ہم سب سمگلڈ اشیاء استعمال کرتے ہیں ۔ ہمیں اس چیز سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ یہ کہاں سے آئیں، کیسے آئیں، انھیں کون لایا، کیا ان پر ٹیکس ادا کیا گیا یا نہیں؛ اور اسی قسم کے دوسرے سوالات ۔
یہ اصل میں ایک قدیمی ذہن کا اظہار ہے کہ ہم اس نوع کے سوالات پر قطعاً دھیان نہیں دیتے ۔ یہ بہت ابتدائی ذہن ہے جو بہت سی چیزوں کی توجیہہ اب بھی سمجھ نہیں پاتا ۔ مثلاً، ایک آدمی نے کوئی کاروبار کرنا ہے، یا یوں کہ لیں کہ اس نے اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے دوسروں کی کچھ ضروریات پوری کرنے کا کام شروع کرنا ہے ۔
سب کاروبار اسی بنیادی ’’لین دین‘‘ پر مبنی ہوتے ہیں ۔ حتٰی کہ حکومت کا تصور بھی اس سے خالی نہیں ۔ اگر حکومت کوئی خدمات انجام نہ دے اور محض ٹیکس پر ٹیکس لگاتی جائے تو ایسی حکومت زیادہ دیر نہیں چل سکتی ۔
تو کوئی بھی کاروبار یا کاروباری جو افراد کی ضروریات، اشیاء اور خدمات کی صورت میں، پوری نہ کریں تو ان کے ساتھ وہی ہو گا جسے ہم بھٹہ بیٹھنا کہتے ہیں ۔ یعنی ان کا بھٹہ بیٹھ جائے گا ۔
ہاں، یہ صرف چور، ڈاکو، ہوتے ہیں جو افراد کی کسی بھی ضرورت کو پورا کیے بغیر کمائی کر لیتے ہیں ۔ یا پھر وہ کاروباری جنھیں حکومت کی سرپرستی حاصل ہوتی ہے ۔ کیونکہ یہ حکومت کے جاری کردہ سازگار ضابطوں اور ٹیکس چھوٹ کی چھتری تلے نفع کماتے ہیں ۔
اور یہ بھی بہت ضروری ہے کہ ہم اس کیٹیگری میں سیاستدانوں کو شامل کریں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اکثر سیاستدان اکثر اوقات شہریوں کے لیے کوئی بھی ضروری خدمت انجام دئیے بغیر کمائی کر لیتے ہیں ۔ میں ان کی کرپشن اور لوٹ مار کا ذکر نہیں کر رہا ۔ بلکہ خدمت انجام دینا تو دور رہا یہ ملک، قوم اور شہریوں کے لیے مسائل کے انبار کھڑے کر دیتے ہیں ۔ پاکستان پر ہی نظر ڈال لیں اور بالخصوص کراچی پر۔ کراچی میں جو کچھ ہو رہا ہے کیا اس کے پیچھے وہاں کے شہریوں کا ہاتھ ہے!
یہاں رونالڈ ریگن کی وہ بات یاد آتی ہے جس کا مطلب کچھ یہ ہے کہ حکومت مسئلے کا حل نہیں، بلکہ خود مسئلہ ہے ۔
بہر حال اپنی بات کی طرف واپس آتے ہیں ۔ جب کوئی آدمی کوئی کاروبار شروع کرتا ہے تو اس کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہوتا ہے کہ اس میں حکومت کا عمل دخل کہاں سے آ گیا ۔ ’یہ تو وہی بات ہوئی کہ مان نہ مان میں تیری مہمان ۔‘
اسی طرح جب کوئی آدمی کوئی شے خریدتا ہے تو اسے بھی اس چیز سے کوئی علاقہ نہیں ہوتا کہ یہ چیز پاکستان میں بنی ہے یا کہیں اور ۔ اس کے لیے یہ بات بے معنی ہوتی ہے کہ وہ حب الوطن بن کر پاکستانی اشیاء خریدے ۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں یہ سلوگن کبھی بھی مقبول نہیں ہو سکا: بی پاکستانی، بائی پاکستانی ۔ یعنی پاکستانی بنیں، پاکستانی خریدیں ۔ ہاں، یہ سلوگن پاکستان میں اس صورت میں مقبول ہو سکتا تھا کہ یہاں کوالیٹی کی اور کم قیمت اشیاء تیار ہو رہی ہوتیں ۔ مگر اس صورت میں اس سلوگن کی ضرورت ہی کیوں پڑتی!
حقیقت یہ ہے کہ قریب قریب تمام صارفین کی سوچ ایک جیسی ہوتی ہے ۔ سب کوالیٹی کی اشیاء کم قیمت پر خریدنا چاہتے ہیں ۔ اگر اسی بات کو مختلف انداز میں کہا جائے تو اس میں سو فیصد صارفین کو شامل کیا جا سکتا ہے ۔ یعنی تمام کے تمام صارفین اپنے پیسے کی زیادہ سے زیادہ قیمت حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔
میں نے ’’قریب قریب تمام‘‘ کی بات اس لیے کی تھی کہ کچھ محب ِوطن ہو سکتا ہے کہ پاکستان کی بنی اشیاء خریدنے کی قربانی دینے کے لیے تیار ہوں ۔ لیکن اگر انھیں پاکستانی اشیاء میں کوالیٹی نہ ملے اور ان کی قیمت بھی زیادہ ادا کرنی پڑے تو وہ اس نقصان کو یہ سمجھ کر برداشت کر سکتے ہیں کہ یہ انھوں نے اپنی حب الوطنی کی قیمت ادا کی ہے ۔ تو یہاں یہ بات بھی سمجھ آتی ہے کہ حب الوطنی کی بھی کوئی قیمت ہو سکتی ہے!
اسی طرح پروڈیوسر بھی اصلاً اپنے پیسے کی زیادہ سے زیادہ قیمت حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہوتے ہیں ۔ ان کے پیسے کی یہ قیمت انھیں منافعے کی صورت میں ملتی ہے ۔ اور یہی وجہ ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ منافع حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔
بہر حال ہم سب کو اپنے پیسے کی زیادہ سے زیادہ قیمت درکار ہوتی ہے ۔ اور یہ ہمارا حق ہے ۔
حکومت اس حوالے سے بھی ایک مسئلہ ہوتی ہے کہ یہ بالعموم اپنی معاشی اور مالی و زری پالیسیوں کے ذریعے ہمارے پیسے کی قیمت گھٹاتی رہتی ہے ۔ یہ بھی ایک طرح کی چوری اور ڈاکے کی مثال ہے ۔
جیسے جے ایس مِل نے کا کہنا تھا کہ لینڈ لارڈ سوتے میں دولت مند بنتے ہیں ۔ اسی طرح ہم بے چارے شہری سوتے جاگتے، بیٹھے بٹھائے حکومت کے ہاتھوں غریب ہوتے جاتے ہیں ۔ ہماری قیمتی اشیاء، ہمارا بینک بیلنس یا نقد، حکومت کی پالیسیوں کے نتیجے میں اپنی قدر و قیمت کے اعتبار سے سکڑتا جاتا ہے ۔
کیا ہم میں سے کوئی ایسا ہے جو سو روپے کے بدلے دس روپے، یا چلیں یوں کہہ لیں کہ سو روپے کے بدلے ننانوے روپے قیمت کی کوئی چیز خریدنا پسند کرے گا ۔
ایک مرتبہ کلاس میں کچھ سٹوڈینٹس مُصر تھے کہ مزدوروں کو زیادہ اجرت دی جانی چاہیے ۔ زیادہ سے ان کی کیا مراد ہے اس کی وضاحت کے ضمن میں ان کا کہنا تھا کہ اتنی اجرت جس سے ان کی تمام یا اکثر یا بنیادی ضروریات احسن طریقے سے پوری ہو سکیں ۔
اس میں بہت سے زاویہ ہائے نظر شامل ہیں، جیسے کہ بنیادی ضرورتیں، یا اکثر ضرورتیں، یا تمام ضرورتیں ۔ بہر حال، بات کو مختصر کرتے ہیں ۔ میں نے ان سٹوڈینٹس سے کہا کہ کیا آپ میں سے کسی نے کبھی اپنا گھر تعمیر کروایا ہے ، بلکہ اکثر نے ایسا کیا ہو گا ۔ تو آپ میں سے کتنے لوگ ہیں جنھوں نے جن راج اور مزدوروں سے کام لیا انھیں ان کی بنیادی، یا اکثر یا تمام ضروریات کے مطابق اجرت دی ۔ سب کے سب کا کہنا تھا کہ انھوں نے ان راج اور مزدوروں کو وہی مزدوری دی جو سب دے رہے تھے ۔ یعنی جو مارکیٹ میں رائج تھی ۔
یعنی ہم کسی شے یا خدمت کے لیے اتنی ہی قیمت ادا کرتے ہیں مارکیٹ میں اس کی جتنی قیمت رائج ہوتی ہے ۔ مارکیٹ کی یہی قیمت ہمیں اپنے پیسے کی قیمت کے تعین میں بھی مدد دیتی ہے ۔
اس سے قطع نظر، ہاں، یقیناً، بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ جب ہم کسی راج یا مزدور کے کام سے خوش ہوتے ہیں تو اسے ’انعام‘ یا کچھ زائد ادائیگی کر دیتے ہیں ۔ لیکن اس کا مارکیٹ کی اجرت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ۔
تو بالکل اسی طرح جب ہم اشیاء (یا خدمات) خریدتے ہیں تو ہماری حتٰی الوسع کوشش یہ ہوتی ہے کہ ہم اپنے پیسے کی زیادہ سے زیادہ قیمت حاصل کریں ۔ اور یہی وجہ ہے کہ ہم صرف شے یا خدمت کی کوالیٹی اور اس کی قیمت پر نظر رکھتے ہیں ۔ اس کا مطلب ہے کہ اگر کوئی حکومت اپنے شہریوں کے اس حق کا خیال نہیں کرتی اور انھیں اپنے پیسے کی زیادہ سے زیادہ قیمت حاصل نہیں کرنے دیتی یا اس چیز کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہے تو ایسی حکومت کبھی اپنے شہریوں کی خیر خواہ نہیں ہو سکتی ۔
واضح ہو کہ کوئی بھی حکومت اپنے شہریوں کے اس حق کے حوالے سے کہ انھیں اپنے پیسے کی زیادہ سے زیادہ قیمت کے حصول میں کوئی مشکل پیش نہ آئے، دو انداز اختیار کر سکتی ہے:
اول تو یہ کہ یہ ان کے اس حق کو یقینی بناتی ہے ۔ دوسرے یہ کہ یہ اس سے بے توجہی برت سکتی ہے، یا، بلکہ، اپنی غلط پالیسیوں سے اپنے شہریوں کے اس حق کو نقصان پہنچا سکتی ہے، یا جیسے کہ طبقہء اشرافیہ اور خواص کی حکومت ارادتاً ایسا نہیں کرتی ۔ پاکستان کی مثال ہمارے سامنے ہے ۔
اس حق کو یقینی بنانے کی کوششوں میں یہ چیزیں شامل ہوتی ہیں: شہریوں کی جان و مال کی حفاظت سے متعلق قوانین اور ادارے بنانا اور پھر ان قوانین کا موثر نفاذ کرنا؛ شہریوں کے بنیادی حقوق اور ان کی آزادیوں کے تحفظ کو یقینی بنانا؛ دھوکہ دہی، فراڈ، وغیرہ، سے تحفظ مہیا کرنا ۔
دوسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ حکومت اپنی بنیادی ذمے داریوں سے بے توجہی برتے، غلط پالیسیاں بنائے، اور یوں اپنے شہریوں کے اس حق کو نقصان پہنچائے ۔ اس کی مثال یہ ہے کہ کرپشن سے متعلق قانون ابھی تک پس و پیش میں پڑا ہے ۔ اور پھر یہ کہ پاکستان کی حکومت نہ صرف اپنی بنیادی ذمے داریوں کو پورا کرنے میں ناکام ہے بلکہ اس حق کے حصول کے راستے میں رکاوٹ بھی ہے جو انھیں اپنے پیسے کی زیادہ سے زیادہ قیمت پانے کے ضمن میں حاصل ہے ۔ یہ حقیقتاً اشرافیہ طبقات کی حکومت ہے اور دانستاً عام شہریوں کے حقوق کو پامال کرتی ہے، جس میں پیسے کی زیادہ سے زیادہ قیمت سے متعلق حق بھی شامل ہے ۔
اس کی مثال یہ ہے: جیسے کہ کمپیٹیشن کمیشن مختلف کاروباروں اور صنعتوں کو ملی بھگت سے اپنی اشیاء کی قیمت مقرر کرنے، اور کارٹیل بنانے سے روک کر شہریوں کے اس حق کی حفاظت کرتا ہے ۔ جیسے کہ پنجاب میں قائم ہونے والی صارف عدالتیں ہیں جو صارفین کو پروڈیوسروں اور تاجروں کے ہاتھوں پہنچنے والی دھوکہ دہی، نقصان، وغیرہ، سے بچاتی ہیں اور ان کے اس حق کا تحفظ کرتی ہیں ۔ لیکن یہاں یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ کمپیٹیشن کمیشن اور صارف عدالتیں دونوں ادارے مجموعی طور پر بہت ہی محدود پیمانے پر موثر ہیں ۔
نتیجتاً، بلا شک و شبہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان کی ریاست اور حکومتیں اپنے شہریوں کے اس حق کے تحفظ میں ناکام ہیں ۔ بلکہ وہ خود بڑے بڑے صنعتکاروں، تاجروں، کاروباریوں کے ساتھ ملی بھگت کرتی ہیں ۔ اور یہی لوگ ہیں جو حکومت کی پالیسیوں پر اثر انداز ہو کر عام شہریوں کے اس حق پر ڈاکہ ڈالتے ہیں اور انھیں اپنے پیسے کی زیادہ سے زیادہ قیمت حاصل نہیں کرنے دیتے ۔
آئیے اب اس سوال پر بھی توجہ دیتے ہیں کہ ہم اپنے پیسے کی زیادہ سے زیادہ قیمت کب حاصل کرتے ہیں ۔ اس چیز کا کوئی حتمی پیمانہ نہیں ۔ یہ خاصی داخلی چیز ہے ۔
اصل میں اس سے بھی پہلے ہمیں یہ بات سمجھنی چاہیے کہ ہمارے پیسے کی قدر بھی ہمارے لیے ایک داخلی چیز ہے؛ اگرچہ پیسے کی قدر کی پیمائش کے خارجی پیمانے بھی موجود ہیں ۔ جیسے کہ افراط ِ زر کی شرح، جس سے ہمیں یہ پتہ چلتا ہے کہ پہلے کے مقابلے میں ہم آج اپنے پیسے کی ایک مخصوص مقدار سے کتنی اشیاء خرید سکتے ہیں ۔
بلکہ اس کے لیے دو چیزیں اکثر ہمارے پیش ِ نظر رہتی ہیں: سونا اور ذمین ۔ اگر ہم اپنے پیسے کی قیمت یا قدر میں کمی یا بیشی کا تعین کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اس کا موازنہ سونے کی قیمت سے کرنا چاہیے ۔ آج سے دس برس پیشتر ایک تولہ سونا خریدنے کے لیے کتنے روپے درکار تھے اور آج کتنے روپے درکار ہیں ۔ یہ فرق ہمیں بتاتا ہے کہ ہمارے پیسے کی قیمت کتنا کم ہوئی ہے ۔
اسی طرح ذمین بھی خاصی حد تک ہمیں ہمارے پیسے کی قیمت میں کمی بیشی کا پتہ دیتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ سرمایہ کاری کے نقطہء نظر سے بھی ذمینی پراپرٹی کو بہت قابل ِ قدر سمجھا جاتا ہے ۔ اس کا تعلق منافعے کی اس شرح کے ساتھ بھی ہوتا ہے جو بینک ہمیں ہماری جمع شدہ بچتوں پر دیتے ہیں ۔
جب میں یہ کہتا ہوں کہ پیسے کی قدر ایک داخلی چیز ہے تو اس سے مراد یہ ہے کہ جیسے جیسے ہماری قوت ِ خرید بڑھتی ہے ہمارا ہاتھ اتنا ہی کُھلتا جاتا ہے، اور اگر قوت ِ خرید کم ہوتی ہے تو ہم اپن اخراجات میں اتنا ہی محتاط ہوتے جاتے ہیں ۔ تاہم، ہم نے کیا خریدنا ہے، کتنے میں خریدنا ہے، اور کب خریدنا ہے، اس کا انحصار ہماری قوت ِ خرید پر ہوتا ہے ۔ تاہم، بعض اوقات ہم بعض اشیاء کی خریداری کو بوجوہ التوا میں بھی ڈال دیتے ہیں ۔
لیکن، ان سب صورتوں کے باوجود بعض اوقات ہم کوئی ایسی مہنگی شے بھی خرید لیتے ہیں جو ہمیں کسی نہ کسی صورت ذاتی، یا جمالیاتی تسکین مہیا کرتی ہے ۔ بظاہر ہمیں خود ایسی کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ ہم نے اسے کیوں خریدا ہے، اور ہم دوسروں کو اور خود کو بھی یہی جواب دیتے ہیں کہ بس یہ مجھے اچھی لگی، یا پسند آ گئی ۔
ایسی بنیادی ضرورتیں جن کو ٹالا نہیں جا سکتا اور جنھیں باقاعدگی کے ساتھ پورا کرنا ضروری ہوتا ہے، ان سے قطع نظر ہمارا معاشی طرز ِ عمل لازماً داخلی محرکات پر مبنی ہوتا ہے ۔ بلکہ بنیادی ضرورتوں کی تکمیل کے ضمن میں بھی جو گوناگونی دستیاب ہوتی ہے، جیسے کہ بھوک مٹانے یا تن ڈھابپنے کے حوالے سے ہمیں متعدد چیزوں میں فیصلہ کرنا ہوتا ہے، وہاں بھی ہماری داخلیت اپنا رنگ دکھاتی ہے ۔
تو جتنا پیسے کی بہتات ہوتی ہے ہم اتنا ہی داخلی ہوتے جاتے ہیں ۔ پیسے کی قلت ہم سے ہماری داخلیت تک چھین لیتی ہے ۔ بالعموم یہی حرکیات ہم سے ہمارے پیسے کی قیمت کا تعین کرواتی ہے ۔
اب اس سوال کی طرف آتے ہیں کہ ہم اپنے پیسے کی زیادہ سے زیادہ قیمت کیسے اور کب حاصل کرتے ہیں ۔
اس ضمن میں پہلی چیز تو انتخاب کی آزادی ہے ۔ مراد یہ کہ ہم جو شے خریدنا چاہتے ہیں اس میں ہم نہ صرف آزاد ہوں بلکہ وہ شے بھی مارکیٹ میں تنوع کے ساتھ موجود ہو ۔ فرض کریں اگر ہمیں آزادی تو میسر ہے کہ ہم جو چاہیں خریدیں، لیکن مارکیٹ میں اس شے کی ویرائیٹی موجود نہ ہو تو ہماری یہ آزادی بے معنی ہے ۔ دوسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ شے کی ویرائیٹی تو موجود ہو مگر ہمیں آزادی میسر نہ ہو ۔ ایسا اس وقت ہوتا ہے جب حکومت اس شے کی درآمد پر متعدد قسم کی پابندیاں عائد کر دے ۔ جیسے کہ کوئی مخصوص شے صرف ایک خاص مقدار میں درآمد کی جا سکتی ہے یا درآمد نہیں کی جا سکتی ۔ یا یہ کہ جب کسی شے پر مختلف قسم کے ٹیکس لگا کر اس شے کی قیمت ہماری قوت ِ خرید سے زیادہ کر دی جائے ۔
اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ دراصل حکومت کے پاس ہماری آزادی کو محدود کرنے کے دو طریقے ہیں ۔ ایک تو ٹیکس اور دوسرا ضابطے ۔ جیسے کہ حکومت کسی شے پر اس حد تک ٹیکس لگا دے کہ یہ اکثر شہریوں کی قوت ِ خرید کی پہنچ سے باہر ہو جائے ۔
ابھی کچھ عرصہ پہلے تک، جب پاکستان میں کاریں اسیمبل کرنے کا کاروبار شروع نہیں ہوا تھا، پاکستان میں کاریں بہت مہنگی ہوتی تھیں ۔ وجہ کیا تھی؟ ان پر درآمدی ڈیوٹی قریب قریب سو فیصد سے بھی زیادہ تھی ۔ پھر جب پاکستان میں کاریں اور گاڑیاں بننے لگیں تب بھی یہ ڈیوٹی اسی طرح زیادہ رہی ۔ اور مقامی کاروں کی قیمت بھی کافی زیادہ تھی ۔
اس وقت میں سوچتا تھا کہ اگر حکومت، درآمد ہونے والی کاروں پر ڈیوٹی ختم نہیں تو ایک معقول حد تک کم کر دے تو کتنے پاکستانی شہری کاروں کے مالک بن جائں گے اور ان کی زندگی کتنی آرادم دہ اور خوشحال ہو جائے گی ۔ لیکن ابھی تک حکومت نے اپنی زندگی کو بہتر بنانے کی شہریوں کی یہ آزادی سلب کی ہوئی ہے ۔
بلکہ ابھی کچھ سال پہلے تک پاکستان میں کاروں کی قلت تھی ۔ وجہ یہ تھی کہ کاروں کی مقامی صنعت، کاروں کی طلب پوری کرنے سے قاصر تھی ۔ یہاں یہ بات بھی واضح رہے کہ ان پاکستانی کاروں کی کوالیٹی خاصی گھٹیا اور قیمت بہت زیادہ تھی ۔ کاروں کے طالب پہلے سے کار کی پوری قیمت کاروں کے ڈیلروں کے پاس جمع کرواتے تھے ۔ بلکہ اس قیمت کے ساتھ وہ کچھ زائد رقم پریمیم کے طور پر بھی دیتے تھے ۔ اس کے باوجود انھیں کاریں دو تین سے لے کر چھ ماہ بعد ملتی تھیں ۔
تب بھی مجھے یہ خیال آتا تھا کہ آج ہماری اس دنیا میں لاتعداد کاریں دستیاب ہیں اور کم قیمت سے لے بیش قیمت تک ۔ مگر پاکستانی شہری ان کاروں سے محروم ہیں ۔ کتنی حیرانی اور اشتعال کی بات ہے کہ شہریوں کے پاس پیسہ موجود ہے، قوت ِ خرید موجود ہے، لیکن انھیں انتخاب کی آزادی دستیاب نہیں ۔
اس کا مطلب یہ بنتا ہے کہ انھیں ان کے پیسے کی زیادہ سے زیادہ قیمت نہیں مل رہی ۔ مثلاً اگر ایک بہت اچھی کوالیٹی کی کار امریکہ میں ستر ہزار روپے میں دستیاب ہے اور کوئی تاجر اسے پاکستان درآمد کر کے ایک لاکھ روپے میں بیچنا چاہتا ہے اور پاکستان کے شہری اسے اتنی قیمت میں خریدنے کے لیے تیار ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ انھیں اس کار کی صورت میں اپنے پیسے کی زیادہ سے زیادہ قیمت وصول ہو رہی ہے ۔
مگر جب حکومت اسی کار پر درآمدی ڈیوٹی اور دوسرے متعدد ٹیکس عائد کر کے، مثلاً، اس کی قیمت کو دو لاکھ روپے تک پہنچا دیتی ہے تو اصل میں یہ کار بہت سے پاکستانی شہریوں کی قوت ِ خرید سے باہر ہو جاتی ہے ۔ اور یوں حکومت ان کی انتخاب کی آزادی کے ساتھ اپنی زندگی کو آرام دہ اور خوشحال بنانے کی آزادی بھی سلب کر لیتی ہے ۔
ایک بات یہاں اور اہم ہے ۔ جب شہریوں کو اپنے پیسے کہ زیادہ سے زیادہ قیمت نہ ملے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے پیسے کہ وہ قیمت جو مختلف حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے انھیں نہیں ملی، وہ کسی اور کی جیب میں چلی گئی ۔ جیسے مذکورہ بالا کاروں کی مثال میں یہ ہوا کہ جن لوگوں کو مجبوراً مقامی طور پر بنی ہوئی کاریں خریدنی پڑیں، جو کوالیٹی کے اعتبار سے ناقص اور قیمت کے اعتبار سے بہت مہنگی تھیں، اصل میں انھیں اپنے پیسے کی زیادہ سے زیادہ قیمت نہیں مل سکی، یا یوں کہہ لیں کہ اپنے پیسے کی جتنی قیمت وہ چاہتے تھے انھیں وہ قیمت نہ ملی، اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو قیمت شہریوں کو نہ ملی وہ مقامی کاریں بنانے والوں کے حصے میں آ گئی ۔ لیکن اگر پاکستان میں کاروں کی درآمد پر پابندی نہ ہوتی، یا ان پر اتنی بھاری درآمدی ڈیوٹی نہ ہوتی، تو پاکستانی شہریوں کو ان کے اس پیسے کی زیادہ سے زیادہ قیمت یا جتنی قیمت وہ چاہتے تھے اتنی قیمت کی کار مل سکتی ۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ حکومت ضابطوں اور ٹیکس کی پالیسیوں کے ذریعے پاکستان کے ایلیٹ یعنی اشرافی طبقات کو فائدہ پہنچاتی ہے ۔ یہ نِری ایلیٹ طبقات کی حکومت ہے ۔
یہی صورت، تمام اشیاء و خدمات کے سلسلے میں پیش ِ نظر رکھی جا سکتی ہے ۔ اور اگر اس چیز کا حساب کتاب کیا جائے کہ اپنی ٹیکس اور ضابطوں کی پالیسیوں کی ذریعے حکومت پاکستان کے شہریوں کا کتنا پیسہ لوٹ رہی ہے تو یقیناً یہ اعداد و شمار حیران کُن ہوں گے ۔
اس ساری گفتگو سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ آزاد تجارت دراصل عام شہریوں کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچاتی ہے ۔ کیونکہ یہ انھیں ان کے پیسے کی زیادہ سے زیادہ قیمت حاصل کرنے کے ضمن میں مددگار ہوتی ہے ۔
جیسے کہ ہم دیکھ سکتے ہیں کہ عام طور پر پیسہ خود مقصد نہیں ہوتا، بلکہ یہ ذریعہ ہوتا ہے جس سے ہم اپنی ضروریات اور خواہشات پوری کرتے ہیں ۔ اور جیسا کہ بنیادی طور پر یہ آسائش و آرام اور تسکین ہی ہے جو ہماری زندگی کی خوشحالی کا تعین کرتی ہے، اور اس آسائش و آرام اور تسکین کا انحصار اشیاء و خدمات کی دستیابی پر ہوتا ہے اور اگر اشیاء و خدمات کی تجارت پر حکومت پابندی لگا دے، یہ پابندی خواہ جزوی ہو یا کلی، یا ان اشیاء و خدمات پر بھاری ٹیکس عائد کر دے، تو یوں حکومت ہماری زندگی کی کوالیٹی کو متاثر کر رہی ہوتی ہے ۔
آئیے ایک مختلف مثال پر غور کرتے ہیں ۔ فریڈرک باستیات، جو ایک فرانسوی سیاسی و معاشی مفکر تھا، پیرس شہر کو اشیا کی رسد کا نقشہ یوں کھینچتا ہے:
’میں جب پیرس آیا تو میں نے خود سے پوچھا: یہاں کوئی دس لاکھ کے قریب انسان آباد ہیں جو سب کے سب بس چند دنوں میں مر جائیں اگر اس بڑے شہر کی طرف متعدد نوع کی اشیاء کا بہاؤ رک جائے ۔ اس سے میرے تخیئل کو مہمیز ملی کہ اس شہر کے دروازوں سے کل جو اشیاء یہاں داخل ہوں گی، جو یہاں کے باشندوں کو قحط، بغاوت اور لوٹ مار کی تباہیوں سے محفوظ رکھیں گی، ان کے تنوع کا اندازہ لگانے کی کوشش تو کروں ۔
پھر بھی یہ سب اس لمحے بڑے آرام سے سوئے پڑے ہیں اور انھیں اس خوفناک امکان کا ذرا سا بھی خیال نہیں ۔ دوسری طرف، 80 ادارے ہیں جو آج مصروف ِکار رہے، اور ان کے درمیان کوئی مشترک منصوبہ بندی یا باہمی معاہدات بھی موجود نہیں، اور یہ سب بندوبست کس لیے تا کہ پیرس کی رسد جاری رہے ۔ ہر نیا دن اس وسیع مارکیٹ کو ہر طرح کی ضروری چیزیں مہیا کرنے کا انتظام کس طرح کرتا ہے ـ نہ تو بہت زیادہ نہ ہی بہت کم؟ تو پھر یہ کونسی باوسیلہ اور خفیہ طاقت ہے جو اتنی پیچیدہ ترسیلات کو اتنی باقاعدگی سے منظم کرتی ہے (ایڈم سمتھ نے اسی چیز کو ’دست ِ پوشیدہ‘ کا نام دیا تھا ۔ بُلاگر) ـ ایک ایسی باقاعدگی کے ساتھ، جس پر ہر شخص یقین رکھتا ہے، گو کہ اس کی خوشحالی اور زندگی تک کا انحصار اسی پر ہے؟
یہ طاقت ایک اصول ِ مطلق ہے: آزادانہ تبادلے کا اصول ۔ ہم اس داخلی روشنی پر یقین رکھتے ہیں جسے خدا نے ہر آدمی کے دل کے اندر جاگزیں کیا ہے، اور جس کو ہماری نوع کی بقا اور لامحدود بہتری کا کام سونپا گیا ہے، یہ ہے وہ روشنی جسے ہم مفاد ِ ذاتی کہتے ہیں، جو کتنا روشن خیالی دینے والا، ہمیشہ یکساں رہنے والا، اور کتنا عمل دخل رکھنے والا ہے، مگر جب ہم اسے بغیر کسی رکاوٹ کے اپنا کام کرنے دیں ۔
اگر کیبینٹ کا کوئی وزیر اس طاقت کو اپنی کسی تیارکردہ نئی سکیم سے بدلنے کا فیصلہ کرے اور خواہ اس کی یہ سکیم کتنی ہی بہتر کیوں نہ ہو؛ اگر وہ اس شاندار میکانزم کو اپنی برتر ڈائریکشن کے تحت لانے کی تجویز کرے، اس تمام کام کے کنٹرول کو اپنے ہاتھوں میں لانا چاہے، یہ تعین کرنے کی تجویز کرے کہ کون، کہاں، کیسے اور کن شرائط کے تحت کیا چیز بنائے گا، اسے کیسے ٹرانسپورٹ کرے گا، اس کا کیسے تبادلہ کرے گا، اور اسے کسیے صرف کرے گا، تو اے پیرس کے شہریو، آپ کا کیا حال ہوگا؟
اگرچہ آپ کے گھروں میں خاصی پریشانیاں ہوں گی، اگرچہ بے مائیگی، مایوسی، اور شاید بھوک بھی موجود ہو گی، جو آپ کو آنسو بہانے پر مجبور کرتی ہو گی، اور جس کا کسی کی خیر خواہی بھی مداوا نہ کرسکتی ہو گی، لیکن اس بات کا غالب امکان موجود ہے، اور مجھے یقین ہے، کہ حکومت کی بلا وجہ دخل اندازی اس بے مائیگی، مایوسی اور بھوک میں لامحدود اضافے کا باعث بنے گی، اور آپ میں ان سب برائیوں کی ترویج کا سبب بھی ہو گی جو ابھی تک شہریوں کی صرف ایک مختصر تعداد کو متاثر کرتی ہیں ۔‘
تو یہ آزادانہ تبادلے کا اصول ہے جو نہ صرف ہمارے لیے ہمارے پیسے کی زیادہ سے زیادہ قیمت حاصل کرنے کا ماحول پیدا کرتا ہے بلکہ ہماری آزادی کو بھی ممکن بناتاہے اور اسے تقویت بھی دیتا ہے ۔
اور جہاں تک سمگلنگ کا معاملہ ہے تو یہ بات واضح ہے کہ سمگلر ہمیں وہ چیزیں مہیا کرتے ہیں جو ہمارے لیے قابل ِ قدر ہوتی ہیں، جن کی ہمیں ضرورت ہوتی ہے، اور جن کی کوالیٹی بہتر اور قیمت کم ہوتی ہے ۔ یوں وہ ہمیں ہمارے پیسے کی زیادہ سے زیادہ قیمت کے حصول میں مدد دیتے ہیں ۔
دیکھا جائے تو سمگلنگ بھی تجارت ہے ۔ اس میں بس یہ ہوتا ہے کہ سمگلر کسی حکومت کے ضابطوں کی پاسداری نہیں کرتے اور ان ٹیکسوں کی ادائیگی نہیں کرتے جو اس حکومت نے چیزوں کی درآمد پر عائد کیے ہوتے ہیں ۔ یہ ضاطے عام طور پر مقامی صنعت کو فائدہ پہنچانے کے لیے بنائے جاتے ہیں؛ اور درآمدی ٹیکسوں کا مقصد بھی بالعموم یہی ہوتا ہے ۔ ضاطے تو صاف پابندی ہوتے ہیں کہ یہ چیز درآمد نہیں کی جا سکتی؛ جبکہ درآمدی ٹیکس درآمدی چیز کی قیمت کو بڑھا کر مقامی منڈی میں اس کی طلب کم کرتے ہیں اور اسے شہریوں کی قوت ِ خرید سے باہر کرتے ہیں ۔
اس بات کو یوں بھی کہا جاتا ہے کہ جب حکومت اپنے شہریوں کو مجبور کرتی ہے کہ وہ مقامی اشیاء خریدیں، جو کہ کوالیٹی اور قیمت دونوں کے اعتبار سے بیکار ہوتی ہیں، یا صرف کسی ایک اعتبار سے بیکار ہوں، اور باہر ممالک سے درآمد کی جانے والی اشیاء نہ خریدیں جو ٹیکسوں کی سبب مہنگی کر دی جاتی ہیں، تو اصل میں طلب کا ایک خلا پیدا ہو جاتا ہے ۔ یعنی اشیاء کی طلب (ڈیمانڈ) تو موجود ہوتی ہے ۔ یہ ایک ایسی ترغیب ہوتی ہے جو نیم رسمی (سیمی فارمل) کاروباریوں کو اس خلا کو پُر کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے ۔ اسے سمگلنگ کا نام دے دیا جاتا ہے ۔
اگر ہم حکومت کے نقطہء نظر سے نہیں بلکہ شہریوں کے نقطہء سے دیکھیں تو سمگلر اصل میں شہریوں کی طلب کو ہی پورا کر رہے ہوتے ہیں ۔ وہ بھی انھیں تاجروں کی طرح ہوتے ہیں جو اشیاء کی درآمد، برآمد کا کاروبار کرتے ہیں ۔ بس اتنا فرق ہوتا ہے کہ وہ حکومت کے ضابطوں اور ٹیکسوں کو نہیں مانتے ۔
اسی بات کو فریڈرک باستیات نے یوں بیان کیا ہے کہ اگر اشیاء کوسرحدیں عبور کرنے سے روکا جائے گا تو پھر فوجیں سرحدیں عبور کریں گی ۔ لیکن سمگلنگ ان دونوں ’’انتہاؤں‘‘ کے بیچ ایک درمیانہ راستہ پیدا کرتی ہے ۔
سو، اگر ہم اس طرح سوچیں کہ اشیاء کی آزاد تجارت موجود ہو، یا ان کی درآمد اور برآمد پر کوئی پابندی نہ ہو، اور ٹیکس بھی بس معمولی شرح سے عائد کیے جائیں تو سمگلنگ خود بخود ختم ہو جائے گی ۔ مراد یہ ہے کہ اگر حکومتیں مقامی اشیاء کی سرپرستی کریں گی اور درآمدی اشیاء پر ٹیکس عائد کر کے ان کی قیمتوں کو بڑھائیں گی تو سمگلنگ میں بھی اضافہ ہوتا رہے گا ۔
مطلب یہ کہ اگر ایک ملک میں اشیاء موجود ہیں اور کسی دوسرے ملک میں ان کی طلب موجود ہے، تو یہ اشیاء وہاں پہنچ کر دم لیں گی ۔ اگر حکومت انھیں پہنچنے سے روکے گی اور ان کی درآمد نہیں ہونے دے گی، تو سمگلر انھیں ادھر ادھر کرنے سے باز نہیں آئیں گے ۔
یہ کہانی پاکستان میں ہزاروں، لاکھوں مرتبہ دوہرائی جا چکی ہے ۔ لیکن پھر بھی آزاد تجارت کی دلیل پر دھیان نہیں دیا گیا ۔
ایک تازہ ترین مثال دیکھیے ۔ 12 ستمبر کے ایکسپریس ٹریبیون میں مقامی ٹائر انڈسٹری سے متعلق ایک سٹوری شائع ہوئی ہے ۔ اس کا عنوان یہ ہے: سمگلڈ ٹائروں سے مقامی صنعت کو خطرہ ۔ ایسی تمام سٹوریوں کا عنوان بالعموم ایسا ہی ہوتا ہے ۔
اس سٹوری میں مقامی ’جنرل ٹائر‘ کے سی ای او کا انٹرویو دیا گیا ہے ۔ وہ بتاتے ہیں کہ بھاری انڈر انوائیسنگ اور سمگلنگ، مقامی ٹائر انڈسٹری کے لیے شدید تشویش کا باعث ہیں ۔ وہ اس کا حل یہ بتاتے ہیں کہ پاک افغان سرحد کے راستے ہونے والی سمگلنگ کو روکنے کے بجائے پانچ بڑے شہروں کی ٹائر مارکیٹوں پر چھاپے ماریں جائیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ چند ماہ تک ان مارکیٹوں پر مسلسل چھاپے ماریں جائیں تو وہ یقین سے کہہ سکتے ہیں ان مارکیٹوں میں سمگلڈ ٹائروں کا کاروبار کرنے والے یہ کام چھورنے پر مجبور ہو جائیں گے ۔
وہ حکومت کو بھی لالچ دیتے ہیں کہ سمگلنگ پر کریک ڈاؤن سے حکومت کو لاکھوں ڈالر ٹیکس کی صورت میں ملیں گے ۔ کیونکہ اس طرح جو طلب سمگلر پوری کر رہے ہیں وہ قانونی تجارت سے پوری ہونا شروع ہو جائے گی ۔ آگے چل کر وہ خود یہ بتاتے ہیں کہ وہ مقامی صنعت سے تو مقابلہ کرنا چاہتے ہیں لیکن ان ٹھگوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے جو سات سے نو فیصد تک کم قیمت پر ٹائر بیچتے ہیں ۔
اگر ان سی ای او سے کوئی پوچھے کہ کیا آپ سات سے نو فیصد مہنگا ٹائر خریدنا پسند کریں گے ۔ یا اگر وہ ایسا پسند بھی کریں گے تو دوسرے شہریوں کو ایسا کرنے پر کیوں مجبور کر رہے ہیں ۔ اور ان کی کمپنی سات سے نو فیصد سستا ٹائر کیوں نہیں بیچ سکتی ۔ اور اگر نہیں بیچ سکتی تو کیا یہ شہریوں/صارفین کا قصور ہے ۔ اور یہ کہ صارفین سات سے نو فیصد مہنگا ٹائر کیوں خریدیں ۔
مزید، کیا ان سی ای او کی کمپنی سات سے نو فیصد مہنگا خام مواد خریدنا پسند کرے گی ۔ میں جانتا ہوں، قطعاً نہیں ۔ وہ حکومت کو تو لاکھوں ڈالر کے ٹیکس کا لالچ تو دے رہے ہیں، کیا ان کے پاس اور مقامی صنعت کے پاس شہریوں/صارفین کو دینے کے لیے بھی کچھ ترغیب موجود ہے ۔ یا بس یہ کہ وہ سات سے نو فیصد مہنگا ٹائر خریدیں تا کہ مقامی صنعت کا پہیہ چلتا رہے ۔
چلیں مانا کہ شہری/صارف مہنگا ٹائر خرید کر مقامی صنعت کے پہیے کو چلاتے رہیں، لیکن یہی دلیل شہری بھی دے سکتے ہیں کہ مقامی صنعت ٹائر سستا بیچھ کر شہریوں کی ضرورت پوری کرے ۔ یہاں پھر وہی بات آتی ہے کہ کیونکہ پاکستان ایلیٹ ریاست ہے لہٰذا، یہاں فیصلہ شہریوں کی اکثریت کے حق میں نہیں بلکہ اس اقلیت کے حق میں ہوتا ہے جو مقامی صنعت چلا رہی ہوتی ہے ۔
اس تازہ ترین مثال سے ایک بات واضح ہوتی ہے کہ اگر اس وقت حکومت ان سی ای او کے مشورے کو مانتے ہوئے مارکیٹوں پر مسلسل چھاپے مارے، اور سرحدوں کی بھی کڑی نگرانی کرے اور یوں سمگلنگ کو ممکنہ حد تک محدود کر دے یا مانا کہ ختم کر دے، تو مقامی انڈسٹری کو فائدہ تو ہو گا، لیکن اس طرح شہریوں/صارفین کو سات سے نو فیصد نقصان ہو گا اس کا کسی کو خیال نہیں ۔ یہ ایلیٹسٹ سوچ ہے ۔ اشرافی فکر ہے، طبقہء خواص کی فکر ہے ۔
کیا اس طرح پاکستان کے ان شہریوں کو، جو مقامی ٹائر خریدیں گے، اپنے پیسے کی قیمت سات سے نو فیصد تک کم نہیں ملے گی ۔ یقیناً کم ملے گی ۔ اور پھر یہ سات سے نو فیصد پیسہ کس کی جیب میں جائے گا ۔ سیدھی سی بات ہے کہ مقامی ٹائر انڈسٹری کی جیب میں ۔ اور اس طرح بکنے والے ٹائروں پر جو پیسہ ٹیکس کے طور پر مقامی ٹائر انڈسٹری ادا کرے گی وہ کس کی جیب میں جائے گا ۔ سیدھی سی بات ہے کہ حکومت کی جیب میں، اور حکومت کی جیب سے سیدھا سیدھا سیاستدانوں، فوج اور بیوروکریٹوں کی جیب میں ۔
پاکستان میں معاشی میدان میں یہی کچھ ہو رہا ہے ۔ یہاں کی معاشی تاریخ یہی ہے ۔ حکومت شہریوں سے ٹیکس بھی لے رہے ہی، جو بعض صورتوں میں سبسیڈی یا حکومتی مدد یا بے نظیر انکم سپورٹ سکیم یا جیسے بجلی کے بل پر دی جانے والی سبسیڈی وغیرہ کی صورت میں پھر عام شہریوں کو دے کر ان پر احسان کیا جاتا ہے ۔ اور جو پیسہ شہری کماتے ہیں، حکومت اپنی معاشی اور مالی و زری پالیسیوں کے ذریعے اس کی قیمت گھٹا کر، شہریوں کو لوٹ بھی رہی ہے ۔ اور پھر آزاد تجارت کو روک کر، شہریوں کو ان کے پیسے کی زیادہ سے زیادہ قیمت حاصل کرنے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بھی ہے ۔
آخر میں کچھ تھوڑی سی بات خلاصے کے طور پر ۔ اس پوسٹ میں ہمارے زیر ِ بحث یہ چیز رہی ہے کہ شہریوں کو ان کے پیسے کی زیادہ سے زیادہ قیمت کیوں نہیں ملتی، اور کیسے مل سکتی ہے ۔ اس حوالے سے پہلی اہم چیز تو یہ ہے کہ آزادانہ تبادلہ موجود ہو تو شہریوں کو اپنے پیسے کی زیادہ سے زیادہ قیمت ملے گی ۔ اگر اس تبادلے پر کوئی روک ٹوک لگائی جائے گی تو اس کا نقصان آخر ِ کار شہریوں کو ہو گا ۔
دوسری اہم چیز یہ ہے کہ اگر آزاد تجارت موجود ہو تو ہر شہری کو اپنے پیسے کی زیادہ سے زیادہ قیمت ملنے کا امکان قوی تر ہو جائے گا ۔ اور اگر آزاد تجارت پر کسی قسم کی پابندیاں عائد ہوں گی (خواہ وہ ضابطوں کے حوالے سے ہوں یا ٹیکس کے) تو شہریوں کے پیسے کی قیمت کم ہو جائے گی اور انھیں نقصان ہو گا ۔
تیسری اہم چیز، اور یہ آخری نہیں، یہ ہے کہ حکومت اجارہ داری یا اجارہ داریاں نہ بننے دے، اور اس کے ساتھ ساتھ اس کی پالیسیوں میں ’ترجیحی سلوک‘ بھی موجود نہ ہو (یعنی جیسے کہ کسی صنعت کو یا کسی سیکٹر کو ٹیکس سے متعلق یا کسی نوع کے ضابطے کا استثنٰی دینا) ۔ اگر ترجیحی سلوک اور اجارہ داریاں موجود ہوں گی تو معاشی میدان میں موجود متعدد کار آزماؤں کے مابین آزاد مقابلہ نہیں ممکن نہیں ہو پائے گا، اور یوں آخرش سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں کو ہو گا ۔
حاصل کلام یہ کہ اشیاء و خدمات کا آزادانہ تبادلہ، آزاد تجارت اور مقابلہ یا کمپیٹیشن ایسی چیزیں ہیں جو شہریوں کو ان کو پیسے کی زیادہ سے زیادہ قیمت کے حصول کو یقینی بناتی ہیں ۔
نوٹ: یقیناً کئی مقامات پر متعدد چیزیں وضاحت طلب رہ گئی ہوں گی ان کی نشاندہی کیجیے آئندہ پوسٹس میں ان پر توجہ دی جائے گی ۔
Follow the Blogger on Twitter: http://twitter.com/khalilkf
Join the Blogger on Facebook: Khalilkf@gmail.com
Send comments, feedback: urdublog@asinstitute.org