مصر میں احتجاج کی نوعیت

 

 مصر میں احتجاج کی نوعیت 

مصنف: ڈاکٹر نوح ال حارموزی 

مترجم: زینب خالد 

مصر عشروں سے پھٹنے کے لیے تیار آتش فشاں کی مانند رہا ہے۔ دوسرے علاقوں کی طرح، مبارک حکومت ایک سنسنی خیز سیاسی بحران کے اوپر بیٹھی نظر آتی ہے جو کہ بیک وقت ابھرتی ہوئی اسلامی شدت کو اپنے اندر دبانے اور سیاسی مزاحمت کو اکھاڑ پھینکنے کی کوشش میں لگی ہو۔ 1981 ء میں ہونے والے ، مبارک کے پیشروا، انور سعادت کے قتل کے بعد سے ، ملک ایک مسلسل ہنگامی صورت حال کا شکار رہا ہے۔ یہی ہنگامی صورت حال، عوام کے ذریعے استحکام کی پالیسی کی بنیادبنی جس کا اصل مقصد شاہی نظام حکومت کا نفاذ اور اپنے پیچھے فوجی ٹولی رکھنے والے صدر کو طاقت کی ترسیل ہے جسے انگریز نوابوں اور دھمکی آمیز عوامی جمہوریہ پارٹی کا سہارا حاصل ہو۔ 

وِکی لیکس اورخفیہ حکومتیں

وِکی لیکس کے موجودہ ’نِکاسات ‘بہت سے مسلمات پر غور کرنے کا تاریخی موقع فراہم کرتے ہیں۔

”پاکستان کا مستقبل اور اس کے دشمن“

ورجینیا پوسٹریل کی زیر بحث کتاب ”مستقبل اور اس کے دشمن“ کارل پوپر کی کتاب ”غیر متشکل معاشرہ اور اس کے دشمن“ کی یاد لاتی ہے

فلاحی ریاست کی اخلاقی بے مائیگی

تحریر: رابرٹ اے- سیریکو
ترجمہ: ڈاکٹر خلیل احمد
 

            جدید فلاحی ریاست سے متعلق کسی بھی بحث میں مستحق لوگوں کی مدد کے ضمن میں مذہبی اور اخلاقی وجوہات پیش کرنا مفید مطلب نہیں ۔

عوامیت کی یلغار

 ڈاکٹر خلیل احمد

             پیپلز پارٹی کی سیاست ابتدا سے ہی عوامیت (پاپولزم)سے مملو تھی۔ یہ تو اب این- آر-او کی پیدائش اور موت نے کراما ت کی کہ اس کی عوامیت کھل کر سامنے آگئی۔

پاکستان مسلم لیگ ( ن) - اصولی سیاست کا مخمصہ

ڈاکٹر خلیل احمد

اپنی آزادی کے تحفظ میں انتہا پسندی کو ئی برائی نہیں اور مجھے یہ بھی یاد دلانے دیجیئے کہ انصاف کی طلب میں اعتدال پسندی کوئی نیکی نہیں ۔

سیاسی اخلاقیا ت کا بحران

ڈاکٹر خلیل احمد

سیاست اور اخلاقیات ایک چیز نہیں سیاست نہ تو مذہب ہے اور نہ ہی ضابطہ اخلاق ۔ یہ اقتدار تک پہنچنے اسے حاصل کرنے اور اپنے پاس رکھنے کا فن اور علم ہے

ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے

ڈاکٹر خلیل احمد 

انصاف کو ایک طرف رکھ دیں تو پھر مملیکتں ڈاکوؤ ں کے عظیم جتھوں سے سوا کیا ہیں آخر ڈاکوؤں کے جتھے چھوٹی چھوٹی مملکتوں کے سوا کیا ہیں؟ ڈاکو ؤ ں کو جتھوں میں کمانڈر اپنے ماتحت کام کرنے والوں کو ہدایات دیتاہے ان کے گروہ مل کر حلف اٹھاتے ہیں اور مال غنیمت کو ایک قانون کے تحت ایک دوسرے میں بانٹتے ہیں اور اگر یہ ڈاکو اس قدر طاقتور ہو جائیں کہ وہ قلعوں میں رہ سکیں رہائش گاہیں بنائیں اور شہروں کے مالک بن جائیں اور اپنی ہمسایہ قوموں کو فتح کر لیں تو پھر ان کی حکومت کو ڈاکوؤں کا جتھہ نہیں کہتے بلکہ ان کو سلطنت کے نام سے پکارتے ہیں اس لیے نہیں کہ انہوں نے اپنا دھندا چھوڑ دیا ہے بلکہ اس لیے کہ اب وہ یہ دھندا قانون کے خوف کے بغیر کرتے ہیں ۔ ( سینٹ آگسٹائین سیٹی آف کاڈ بکء)