ایک نئی جمہوریت کا ظہور

 پاکستان میں ایک نئی جمہوریت کا ظہورا ہورہا ہے ۔ اسے ”نراجی جمہوریت“ کا نام دینا مناسب ہی نہیں، درست بھی ہو گا ۔

اگر چہ جمہوریت کی یہ قسم ابتدا سے ہی پاکستان میں اپنا ڈول ڈالے ہوئے ہے، لیکن اسے ایک جدا اورمتمیز صورت پاکستان پیپلز پارٹی کی موجودہ حکومت کے آغاز سے نصیب ہوئی ہے ۔ تاہم، یہ بات شروع میں ہی واضح ہوجانی چاہیے کہ اس میں پیپلز پارٹی کی حکومت کا کوئی قصور نہیں ۔ اور اس کا سبب یہ ہے کہ پیپلز پارٹی جو کچھ اب کر رہی ہے، یہ کوئی نئی چیز نہیں ۔ یہ تو اس کا پرانا وطیرہ ہے: یعنی روایات، قواعد و ضوابط، قوانین، آئین، اور پھر اداروں کی تضحیک وتباہی، ہمیشہ سے اس کا امتیاز ی وصف رہی ہے ۔

جمہوریت یا قانون کی حکمرانی

 جمہوریت یا قانون کی حکمرانی 

مصنف ڈاکٹر خلیل احمد 

تعلیم پسندی کا مغالطہ

 

مصنف: ڈاکٹر خلیل احمد 

غیر آزاد علمی فضا کی پہچان اور خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ یہاں مغالطوں کا دور دورہ ہوتا ہے، اور کلیشے بول چال کا درجہ رکھتے ہیں ۔ یہ ایسے ہی ماحول کی دین ہے کہ ” تعلیم پسندی“ بھی پاکستان میں ایک مغالطے کا درجہ اختیار کر چکی ہے ۔ نہ صرف تعلیم پسندی، بلکہ تعلیم سے متعلق لا تعدا د مغالطے رواج پا چکے ہیں ۔ ذیل میں صرف تعلیم پسندی کے مغالطے کا جائزہ لیا جاتا ہے۔

بلاواسطہ ٹیکس نا منظور

 مصنف امین لاکھانی

ترجمہ اظہر صدیقی 

سا لانہ بجٹ 2012 کی آمد آمد ہے اور سا تھ ساتھ پاکستان کی سیاسی فضاء میں انتخابی بخار بھی بتد ریج بڑھ رہا ہے۔

پا کستان کی سوِل سوسا ئٹی کے لیے یہ بہترین مو قع ہے کہ ملک میں بلواسطہ ٹیکس کے حوالے سے ایک منظم بحث کا آغاز کرے اوراِس بات کا مطالبہ کرے کہ تمام سیاسی پارٹیاں اپنے انتخابی منشو ر میں بلواسطہ ٹیکس کو بتدریج کم کرکے ختم کرنے کا اعلان شامل کریں۔

تخیّل کی موت

مصنف: ڈاکٹر خلیل احمد

گذشتہ برس، یکم جنوری، 2011 کو روزنامہ” ایکسپریس“ ادیب اور مفکر انتظار حسین کا کالم ”دلیل کی موت، نعرے کابول بالا“ شائع ہوا تھا ۔ اس میں انھوں نے بتایا کہ ’کہاں سے چل کر ہم کہاں پہنچے ۔‘ ایک زمانہ تھا جب مختلف مذاہب کے ماننے والوں میں دلیل کا بول بالا تھا ۔ ”افسوس کہ اس زمانے سے ہمارے زمانے تک آتے آتے ایک بڑا واقعہ گزر گیا ۔ دلیل کی شہادت ہوگئی ۔ اس کے ساتھ ہی مکالمہ کی روایت کی موت واقع ہو گئی ۔ انسانی عقل سے اعتبار اٹھ گیا - - - “

گلوبلائیزیشن۔ ایک عظیم قوت

 

مصنف: علی سلمان

مترجم: کنول نذیر


منافعے کی ہوس

 مصنف: اسد زمان

مترجم: کنول نذیر

ایک بم ہزارغم


خلیل احمد

روسی ادیب چیخوف نے افسانے کی تکنیک پر بات کرتے ہوئے لکھا تھا کہ اگرا س میں بندوق کا ذکر آیا ہے تواس بندوق کو افسانہ ختم ہونے سے پہلے چل جانا چاہیے۔ پاکستان نے جب سے ایٹم بم بنائے ہیں تب سے چیخوف کے پاکستانی پیروکار بضد ہیں کہ انھیں چلانا نہیں تو بنایا کیوں۔

واپڈا کے ایک چیئر مین، ریٹائرڈ جنرل، کہتے تھے کہ یہ بم کیوں بنا رکھے ہیں، ماریں انھیں انڈیا پر۔ وہ تعداد بھی بتاتے تھے کہ کتنے بم بھارت کو تباہ کرنے کے لیے کافی ہوں گے۔ ایک نامور صحافی اور نظریہءپاکستان کے علمبردار بھی ان بموں سے خاصے خفا ہیں۔ وہ بھی چیخوف کے بتائے سبق کے مطابق ایک ایسا افسانہ لکھنا چاہتے ہیں جس میں پاکستان کے پاس موجود تمام ایٹم بم بھارت پر استعمال کر دیئے جائیں۔

مصر میں احتجاج کی نوعیت

 

 مصر میں احتجاج کی نوعیت 

مصنف: ڈاکٹر نوح ال حارموزی 

مترجم: زینب خالد 

وِکی لیکس اورخفیہ حکومتیں

وِکی لیکس کے موجودہ ’نِکاسات ‘بہت سے مسلمات پر غور کرنے کا تاریخی موقع فراہم کرتے ہیں۔

”پاکستان کا مستقبل اور اس کے دشمن“

ورجینیا پوسٹریل کی زیر بحث کتاب ”مستقبل اور اس کے دشمن“ کارل پوپر کی کتاب ”غیر متشکل معاشرہ اور اس کے دشمن“ کی یاد لاتی ہے

پاکستان : معاشی بحران سے اخلاقی بحران تک

(ایک گفتگو)
ڈاکٹر خلیل احمد

            مجھے اس موضوع پر ’معیشت ‘ کے حوالے سے بات کرنے کے لیے کہا گیا ہے ، مگر میں اپنی بات کا آغاز اخلاقیات سے کرنا چاہتا ہوں ۔

ایڈورڈ کیلر - آزاد معیشت کا داعی

ترجمہ: ڈاکٹر خلیل احمد 

            ”پاپائے روم کے مراسلات آزاد کاروبار کے ہمارے معاشی نظام کو رد نہیں کرتے، بلکہ ایسے کسی بھی نظام کے لیے ٹھوس اخلاقی اساس مہیا کرتے ہیں ۔“

بے غرضی اور خود غرضی کی معاشیات

تحریر: رچرڈ ڈبلیو ۔فلمر
ترجمہ: ڈاکٹر خلیل احمد

            اختیار پسند (Libertarians)عجیب و غریب چیز ہیں ۔ یہ ” معقول ذاتی مفاد“ کی بات کرتے نہیں تھکتے۔

فلاحی ریاست کی اخلاقی بے مائیگی

تحریر: رابرٹ اے- سیریکو
ترجمہ: ڈاکٹر خلیل احمد
 

            جدید فلاحی ریاست سے متعلق کسی بھی بحث میں مستحق لوگوں کی مدد کے ضمن میں مذہبی اور اخلاقی وجوہات پیش کرنا مفید مطلب نہیں ۔

عوامیت کی یلغار

 ڈاکٹر خلیل احمد

             پیپلز پارٹی کی سیاست ابتدا سے ہی عوامیت (پاپولزم)سے مملو تھی۔ یہ تو اب این- آر-او کی پیدائش اور موت نے کراما ت کی کہ اس کی عوامیت کھل کر سامنے آگئی۔

"حکومت چاول کے بز نس کا بیڑہ غرق نہ کرے"

چاول کے بزنس میں حکومتی مداخلت کےکیا نتائج برآمد ہو ئے اور ہو رہے ہیں،اس ضمن میں ہم یہاں روزنامہ نوائے وقت سے ایک مختصر کالم بلا تبصرہ پیش کر رہے ہیں۔

زخمی سانپ

خلیل احمد

ایک زمانہ تھا کہ اپنے ملک میں ایک شہر سے دوسرے شہر جاتے ہوئے یوں محسوس ہوتا تھا کہ آدمی کسی دوسرے ملک میں داخل ہو رہا ہے۔

پاکستان کی غیر آئینی تاریخ: ایک مختصر خاکہ

ڈاکٹرخلیل احمد

            " میں آپ کو یقین دلاتا ہوں مجھے اداکاری نہیں آتی۔ اگر مجھے سیاسی اقتدارکی خواہش ہو تو روکنے والا کون ہے۔

پاکستان مسلم لیگ ( ن) - اصولی سیاست کا مخمصہ

ڈاکٹر خلیل احمد

اپنی آزادی کے تحفظ میں انتہا پسندی کو ئی برائی نہیں اور مجھے یہ بھی یاد دلانے دیجیئے کہ انصاف کی طلب میں اعتدال پسندی کوئی نیکی نہیں ۔