوےدار فرد یا گروہ کا، جیسا کہ اس وقت عمران خان اور ان کی تحریک ِ انصاف کا دعویٰ ہے؛ اور، روحانی سے مراد یہ ہے کہ کسی روحانی حثیت کی بنا پر حکمرانی کا دعویٰ کرنا، جیسا کہ کچھ مذہبی و روحانی گروہ ایسا سمجھتے ہیں ۔ مزید یہ کہ حکمرانی کسی بھی اعتبار سے کسی کا حق نہیں ۔

یہ ایک آئینی اور قانونی حق ہے جو ایک آئین اور قانون سے اخذ ہوتا ہے ۔ اور اس حق کو جیتنے یا حاصل کرنے کے لیے اس آئینی اور قانونی کسوٹی پر پورا اترنا پڑتا ہے ۔ اس بات کو یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ حکمرانی کا حق اصل میں افراد سے مینڈیٹ سے اخذ ہوتا ہے ۔ کسی ملک کے شہری واضح طور پر آئین میں درج شرائط کے تحت کسی پارٹی کو یہ حق یا اختیار محدود عرصے کے لیے دیتے ہیں ۔ اور اس حق اور اختیار کو شہریوں کے اعتماد سے ہی جیتا اور حاصل کیا جا سکتا ہے ۔

عمران خان اور ان کی تحریک ِ انصاف کو حکمرانی کا پانچ برس کے لیے حکمرانی کا حق اور اختیار حاصل کرنے لیے ایمانداری کا ڈھنڈورا پیٹ کر شہریوں کو گمراہ کرنے کے بجائے پاکستان کے شہریوں کا اعتماد جیتنے اور حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔

Follow the Blogger on Twitter: http://twitter.com/khalilkf
Join the Blogger on Facebook: Khalilkf@gmail.com
Send comments, feedback: urdublog@asinstitute.org

اردو مونو بلاگ ـ کچھ نئی پوسٹس

October 19th, 2011

یو ٹیوب چینل، اردو مونو بلاگ ـ سب کا پاکستان، پر اب تک چار نئے مونولاگ پوسٹ ہو چکے ہیں ۔

ان کی تفصیل کچھ اس طرح ہے :

پہلا مونولاگ پاکستان میں جاری خانہ جنگی جیسے حالات کے بارے میں ہے اور اس کا ذمے دار سیاست دانوں کو قرار دیتا ہے، اور انھیں بالخصوص آنے والے انتخابات کے تناظر میں جانچنے کی کوشش کرتا ہے ۔ اور اس بات پر توجہ دلاتا ہے کہ انتخابات سیاست دانوں کو کٹہرے میں لا کھڑے کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں، اور یہ کہ ہمیں اس موقعے سے پورا فائدہ اٹھانے کے لیے تیار ہونا اور تیار رہنا چاہیے ۔ اور سیاست دانوں کی جوابدہی کرنی چاہیے ۔

http://www.youtube.com/watch?v=t7t_mnEzNKM

دوسرا مونو لاگ اصل میں جنوری 2010 میں چینل فائیو پر ہونے والی ایک گفتگو پر مشتمل ہے ۔ اس کا موضوع دہشت گردی کے خلاف جنگ اور اس سے متعلق پاکستان، افغانستان اور امریکہ کے معاملات ہیں، جیسے کہ افغانستان سے امریکہ کی واپسی، اس کے نتائج و مضمرات، اور ایسے ہی معاملات ۔

http://www.youtube.com/watch?v=yiXLUHLiu_I

تیسرا مونولاگ اس مسئلے پر توجہ دیتا ہے کہ ہماری وابستگی ’’اصولوں‘‘ سے ہونی چاہیے، یا کسی شخصیت یا پارٹی سے ۔ مراد یہ کہ اگر ہماری وابستگی کسی سیاسی شخصیت سے ہے یا کسی سیاسی جماعت سے ہے، تو ہم اس کی ہر بات، غلط یا صحیح، کا جواز گھٹرنے کی کوشش کرتے ہیں، یا ان کی ہر ’غلط صحیح‘ بات کا دفاع کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اور فی الوقت پورے پاکستان میں یہی صورت ِ حال ہے ۔ جبکہ اگر ہماری وابستگی کسی اصول سے ہو تو ہم ہر سیاسی شخصیت یا پارٹی کی پالیسی یا اقدام کو اس اصول کی کسوٹی پر جانچیں گے، اور گمراہ نہیں ہوں گے ۔ بلکہ اسے بھی بڑھ کر یہ مونولاگ اس بات کی وکالت کرتا ہے کہ ہماری وابستگی سچائی کے ساتھ ہونی چاہیے، اور ہمیں کسی بھی حالت میں سچائی کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے ۔ اسی میں ہمارے ملک اور قوم کی نجات ہے ۔ جھوٹ پر کبھی کوئی قوم اور ملک استوار نہیں ہوئی ۔

http://www.youtube.com/watch?v=Oj0g91dAV2k

چوتھا مونولاگ ایک ایسے مسئلے کو موضوع ِ بحث بناتا ہے جس پر میڈیا اور سرکاری حلقوں میں کوئی سنجیدہ توجہ نہیں دی جاتی ۔ چھوٹے چھوٹے ٹریفک حادثات، جو ہماری نظروں کے سامنے اکثر واقع ہوتے رہتے ہیں، بہت اہمیت رکھتے ہیں، کیونکہ ان حادثات کا نشانہ بننے والے افراد کس اذیت اور نتائج کا شکار بنتے ہیں ہمیں اس کا اندازہ صرف اس وقت ہوتا ہے جب ہم خود کسی ایسے حادثے کا شکار ہوتے ہیں ۔ وجہ کیا ہے؟ ٹریفک کے قوانین تو موجود ہیں لیکن ان پر عمل نہیں کروایا جاتا ۔ یہ ایک عجیب معمہ ہے سمجنھے کا نہ سمجھانے کا کہ قوانین موجود ہیں، ٹریفک پولیس موجود ہے، لیکن ان پر عمل نہیں کروایا جا رہا ۔ پھر یہ ڈرائیونگ لائیسینس جتنی آسانی سے بن جاتا ہے اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ہمارے یہاں انسانی جان کو کسی قدروقیمت کا حامل نہیں سمجھا جاتا ۔

یہ مونولاگ تجویز کرتا ہے کہ ڈرائیونگ لائیسینس کی عمر 18 کے بجائے 21 سال کی جائے ۔ ٹریفک قوانین پر سختی سے عمل کروایا جائے ۔ بلکہ یہ مونولاگ اس مسئلے کو آنے والے انتخابات میں ایک انتخابی ایشو بنانے کی تجویز بھی دیتا ہے، تا کہ منتخب نمائندوں کو اس مسئلے کی سنگینی اور سنجیدگی کا احساس دلوایا جائے ۔ اور انھیں اس حوالے سے جوابدہ بنایا جائے ۔

http://www.youtube.com/watch?v=l4QKr6qtpOQ

Follow the Blogger on Twitter: http://twitter.com/khalilkf
Join the Blogger on Facebook: Khalilkf@gmail.com
Send comments, feedback: urdublog@asinstitute.org

پاکستان، اخلاقیات کا قبرستان کیسے بنا؟

October 9th, 2011

تاریخ میں جانا ضروری نہیں ۔ یہاں بس کچھ اہم چیزوں کی طرف اشارہ کرنا کافی ہو گا ۔

اول تو یہ کہ کسی کو شوق نہیں ہوتا کہ وہ اخلاقی اصولوں اور اقدار کو پامال کرے ۔ لیکن اسی طرح کسی میں یہ حوصلہ اور جرأت بھی نہیں ہوتی کہ وہ عام چلن کے برخلاف ان کی پابندی اور پاسداری کرے ۔

اس بات کو یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ اگر ایک معاشرے، ماحول میں پہلے سے اخلاقی اصولوں اور اقدار کو پامال کیا جا رہا ہے تو اکثریت بھی ایسا ہی کرنے لگے گی ۔ یعنی انھیں اس کا کوئی شوق نہیں تھا کہ وہ ایسا کریں، لیکن چونکہ اس معاشرے کے افراد کی ایک ’’معتد بہ تعداد‘‘ ایسا ہی کر رہی تھی، لہٰذا، اکثریت نے بھی ایسا ہی کرنا شروع کر دیا ۔

دوسری بات یہ کہ اس اکثریت میں اتنا حوصلہ اور جرأت نہیں تھی یا نہیں ہوتی کہ وہ تندی ِ بادِ مخالف کا مقابلہ کرے، اور اخلاقی اصولوں اور اقدار کی پابندی اور پاسداری کرے ۔ ہاں، چند ایک سرپھرے ہوتے ہیں، ہو سکتے ہیں، جو یہ روگ پالے رہتے ہیں ۔

مگر یہ بات بھی واضح ہے کہ اکثریت ایسی نہیں ہوتی ۔ اور غالباً اس سے ایسی توقع بجا بھی نہیں ۔

مگر یہ اکثریت ایسی کیوں نہیں ہوتی، اور اس سے ایسی توقع بجا کیوں نہیں؟

بات یہ ہے کہ بالعموم یہ اکثریت ’’پیروکار‘‘ نوعیت کی ہوتی ہے ۔

انھیں ’’پیروکار‘‘ نوعیت کا نہیں ہونا چاہیے، یہ میری قوی رائے ہے ۔

لیکن حقیقت یہی ہے کہ اکثریت کو ’’مثالیں،‘‘ ’’نمونے،‘‘ اور ’’رول ماڈیل‘‘ درکار ہوتے ہیں ۔ کیوں؟ اس لیے کہ یہ خود ’’مثال،‘‘ ’’نمونہ،‘‘ اور ’’رول ماڈیل‘‘ نہیں بننا چاہتے، ڈرتے ہیں ۔

’’مثال،‘‘ ’’نمونہ،‘‘ اور ’’رول ماڈیل‘‘ بننے کے لیے جو قربانی دینی پڑتی ہے، جو قیمت ادا کرنی پڑتی ہے، یہ وہ قربانی نہیں دینا چاہتے، وہ قیمت ادا نہیں کرنا چاہتے ۔

یہ بات نہیں کہ یہ ایس نہیں کر سکتے ۔ یہ ایسا کر سکتے ہیں ۔ لیکن ڈرتے ہیں ۔ جیسا کہ ظاہر ہے کہ اس میں محنت زیادہ لگتی ہے ۔

اور غالباً اسی وجہ سے، اور اپنی اسی کمزوری کو چھپانے کے لیے، یہ خود کو یہ باور کروا لیتے ہیں کہ ہم معمولی لوگ ہیں، ہم مثال، نمونہ، اور رول ماڈیل نہیں بن سکتے ۔ غیرمعمولی نہیں بن سکتے ۔

سو، یہ لوگ، یہ اکثریت، خود سے باہر مثالیں، نمونے، اور رول ماڈیل تلاش کرتی ہے ۔ اور ان کی پیروکار بن جاتی ہے ۔ ان کے تصور اور ایمیج کے اندر پناہ ڈھونڈ لیتی ہے ۔ ڈرے ہوئے لوگ!

اب اس بات کی طرف آتے ہیں کہ وہ معاشرہ، ماحول کیسے بنتا ہے جس میں یہ اکثریت اسی سمت بہتی رہتی ہے جدھر یہ معاشرہ، ماحول بہ رہا ہو ۔

یہاں مجھے کچھ اسی طرح کی ایک بات یاد آتی ہے جو کافی عرصہ پہلے اسی تناظر میں لکھی تھی: معاشرہ بنانے والے لوگ اب کہاں؛ ہاں، وہ لوگ ہیں جنھیں معاشرے نے بنایا ہے ۔

اصل میں یہ مثالیں، نمونے اور رول ماڈیل ہی ہوتے ہیں جو معاشرہ، ماحول بناتے ہیں ۔اور اکثریت انھیں مثالوں، نمونوں اور رول ماڈیلوں کی پیروی کرتی رہتی ہے ۔

تو، پاکستان کے معاشرے، ماحول میں کیسی مثالیں، نمونے اور رول ماڈیل پائے جاتے ہیں، آئیے اس پر ایک نظر ڈالتے ہیں ۔

سیاست، حکومت، عدل، مذہب، فوج، پولیس، کاروبار، علم، تعلیم، درس گاہیں، اخبار، میڈیا، فلم، زندگی کے ہر شعبے، ہر ادارے میں لیڈر، رہنما، ممتاز شخصیات، سرکردہ افراد موجود ہیں ۔ یہ پاکستان کے معاشرے، ماحول کے لیے مثالیں، نمونے، اور رول ماڈیل ہیں ۔

یہ مثالیں، نمونے، اور رول ماڈیل، کیا ہیں، اور کیسے ہیں، آپ بھی، میں بھی، ہم سب اچھی طرح جانتے ہیں ۔

پاکستان میں اخلاقیات کی جڑیں، انھیں مثالوں، نمونوں اور رول ماڈیلوں نے کاٹی ہیں ۔ انھوں نے اخلاقی اصولوں اور اقدار کو بڑی بے دردی سے پامال کیا ہے ۔

تو، باقی اکثریت نے انھیں مثالوں، نمونوں، اور رول ماڈیلوں کی پیروی کی، اور کر رہی ہے ۔

یوں سمجھ لیں کہ پاکستان میں مثالوں، نمونوں، اور رول ماڈیلوں کی اقلیت نے اخلاقیات کا جنازہ نکال دیا، اور جب اکثریت ان کے نقش ِ قدم پر چلنے لگی، تو پاکستان، اخلاقیات کا قبرستان بن گیا ۔

ایک بات اور ۔ اور یہ بھی مذکورہ بالا نظریے کو تقویت پہنچاتی ہے ۔ یہ لائینیں، مجھے تو یہی یاد پڑتا ہے کہ فاطمہ جناح سے منسوب بہت عرصہ پہلے میں نے کہیں پڑھی تھیں:

Corruption is just like snow
It falls on the cliffs of the hills
And melts down below

مطلب یہ کہ کرپشن، بد عنوانی برف کی طرح ہے ۔ یہ پہاڑوں کی چوٹیوں پر گرتی ہے، اور وہاں سے نیچے کی طرف بہ آتی ہے ۔

اخلاقی اصولوں اور اقدار سے انحراف اور ان کی پامالی کا عمل بھی اسی طرح ہے ۔ یہ اوپر سے شروع ہوتا ہے، اور نیچے اور اطراف کی طرف بہ آتا ہے ۔ یہ سرطان، سر سے شروع ہو کر سارے جسم میں پھیلتا ہے ۔

دوسری اہم بات ۔ یہ ’’اوپر‘‘ یا ’’پہاڑ کی چوٹی‘‘ کیا ہے، جہاں برف گرتی ہے اور پھر نیچے اور اطراف کو بہ نکلتی ہے ۔

یہ ’’اوپر‘‘ اور ’’پہاڑ کی چوٹی‘‘ وہی مثالیں، نمونے، اور رول ماڈیل ہیں، اکثریت جن کی پیروی کرتی ہے ۔

درست، مگر ان مثالوں، نمونوں، اور رول ماڈیلوں میں ’’سر‘‘ کون ہے ۔ یعنی اس ’’اوپر‘‘ اور ’’پہاڑ کی چوٹی‘‘ میں سے ’’اوپر‘‘ اور ’’پہاڑ کی چوٹی‘‘ کون ہے ۔

مراد یہ کہ جو مثالیں، نمونے، اور رول ماڈیل جو اوپر گنوائے گئے ہیں، یعنی سیاست، حکومت، عدل، مذہب، فوج، پولیس، کاروبار، علم، تعلیم، درس گاہیں، اخبار، میڈیا، فلم ـ یعنی پاکستان میں زندگی کے ہر شعبے، ہر ادارے میں سے ’’پہاڑ کی چوٹی‘‘ کون ہے، وہ ’’سر‘‘ کون ہے جہاں سے سرطان نیچے کی طرف پھیلا ہے، اور پھیلے چلا جا رہا ہے ۔

یہ سوال کوئی بہت زیادہ پیچیدہ نہیں، لیکن اہم بہت ہے ۔ ہمیں اس پر متوجہ ہونا، اور متوجہ رہنا چاہیے ۔

اس سوال کا جواب کسی معاشرے، ماحول کی نوعیت پر منحصر ہے ۔ یعنی کسی معاشرے، ماحول میں زندگی کے مختلف شعبوں اور اداروں کا ترکیبی بندوبست کس طرح کا ہے ۔ کونسا شعبہ یا/اور ادارہ باقی شعبوں یا/اور اداروں پر حاوی ہے ۔ یا ہر شعبہ یا/اور ادارہ اپنے اپنے دائرے میں آزاد اور خود مختار ہے ۔

اگر کسی معاشرے، ماحول میں شعبے اور ادارے اپنے اپنے دائرے میں آزاد اور خود مختار ہیں تو اس کی ترکیبی نوعیت، آئین پسندانہ، جمہوری، اور قوانین و ضوابط کی عملداری پر مبنی ہو گی ۔ یہ پاکستان کی مثال قطعاً نہیں ۔

اور اگر کسی معاشرے، ماحول میں کوئی ایک شعبہ یا/اور ادارہ، دوسرے شعبوں یا/اور اداروں پر حاوی ہے، تو اس کی ترکیبی نوعیت، آئین دشمن، غیر جمہوری یعنی اتھاریٹیرین (حاکمانہ، شاہانہ، اور آمرانہ) ہو گی ۔ اس صورت میں یہاں اس اضافے کی ضرورت نہیں کہ اس کی نوعیت، قوانین و ضوابط کی تضحیک پر مبنی ہو گی، کیونکہ حاکمانہ، شاہانہ، اور آمرانہ کا مطلب یہی ہے ۔ یہ پاکستان کی مثال نہیں ۔ بلکہ پاکستان اس کی مثال ہے ۔

یہاں لمبی بحث میں جائے بغیر میں یہ واضح کرنا چاہوں گا کہ پاکستانی معاشرے، ماحول کی ترکیبی نوعیت میں ’’سیاست‘‘ باقی تمام شعبوں اور اداروں پر حاوی ہے ۔

چونکہ پاکستان کے قریب قریب سو فیصد دانشور، تجزیہ کار، کالم نگار، وغیرہ، اور اسی طرح خود سارے سیاستدان یہ سمجھتے ہیں، اور بہت عرصے سے یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ پاکستان میں ’’فوج‘‘ تمام شعبوں اور اداروں پر حاوی و غالب ہے، لہٰذا، یہاں اس بات کا دفعیہ کرنا ضروری ہے ۔

اول تو یہ کہ سیاستدان اگر یہ کہتے ہیں کہ فوج تمام شعبوں اور اداروں پر حاوی ہے تو ان کی بات سمجھ میں آتی ہے، کیونکہ یہ اپنے تئیں یہ سمجھتے ہیں کہ فوج ان پر حاوی ہے ۔ مگر پاکستان کے باقی تمام دانشور، تجزیہ کار، کالم نگار، خواہ وہ دائیں بازو سے تعلق رکھتے ہیں یا اس سے منسلک ہیں، یا بائیں بازو سے، اگر یہ بہ اصرار ایسا سمجھے جا رہے ہیں تو یہ بات غور طلب بن جاتی ہے ۔

غور طلب اس لیے کہ وہ اصل مجرم کی نشاندہی سے قاصر کیوں ہیں ۔ یا یہ کہ سیاستدانوں نے ایک ’’لائن‘‘ دے دی، اور وہ اس لائن کی لکیر کے فقیر بن کر رہ گئے ہیں ۔

لیکن اس معاملے کو اس طرح بیان نہیں کرنا چاہیے ۔ یقیناً سیاستدانوں نے ’’لائن‘‘ دی ہو گی ۔ انھوں نے انھیں اور اپنے ووٹروں کو گمراہ کرنے کے لیے ایک نظریہ، ایک شوشہ چھوڑا ہو گا ۔ یہ ان کا کام ہے ۔ جناب صدر زرداری نے شروع سے اب تک کتنے شوشے چھوڑے ہیں اور بے چارے دانشوروں، تجزیہ کاروں، کالم نگاروں کو کتنا مصروف رکھا ہے ۔

خیر، چلیں چند دانشوروں نے سیاستدانوں کی دی گئی لائن کو دل سے لگا لیا ہو گا ۔ لیکن ہمیں باقی دانشوروں کو اسی ایک باسکٹ میں نہیں ڈال دینا چاہیے ۔ یہ ناانصافی ہو گی ۔

چلیں یہ مان لیتے ہیں، یہ دانشور، یہ سارے دانشور، بزعم ِ خود یہ سمجھتے ہیں کہ فوج وہ ادارہ ہے جو باقی تمام شعبوں اور اداروں پر حاوی ہے ۔

یہ دانشور اپنے اس نظریے کے حق میں یہ دلائل و شواہد پیش کرتے ہیں:

فوج نے مارشل لا لگائے ۔ فوج نے سیاست میں مداخلت کی ۔ فوج نے سیاستدان پیدا کیے اور مارے ۔ فوج نے ریاستی اور حکومتی معاملات میں مسلسل اور مستقلاً ’’گھس بیٹھیا پن‘‘ کیا ۔ فوج نے خارجہ پالیسی پر قبضہ کیا ۔ فوج نے دفاعی پالیسی پر قبضہ کیا ۔

درست، یہ ساری باتیں حقائق پر مبنی ہیں ۔ دانشوروں کو سلام!

لیکن کیا یہ کہنا بھی درست نہیں ہو گا کہ حقائق خود کوئی سمت، کوئی معنی نہیں رکھتے ۔ انھیں سمت ہم دیتے ہیں، انھیں معنی ہم دیتے ہیں ۔ مگر اپنی مرضی اور پسند سے نہیں، بلکہ قوانین اور ضوابط کے ایک نظام کے تحت ۔

یہاں میں بہت زور دے کر یہ بات کہنا چاہوں گا کہ ہم حقائق کو کسی ’’نظام ِ فکر‘‘ کے تحت سمت اور معنی نہیں دیتے ۔ ایسا کرنا بد نیتی اور بد دیانتی ہے ۔ اس پر بات پھر کبھی ہو گی ۔

تو، پاکستان کا قوانین اور ضوابط کا نظام کیا ہے؟ یہ اس کا آئین ہے ۔ ہمیں اسے سامنے رکھ کر حقائق کو سمت اور معنی دینے ہیں ۔

آپ کہیں گے کہ پاکستان بننے کے بعد پچیس چھبیس برس تک تو کوئی آئین تھا ہی نہیں ۔ بلکہ اس دوران آئین بنانے اور توڑنے کا ایک تماشا لگا ہوا تھا ۔ تو جب کوئی آئین تھا ہی نہیں، تو پھر حقائق کو سمت اور معنی کیسے دئیے جائیں گے ۔

تسلیم، یہ آئین بنانا کس کا کام تھا ۔ کیا یہ آئین بنانا فوج کا کام تھا ۔ آئین بنانا بھی تو سیاستدانوں کی ذمے داری تھی ۔ پاکستان انھوں نے بنایا تھا ۔ پاکستان، فوج نے تو نہیں بنایا تھا ۔ سو، آئین بھی انھی سیاستدانوں کو بنانا چاہیے تھا ۔

چلیں، 73 کے بعد سے تو جیسا تیسا آئین موجود ہے ۔ حقائق کو اس کی مدد سے سمت اور معنی دیجیے ۔

کیا 73 کے آئین کے مطابق:

ـ فوج کا کام مارشل لا لگانا ہے
ـ فوج کا کام سیاست میں مداخلت کرنا ہے
ـ فوج کا کام سیاستدان پیدا کرنا اور مارنا ہے
ـ فوج کا کام ریاستی اور حکومتی معاملات میں مسلسل اور مستقلاً ’’گھس بیٹھیا پن‘‘ کرنا ہے
ـ کیا خارجہ پالیسی بنانا فوج کا کام ہے
ـ کیا دفاعی پالیسی بنانا فوج کا کام ہے

آئین کی تھوڑی سے شد بد رکھنے والا بھی ان تمام باتوں سے انکار کرے گا ۔

تو، یہ سارے دانشور یہ اصرار کیوں کرتے ہیں کہ یہ سارے کام فوج کی ’’ذمے داری‘‘ تھے ۔ مراد یہ کہ یہ سارے کام فوج نے کیے ۔

ان دانشوروں کو اس سوال کا جواب دینا چاہیے، اور یہ ضروری ہے، کہ فوج کو ان تمام کاموں سے روکنا کس کی ذمے داری تھی ۔

میں پورے ہوش و حواس کے ساتھ یہ سمجھتا ہوں کہ 73 کے آئین کی رو سے فوج کو ان تمام کاموں سے روکنا سیاستدانوں کی ذمے داری تھی، اور ہے ۔

ایک اور ’’مجرم‘‘ کا نام لیا جاتا ہے ۔ اور یہ آئینی اور قانونی اعتبار سے مجرم ہے بھی ۔ یہ ہے عدلیہ ۔ ہاں، اس نے فوج کو جواز مہیا کیے ۔ اس کا آئینی اور قانونی احتساب ہونا چاہیے، اور ہونا چاہیے تھا ۔ لیکن یہ احتساب کس نے کرنا تھا، عدلیہ کو قانون کے شکنجے میں کس نے لانا تھا ۔ سیدھا سا جواب ہے کہ سیاستدانوں نے ۔

تو کیا سیاستدانوں نے ایسا کیا ۔ آپ کے سامنے ہے ۔ ایسا کرنا تو درکنار، انھیں تو خود ’’جیبی عدلیہ‘‘ درکار تھی جو ان کے غیرآئینی اور غیرقانونی کاموں میں رکاوٹ نہ بنے ۔ ڈوگر کورٹ کس کی پسند تھا ۔

اور اگر عدلیہ نے کچھ غیرت اور جرأت دکھا دی تو سیاستدانوں نے اس کے ساتھ کیا کیا ۔ مارچ 2007 کے بعد سے معذول ججوں کی بحالی تک سیاسی جماعتوں کا کیا کردار رہا ۔ سوائے مسلم لیگ (ن) کے، جس نے عدلیہ کی بحالی کی تحریک کا ساتھ دیا ۔

آپ کوئی دلیل تراش لیں، کوئی شہادت کھڑی کر لیں، اصل اور حقیقی مجرم، سیاستدان ہیں ۔ اس کی مزید تفصیل کے لیے دیکھیے:

پاکستان کے مجرم: http://www.hum-azad.org/blog/?p=169

ذمے داری کا تانا بانا: http://www.hum-azad.org/blog/?p=190

تو اب پھر واپس آتے ہیں اپنی اس بات کی طرف کہ پاکستان کے تمام ’’سروں‘‘ اور ’’چوٹیوں‘‘ میں سے حاوی اور غالب، شعبہ یا ادارہ کونسا ہے ۔ جیسا کہ اوپر واضح ہوا، یہ سیاست ہے ۔ یعنی وہ مثال، نمونہ، اور رول ماڈیل سیاستدان ہیں، پاکستان کی اکثریت نے جن کی پیروی کی ۔

سیاستدان وہ ’’سر‘‘ ہیں جہاں سے اخلاقیات کی پامالی اور قتل کا سرطان نیچے اور اطراف تک پھیلا اور پھیل رہا ہے ۔ نیچے سے مراد اکثریت ہے جس نے سیاستدانوں کو ایک مثال، نمونہ، اور رول ماڈیل سمجھا اور ان کی پیروی کی ۔

اور اطراف سے مراد دوسرے شعبے اور ادارے ہیں جہاں تک اس سرطان کی جڑیں پھیلیں اور پھیل رہی ہیں ۔

یہاں ایک بات واضح کر لیجیے ۔ سیاستدانوں کو یا کسی کو بھی، ایک مثال، نمونہ، اور رول ماڈیل بنا کر، یا سمجھ کر اس کی پیروی کرنا اور اس جیسا ہونے کی کوشش کرنا، مکمل طور پر کوئی دانستہ اور سوچا سمجھا عمل نہیں ۔ یہ زیادہ تر غیر شعوری طور پر وقوع پذیر ہوتا ہے ۔ اور مجبوراً بھی ۔ اکثریت کے لیے یہی بات درست ہے ۔

اگر آپ کو خود کو اکثریت میں شمار نہیں کرتے تو سوچیے کہ آپ نے کیا کیا ۔

یہ تو ہوا ایک پہلو اس بات کا کہ زندگی کے ہرشعبے اور ہر ادارے پر سیاست، حاوی ہے ۔ اور یہیں سے برف نیچے کی طرف بہی ۔

اس بات کا ایک پہلو اور بھی ہے: یہ کہ سیاست، زندگی کے عوامی (پبلک) اور نجی (پرائیویٹ) شعبوں پر نہ صرف حاوی ہے، بلکہ اتنی دخیل ہے کہ اس نے ہر شعبے اور ہر ادارے کا تانا بانا بکھیر کر رکھ دیا ہے ۔ اس کی آزاد اور خود مختارانہ حیثیت کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا ہے ۔ یہی نہیں، بلکہ سیاست نے ہر شعبہ ہائے زندگی اور ہر ادارے کو سیاست کا اکھاڑہ بنا کر اس کی مٹی پلید کر دی ہے ۔

اور یہ چیز جناب صدر صاحب میں ’’روح ِ عصر‘‘ کی صورت میں تجسیم پا گئی ہے ۔

سیاست کے ہاتھوں ہر چیز کی تباہی کی مثالیں اور مظاہرے ہمارے سامنے بکھرے پڑے ہیں ۔ کیا کچھ دہرایا جائے ۔ ہاں، ایک بات بہت ’’فصیح و بلیغ‘‘ یاد آ رہی ہے ۔

ایک واقعہ بہت پریشان کرتا ہے ۔ اس میں مضحکہ خیزی بھی ہے ۔ یہ المناک بھی ہے ۔ عبرتناک بھی ہے ۔ خوفناک بھی ہے ۔ قاتل بھی ۔ اور اس پر ہنسی بھی آتی ہے ۔

جب میں کلر سیداں (تحصیل کہوٹہ، ضلع راولپنڈی) میں ایک کالج سے وابستہ تھا تو وہاں نیشنل سیونگ سینڑ کے انچارج لیاقت صاحب تھے ۔ ان سے بھی ملنا جلنا تھا ۔ ایک دن انھوں نے انتہائی استہزائیہ انداز میں بتایا کہ آج بڑی عجیب و غریب بات ہوئی ۔

ایک آدمی سینڑ میں آیا ۔ وہ اکاؤنٹ کھلوانا چاہتا تھا ۔ اس نے بتایا کہ وہ ایک پرائمری سکول میں ٹیچر ہے ۔ میں نے اپنے ایک کولیگ سے کہا اس کا فارم تیار کر دو ۔ اس نے فارم بھر کر مجھے دے دیا ۔ میں نے دستخط کے لیے فارم اس آدمی کے سامنے رکھا ۔ وہ کہنے لگا: میں دستخط نہیں کر سکتا، انگوٹھا لگوا لیں ۔

لیاقت صاحب نے اس سے پوچھا کہ وہ تو ٹیچر ہے ۔ وہ چپ کر گیا ۔ مزید پوچھنے پر اس نے بتایا کہ وہ پڑھا لکھا بالکل نہیں ۔ اس کا کہنا تھا کہ اسے ایک ایم پی اے نے بھرتی کروا دیا تھا ۔ اسے نوکری چاہیے تھی ۔

یہ بالکل ہو سکتا تھا کہ اسے کسی ایم پی اے کے بجائے، جیسے کہ کسی بیوروکریٹ نے بھرتی کروایا ہوتا ۔ لیکن، بہر صورت، اس انحطاط اور اس انحطاط کے تدارک کی ذمے داری سیاستدانوں کے علاوہ کسی اور کے کاندھوں پر نہیں ڈالی جا سکتی ۔

اب، اتنی گفتگو کے بعد اگر یہ کہا جائے کہ یہ سارا کیا دھرا سیاستدانوں کا ہے تو اس میں اتنی اچنبھے کی بات نہیں ہونی چاہیے ۔ پاکستان کو اخلاقیات کا قبرستان ان سیاستدانوں نے بنایا ہے ۔ یہی وہ مثال، نمونے، اور رول ماڈیل ہیں جنھوں نے اکثریت سے اخلاقی اصولوں اور اقدار کی پامالی کروائی ۔

ان سے پوچھنا ہو گا ۔ انھیں جوابدہ بنانا ہو گا۔ ان سے حساب لینا ہو گا ۔ ان کا حساب لینا ہو گا ۔

انتخابات آنے والے ہیں ۔ ان کے لیے کٹہرے تیار کیجیے ۔ ان کے اعمال کا کچا چٹھا کھولیے ۔ ان پر جرح کیجیے ۔ انھیں ان کے جرائم گنوائیے ۔ ان کی جیبیں کھنگالیے ۔ ان کے ذہن اور دماغ جھنجھوڑئیے ۔ وہاں بھرا ہوا جھوٹ باہر نکالیے ۔

ان سیاستدانوں کی جوابدہی کیجیے ۔ ایسی جوابدہی جسے یہ کبھی بھول نہ پائیں ۔ اور جب یہ آپ کے ووٹ لے کر اسیمبلیوں میں جائیں، اور حکومت میں جائیں، تو یہ آپ کو بھول نہ پائیں ۔ آئین، قانون اور اخلاقیات کو بھول نہ پائیں ۔

ان کی ایسی جوابدہی کیجیے جو ایک مثال اور نمونہ بن جائے ۔ اور یہ آئین، قانون اور اخلاقیات سے ذرہ بھر انحراف نہ کر پائیں ۔

انتخابات آ رہے ہیں ۔ سیاستدانوں کے لیے کٹہرے تیار کیجیے!

Follow the Blogger on Twitter: http://twitter.com/khalilkf
Join the Blogger on Facebook: Khalilkf@gmail.com
Send comments, feedback: urdublog@asinstitute.org

پاکستان نے مجھے کیا دیا؟

October 8th, 2011

آپ کو یہ سوال کچھ عجیب سا لگے گا ۔ یہ سوال اٹھانے والا کچھ ’’خود پسند‘‘ محسوس ہو گا ۔ لیکن یقین کیجیے، یہ سوال بہت اہم ہے ۔ اس سوال کو اٹھانا بہت اہم، اور اس سوال کا جواب لینا، بنانا، ڈھونڈنا بہت اہم ہے ۔

اصل میں ابتداً تو ریڈیو پاکستان، پی ٹی وی، اور اردو اخبارات، بالخصوص نوائے وقت مائنڈ سیٹ، نے ایک ایسا جال بُنے رکھا، کہ کسی عام پاکستانی شہری کو یہ سوال اٹھانے کی سوجھی ہی نہیں ۔ وہ بے چارے اسی بوجھ تلے دبے رہے کہ وہ پاکستان کو کیا دے رہے ہیں ۔ وہ بے چارے حُب الوطن بھی ہیں یا نہیں ۔ حُب الوطنی کے تقاضے پورے کرنے کے قابل بھی ہیں یا نہیں ۔

یہ سوال اٹھانا انھیں یاد ہی نہیں رہا ۔ وہ بے چارے انڈیا مخالف گھڑی گئی ’’حب الوطنی‘‘ کے معیار تک بلند ہونے میں ختم ہو گئے ۔ پھر امریکہ دشمنی بھی حب الوطنی کا عنصر بن گئی ۔ دو قومی نظریہ، اور نظریہء پاکستان تو پہلے ہی اس کے لازمی عناصر قرار پا چکے تھے ۔ آہستہ آہستہ فوج کی غیر مشروط حمایت بھی حب الوطنی کا ایک اہم عنصر ٹھہری ۔ یہ ایسے بوجھ تھے جو دماغ کو ماؤف کر گئے ۔

یہ تو کچھ فکری اور سیاست سے متعلق بات رہی ۔ مگر یہ بے چارے عام شہری حب الوطنی کے گٹھڑ سر پر اٹھائے، ہر طرح کے ٹیکس بھی ادا کرتے رہے ۔ یہ حکمران طبقوں، اشرافیہ، اور خواص کے حصے کے ٹیکس بھی ادا کرتے رہے ۔

پر یہ خود کبھی کسی ٹیکس چھوٹ سکیم سے فائدہ نہ اٹھا سکے ۔ ان کے لیے کوئی سکیم بنی ہی نہیں ۔ اور ان پر ٹیکسوں کا بوجھ ہمیشہ بڑھتا ہی رہا ۔ یہ پاکستان کو بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ پاکستان کے حکمران طبقات، اشرافیہ اور خواص کو دینے میں ہی لگے رہے ۔ یہ پاکستان انھیں کیا دے سکتا تھا ۔ جان و مال اور عزت و وقار کا تحفظ بھی نہ دے سکا ۔

میں بھی انھیں عام پاکستانی شہریوں میں شامل ہوں ۔ اور ہم سب ساٹھ چونسٹھ سال سے اس طرح کے بہت سے بوجھوں کے لادو جانور بنے رہے ہیں ۔ اب بھی بنے ہوئے ہیں ۔

پاکستان نے مجھے کیا دیا، پہلی دفعہ مجھے اس سوال نے تب بہت پریشان کیا جب میں نے کالج جانا شروع کیا ۔ سکول کے وقت اس لیے نہیں کہ ہم سکول بہت خوشی سے پیدل جایا کرتے تھے ۔ میں اب بھی پیدل چلنا پسند کرتا ہوں ۔ (ہمیں اس پیدل چلنے کے کلچر کا احیا کرنا چاہیے!)

ہوا یہ کہ سکول گھر سے بہت قریب تو نہیں، پھر بھی قریب تھا (ہمیں اپنے بچوں کو قریبی سکولوں میں بھیجنا چاہیے، تا کہ انھیں سفر کی مشقت سے نجات ملے اور وہ پیدل چلنے کا لطف اٹھائیں اور تروتازہ بھی رہیں!) ۔ جبکہ کالج خاصا دور تھا (پھر بھی میں کبھی بہ امر ِ مجبوری اور کبھی اپنی مرضی سے پیدل بھی آ جایا کرتا تھا) ۔ اور پبلک ٹرانسپورٹ کا اس وقت بھی وہی حال تھا جو نئی فلم کے پہلے شو پر سینیما ہال کا ہوتا تھا ۔ تب فلمیں اور سینیما ہال سماجی زندگی کا بھر پور حصہ تھے ۔

کالج جانا اور پھر گھر واپس آنا ایک ایسا بوجھ محسوس ہوتا تھا جو اٹھائے نہ اٹھتا تھا ۔ میں سوچتا تھا کسی ایک جگہ قائم ہو جاؤں ـ کالج یا گھر ـ مگر یہ ممکن نہ تھا ۔

خیال آتا تھا کہ کیا عام شہریوں کو پبلک ٹرانسپورٹ مہیا کرنا حکومت کے لیے کسی بہت بڑے کار ہائے نمایاں کے برابر ہے ۔

جو حکومت، جو ملک اپنے شہریوں کے لیے اتنا سا کام نہیں کر سکتا، اسے کیا کہا جائے، اسے کیا نام دیا جائے ۔

آپ کہیں گے یہ حکومت اور ملک، برابر کیسے ہو گئے ۔ بھئی آپ اور میں تو مُلک نہیں ۔ یہ حکومت ہے جو ملک بناتی اور بگاڑتی ہے ۔ ہم تو اس بنے بگڑے ملک میں اپنی سی زندگی گزارنے پر مجبور ہوتے ہیں ۔

پاکستان نے مجھے کیا دیا، دوسری مرتبہ اس سوال نے مجھے تب ستایا جب پہلی مرتبہ مجھے پاکستان سے باہر جانے کا موقع ملا ۔ یہ بات نہیں کہ یہاں پاکستان میں ایسی چیزیں نہیں تھیں یا ختم ہو گئی تھیں، کہ یہ سوال تنگ نہیں کرتا تھا ۔ اصل میں پاکستان میں رہتے رہتے آدمی، ایسی ایسی چیزوں کا عادی ہو جاتا ہے کہ اسے خود پر حیرانی بھی ہوتی ہے اور پریشانی بھی ۔ تو میرے ساتھ بھی یہی ہوا تھا ۔

جیسے جیسے پاکستان سے باہر جانے کے مزید مواقع ملے، یہ سوال بڑا اور اہم ہوتا گیا: پاکستان نے مجھے کیا دیا ۔

کہیں پاکستانیوں کی علیٰحدہ قطار بنوا دی جاتی تھی ۔ کہیں انھیں مشکوک نظروں سے دیکھا اور مشکوک ہاتھوں سے ٹٹولا جاتا تھا ۔ کہیں ایسا سلوک روا رکھا جاتا تھا کہ اگر ممکن ہو تو ان کے ذہنوں اور دماغوں کو کھول کر ان کی تلاشی بھی لے لی جائے ۔ سارے جسم کو اور جسم میں پھرتے سارے خون کو اندر سے بھی کھنگال لیا جائے ۔

باہر جا کر ہاتھ میں تھما ہوا پاکستانی پاسپورٹ کسی چھٹے ہوئے مجرم کا ’’نامہء اعمال‘‘ محسوس ہوتا ہے ۔

پاکستان نے مجھے یہی دیا ۔ باہر کی دنیا مجھ نامعلوم حقیر فقیر بلکہ ہر عام پاکستانی شہری کو کیا جانے ۔ وہ تو اسے ’’پاکستانی‘‘ کے شناخت دیتے ہیں ۔ اور پاکستانی کی شناخت، ایک پاکستانی کو کیا دیتی ہے، جتنے پاکستانی بھی باہر گئے ہوں گے، وہ اس سے بخوبی واقف ہوں گے ۔

چلتے چلتے اس تحریک کا حال بھی سن لیجیے جو اس پوسٹ کا موجب بنی ۔

ابھی ستمبر کے آخر میں ترکی جانے کا اتقاق ہوا ۔ ترکی ان مسلمان ممالک میں سے ہے جو پاکستانی شہریوں کے حوالے سے بہت ’’دوستانہ‘‘ سمجھے جاتے ہیں ۔ ترکی کی وزارت ِ خارجہ کے مطابق ان پاکستانیوں کو پاکستان میں ترک ایمبیسی سے ویزا لینے کی ضرورت نہیں، جن کے پاسپورٹ پر امریکی یا برطانوی ویزا درج ہے ۔ انھیں ترک ایئر پورٹ پر ایک ماہ کا ویزٹ ویزا دے دیا جاتا ہے ۔

دو باتیں ۔ پہلی تو یہ کہ امریکہ اور برطانیہ نے اپنے شہریوں کو کیا دیا، واضح ہے ۔ دوسری بات یہ کہ امریکہ اور برطانیہ نے پاکستانی شہریوں کو بھی یہ عزت دلوائی کہ اگر ان کے پاس امریکی یا برطانوی ویزا موجود ہے تو انھیں ایئر پورٹ پر ایک اور ملک کا ویزا مل سکتا ہے ۔ اس بات کو یوں کہ سکتے ہیں کہ امریکی اور برطانوی ویزا ایک معیار قرار پا گیا ۔

خیر، جب میں اس زعم کے ساتھ کہ مجھے ایئر پورٹ پر ویزا مل جائے گا، اتا ترک انٹر نیشنل ایئر پورٹ پر اترا تو اچھی خاصی تسلی ہو گئ ۔ امریکی اور برطانوی پاسپورٹ اور ویزا ایک معیار ہو گا، لیکن پاکستانی پاسپورٹ بھی ایک ’’معیار‘‘ ہے ۔ ایمیگریشن کے لونڈوں نے سب پاکستانیوں کو، کچھ اور قومیتوں سمیت، جدا کر کے دور کھڑا کر دیا ۔ اس بات کی کوئی تمیز نہیں تھی کہ کس نے یہاں ایئر پورٹ سے ویزا لینا ہے اور کون پیچھے سے ترکی کا ویزا لے کر آیا ہے ۔

پاکستانی ’’معیار‘‘ نے امریکی اور برطانوں معیار کو نفی کر دیا ۔ (ہم ہیں ہی نفی کرنے والے، ورلڈ ٹریڈ سینٹر جیسی عمارت بنا تو نہیں سکتے، ہاں اسے انسانوں سے بھرے جہاز ٹکرا کر مسمار تو کر سکتے ہیں!) ۔ اس نفی کے عمل میں تین گھنٹے سے زیادہ کی مشقت شامل تھی ۔ بے توقیری اور بے یار و مددگار ہونے کا احساس تو صدیوں پر محیط معلوم ہو رہا تھا ۔

ایک وزیٹر نے قانون کی زبان بولنے کی کوشش کی ۔ کہا: میرے پاس تو ویزا ہے، مجھے کیوں جانے نہیں دیتے ۔ ایمیگریشن لونڈے لال پیلے ہو گئے ۔ انچارج لونڈا بولا: میرا ملک ہے، تمہارے پاس ویزا ہے یا نہیں، یہ میری مرضی ہے کہ میں تمہیں اپنے ملک میں داخل ہونے دوں یا نہیں ۔

اس ایمیگریشن لونڈے نے درست کہا تھا ۔ جو ملک قانون کے تحت چلتے ہیں، افراد کی پسند اور ناپسند، یا ان کی مرضی، کے تحت نہیں، وہ معیار بنتے ہیں اور اپنے ہی نہیں دوسرے ملکوں کے شہریوں کو بھی کچھ دیتے ہیں ۔ جو ملک قانون کے تحت نہیں چلتے، بلکہ قانون کے تمسخر اور مضحکے پر چلتے ہیں، بلکہ حکمران اشرافیہ اور خواص کی خواہشات کے تحت چلتے ہیں وہ اپنے شہریوں کو نہ تو عزت و وقار دے سکتے ہیں، نہ خود کوئی معیار بن سکتے ہیں ۔ معیاروں کی نفی کا معیار ضرور بن جاتے ہیں ۔

ایسے ملک تو اپنے شہریوں کو ایک  بہتر اور کارگر پبلک ٹرانسپورٹ بھی نہیں دے سکتے!

تاہم، یہاں ایک پر غور کرنا اور اسے سمجھنا ضروری ہے ۔ ان ملکی، سیاسی، سرحدی شناختوں سے اوپر بھی کچھ شناختیں ہیں، جو آپ کو کچھ نہ کچھ ضرور دیتی ہیں ۔ اور یہ شناختیں کیا دیتی ہیں، اس کا انحصار اس عالمی قدر پر ہے جو آپ کو یہ شناخت دیتی ہے ۔

نیویارک ایئر پورٹ پر سیکیوریٹی نے پوچھا: آپ کیا کرتے ہو ۔ میں نے کہا: رائیٹر ہوں ۔ نہ انھوں نے مجھے ہاتھ لگایا نہ میرے سامان کو ۔

پاکستان کے کسی بھی ایئر پورٹ پر وارد ہوتے ہی یہ ساری، اور باقی اور طرح کی بھی تمام قدریں ختم ہو جاتی ہیں ۔

پاکستانی سرزمین پر قدم رکھتے ہی یوں محسوس ہوتا ہے کہ آپ ایک ایسے جزیرے پر اتر آئے ہیں جہاں ہر اصول اور ہر قدر، ہر قانون اور ہر ضابطہ، انتہائی تکلیف دہ انداز میں سولی پر لٹکا ہوا ہے ۔

اس مرتبہ لاہور ایئر پورٹ پہلے سے بھی زیادہ ابتر نظر آیا ۔ ’’ترقی‘‘ عیاں تھی ۔

دنیا کے ہر ایئر پورٹ پر آپ نے لوگوں کو تختیاں اٹھائے دیکھا ہو گا ۔ یہ سب کسی نہ کسی اجنبی مہمان کو لینے کے لیے آئے ہوتے ہیں ۔ پاکستانی ایئر پورٹوں پر بھی ایسا ہوتا ہے، لیکن یہاں ایک اور طرح کے لوگوں کی تعداد کافی زیادہ ہوتی ہے ۔ یہ لوگ اجنبی مہمانوں کو لینے نہیں آئے ہوتے، بلکہ یہ ایئر پورٹ پر ملازم افراد یا ایئر پورٹ پر ملازم افراد کے شناساؤں کے واقف کاروں کو اس تکلیف سے بچنے کے لیے وہاں، بلکہ ایئر پورٹ کے اندر، موجود ہوتے ہیں جس کا تعلق ایمیگریشن کی قطار میں کھڑے ہونے اور پھر اپنا سامان چیک کروانے سے ہوتا ہے ۔

لاہور ایئر پورٹ پر اس طرح کے افراد کی تعداد بہت بڑھی نظر آئی ۔ ان میں ایک قسم کا اضافہ بھی ہو چکا ہے ۔ پہلے بھی ایسا ہوتا ہو گا، مگر میں نے ایسا پہلے دفعہ ہوتے دیکھا ۔ چند ملازم مسافروں کو ورغلا رہے تھے کہ وہ انھیں تمام مشکلات سے صاف نکال لے جانے کا حوصلہ رکھتے ہیں ۔ کچھ اور ملازم شکار تلاش کر رہے تھے اور جا جا کر سیکیوریٹی کو ان کے بارے میں بتا رہے تھے ۔ یعنی کون ایسا ہے جسے تنگ ونگ کر کے کچھ دال دلیے کا بندوبست ہو سکتا ہے ۔

سوال یہ ہے کہ کیا کیا جائے ۔ پاکستان سے باہر جاؤ تو یہ احساس ہوتا ہے کہ پاکستان نے ہمیں عام شہریوں کو کیا دیا ۔ اور جب پاکستان واپس آؤ تو یہ احساس اور زیادہ شدید ہو جاتا ہے کہ پاکستان نے ہمیں عام شہریوں کو پاکستان کے اندر کیا دیا!

اپنے تجربات اور اپنی زندگی پر نظر ڈالیے اور سوچیے آپ کو پاکستان نے کیا دیا!

Follow the Blogger on Twitter: http://twitter.com/khalilkf
Join the Blogger on Facebook: Khalilkf@gmail.com
Send comments, feedback: urdublog@asinstitute.org

مونوبلاگ: پاکستان ـ موجودہ خانہ جنگی اور آئندہ انتخابات

September 22nd, 2011

جیسا کہ مونو لاگ، خود کلامی ہوتی ہے، یعنی ’کلام جو متکلم آپ ہی آپ کرے‘ ۔ مگر کسی کو کسی شخص کی خود کلامی سے کیا دلچسپی ہو سکتی ہے ۔ کیوں ہونی چاہیے ۔

ہاں، لیکن اگر اس کی خود کلامی ان معاملات کے بارے میں ہو جو ہر فرد سے براہ ِ راست یا بالراست تعلق رکتھے ہوں تو یہ خود کلامی اہم ہو سکتی ہے ۔ یہ نہ صرف دوسروں کے ساتھ اپنی تشویش کا تبادلہ کر سکتی ہے بلکہ اس سے نئے در بھی وا ہو سکتے ہیں ۔

دیکھا جائے تو ٹیکنالوجی نے ہمیں نئے سے نئے انداز مہیا کر دیے ہیں ۔ اب ہر فرد اگر وہ چند گیجیٹس کا حامل ہے اور ان کے استعمال پر عبور رکھتا ہے (اور ایسا کرنا کوئی مشکل نہیں!) تو وہ اپنی تشویش اور تصورات کو دوسروں تک بآسانی پہنچا سکتا ہے ۔

جیسے کہ بلاگ شروع ہوا، اور پھر بلاگنگ نے کتنی مقبولیت حاصل کی ۔ اگرچہ ابھی پاکستان میں ایسا نہیں، یا بڑے اور اہم پیمانے پر ایسا نہیں ۔ اصلاً ان سب چیزوں نے فرد کو زیادہ سے زیادہ آزادی مہیا کی ہے ۔ اب وہ حکومتی یا نجی میڈیا کے محتاج نہیں، بلکہ اب خود اپنے ذاتی میڈیا کے حامل ہو گئے ہیں ۔ میں منتظر ہوں کہ ذاتی / شخصی ریڈیو یا ٹی وی چینلز کا آغاز کب ہوتا ہے ۔

اور آج جس چیز کو ’مِڈل ایسٹ سپرنگ‘ یعنی مشرق ِ وسطائی بہار کا نام دیا جا رہا ہے اس میں اس نئے ’میڈیا‘ کا کتنا کردار ہے، شاید ابھی اس کا درست اندازہ لگانا ممکن نہیں ۔ لیکن اتنا ضرور واضح ہے کہ یہ نیا میڈیا، حاکمانہ یا اجارہ دارانہ میڈیا کے مقابلے میں فرد کو آزادی مہیا کرنے کا سب سے بڑا آلہء کار ثابت ہو رہا ہے ۔

اردو بلاگ، سب کا پاکستان، بھی اسی نوع کی چیز ہے ۔ معاملات و مسائل وہی ہیں، جو تحریری بلاگ کا موضوع تھے ۔ بس اب یہاں تحریر کے علاوہ بلاگر اپنے خیالات، خود کلامی کے اندز میں صوتی طور پر بھی آپ کے سامنے رکھے گا ۔ آپ اس بلاگ کو پڑھنے کے بجائے سُن بھی سکیں گے ۔ چونکہ یہ خود سوال اٹھانا اور ان کا جواب خود ہی دینا ہے، اس لیے میں نے اسے ’مونوبلاگ‘ کا نام دیا ہے: ایسا بلاگ جو خود کلامی پر مشتمل ہے ۔

[جی، چلتے چلتے ایک بات اور ۔ تحریر اور آواز یقیناً بہت مختلف چیزیں ہیں ۔ آواز کسی شخص کو کھول کر رکھ دیتی ہے ۔ تحریر بھی ایسا کرتی ہے، لیکن اتنا نہیں جتنا آواز ۔]

یہ پہلا مونو بلاگ، ’پاکستان میں جاری خانہ جنگی اور آئندہ انتخابات‘ کے موضوع پر بلاگر کی خود کلامی پر مشتمل ہے ۔ ُسنیے!
http://www.youtube.com/watch?v=t7t_mnEzNKM

Follow the Blogger on Twitter: http://twitter.com/khalilkf
Join the Blogger on Facebook: Khalilkf@gmail.com
Send comments, feedback: urdublog@asinstitute.org

اورنگ زیب عالمگیر کے اخبار نویس

September 19th, 2011

اورنگ زیب برخلاف اپنے تین بھائیوں کے ایسا متین شخص تھا کہ پابندی شرع کے لحاظ سے ملکی جوڑ توڑ کے سوا دوسرا خیال نہ رکھتا تھا ۔ جابجا پرچہ نویس بٹھائے ہوئے تھے ۔ ہر طرف کان لگائے رکھتا، بلکہ ہر بات کی پیش بندی برسوں پہلے کرتا ۔

جب باپ، بھائیوں اور سب طرف سے خاطر جمع ہوئی، تو اورنگ زیب عالمگیر نے چاہا کہ اپنی عالمگیری کو ملک ِ دکن کے اضلاع میں پورا کرے ۔ ان ریاستوں میں ابوالحسن تانا شاہ حیدرآباد گولکنڈے کا بڑا صاحب ِ اقتدار اور عالی دماغ بادشاہ تھا ۔ چونکہ بادشاہ مذکور عالمگیر کے ساتھ بھی عہدوپیمان پر صدق ِ دل سے قائم تھا ، اس لیے سر دست کوئی بہانہ فوج کشی کا ہاتھ نہ آیا ۔

آخر ایک جان نثار کو روانہ کیا اور پیغام بھیجا کہ ایک الماس نہایت نایاب تمہارے جواہر خانے میں ہے اسے بادشاہی جواہر خانے میں داخل کرو ۔ تانا شاہ نے تمام جواہرات مع فرد کے سامنے رکھ دیے، جو اعلٰی سے اعلٰی رقم ہو لے لو ۔ اس نے ایک قطعہ الماس لے لیا، مگر کوئی موقع بگاڑ کا ہاتھ نہ آیا ۔

آخر باوجود سب باتوں کے شہنشاہ ہوس پناہ نے فوج کشی کے سامان کر دیے ۔ پہلے شاہزادوں کو روانہ کیا ۔ انھوں نے جا کر سرحد کے قلعوں سے چھیڑ چھاڑ کی اور بیجا پور اور حیدرآباد پر بھی فوجیں گئیں ۔

دکنی جوان ایک ایک قلعے پر ایسے جان توڑ کر لڑے کہ بادشاہی سپاہ کے جی چھوٹ چھوٹ گئے ۔ اورنگ زیبی تدبیریں اور جاسوسوں کی تحریریں کچھ کام نہ آ سکیں ۔ آخر محاصرے سے تنگ آ کر حاکم بیجا پور نے اطاعت اختیار کی، اور حیدرآباد اور گولکنڈے کی نوبت آئی ۔

عالمگیر اخبار نویسوں کے بھروسے پر یہ سمجھے ہوئے تھے کہ کوئی بات مجھ سے مخفی نہیں ۔ چنانچہ کسی سردار پر بزدلی کا الزام، کسی امیر پر بے لیاقتی کا جرم قائم کیا ۔ جن نمک حلالوں نے حد سے زیادہ جانثاریاں کی تھیں، انھیں پر سازش کی تہمتیں لگائیں ۔ ولی عہد ِ سلطنت کو مع اس کی بی بی کے ادنٰی گنہگاروں کی طرح قید کیا، غسل اور حجامت تک بند کر دی۔ زیور اور ضروری اسباب سب چھین لیا ۔

اس میں بھی شک نہیں کہ طرف ِ ثانی بھی آخر مسلمان تھے اور چونکہ یہ لڑائی بادشاہ نے فقط شوق ِ طبیعت اور وسعت ِ سلطنت کے اشتیاق میں شروع کی تھی، اس میں لاکھوں مسلمانوں کا خون ناحق بہتا کسی کو بھلا معلوم نہ ہوتا تھا ۔

بادشاہی لشکر اور سلطنت کے سامان کے سامنے ایک صوبے کی کیا بساط ہے، برسوں کا طول کھچ گیا ۔ اس عرصے میں بعض قلعے فتح ہوئے، بعض کے محاصرے سالہا سال قائم رہے ۔

آخر شہنشاہ خود پہنچے اور تدبیروں کے جال پھیلانے شروع کیے ۔ چونکہ لڑائی میں ایسے کام کرنے کچھ فریب نہیں، بلکہ سپاہیانہ پیچ ہیں، اس لیے سازش کے سلسلے دوڑا کر تانا شاہ کے  نوکروں کو توڑنا شروع کیا ۔

ایک دفعہ بہت مشورے کے بعد یہ ٹھہری کہ خان فیروز جنگ جو ان دنوں میں بڑی چلتی تلوار نکلا تھا، رات کو شب خون کرے اور کمندیں ڈال کر قلعے پر چڑھ جائے ۔ چنانچہ ایک شب وہ بڑے بڑے جانباز سپاہیوں کو لے کر رات بھر چھپا رہا ۔ صبح ہوتے ہی کمندیں اور زینے لگا دیے ۔ جب سپاہی ان پر چڑھنے لگے تو حاجی محراب جو مقرب خاص تھا اور اکثر معاملوں میں خفیہ نگہداشت اس کا کام تھا، اور ان کی کارگزاری دیکھنے کہیں چھپا ہوا تھا، اسی وقت دوڑا ہوا آیا، بادشاہ ابھی سجادے پر تھے کہ دور سے سلام مبارک کے کرنے لگا ۔ یعنی فوج قلعے پر چڑھ گئی ۔

بادشاہ خوشی کے مارے اُٹھ کھڑے ہوئے اور اشارہ کیا کہ فتح کے شادیانے کیوں نہیں بجاتے ۔ تمام آس پاس کے لوگ آتے تھے اور مبارک بادیں دیتے تھے ۔ اتنے میں خبر آئی کہ منصوبہ الٹا پڑا ۔

صورت یہ ہوئی کہ برجوں کے پہرے دار ان کی آہٹ سن کر ہوشیار ہو گئے ۔ جونہی نیچے والوں نے فصل سے سر نکالا ، انھوں نے پہلے ہی وار میں پگڑیاں اور خود اُڑا لیے، سر کھسوٹ اور منہ نوچ نوچ کر اس طرح دھکیلا کہ اوپر والوں نے اپنے نیچے والوں کو لیتے ہوئے ذمین پر آ کر دم لیا ۔ جو زندہ رہے، خراب خستہ لوٹتے پیٹتے ڈیروں میں آئے ۔ مگر کسی کی صورت نہ پہچانی جاتی تھی ۔

بادشاہ کے نمک حلال اخبار نویسوں او رمعتبر جاسوسوں نے، جن پر کل کاروبارکا مدار تھا، اس حملے کے بگڑ جانے کی اصل دریافت کر کے حق نمک ادا کیا ۔ انھوں نے لکھا کہ دلیروں کی دلیری میں تو کچھ شبہ نہیں، مگر حقیقت میں فصیل پر ایک کتا بیٹھا تھا، وہ ناپاک ان کی آہٹ سن کر بھونکنے لگا ۔ یوں پہرے دار جاگ اٹھے ۔ ورنہ تو آج قلعے کے فتح ہو جانے میں کچھ باقی نہ تھا ۔

اخبار نویسوں نے مزید خبر دی کہ ابوالحسن اس کتے کی نمک حلالی سے بہت خوش ہوا ہے ۔ سونے کی ہنسلی اور زنجیر گلے میں پنھا کر زربفت کی جھول کا خلعت دیا ہے اور وہ منصب و خطاب عطا کیا ہے کہ تمام منصب دار اس سے رشک کرنے لگے ہیں ۔

چونکہ حضور میں ایسی ہی خبریں تدبیر سلطنت کے راز سمجھی جاتی تھیں، اس لیے شاہ با تدبیر نے بھی اخبار نویس کو خوشنودی مزاج کا پروانہ لکھا ۔

لشکر کے دل شکستوں کے دل بڑھانے کے لیے ایک دن شہنشاہ نے خود وضو کر کے نماذ پڑھی اور سجادے پر بیٹھ کر پہلا تھیلا دست مبارک سے سیا ۔ اپنے ہاتھ سے اس میں خاک بھری اور حکم دیا کہ پہلے اسے خندق میں ڈالیں اور ساتھ ہی سرنگیں لگانی شروع کیں ۔

چند روز کے بعد سرنگیں تیار ہو گئیں، اور بارود فتیلے سب درست ہو گئے ۔ اسی وقت حکم پہنچا کہ بہیر بازار کے لوگ رات کو قلعے کے پیچھے جا کر چھپ جائیں اور صبح ہوتے ہی خوب غُل مچائیں ۔ یوں قلعے والے ادھر فصیل پر جھکیں اور یہاں سرنگوں کو آگ دکھا دی جائے ۔

حکم کی تعمیل ہوئی ۔ دوسری طرف تمام فوج ہتھیار سجا کر حملے کو تیار کھڑی ہو گئی ۔ مگر جب فتیلوں کو آگ دی گئی تو سرنگ باہر کی طرف اُڑ کر رہ گئی ۔ اور مصیبت یہ ہوئی کہ جو خاک پتھر اڑے وہ ادھر ہی آئے  ۔ چنانچہ صدہا بہادر اور نامی منصب دار ضائع ہو گئے ۔

آخر بادشاہی جاسوسوں نے پھر حق نمک ادا کیا اور سراغ نکالا کہ قلعے والوں کو خبر ہو گئی تھی، وہ اندر سے سرنگیں توڑ کر بارود چرا کر لے گئے، اور نہر کاٹ کر پانی ادھر توڑ دیا، چنانچہ باہر کا حصہ خشک باقی تھا وہ اڑ گیا ۔ یہی سبب تھا کہ ملبہ اس کا ادھر ہی زور کر کے آیا اور لشکر کے بہادروں کو تباہ کر گیا ۔

ادھر بادشاہی مورچوں کے لوگ قلعے کی دیواروں کی طرف حیران دیکھ رہے تھے کہ کب یہ گرے اور ہم آگے بڑھیں ۔ اندر سے قلعے کی فوج دفعتاً آن گری اور مار مار کر مورچوں میں قیامت برپا کر دی ۔ آخر بہت سی جانیں گئیں اور ان سینہ زوروں سے پیچھا چھڑایا ۔

ابھی ادھر مُردوں اور مجروحوں کو سنبھال رہے تھے کہ دوسرے سردار نے اپنی نقب کو آگ دے دی ۔ وہاں بھی دغا باز اپنا کام کر گئے ۔ وہ نقب جس قدر اڑی، اس سے بھی آفت برسی اور پہلے سے بھی دو چند بہادروں کا خون ہوا ۔

یہ سن کر شہنشاہ خود ہوادار پر سوار مورچے پر آئے اور دھاوے کا حکم دیا ۔ بے ادب گستاخوں نے بادشاہ کا بھی خیال نہ کیا، اور ایسی توپیں ماریں کہ کئی گولے چتر شاہی پر تصدق ہوئے اور کئی پاؤں میں گرے ۔ مگر غضب یہ ہوا کہ باران بے محل نازل ہوا، اس نے سارا کام مٹی کر دیا کہ توپ بندوق سے لے کر کمان تک بے کار ہو گئی ۔ وہ دمدمے جو لاکھوں روپے اور ہزاروں آدمی کی جانفشانی سے تیار ہوئے تھے، سب بیٹھ گئے اور جو تھیلا حضور نے بعد نماز کے باوضو سیا تھا، وہ بھی بہ گیا ۔

ایسی ایسی باتوں سے جب بادشاہ تنگ ہوئے تو ابوالحسن تانا شاہ کی عمل داری کی خلاف شرع باتوں سے ناراض ہو کر حیدرآباد کا نام دارالجہاد رکھا ۔ جنگ دین کی نیت سے لڑائی شروع کی ۔

یہ سب باتیں تو تھیں، مگر بادشاہ نے جو خفیہ سازشوں کی سرنگیں لگائی تھیں، وہ سب سے زیادہ کارگر ہوئیں ۔ اور فتح مقدر ہوئی ۔

نوٹ:

(1) یہ اخبار نویس یا پرچہ نویس کیا ہوتے تھے، آئیے دیکھتے ہیں فرہنگ ِ آصفیہ:

(۱) خبریں لکھنے والا ۔ پرچہ نویس ۔ مہتمم ۔ ایڈیٹر ۔(۲) نامہ نگار ۔ سندیس پتر کا لکھنے والا ۔ سندیسا لکھنے والا ۔ کارسپانڈنٹ ۔

(2) یہ تحریر قریب قریب مولانا محمد حسین آزاد  دہلوی کے الفاظ میں بیان کی گئی ہے ۔ محض اختصار کی خاطر کہیں کہیں معمولی تبدیلی کی گئی ہے ۔ دیکھیے ان کی کتاب، قصص ِ ہند، مجلس ِ ترقی ِ ادب، لاہور، اشاعت جون 2007 ۔

خود مولانا آزاد نے کے مطابق یہ حالات سیر المتاخرین اور خافی خاں کی تاریخ سے لیے گئے ہیں ۔

Follow the Blogger on Twitter: http://twitter.com/khalilkf
Join the Blogger on Facebook: Khalilkf@gmail.com
Send comments, feedback: urdublog@asinstitute.org

سمگلنگ، آزاد تجارت اور ہمارے پیسے کی قیمت!

September 16th, 2011

ہم سب سمگلڈ اشیاء استعمال کرتے ہیں ۔ ہمیں اس چیز سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ یہ کہاں سے آئیں، کیسے آئیں، انھیں کون لایا، کیا ان پر ٹیکس ادا کیا گیا یا نہیں؛ اور اسی قسم کے دوسرے سوالات ۔

یہ اصل میں ایک قدیمی ذہن کا اظہار ہے کہ ہم اس نوع کے سوالات پر قطعاً دھیان نہیں دیتے ۔ یہ بہت ابتدائی ذہن ہے جو بہت سی چیزوں کی توجیہہ اب بھی سمجھ نہیں پاتا ۔ مثلاً، ایک آدمی نے کوئی کاروبار کرنا ہے، یا یوں کہ لیں کہ اس نے اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے دوسروں کی کچھ ضروریات پوری کرنے کا کام شروع کرنا ہے ۔

سب کاروبار اسی بنیادی ’’لین دین‘‘ پر مبنی ہوتے ہیں ۔ حتٰی کہ حکومت کا تصور بھی اس سے خالی نہیں ۔ اگر حکومت کوئی خدمات انجام نہ دے اور محض ٹیکس پر ٹیکس لگاتی جائے تو ایسی حکومت زیادہ دیر نہیں چل سکتی ۔

تو کوئی بھی کاروبار یا کاروباری جو افراد کی ضروریات، اشیاء اور خدمات کی صورت میں، پوری نہ کریں تو ان کے ساتھ وہی ہو گا جسے ہم بھٹہ بیٹھنا کہتے ہیں ۔ یعنی ان کا بھٹہ بیٹھ جائے گا ۔

ہاں، یہ صرف چور، ڈاکو، ہوتے ہیں جو افراد کی کسی بھی ضرورت کو پورا کیے بغیر کمائی کر لیتے ہیں ۔ یا پھر وہ کاروباری جنھیں حکومت کی سرپرستی حاصل ہوتی ہے ۔ کیونکہ یہ حکومت کے جاری کردہ سازگار ضابطوں اور ٹیکس چھوٹ کی چھتری تلے نفع کماتے ہیں ۔

اور یہ بھی بہت ضروری ہے کہ ہم اس کیٹیگری میں سیاستدانوں کو شامل کریں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اکثر سیاستدان اکثر اوقات شہریوں کے لیے کوئی بھی ضروری خدمت انجام دئیے بغیر کمائی کر لیتے ہیں ۔ میں ان کی کرپشن اور لوٹ مار کا ذکر نہیں کر رہا ۔ بلکہ خدمت انجام دینا تو دور رہا یہ ملک، قوم اور شہریوں کے لیے مسائل کے انبار کھڑے کر دیتے ہیں ۔ پاکستان پر ہی نظر ڈال لیں اور بالخصوص کراچی پر۔ کراچی میں جو کچھ ہو رہا ہے کیا اس کے پیچھے وہاں کے شہریوں کا ہاتھ ہے!

یہاں رونالڈ ریگن کی وہ بات یاد آتی ہے جس کا مطلب کچھ یہ ہے کہ حکومت مسئلے کا حل نہیں، بلکہ خود مسئلہ ہے ۔

بہر حال اپنی بات کی طرف واپس آتے ہیں ۔ جب کوئی آدمی کوئی کاروبار شروع کرتا ہے تو اس کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہوتا ہے کہ اس میں حکومت کا عمل دخل کہاں سے آ گیا ۔  ’یہ تو وہی بات ہوئی کہ مان نہ مان میں تیری مہمان ۔‘

اسی طرح جب کوئی آدمی کوئی شے خریدتا ہے تو اسے بھی اس چیز سے کوئی علاقہ نہیں ہوتا کہ یہ چیز پاکستان میں بنی ہے یا کہیں اور ۔ اس کے لیے یہ بات بے معنی ہوتی ہے کہ وہ حب الوطن بن کر پاکستانی اشیاء خریدے ۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں یہ سلوگن کبھی بھی مقبول نہیں ہو سکا: بی پاکستانی، بائی پاکستانی ۔ یعنی پاکستانی بنیں، پاکستانی خریدیں ۔ ہاں، یہ سلوگن پاکستان میں اس صورت میں مقبول ہو سکتا تھا کہ یہاں کوالیٹی کی اور کم قیمت اشیاء تیار ہو رہی ہوتیں ۔ مگر اس صورت میں اس سلوگن کی ضرورت ہی کیوں پڑتی!

حقیقت یہ ہے کہ قریب قریب تمام صارفین کی سوچ ایک جیسی ہوتی ہے ۔ سب کوالیٹی کی اشیاء کم قیمت پر خریدنا چاہتے ہیں ۔ اگر اسی بات کو مختلف انداز میں کہا جائے تو اس میں سو فیصد صارفین کو شامل کیا جا سکتا ہے ۔ یعنی تمام کے تمام صارفین اپنے پیسے کی زیادہ سے زیادہ قیمت حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔

میں نے ’’قریب قریب تمام‘‘ کی بات اس لیے کی تھی کہ کچھ محب ِوطن ہو سکتا ہے کہ پاکستان کی بنی اشیاء خریدنے کی قربانی دینے کے لیے تیار ہوں ۔ لیکن اگر انھیں پاکستانی اشیاء میں کوالیٹی نہ ملے اور ان کی قیمت بھی زیادہ ادا کرنی پڑے تو وہ اس نقصان کو یہ سمجھ کر برداشت کر سکتے ہیں کہ یہ انھوں نے اپنی حب الوطنی کی قیمت ادا کی ہے ۔ تو یہاں یہ بات بھی سمجھ آتی ہے کہ حب الوطنی کی بھی کوئی قیمت ہو سکتی ہے!

اسی طرح پروڈیوسر بھی اصلاً اپنے پیسے کی زیادہ سے زیادہ قیمت حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہوتے ہیں ۔ ان کے پیسے کی یہ قیمت انھیں منافعے کی صورت میں ملتی ہے ۔ اور یہی وجہ ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ منافع حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔

بہر حال ہم سب کو اپنے پیسے کی زیادہ سے زیادہ قیمت درکار ہوتی ہے ۔ اور یہ ہمارا حق ہے ۔

حکومت اس حوالے سے بھی ایک مسئلہ ہوتی ہے کہ یہ بالعموم اپنی معاشی اور مالی و زری پالیسیوں کے ذریعے  ہمارے پیسے کی قیمت گھٹاتی رہتی ہے ۔ یہ بھی ایک طرح کی چوری اور ڈاکے کی مثال ہے ۔

جیسے جے ایس مِل نے کا کہنا تھا کہ لینڈ لارڈ سوتے میں دولت مند بنتے ہیں ۔ اسی طرح ہم بے چارے شہری سوتے جاگتے، بیٹھے بٹھائے حکومت کے ہاتھوں غریب ہوتے جاتے ہیں ۔ ہماری قیمتی اشیاء، ہمارا بینک بیلنس یا نقد، حکومت کی پالیسیوں کے نتیجے  میں اپنی قدر و قیمت کے اعتبار سے سکڑتا جاتا ہے ۔

کیا ہم میں سے کوئی ایسا ہے جو سو روپے کے بدلے دس روپے، یا چلیں یوں کہہ لیں کہ سو روپے کے بدلے ننانوے روپے قیمت کی کوئی چیز خریدنا پسند کرے گا ۔

ایک مرتبہ کلاس میں کچھ سٹوڈینٹس مُصر تھے کہ مزدوروں کو زیادہ اجرت دی جانی چاہیے ۔ زیادہ سے ان کی کیا مراد ہے اس کی وضاحت کے ضمن میں ان کا کہنا تھا کہ اتنی اجرت جس سے ان کی تمام یا اکثر یا بنیادی ضروریات احسن طریقے سے پوری ہو سکیں ۔

اس میں بہت سے زاویہ ہائے نظر شامل ہیں، جیسے کہ بنیادی ضرورتیں، یا اکثر ضرورتیں، یا تمام ضرورتیں ۔ بہر حال، بات کو مختصر کرتے ہیں ۔ میں نے ان سٹوڈینٹس سے کہا کہ کیا آپ میں سے کسی نے کبھی اپنا گھر تعمیر کروایا ہے ، بلکہ اکثر نے ایسا کیا ہو گا ۔ تو آپ میں سے کتنے لوگ ہیں جنھوں نے جن راج اور مزدوروں سے کام  لیا انھیں ان کی بنیادی، یا اکثر یا تمام ضروریات کے مطابق اجرت دی ۔ سب کے سب کا کہنا تھا کہ انھوں نے ان راج اور مزدوروں کو وہی مزدوری دی جو سب دے رہے تھے ۔ یعنی جو مارکیٹ میں رائج تھی ۔

یعنی ہم کسی شے یا خدمت کے لیے اتنی ہی قیمت ادا کرتے ہیں مارکیٹ میں اس کی جتنی قیمت رائج ہوتی ہے ۔ مارکیٹ کی یہی قیمت ہمیں اپنے پیسے کی قیمت کے تعین میں بھی مدد دیتی ہے ۔

اس سے قطع نظر، ہاں، یقیناً، بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ جب ہم کسی راج یا مزدور کے کام سے خوش ہوتے ہیں تو اسے ’انعام‘ یا کچھ زائد ادائیگی کر دیتے ہیں ۔ لیکن اس کا مارکیٹ کی اجرت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ۔

تو بالکل اسی طرح جب ہم اشیاء (یا خدمات) خریدتے ہیں تو ہماری حتٰی الوسع کوشش یہ ہوتی ہے کہ ہم اپنے پیسے کی زیادہ سے زیادہ قیمت حاصل کریں ۔ اور یہی وجہ ہے کہ ہم صرف شے یا خدمت کی کوالیٹی اور اس کی قیمت پر نظر رکھتے ہیں ۔ اس کا مطلب ہے کہ اگر کوئی حکومت اپنے شہریوں کے اس حق کا خیال نہیں کرتی اور انھیں اپنے پیسے کی زیادہ سے زیادہ قیمت حاصل نہیں کرنے دیتی یا اس چیز کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہے تو ایسی حکومت کبھی اپنے شہریوں کی خیر خواہ نہیں ہو سکتی ۔

واضح ہو کہ کوئی بھی حکومت اپنے شہریوں کے اس حق کے حوالے سے کہ انھیں اپنے پیسے کی زیادہ سے زیادہ قیمت کے حصول میں کوئی مشکل پیش نہ آئے، دو انداز اختیار کر سکتی ہے:

اول تو یہ کہ یہ ان کے  اس حق کو یقینی بناتی ہے ۔ دوسرے یہ کہ یہ اس سے بے توجہی برت سکتی ہے، یا، بلکہ، اپنی غلط پالیسیوں سے اپنے شہریوں کے اس حق کو نقصان پہنچا سکتی ہے، یا جیسے کہ طبقہء اشرافیہ اور خواص کی حکومت ارادتاً ایسا نہیں کرتی ۔ پاکستان کی مثال ہمارے سامنے ہے ۔

اس حق کو یقینی بنانے کی کوششوں میں یہ چیزیں شامل ہوتی ہیں: شہریوں کی جان و مال کی حفاظت سے متعلق قوانین اور ادارے بنانا اور پھر ان قوانین کا موثر نفاذ کرنا؛ شہریوں کے بنیادی حقوق اور ان کی آزادیوں کے تحفظ کو یقینی بنانا؛ دھوکہ دہی، فراڈ، وغیرہ، سے تحفظ مہیا کرنا ۔

دوسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ حکومت اپنی بنیادی ذمے داریوں سے بے توجہی برتے، غلط پالیسیاں بنائے، اور یوں اپنے شہریوں کے اس حق کو نقصان پہنچائے ۔ اس کی مثال یہ ہے کہ کرپشن سے متعلق قانون ابھی تک پس و پیش میں پڑا ہے ۔ اور پھر یہ کہ پاکستان کی حکومت نہ صرف اپنی بنیادی ذمے داریوں کو پورا کرنے میں ناکام ہے بلکہ اس حق کے حصول کے راستے میں رکاوٹ بھی ہے جو انھیں اپنے پیسے کی زیادہ سے زیادہ قیمت پانے کے ضمن میں حاصل  ہے ۔ یہ حقیقتاً اشرافیہ طبقات کی حکومت ہے اور دانستاً عام شہریوں کے حقوق کو پامال کرتی ہے، جس میں پیسے کی زیادہ سے زیادہ قیمت سے متعلق حق بھی شامل ہے ۔

اس کی مثال یہ ہے: جیسے کہ کمپیٹیشن کمیشن مختلف کاروباروں اور صنعتوں کو ملی بھگت سے اپنی اشیاء کی قیمت مقرر کرنے، اور کارٹیل بنانے سے روک کر شہریوں کے اس حق کی حفاظت کرتا ہے ۔ جیسے کہ پنجاب میں قائم ہونے والی صارف عدالتیں ہیں جو صارفین کو پروڈیوسروں اور تاجروں کے ہاتھوں پہنچنے والی دھوکہ دہی، نقصان، وغیرہ، سے بچاتی ہیں اور ان کے اس حق کا تحفظ کرتی ہیں ۔ لیکن یہاں یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ کمپیٹیشن کمیشن اور صارف عدالتیں دونوں ادارے مجموعی طور پر بہت ہی محدود پیمانے پر موثر ہیں ۔

نتیجتاً، بلا شک و شبہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان کی ریاست اور حکومتیں اپنے شہریوں کے اس حق کے تحفظ میں ناکام ہیں ۔ بلکہ وہ خود بڑے بڑے صنعتکاروں، تاجروں، کاروباریوں کے ساتھ ملی بھگت کرتی ہیں ۔ اور یہی لوگ ہیں جو حکومت کی پالیسیوں پر اثر انداز ہو کر عام شہریوں کے اس حق پر ڈاکہ ڈالتے ہیں اور انھیں اپنے پیسے کی زیادہ سے زیادہ قیمت حاصل نہیں کرنے دیتے ۔

آئیے اب اس سوال پر بھی توجہ دیتے ہیں کہ ہم اپنے پیسے کی زیادہ سے زیادہ قیمت کب حاصل کرتے ہیں ۔ اس چیز کا کوئی حتمی پیمانہ نہیں ۔ یہ خاصی داخلی چیز ہے ۔

اصل میں اس سے بھی پہلے ہمیں یہ بات سمجھنی چاہیے کہ ہمارے پیسے کی قدر بھی ہمارے لیے ایک داخلی چیز ہے؛ اگرچہ پیسے کی قدر کی پیمائش کے خارجی پیمانے بھی موجود ہیں ۔ جیسے کہ افراط ِ زر کی شرح، جس سے ہمیں یہ پتہ چلتا ہے کہ پہلے کے مقابلے میں ہم آج اپنے پیسے کی ایک مخصوص مقدار سے کتنی اشیاء خرید سکتے ہیں ۔

بلکہ اس کے لیے دو چیزیں اکثر ہمارے پیش ِ نظر رہتی ہیں: سونا اور ذمین ۔ اگر ہم اپنے پیسے کی قیمت یا قدر میں کمی یا بیشی کا تعین کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اس کا موازنہ سونے کی قیمت سے کرنا چاہیے ۔ آج سے دس برس پیشتر ایک تولہ سونا خریدنے کے لیے کتنے روپے درکار تھے اور آج کتنے روپے درکار ہیں ۔ یہ فرق ہمیں بتاتا ہے کہ ہمارے پیسے کی قیمت کتنا کم ہوئی ہے ۔

اسی طرح ذمین بھی خاصی حد تک ہمیں ہمارے پیسے کی قیمت میں کمی بیشی کا پتہ دیتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ سرمایہ کاری کے نقطہء نظر سے بھی ذمینی پراپرٹی کو بہت قابل ِ قدر سمجھا جاتا ہے ۔ اس کا تعلق منافعے کی اس شرح کے ساتھ بھی ہوتا ہے جو بینک ہمیں ہماری جمع شدہ بچتوں پر دیتے ہیں ۔

جب میں یہ کہتا ہوں کہ پیسے کی قدر ایک داخلی چیز ہے تو اس سے مراد یہ ہے کہ جیسے جیسے ہماری قوت ِ خرید بڑھتی ہے ہمارا ہاتھ اتنا ہی کُھلتا جاتا ہے، اور اگر قوت ِ خرید کم ہوتی ہے تو ہم اپن اخراجات میں اتنا ہی محتاط ہوتے جاتے ہیں ۔ تاہم، ہم نے کیا خریدنا ہے، کتنے میں خریدنا ہے، اور کب خریدنا ہے، اس کا انحصار ہماری قوت ِ خرید پر ہوتا ہے ۔ تاہم، بعض اوقات ہم بعض اشیاء کی خریداری کو بوجوہ التوا میں بھی ڈال دیتے ہیں ۔

لیکن، ان سب صورتوں کے باوجود بعض اوقات ہم کوئی ایسی مہنگی شے بھی خرید لیتے ہیں جو ہمیں کسی نہ کسی صورت ذاتی، یا جمالیاتی تسکین مہیا کرتی ہے ۔ بظاہر ہمیں خود ایسی کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ ہم نے اسے کیوں خریدا ہے، اور ہم دوسروں کو اور خود کو بھی یہی جواب دیتے ہیں کہ بس یہ مجھے اچھی لگی، یا پسند آ گئی ۔

ایسی بنیادی ضرورتیں جن کو ٹالا نہیں جا سکتا اور جنھیں باقاعدگی کے ساتھ پورا کرنا ضروری ہوتا ہے، ان سے قطع نظر ہمارا معاشی طرز ِ عمل لازماً داخلی محرکات پر مبنی ہوتا ہے ۔ بلکہ بنیادی ضرورتوں کی تکمیل کے ضمن میں بھی جو گوناگونی دستیاب ہوتی ہے، جیسے کہ بھوک مٹانے یا تن ڈھابپنے کے حوالے سے ہمیں متعدد چیزوں میں فیصلہ کرنا ہوتا ہے، وہاں بھی ہماری داخلیت اپنا رنگ دکھاتی ہے ۔

تو جتنا پیسے کی بہتات ہوتی ہے ہم اتنا ہی داخلی ہوتے جاتے ہیں ۔ پیسے کی قلت ہم سے ہماری داخلیت تک چھین لیتی ہے ۔ بالعموم یہی حرکیات ہم سے ہمارے پیسے کی قیمت کا تعین کرواتی ہے ۔

اب اس سوال کی طرف آتے ہیں کہ ہم اپنے پیسے کی زیادہ سے زیادہ قیمت کیسے اور کب حاصل کرتے ہیں ۔

اس ضمن میں پہلی چیز تو انتخاب کی آزادی ہے ۔ مراد یہ کہ ہم جو شے خریدنا چاہتے ہیں اس میں ہم نہ صرف آزاد ہوں بلکہ وہ شے بھی مارکیٹ میں تنوع کے ساتھ موجود ہو ۔ فرض کریں اگر ہمیں آزادی تو میسر ہے کہ ہم جو چاہیں خریدیں، لیکن مارکیٹ میں اس شے کی ویرائیٹی موجود نہ ہو تو ہماری یہ آزادی بے معنی ہے ۔ دوسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ شے کی ویرائیٹی تو موجود ہو مگر ہمیں آزادی میسر نہ ہو ۔ ایسا اس وقت ہوتا ہے جب حکومت اس شے کی درآمد پر متعدد قسم کی پابندیاں عائد کر دے ۔ جیسے کہ کوئی مخصوص شے صرف ایک خاص مقدار میں درآمد کی جا سکتی ہے یا درآمد نہیں کی جا سکتی ۔ یا یہ کہ جب کسی شے پر مختلف قسم کے ٹیکس لگا کر اس شے کی قیمت ہماری قوت ِ خرید سے زیادہ کر دی جائے ۔

اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ دراصل حکومت کے پاس ہماری آزادی کو محدود کرنے کے دو طریقے ہیں ۔ ایک تو ٹیکس اور دوسرا ضابطے ۔ جیسے کہ حکومت کسی شے پر اس حد تک ٹیکس لگا دے کہ یہ اکثر شہریوں کی قوت ِ خرید کی پہنچ سے باہر ہو جائے ۔

ابھی کچھ عرصہ پہلے تک، جب پاکستان میں کاریں اسیمبل کرنے کا کاروبار شروع نہیں ہوا تھا، پاکستان میں کاریں بہت مہنگی ہوتی تھیں ۔ وجہ کیا تھی؟ ان پر درآمدی ڈیوٹی قریب قریب سو فیصد سے بھی زیادہ تھی ۔ پھر جب پاکستان میں کاریں اور گاڑیاں بننے لگیں تب بھی یہ ڈیوٹی اسی طرح زیادہ رہی ۔ اور مقامی کاروں کی قیمت بھی کافی زیادہ تھی ۔

اس وقت میں سوچتا تھا کہ اگر حکومت، درآمد ہونے والی کاروں پر ڈیوٹی ختم نہیں تو ایک معقول حد تک کم کر دے تو کتنے پاکستانی شہری کاروں کے مالک بن جائں گے اور ان کی زندگی کتنی آرادم دہ اور خوشحال ہو جائے گی ۔ لیکن ابھی تک حکومت نے اپنی زندگی کو بہتر بنانے کی شہریوں کی یہ آزادی سلب کی ہوئی ہے ۔

بلکہ ابھی کچھ سال پہلے تک پاکستان میں کاروں کی قلت تھی ۔ وجہ یہ تھی کہ کاروں کی مقامی صنعت، کاروں کی طلب پوری کرنے سے قاصر تھی ۔ یہاں یہ بات بھی واضح رہے کہ ان پاکستانی کاروں کی کوالیٹی خاصی گھٹیا اور قیمت بہت زیادہ تھی ۔ کاروں کے طالب پہلے سے کار کی پوری قیمت کاروں کے ڈیلروں کے پاس جمع کرواتے تھے ۔ بلکہ اس قیمت کے ساتھ وہ کچھ زائد رقم پریمیم کے طور پر بھی دیتے تھے ۔ اس کے باوجود انھیں کاریں دو تین سے لے کر چھ ماہ بعد ملتی تھیں ۔

تب بھی مجھے یہ خیال آتا تھا کہ آج ہماری اس دنیا میں لاتعداد کاریں دستیاب ہیں اور کم قیمت سے لے بیش قیمت تک ۔ مگر پاکستانی شہری ان کاروں سے محروم ہیں ۔ کتنی حیرانی اور اشتعال کی بات ہے کہ شہریوں کے پاس پیسہ موجود ہے، قوت ِ خرید موجود ہے، لیکن انھیں انتخاب کی آزادی دستیاب نہیں ۔

اس کا مطلب یہ بنتا ہے کہ انھیں ان کے پیسے کی زیادہ سے زیادہ قیمت نہیں مل رہی ۔ مثلاً اگر ایک بہت اچھی کوالیٹی کی کار امریکہ میں ستر ہزار روپے میں دستیاب ہے اور کوئی تاجر اسے پاکستان درآمد کر کے ایک لاکھ روپے میں بیچنا چاہتا ہے اور پاکستان کے شہری اسے اتنی قیمت میں خریدنے کے لیے تیار ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ انھیں اس کار کی صورت میں اپنے پیسے کی زیادہ سے زیادہ قیمت وصول ہو رہی ہے ۔

مگر جب حکومت اسی کار پر درآمدی ڈیوٹی اور دوسرے متعدد ٹیکس عائد کر کے، مثلاً، اس کی قیمت کو دو لاکھ روپے تک پہنچا دیتی ہے تو اصل میں یہ کار بہت سے پاکستانی شہریوں کی قوت ِ خرید سے باہر ہو جاتی ہے ۔ اور یوں حکومت ان کی انتخاب کی آزادی کے ساتھ اپنی زندگی کو آرام دہ اور خوشحال بنانے کی آزادی بھی سلب کر لیتی ہے ۔

ایک بات یہاں اور اہم ہے ۔ جب شہریوں کو اپنے پیسے کہ زیادہ سے زیادہ قیمت نہ ملے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے پیسے کہ وہ قیمت جو مختلف حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے انھیں نہیں ملی، وہ کسی اور کی جیب میں چلی گئی ۔ جیسے مذکورہ بالا کاروں کی مثال میں یہ ہوا کہ جن لوگوں کو مجبوراً مقامی طور پر  بنی ہوئی کاریں خریدنی پڑیں، جو کوالیٹی کے اعتبار سے ناقص اور قیمت کے اعتبار سے بہت مہنگی تھیں، اصل میں انھیں اپنے پیسے کی زیادہ سے زیادہ قیمت نہیں مل سکی، یا یوں کہہ لیں کہ اپنے پیسے کی جتنی قیمت وہ چاہتے تھے انھیں وہ قیمت نہ ملی، اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو قیمت شہریوں کو نہ ملی وہ مقامی کاریں بنانے والوں کے حصے میں آ گئی ۔ لیکن اگر پاکستان میں کاروں کی درآمد پر پابندی نہ ہوتی، یا ان پر اتنی بھاری درآمدی ڈیوٹی نہ ہوتی، تو پاکستانی شہریوں کو ان کے اس پیسے کی زیادہ سے زیادہ قیمت یا جتنی قیمت وہ چاہتے تھے اتنی قیمت کی کار مل سکتی ۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ حکومت ضابطوں اور ٹیکس کی پالیسیوں کے ذریعے پاکستان کے ایلیٹ یعنی اشرافی طبقات کو فائدہ پہنچاتی ہے ۔ یہ نِری ایلیٹ طبقات کی حکومت ہے ۔

یہی صورت، تمام اشیاء و خدمات کے سلسلے میں پیش ِ نظر رکھی جا سکتی ہے ۔ اور اگر اس چیز کا حساب کتاب کیا جائے کہ اپنی ٹیکس اور ضابطوں کی پالیسیوں کی ذریعے حکومت پاکستان کے شہریوں کا کتنا پیسہ لوٹ رہی ہے تو یقیناً یہ اعداد و شمار حیران کُن ہوں گے ۔

اس ساری گفتگو سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ آزاد تجارت دراصل عام شہریوں کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچاتی ہے ۔ کیونکہ یہ انھیں ان کے پیسے کی زیادہ سے زیادہ قیمت حاصل کرنے کے ضمن میں مددگار ہوتی ہے ۔

جیسے کہ ہم دیکھ سکتے ہیں کہ عام طور پر پیسہ خود مقصد نہیں ہوتا، بلکہ یہ ذریعہ ہوتا ہے جس سے ہم اپنی ضروریات اور خواہشات پوری کرتے ہیں ۔ اور جیسا کہ بنیادی طور پر یہ آسائش و آرام اور تسکین ہی ہے جو ہماری زندگی کی خوشحالی کا تعین کرتی ہے، اور اس آسائش و آرام اور تسکین کا انحصار اشیاء و خدمات کی دستیابی پر ہوتا ہے اور اگر اشیاء و خدمات کی تجارت پر حکومت پابندی لگا دے، یہ پابندی خواہ جزوی ہو یا کلی، یا ان اشیاء و خدمات پر بھاری ٹیکس عائد کر دے، تو یوں حکومت ہماری زندگی کی کوالیٹی کو متاثر کر رہی ہوتی ہے ۔

آئیے ایک مختلف مثال پر غور کرتے ہیں ۔ فریڈرک باستیات، جو ایک فرانسوی سیاسی و معاشی مفکر تھا، پیرس شہر کو اشیا کی رسد کا نقشہ یوں کھینچتا ہے:

’میں جب پیرس آیا تو میں نے خود سے پوچھا: یہاں کوئی دس لاکھ کے قریب انسان آباد ہیں جو سب کے سب بس چند دنوں میں مر جائیں اگر اس بڑے شہر کی طرف متعدد نوع کی اشیاء کا بہاؤ رک جائے ۔ اس سے میرے تخیئل کو مہمیز ملی کہ اس شہر کے دروازوں سے کل جو اشیاء یہاں داخل ہوں گی، جو یہاں کے باشندوں کو قحط، بغاوت اور لوٹ مار کی تباہیوں سے محفوظ رکھیں گی، ان کے تنوع کا اندازہ لگانے کی کوشش تو کروں ۔

پھر بھی یہ سب اس لمحے بڑے آرام سے سوئے پڑے ہیں اور انھیں اس خوفناک امکان کا ذرا سا بھی خیال نہیں ۔ دوسری طرف، 80 ادارے ہیں جو آج مصروف ِکار رہے، اور ان کے درمیان کوئی مشترک منصوبہ بندی یا باہمی معاہدات بھی موجود نہیں، اور یہ سب بندوبست کس  لیے تا کہ پیرس کی رسد جاری رہے ۔ ہر نیا دن اس وسیع مارکیٹ کو ہر طرح کی ضروری چیزیں مہیا کرنے کا انتظام کس طرح کرتا ہے ـ نہ تو بہت زیادہ نہ ہی بہت کم؟ تو پھر یہ کونسی باوسیلہ اور خفیہ طاقت ہے جو اتنی پیچیدہ ترسیلات کو اتنی باقاعدگی سے منظم کرتی ہے (ایڈم سمتھ نے اسی چیز کو ’دست ِ پوشیدہ‘ کا نام دیا تھا ۔ بُلاگر) ـ ایک ایسی باقاعدگی کے ساتھ، جس پر ہر شخص یقین رکھتا ہے، گو کہ اس کی خوشحالی اور زندگی تک کا انحصار اسی پر ہے؟

یہ طاقت ایک اصول ِ مطلق ہے: آزادانہ تبادلے کا اصول ۔ ہم اس داخلی روشنی پر یقین رکھتے ہیں جسے خدا نے ہر آدمی کے دل کے اندر جاگزیں کیا ہے، اور جس کو ہماری نوع کی بقا اور لامحدود بہتری کا کام سونپا گیا ہے، یہ ہے وہ روشنی جسے ہم مفاد ِ ذاتی کہتے ہیں، جو کتنا روشن خیالی دینے والا، ہمیشہ یکساں رہنے والا، اور کتنا عمل دخل رکھنے والا ہے، مگر جب ہم اسے بغیر کسی رکاوٹ کے اپنا کام کرنے دیں ۔

اگر کیبینٹ کا کوئی وزیر اس طاقت کو اپنی کسی تیارکردہ نئی سکیم سے بدلنے کا فیصلہ کرے اور خواہ اس کی یہ سکیم کتنی ہی بہتر کیوں نہ ہو؛ اگر وہ اس شاندار میکانزم کو اپنی برتر ڈائریکشن کے تحت لانے کی تجویز کرے، اس تمام کام کے کنٹرول کو اپنے ہاتھوں میں لانا چاہے، یہ تعین کرنے کی تجویز کرے کہ کون، کہاں، کیسے اور کن شرائط کے تحت کیا چیز بنائے گا، اسے کیسے ٹرانسپورٹ کرے گا، اس کا کیسے تبادلہ کرے گا، اور اسے کسیے صرف کرے گا، تو اے پیرس کے شہریو، آپ کا کیا حال ہوگا؟

اگرچہ آپ کے گھروں میں خاصی پریشانیاں ہوں گی، اگرچہ بے مائیگی، مایوسی، اور شاید بھوک بھی موجود ہو گی، جو آپ کو آنسو بہانے پر مجبور کرتی ہو گی، اور جس کا کسی کی خیر خواہی بھی مداوا نہ کرسکتی ہو گی، لیکن اس بات کا غالب امکان موجود ہے، اور مجھے یقین ہے، کہ حکومت کی بلا وجہ دخل اندازی اس بے مائیگی، مایوسی اور بھوک میں لامحدود اضافے کا باعث بنے گی، اور آپ میں ان سب برائیوں کی ترویج کا سبب بھی ہو گی جو ابھی تک شہریوں کی صرف ایک مختصر تعداد کو متاثر کرتی ہیں ۔‘

تو یہ آزادانہ تبادلے کا اصول ہے جو نہ صرف ہمارے لیے ہمارے پیسے کی زیادہ سے زیادہ قیمت حاصل کرنے کا ماحول پیدا کرتا ہے بلکہ ہماری آزادی کو بھی ممکن بناتاہے اور اسے تقویت بھی دیتا ہے ۔

اور جہاں تک سمگلنگ کا معاملہ ہے تو یہ بات واضح ہے کہ سمگلر ہمیں وہ چیزیں مہیا کرتے ہیں جو ہمارے لیے قابل ِ قدر ہوتی ہیں، جن کی ہمیں ضرورت ہوتی ہے، اور جن کی کوالیٹی بہتر اور قیمت کم ہوتی ہے ۔ یوں وہ ہمیں ہمارے پیسے کی زیادہ سے زیادہ قیمت کے حصول میں مدد دیتے ہیں ۔

دیکھا جائے تو سمگلنگ بھی تجارت ہے ۔ اس میں بس یہ ہوتا ہے کہ سمگلر کسی حکومت کے ضابطوں کی پاسداری نہیں کرتے اور ان ٹیکسوں کی ادائیگی نہیں کرتے جو اس حکومت نے چیزوں کی درآمد پر عائد کیے ہوتے ہیں ۔ یہ ضاطے عام طور پر مقامی صنعت کو فائدہ پہنچانے کے لیے بنائے جاتے ہیں؛ اور درآمدی ٹیکسوں کا مقصد بھی بالعموم یہی ہوتا ہے ۔ ضاطے تو صاف پابندی ہوتے ہیں کہ یہ چیز درآمد نہیں کی جا سکتی؛ جبکہ درآمدی ٹیکس درآمدی چیز کی قیمت کو بڑھا کر مقامی منڈی میں اس کی طلب کم کرتے ہیں اور اسے شہریوں کی قوت ِ خرید سے باہر کرتے ہیں ۔

اس بات کو یوں بھی کہا جاتا ہے کہ جب حکومت اپنے شہریوں کو مجبور کرتی ہے کہ وہ مقامی اشیاء خریدیں، جو کہ کوالیٹی اور قیمت دونوں کے اعتبار سے بیکار ہوتی ہیں، یا صرف کسی ایک اعتبار سے بیکار ہوں، اور باہر ممالک سے درآمد کی جانے والی اشیاء نہ خریدیں جو ٹیکسوں کی سبب مہنگی کر دی جاتی ہیں، تو اصل میں طلب کا ایک خلا پیدا ہو جاتا ہے ۔ یعنی اشیاء کی طلب (ڈیمانڈ) تو موجود ہوتی ہے ۔ یہ ایک ایسی ترغیب ہوتی ہے جو نیم رسمی (سیمی فارمل) کاروباریوں کو اس خلا کو پُر کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے ۔ اسے سمگلنگ کا نام دے دیا جاتا ہے ۔

اگر ہم حکومت کے نقطہء نظر سے نہیں بلکہ شہریوں کے نقطہء سے دیکھیں تو سمگلر اصل میں شہریوں کی طلب کو ہی پورا کر رہے ہوتے ہیں ۔ وہ بھی انھیں تاجروں کی طرح ہوتے ہیں جو اشیاء کی درآمد، برآمد کا کاروبار کرتے ہیں ۔ بس اتنا فرق ہوتا ہے کہ وہ حکومت کے ضابطوں اور ٹیکسوں کو نہیں مانتے ۔

اسی بات کو فریڈرک باستیات نے یوں بیان کیا ہے کہ اگر اشیاء کوسرحدیں عبور کرنے سے روکا جائے گا تو پھر فوجیں سرحدیں عبور کریں گی ۔ لیکن سمگلنگ ان دونوں ’’انتہاؤں‘‘ کے بیچ ایک درمیانہ راستہ پیدا کرتی ہے ۔

سو، اگر ہم اس طرح سوچیں کہ اشیاء کی آزاد تجارت موجود ہو، یا ان کی درآمد اور برآمد پر کوئی پابندی نہ ہو، اور ٹیکس بھی بس معمولی شرح سے عائد کیے جائیں تو سمگلنگ خود بخود ختم ہو جائے گی ۔ مراد یہ ہے کہ اگر حکومتیں مقامی اشیاء کی سرپرستی کریں گی اور درآمدی اشیاء پر ٹیکس عائد کر کے ان کی قیمتوں کو بڑھائیں گی تو سمگلنگ میں بھی اضافہ ہوتا رہے گا ۔

مطلب یہ کہ اگر ایک ملک میں اشیاء موجود ہیں اور کسی دوسرے ملک میں ان کی طلب موجود ہے، تو یہ اشیاء وہاں پہنچ کر دم لیں گی ۔ اگر حکومت انھیں پہنچنے سے روکے گی اور ان کی درآمد نہیں ہونے دے گی، تو سمگلر انھیں ادھر ادھر کرنے سے باز نہیں آئیں گے ۔

یہ کہانی پاکستان میں ہزاروں، لاکھوں مرتبہ دوہرائی جا چکی ہے ۔ لیکن پھر بھی آزاد تجارت کی دلیل پر دھیان نہیں دیا گیا ۔

ایک تازہ ترین مثال دیکھیے ۔ 12 ستمبر کے ایکسپریس ٹریبیون میں مقامی ٹائر انڈسٹری سے متعلق ایک سٹوری شائع ہوئی ہے ۔ اس کا عنوان یہ ہے: سمگلڈ ٹائروں سے مقامی صنعت کو خطرہ ۔ ایسی تمام سٹوریوں کا عنوان بالعموم ایسا ہی ہوتا ہے ۔

اس سٹوری میں مقامی ’جنرل ٹائر‘ کے سی ای او کا انٹرویو دیا گیا ہے ۔ وہ بتاتے ہیں کہ بھاری انڈر انوائیسنگ اور سمگلنگ، مقامی ٹائر انڈسٹری کے لیے شدید تشویش کا باعث ہیں ۔ وہ اس کا حل یہ بتاتے ہیں کہ پاک افغان سرحد کے راستے ہونے والی سمگلنگ کو روکنے کے بجائے پانچ بڑے شہروں کی ٹائر مارکیٹوں پر چھاپے ماریں جائیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ چند ماہ تک ان مارکیٹوں پر مسلسل چھاپے ماریں جائیں تو وہ یقین سے کہہ سکتے ہیں ان مارکیٹوں میں سمگلڈ ٹائروں کا کاروبار کرنے والے یہ کام چھورنے پر مجبور ہو جائیں گے ۔

وہ حکومت کو بھی لالچ دیتے ہیں کہ سمگلنگ پر کریک ڈاؤن سے حکومت کو لاکھوں ڈالر ٹیکس کی صورت میں ملیں گے ۔ کیونکہ اس طرح جو طلب سمگلر پوری کر رہے ہیں وہ قانونی تجارت سے پوری ہونا شروع ہو جائے گی ۔ آگے چل کر وہ خود یہ بتاتے ہیں کہ وہ مقامی صنعت سے تو مقابلہ کرنا چاہتے ہیں لیکن ان ٹھگوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے جو سات سے نو فیصد تک کم قیمت پر ٹائر بیچتے ہیں ۔

اگر ان سی ای او سے کوئی پوچھے کہ کیا آپ سات سے نو فیصد مہنگا ٹائر خریدنا پسند کریں گے ۔ یا اگر وہ ایسا پسند بھی کریں گے تو دوسرے شہریوں کو ایسا کرنے پر کیوں مجبور کر رہے ہیں ۔ اور ان کی کمپنی سات سے نو فیصد سستا ٹائر کیوں نہیں بیچ سکتی ۔ اور اگر نہیں بیچ سکتی تو کیا یہ شہریوں/صارفین کا قصور ہے ۔ اور یہ کہ صارفین سات سے نو فیصد مہنگا ٹائر کیوں خریدیں ۔

مزید، کیا ان سی ای او کی کمپنی سات سے نو فیصد مہنگا خام مواد خریدنا پسند کرے گی ۔ میں جانتا ہوں، قطعاً نہیں ۔ وہ حکومت کو تو لاکھوں ڈالر کے ٹیکس کا لالچ تو دے رہے ہیں، کیا ان کے پاس اور مقامی صنعت کے پاس شہریوں/صارفین کو دینے کے لیے بھی کچھ ترغیب موجود ہے ۔ یا بس یہ کہ وہ سات سے نو فیصد مہنگا ٹائر خریدیں تا کہ مقامی صنعت کا پہیہ چلتا رہے ۔

چلیں مانا کہ شہری/صارف مہنگا ٹائر خرید کر مقامی صنعت کے پہیے کو چلاتے رہیں، لیکن یہی دلیل شہری بھی دے سکتے ہیں کہ مقامی صنعت ٹائر سستا بیچھ کر شہریوں کی ضرورت پوری کرے ۔ یہاں پھر وہی بات آتی ہے کہ کیونکہ پاکستان ایلیٹ ریاست ہے لہٰذا، یہاں فیصلہ شہریوں کی اکثریت کے حق میں نہیں بلکہ اس اقلیت کے حق میں ہوتا ہے جو مقامی صنعت چلا رہی ہوتی ہے ۔

اس تازہ ترین مثال سے ایک بات واضح ہوتی ہے کہ اگر اس وقت حکومت ان سی ای او کے مشورے کو مانتے ہوئے مارکیٹوں پر مسلسل چھاپے مارے، اور سرحدوں کی بھی کڑی نگرانی کرے اور یوں سمگلنگ کو ممکنہ حد تک محدود کر دے یا مانا کہ ختم کر دے، تو مقامی انڈسٹری کو فائدہ تو ہو گا، لیکن اس طرح شہریوں/صارفین کو سات سے نو فیصد نقصان ہو گا اس کا کسی کو خیال نہیں ۔ یہ ایلیٹسٹ سوچ ہے ۔ اشرافی فکر ہے، طبقہء خواص کی فکر ہے ۔

کیا اس طرح پاکستان کے ان شہریوں کو، جو مقامی ٹائر خریدیں گے، اپنے پیسے کی قیمت سات سے نو فیصد تک کم نہیں ملے گی ۔ یقیناً کم ملے گی ۔ اور پھر یہ سات سے نو فیصد پیسہ کس کی جیب میں جائے گا ۔ سیدھی سی بات ہے کہ مقامی ٹائر انڈسٹری کی جیب میں ۔ اور اس طرح بکنے والے ٹائروں پر جو پیسہ ٹیکس کے طور پر مقامی ٹائر انڈسٹری ادا کرے گی وہ کس کی جیب میں جائے گا ۔ سیدھی سی بات ہے کہ حکومت کی جیب میں، اور حکومت کی جیب سے سیدھا سیدھا سیاستدانوں، فوج اور بیوروکریٹوں کی جیب میں ۔

پاکستان میں معاشی میدان میں یہی کچھ ہو رہا ہے ۔ یہاں کی معاشی تاریخ یہی ہے ۔ حکومت شہریوں سے ٹیکس بھی لے رہے ہی، جو بعض صورتوں میں سبسیڈی یا حکومتی مدد یا بے نظیر انکم سپورٹ سکیم یا جیسے بجلی کے بل پر دی جانے والی سبسیڈی وغیرہ کی صورت میں پھر عام شہریوں کو دے کر ان پر احسان کیا جاتا ہے ۔ اور جو پیسہ شہری کماتے ہیں، حکومت اپنی معاشی اور مالی و زری پالیسیوں کے ذریعے اس کی قیمت گھٹا کر، شہریوں کو لوٹ بھی رہی ہے ۔ اور پھر آزاد تجارت کو روک کر، شہریوں کو ان کے پیسے کی زیادہ سے زیادہ قیمت حاصل کرنے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بھی ہے ۔

آخر میں کچھ تھوڑی سی بات خلاصے کے طور پر ۔ اس پوسٹ میں ہمارے زیر ِ بحث یہ چیز رہی ہے کہ شہریوں کو ان کے پیسے کی زیادہ سے زیادہ قیمت کیوں نہیں ملتی، اور کیسے مل سکتی ہے ۔ اس حوالے سے پہلی اہم چیز تو یہ ہے کہ آزادانہ تبادلہ موجود ہو تو شہریوں کو اپنے پیسے کی زیادہ سے زیادہ قیمت ملے گی ۔ اگر اس تبادلے پر کوئی روک ٹوک لگائی جائے گی تو اس کا نقصان آخر ِ کار شہریوں کو ہو گا ۔

دوسری اہم چیز یہ ہے کہ اگر آزاد تجارت موجود ہو تو ہر شہری کو اپنے پیسے کی زیادہ سے زیادہ قیمت ملنے کا امکان قوی تر ہو جائے گا ۔ اور اگر آزاد تجارت پر کسی قسم کی پابندیاں عائد ہوں گی (خواہ وہ ضابطوں کے حوالے سے ہوں یا ٹیکس کے) تو شہریوں کے پیسے کی قیمت کم ہو جائے گی اور انھیں نقصان ہو گا ۔

تیسری اہم چیز، اور یہ آخری نہیں، یہ ہے کہ حکومت اجارہ داری یا اجارہ داریاں نہ بننے دے، اور اس کے ساتھ ساتھ اس کی پالیسیوں میں ’ترجیحی سلوک‘ بھی موجود نہ ہو (یعنی جیسے کہ کسی صنعت کو یا کسی سیکٹر کو ٹیکس سے متعلق یا کسی نوع کے ضابطے کا استثنٰی دینا) ۔ اگر ترجیحی سلوک اور اجارہ داریاں موجود ہوں گی تو معاشی میدان میں موجود متعدد کار آزماؤں کے مابین آزاد مقابلہ نہیں ممکن نہیں ہو پائے گا، اور یوں آخرش سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں کو ہو گا ۔

حاصل کلام یہ کہ اشیاء و خدمات کا آزادانہ تبادلہ، آزاد تجارت اور مقابلہ یا کمپیٹیشن ایسی چیزیں ہیں جو شہریوں کو ان کو پیسے کی زیادہ سے زیادہ قیمت کے حصول کو یقینی بناتی ہیں ۔

نوٹ: یقیناً کئی مقامات پر متعدد چیزیں وضاحت طلب رہ گئی ہوں گی ان کی نشاندہی کیجیے آئندہ پوسٹس میں ان پر توجہ دی جائے گی ۔

Follow the Blogger on Twitter: http://twitter.com/khalilkf
Join the Blogger on Facebook: Khalilkf@gmail.com
Send comments, feedback: urdublog@asinstitute.org

سندھی چینی بھائی بھائی!

September 11th, 2011

ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے تو صرف بلی تھیلے سے باہر نہیں نکالی بلکہ تھیلا بھی پھاڑ ڈالا ۔ نہ رہا تھیلا نہ رہی بلی ۔

لیکن سندھ حکومت کے ہاتھوں ایک بلی تھیلے سے باہر آ گئی ہے: سال 2013 سے سندھ کے سکولوں میں چین کی سرکاری زبان مینڈارین، کی تدریس ایک لازمی مضمون کے طور پر متعارف کروا دی جائے گی ۔ [ستمبر 4]

صدر زرداری کی چین کے ساتھ محبت اور باقاعدگی کے ساتھ چین کے دورے ایک راز ِ سر بستہ بنتے جا رہے تھے ۔ یاد پڑتا ہے کہ ایک مرتبہ پیپلز پارٹی کے کسی وزیر یا مشیر نے یہ تسلی دی تھی کہ ان کے چینی دوروں کا راز ایک دن خود کُھل جائے گا جب پاکستان کے عوام کو ان کے نتیجے میں سامنے آنے والے فوائد نظر آنے شروع ہوں گے ۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ وہ وقت آ گیا ہے ۔

ایک سرکاری نمائندے کے مطابق یہ فیصلہ صدر زرداری کے چین کے گذشتہ دورے کے دوران کیا گیا تھا ۔ چونکہ چینی زبان دنیا کی آئندہ عالمی زبان بننے جا رہی ہے اور چینیوں نے اردو سیکھنی شروع کر دی ہے لہٰذا بہتر ہو گا کہ پاکستانی (اور ابتداً سندھی! بُلاگر) چینی زبان سیکھیں ۔

تو یہ ہے جی پہلا فائدہ صدر زرداری کے چینی دوروں کا ۔

پاکستان کے کامیڈی تھییٹر کے ستارے پاکستان کے سب سے بڑے دانشور ہیں ۔ لچرپن سے کام لینے کے باوجود ان میں سے اکثر جس طرح طنز و استہزا کی چھریوں سے لیس ہیں اور جس طرح پاکستانی منافقت کی تکہ بوٹی کرتے ہیں، اس کی مثال ڈھونڈنا مشکل ہو گا ۔ اور اب تو یہ ستارے باقاعدہ ٹی وی چینلز کا حصہ بنتے جا رہے ہیں ۔ ان میں سے ایک ستارے، امانت چن، کا اپنا خاص سٹائل ہے ۔ ایک کامیڈی ڈرامے میں وہ بتاتے ہیں کہ ابھی جب چین کے صدر پاکستان آئے تو وہ بھی ان سے ملنے گئے ۔

’’ملاقات ہوئی تو میں نے ان سے پوچھا: آپ اکیلے آئے ہیں یا کھلونے بھی ساتھ لائے ہیں ۔‘‘ (یہ ان کی پنجابی کا اردو ترجمہ ہے)

(تفریح ِ طبع کے لیے: وہ ایک اور ڈرامے میں بتاتے ہیں کہ انھوں نے بہت سے ملکوں کا دورہ کیا، امریکہ، برطانیہ، جرمنی، اور یہ کہ وہ سوئیٹزرلینڈ بھی گئے لیکن سوئیٹزرلینڈ انھیں بالکل پسند نہیں آیا، وہاں صفائی بہت تھی!)

مزید یہ کہ جب سے پاکستان بنا ہے پاکستانی انگریزی زبان سیکھنے میں لگے ہوئے ہیں، پر سیکھ کر نہیں دیتے ـ  اور ابھی تک اسی بھنور میں پھنسے ہوئے ہیں ۔ اسے چھوڑیں، یہ تو ویسے بھی آقاؤں کی زبان تھی، اس سے نفرت بھی راستے کی رکاوٹ ہے، خود اپنی زبان کی تدریس جس بحران کا شکار ہے اس کی طرف اشارہ کرنا بھی ضروری نہیں ۔ بلکہ پوری تعلیم و تدریس جس پستی میں دھنسی ہوئی ہے اس کی گہرائی تک نظر ڈالنا آسان نہیں ۔

چینی زبان کے ساتھ کیا ہو گا ابھی سے اس کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔

سندھ میں چینی زبان کی لازمی تدریس کی خبر سے گو کہ صدر زرداری کے چینی دوروں کا راز تو کُھلا ۔ لیکن نہ کُھلنے جیسا کُھلا ۔ یہ چیز خود ایک راز بن گئی ہے کہ سندھ کے سکولوں میں چینی زبان کی تدریس کے پیچھے کیا بھید چھپا ہوا ہے ۔ بنیے کا بیٹا گرا ہے تو کیا دیکھ کر گرا ہے ۔

’’سندھی چینی بھائی بھائی‘‘ کے پردے میں کیا ہونے جا رہا ہے! کہانی میں سسپینس بہت ہے! دیکھیں ’’اینڈ‘‘ کیا ہوتا ہے!

Follow the Blogger on Twitter: Twitter.com/khalilkf
Join the Blogger on Facebook: Khalilkf@gmail.com
Send comments, feedback: urdublog@asinstitute.org